(فہم الحدیث (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر اعتراضات کا تحقیقی تعاقب

in Tahaffuz, July 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

شان سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ بزبان مصطفیﷺ
(1) ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے اپنے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو کسی کام مشورے کے لئے طلب فرمایا مگر دونوں حضرات کوئی مشورہ نہ دے سکے تو آپ نے فرمایا ادعوا معاویہ احضرروہ امرکم فانہ قوی امین۔ یعنی معاویہ رضی اﷲ عنہ کو بلائو اور معاملہ کو ان کے سامنے رکھو کیونکہ وہ قوی اور امین ہے۔
(2) یبعث اﷲ تعالیٰ معاویۃ یوم القیمۃ و علیہ
(3) اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اٹھائے گا تو ان پرنور کی چادر ہوگی۔
اہلم من امتی (تطہیر الجنان)
ترجمہ: میری امت میں سے معاویہ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ بردبار ہے
اللھم املاہ علماء (ابن حجر الاصابہ ج 3ص 413)
اے اﷲ معاویہ رضی اﷲ عنہ کو علم سے بھر دے
یامعاویہ ان ولیت الامر فاتق اﷲ (بخاری جلد 1ص 409)
اے معاویہ رضی اﷲ عنہ تمہارے سپرد امارت کی جائے تو تم اﷲ سے ڈرتے رہنا
اول جیش من امتی یغزو البحر فقد اوجیو (بحوالہ بخاری)
میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری لڑائیوں کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے۔ ابن اثیر اور تمام تاریخوں کے مطابق حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بحری بیڑے کا آغاز کیا اور مسلمان قوم سب سے پہلی مرتبہ بحری جہاد سے سرفراز ہوئی۔
وعن ابی الدرداء قال مرائیت احد لعبد رسول اﷲ اشبہ صلاہ برسول من احدکم ہذا یعنی معاویہ (مجمع الزوائد للعلامہ نورالدین)
حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کے بعد حضورﷺ سے زیادہ سے زیادہ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھانے والا امیر معاویہ کے سوا کوئی نہیں دیکھا۔
ون عبداﷲ بن عمران معاویہ کان یکتب بین یدی رسول اﷲ (منبع الفوائد)
ترجمہ: حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ حضورﷺ کے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی قیام گاہ یعنی آپ کے والد حضرت سیدنا ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا مکان آنحضرتﷺ کے لئے مشرکین مکہ کی ایذا رسانی سے پناہ گاہ ثابت ہوتا تھا چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے طبقات ابن سعد کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
(الاصابہ ج 2ص 179‘ المتقی ص 253)
اور نبی کو جب مشرکین مکہ اذیت و تکلیف پہنچاتے تو آپ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کے گر پناہ لیا کرتے تھے اسی احسان کا بدلہ اور شکریہ حضورﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر یہ اعلان فرمایا ’’من دخل دار ابی فہو امن‘‘ یعنی ابتدائے اسلام کی عسرتوں اور پریشانیوں میں جو مکان پناہ گاہ رسولﷺ بنا‘ آج جو شخص بھی اس میں پناہ حاصل کرے گا اسے امان دے دی جائے گی (مسلم شریف)
رسول کریمﷺ نے فرمایا معاویہ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو (لسان المیزان) لوگوں کو خبر دی جائے کہ امیر معاویہ جنتی ہیں (بحوالہ طبرانی)
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ بارہ خلفاء میں شامل ہیں جن کی بشارت رسول کریمﷺ نے دی (تطہیر الجنان ص 15)
خود امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ وضو کرو جب ہم وضو کرچکے تو آپ نے فرمایا اے معاویہ! اگر تو خلیفہ بنایا جائے تو اﷲ تعالیٰ سے ڈرنا عدل کرنا (تطہیر الجنان)
رسول کریمﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو نصیحت فرمائی‘ اے معاویہ جب تو ملک کا والی ہوجائے تو رعایا سے حسن سلوک کرنا (تطہیر علی العواصم ص208)
حضرت شاہ ولی اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا ہے کہ رسول کریمﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو ہدایت یافتہ اور ذریعہ ہدایت فرمایا اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کا خلیفہ بننا تھا اور نبی امت پر شفیق ہے (از الۃ الخلفاء ‘ ج 1ص 573)
نبی کریمﷺ نے فرمایا ! اے اﷲ معاویہ کو ملکوں کی حکومت عطا فرما۔
(کنز العمال‘ ج 1‘ ص 19)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور رسول خداﷺ کی ملاقات جنت کے دروازہ پر ہوگی (لسان المیزان ص  25)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر جبرئیل امین علیہ السلام نے سلام بھیجا (البدایہ والنہایہ)
سیدنا امیر معاویہ کے بارے میں جبرئیل امین نے خیر کی وصیت کی (البدایہ والنہایہ)
معاویہ کے لشکر کو بشارت جنت خود رسول خدا نے دی (مجمع الزوائد‘ ج 9 ص 357)
حاصل کلام
ان احادیث سے ظاہر ہے کہ نبی کریمﷺ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جنت کی بشارت دے رہے ہیں کبھی ان کے حق میں دعا کررہے ہیں۔
مگر پروپیگنڈہ سے متاثر سنی نادان لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے حکومت چھین لی۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور امیر معاویہ کے (لشکر کے) مقتول جنتی ہیں مگر یار لوگ کہتے ہیں کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ تھی۔ حضورﷺ دعا فرما رہے ہیں اے اﷲ معاویہ کو ہدایت پر رکھ‘ ہلاکت سے بچا اور دنیا اور آخرت میں اس کے گناہ بخش دے۔ پھر بھی بدبخت لوگ شبہ کرتے ہیں کہ معاویہ کے حق میں دعا بھلا کیسے قبول ہوتی ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں معاویہ جنتی ہیں اور یار لوگ یہ بات ناپسند کرتے ہیں۔ خدا جانے یہ نادان لوگ غیر شعوری طور پر حضورﷺ کی مخالفت پر کیوں اتر آئے ہیں۔
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ
حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کی نظرمیں
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں جب امت میں تفرقہ اور فتنہ برپا دیکھو تو سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی اتباع کرو (بحوالہ البدایہ)
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا ذکر کرو تو خیر سے کرو (ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ یقینا فقیہہ ہیں (البدایہ)
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ملکی حکومت کو زینت دینے والا حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کوئی نہیں دیکھا (بحوالہ تاریخ بخاری)
فاتح عراق و ایران حضرت سیدنا عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے بعد اس دروازے والے (معاویہ) سے زیادہ حق فیصلہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا (البدایہ والنہایہ‘ ج 7‘ص 123)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا‘ حضرات خلفائے راشدین معاویہ رضی اﷲ عنہ سے افضل تھے اور معاویہ رضی اﷲ عنہ سرداری کی صفت میں ان حضرات سے بڑھ کر تھے (استعیاب ج 2‘ ص 263)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے کہا رسول کریمﷺ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ سردار کوئی نہیںد یکھا (استعیاب ج 2‘ ص 262)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ
حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی اﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا۔ امارات معاویہ رضی اﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے (بحوالہ شرح عقیدہ واسطیہ)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے (البدایہ ج 8 ص 130)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا (البدایہ‘ ج 8ص 131)
حضرت ابو امامہ رضی اﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے‘ افضل ہونا تو کجا ہے (بحوالہ الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے رجوع کیا (بحوالہ موطا امام مالک)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا (تاج العروس ص 221)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا۔
(بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسن رضی اﷲ عنہ
حضرت امام باقر نے کہا کہ امام حسن رضی اﷲ عنہ نے جو کچھ کیا وہ اس امت کے لئے ہر اس چیز سی بہتر تھا جس پر کبھی سورج طلوع ہوا (بحارا الانوار‘ ج 10ص 1641)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ مشاہیر اسلام کی نظر میں
حضرت امام مالک رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو برا کہنا اتنا بڑا جرم  ہے جتنا بڑا جرم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہم کو برا کہنا ہے۔
(صواعق محرقہ ص 102)
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اگر جنت میں ابتدا کی تو صلح میں بھی ابتدا کی۔
(صواعق محرقہ ص 105)
حضرت امام شافعی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اسلامی حکومت کے بہت بڑے سردار ہیں (صواعق محرقہ ص 105)
امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں تم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے کردار کو دیکھتے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے بے شک یہی مہدی ہیں۔
(صواعق محرقہ ص 106)
حضرت امام اعمش رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم معاویہ رضی اﷲ عنہ کا زمانہ دیکھ لیتے تو تم کو معلوم ہوتا کہ حکمرانی اور انصاف کیا چیز ہے‘ لوگوں نے پوچھا کیا آپ ان کے حلم کی بات کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا نہیں! خدا کی قسم ان کے عدل کی بات کہہ رہاہوں (العواصم ص 333‘ اور المتقی ص 233)
حضرت عوف بن مالک مسجد میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ خواب میں ایک شیر کی زبانی آواز آئی جو منجانب اﷲ تھی کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جنتی ہونے کی بشارت دے دی جائے (بحوالہ طبرانی)
حضرت مجاہد نے کہا کہ اگر تم حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کو دیکھتے تو کہتے یہ مہدی ہیں (البدایہ)
قاضی عیاض رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ آنحضرتﷺ کے صحابی‘ برادر نسبتی‘ اور کاتب وحی ہیں جو آپ کو برا کہے اس پر لعنت ہو (البدایہ)
امام ابن خلدون نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حالات زندگی کو خلفائے اربعہ کی ساتھ ذکر کرنا ہی مناسب ہے کیونکہ آپ بھی خلیفہ راشد ہیں۔
(تاریخ ابن خلدون‘ ج 2‘ص 1141)
حضرت ملا علی قاری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے امام برحق ہیں ان کی برائی میں جو روایتیں لکھی گئی ہیں سب کی سب جعلی اور بے بنیاد ہیں (موضوعات کبیر ص 129)
امام ربیع بن نافع فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اصحاب رسول کے درمیان پردہ ہیں جو یہ پردہ چاک کرے گا وہ تمام صحابہ رضی اﷲ عنہما پر طعن کی جرات کرسکے گا (البدایہ ج 8‘ ص 139)
علامہ خطیب بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ مرتبے میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے افضل ہیں لیکن دونوں رسول اﷲﷺ کے صحابی ہیں بلکہ مملکت اسلامیہ کے دوستوں میں سے ہیں ان کے باہمی اختلافات کے فتنہ کا تمام گناہ سبائی فرقہ پر ہے (البدایہ)
ابن کثیر نے لکھا ہے کہ آپ کی سیرت نہایت عمدہ تھی اور آپ بہترین عفو کرنے والے تھے اور آپ سب سے بہتر درگزر کرنے والے تھے اور آپ بہت زیادہ پردہ پوشی کرنے والے تھے (البدایہ ج 8‘ ص 126)
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خود اس شخص کو کوڑے مارے تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر سبو شتم کیا کرتا تھا (الصارم المسلول)
حضرت معانی بن عمران سے سوال کیا گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ؟ انہوں نے کہا کیا تم ایک تابعی کا صحابی سے مقابلہ کرتے ہو (البدایہ)
حضرت ابن عمران نے کہا کہ جو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو برا بھلا کہے اس پر اﷲ تعالیٰ کے فرشتوں کی لعنت ہو اور اس پر تمام مخلوقات کی لعنت ہو (البدایہ)
حضرت قیصہ بن جابر اسدی فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر محبوب دوست اور ظاہر اور باطن کو یکساں رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا
(تاریخ طبریٰ مترجم ج 5ص 175)
حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حقوق اﷲ اور حقوق العباد کے پورا کرنے میں خلیفہ عادل ہیں (مکتوبات دفتر اول ص 441)
حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ نے لکھا حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حق میں کبھی بدظنی نہ کرنا اسی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی بدگوئی کرکے ضلالت کا ورطہ نہ لینا۔
جو شخص حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر طعن کرے‘ وہ جہنمی کتا ہے ایسے خنزیر شخص کے پیچھے نماز حرام ہے (ملفوظات اعلیٰ حضرت بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ)
سوال: بعض لوگ جھوٹی بات گھڑتے ہیں کہ ایک دفعہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اپنے کندھوں پر یزید کو لے جارہے تھے تو حضورﷺ نے فرمایا کہ جہنمی پر جہنمی سوار ہے (معاذ اﷲ)
معلوم ہوا کہ یزید بھی دوزخی اور امیر معاویہ بھی دوزخی (نعوذ باﷲ)؟
جواب: ماشاء اﷲ یہ ہے دشمن صحابہ کی تاریخ پر نظر اور یہ ہے ان کی نادانی کا حال۔
دلیل: یزید کی پیدائش حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں ہوئی۔ دیکھو کتاب جامع ابن اثیر اور کتاب الناہیہ وغیرہ۔
آپ نے تو حضورﷺ کے زمانہ میں یزید کو پیدا کردیا‘ کیا یزید عالم ارواح سے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے کندھے پر کود کر آگیا (لاحول ولاقوۃ) (کتاب امیر معاویہ صفحہ 88)
سوال: بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو حضورﷺ نے بددعا دی‘ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے حضورﷺ نے حکم دیا کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو بلائو‘ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ وہ کھا رہے ہیں تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضورﷺ کی دعا بھی قبول ہے اور خلاف دعا بھی چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو حضورﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے خلاف دعا کی۔ اس کا جواب دیں؟
جواب: اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی‘ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو حضورﷺ گالیاں دینے والوں کو معاف کردیتے وہ حضورﷺ اس موقع پر حضرت امیر معاویہ کے خلاف کیوں دعا کرتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ سے یہ کہا بھی نہیں کہ آپ کو سرکارﷺ بلا رہے ہیں۔ صرف دیکھ کر خاموش واپس آئے اور حضورﷺ سے واقعہ عرض کیا۔
تیسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوئی خطا اور حضورﷺ ان کے خلاف دعا کریں ‘ یہ ناممکن ہے۔
اب اعتراضات کے جوابات سنتے ہیں کہ عرب میں محاورۃ اس قسم کے الفاظ پیارو محبت کے موقع پر بھی بولے جاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
مثلا: تیرا پیٹ نہ بھرے‘ تجھے تیری ماں روئے‘ وغیرہ کلمات غضب کے لئے نہیں بلکہ کرم کے لئے ارشاد ہوئے ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ سرکار علیہ السلام نے حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کے خلاف بددعا کی تو بھی یہ بددعا حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حق میں رحمت بنی‘ اﷲ تعالیٰ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اتنا بھرا اور اتنا مال دیا کہ انہوں نے سینکڑوں کا پیٹ بھر دیا۔ ایک ایک شخص کو بات بات پر لاکھوں لاکھوں … انعام دیتے کیونکہ حضورﷺ نے اپنے رب عزوجل سے عہد لیا تھا کہ اے اﷲ تعالیٰ اگر میں کسی مسلمان کو بلاوجہ لعنت یا اس کے خلاف دعا کروں تو اسے رحمت اجر اور پاکی کا ذریعہ بنا دینا۔
حدیث: حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا‘ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ فرمایا‘ حضورﷺ نے کہ اے اﷲ تعالیٰ جس کسی کو برا کہہ دوں تو قیامت میں اس کے لئے اس بد دعا کو قرب کاذریعہ بنا (بحوالہ مسلم شریف)
اب سمجھ میں آگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کاتب وحی‘ عاشق رسو ل ﷺ اور جید صحابی ہیں۔
سوال: شہدائے کربلا کے سلسلے میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر اہل بیت کی دشمنی کا الزام لگایا جاتا ہے حالانکہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ محب اہل بیت تھے؟
جواب: اس سوال کا جواب مسلک اہل سنت کی سینکڑوں کتابوں میں موجود ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اہل بیت سے سچی محبت کرتے تھے لیکن اس کا جواب ہم شیعہ حضرات کی معتبر کتابوں سے دیتے ہیں۔
شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے:
’’حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضورﷺ سے ہے۔ تجھے معلوم ہے کہ حضورﷺ کے بدن کے ٹکڑے ہیں۔ حضورﷺ کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا‘ ان کا مرتبہ جو حضورﷺ سے ہے اس کو یاد رکھنا‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا‘‘ (جلاء العیون جلد دوم ص 421,422)
صاحب ناسخ التواریخ لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے مزید کو یہ وصیت فرمائی۔
’’کہ اے بیٹا! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب اﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا خون نہ ہو۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا‘‘
غور کیجئے! حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ‘ یزید کو یہ وصیت کررہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کا کیا قصور؟
حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید‘ شرابی‘ ظالم اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے؟
الحمدﷲ! ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ شان حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کتنی بلند ہے۔ ان دلائل سے ان لوگوں کو عقل کے ناخن لینے چاہئے جو علم نہ ہونے کی وجہ سے بکواس کرتے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ ہم حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں اپنی زبان کو بند رکھیں‘ خصوصا واعظین اور خطباء جو جوشِ خطابت میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو باغی کہہ دیتے ہیں اور ذرا بھی ادب و لحاظ نہیں کرتے۔ ایسے لوگ احتیاط کریں۔ اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے مابین جنگ سے متعلق سوال بھی کرے تو حکمت عملی سے یہ کہہ کر عوام اہلسنت کو مطمئن کردیں کہ ہمارے لئے دونوں ہستیاں لائق احترام و تعظیم ہیں لہذا ہمیں اپنی زبانوں کو بند رکھنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمارا ایک جاہلانہ بول بروز قیامت ہمیں مہنگا نہ پڑ جائے۔
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا فرمان ہمارے لئے کافی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا ذکر کرو تو خیر سے کرو
سادات کرام بھی حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے متعلق اپنی زبان کو لگام دیں اور اپنی نسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی سے بچیں۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے پیاروں کی شان میں گستاخی سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین