سفیر رضا پیرزادہ علامہ اقبال احمد فاروقی سے گفتگو

in Tahaffuz, July 2010, انٹرویوز, محمد نواز کھرل

میرے والدین کا گھر گجرات کے ایک گائوں شہاب دیوال میں تھا۔ میری پیدائش 4 جنوری 1928ء کو اسی گھر میں ہوئی۔ میرا خاندان ایک روحانی خاندان تھا۔ میرے والد پیر انور پیر فاروقی‘ دادا پیر عبداﷲ شاہ فاروقی‘ پر دادا پیر عبدالرحیم شاہ فاروقی‘ تایا نور پیر فاروقی علمی و روحانی اعتبار سے بلند مقام کے حامل تھے۔ میرے لئے یہ گھرانہ دینی روحانی تعلیمات کا فیضان تھا۔ ہمارے آبائو اجداد میری پیدائش سے ایک سو سال قبل سری نگر کے مضافات سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ میں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ قرآن پاک والد گرامی سے پڑھا۔ تجوید و قرأت کے اسباق اپنے تایا پیر نور پیر فاروقی سے حاصل کئے۔ فارسی کی ابتدائی کتابوں کے تراجم اپنے دادا کے ایک شاگرد عزیز سید محمد شاہ بخاری سے پنجابی زبان میں پڑھے اور کریما‘ نام حق‘ پندنامہ‘ گلستان سعدی کے معانی پنجابی زبان میں حفظ کرلئے۔ پرائمری کی تعلیم گائوں کے قریب ایک اسکول اور مڈل تک ایک مضافاتی گائوں دولت نگر کے اسکول سے مکمل کی۔ یہ اسکول دیہات میں بچوں کی ابتدائی تعلیم کے سرچشمے تھے۔ بچپن کے بے شمار واقعات میرے ذہن میں ہیں۔ بچپن کے ان ایام کو ’’یادگار زمانہ‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس زمانے میں میرے ایک چچا پیر عبدالخالق فاروقی ایک مجددی سالک کی حیثیت سے لاہور میں مولانا محمد نبی بخش حلوائی نقشبندی رحمتہ اﷲ علیہ (صاحب تفسیر نبوی) کے زیر نگاہ تربیت حاصل کررہے تھے۔ وہ مجھے گجرات سے اٹھا کر اپنے پیرومرشد کے مدرسہ میں لے آئے۔ یہ مدرسہ دہلی دروازہ لاہور کے باہر تھا جو آج بھی موجود ہے۔ اس مدرسہ کے درویش طلبہ میں مجھے بھی داخل کرلیا گیا۔ صرف ونحو اور منطق کی کتابوں کی تعلیم کے دوران میرے ساتھ حافظ محمد عالم (جو بعد میں سیالکوٹ میں ایک دارالعلوم کے بانی بنے) صاحبزادہ پیر محمد اسلم علی پوری (جو خانوادہ علی پورسیداں نارروال کے ایک پیرزادے تھے۔ مولانا غلام حسین گوجروی (جنہوں نے آگے چل کر ایک واعظ رنگین بیان بن کر شہرت حاصل کی) مولانا مفتی محمد عبداﷲ (جو آگے چل کر مجددی پیر طریقت بنے اور وادی کشمیر میں پچیس ہزار مریدوں کی روحانی تربیت میں مصروف رہے) مولانا باغ علی نسیم (وہ جو آگے چل کر مولانا نبی بخش حلوائی کے خلیفہ مجاز اور ان کی مسجد و مدرسہ کے نگراں بنے) میرے ہم سبق اور ہم جماعت تھے۔ ان کے علاوہ بیس سے زائد دیگر ہم جماعت تھے جو زندگی کی راہوں پر چل کر جدا ہوتے گئے اور اپنے اپنے انداز میں دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ میں اپنے استاد اور پیر ومرشد مولانا نبی بخش حلوائی رحمتہ اﷲ علیہ سے صغر سنی میں خلافت و حاصل نہ کرسکا مگر وہی میرے استاد تھے‘ وہی میرے پیرومرشد تھے۔ وہی میرے مربی اور رہنما تھے۔ وہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری کے خلیفہ تھے جو حضرت پیر خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری کے مرید اور خلیفہ مجاز تھے۔ ان کی وفات کے بعد انہیں نقشبندی نسبت کے سبب سے پیر سید جماعت علی شاہ رحمتہ اﷲ علیہ سے خلافت بھی ملی۔ اس زمانے میں مجھے دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں درس نظامی کے اساتذہ سے تکمیل کا موقع ملا۔ اسی دوران کچھ عرصہ ریاست بہاولپور کے ایک مدرسہ ’’تعلیم الاسلام‘‘ میں فارسی ادب کا وسیع مطالعہ کرنے کا بھی موقع ملا اور بہاولپور میں جامعہ عباسیہ سے ’’علامہ‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ ان دنوں جامعہ عباسیہ کے شیخ الجامعہ علامہ غلام محمد گھوٹوی (مرید حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمتہ اﷲ علیہ تھے) ۔مجھے اپنی زندگی میں کتابیں لکھنے اور تراجم کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ الحمدﷲ میری ساٹھ سے زائد تالیفات و تصنیفات اہل علم کے مطالعہ میں آئیں اور اہل علم نے انہیں پسند کیا۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ میں نے فاضل فارسی‘ فاضل عربی‘ ایم اے فارسی اور ایل ایل بی کی اسناد بھی حاصل کیں۔ اسی طرح میں مدارس دینیہ کی نورانی وادیوں کی بجائے سرکاری ملازمت کی راہوں میں چل نکلا۔ پنجاب کے محکمہ صنعت لیبر ویلفیئر کے مختلف سرکاری عہدوں پر ترقی کرتا 1988ء میں 19 ویں گریڈ کا افسر بن کر ریٹائرڈ ہوا۔ میں اپنی سرکاری زندگی میں بھی علمائے کرام اور مشائخ عظام کے قریب رہا اور انہی کے زیر سایہ زندگی کا سفر جاری رہا۔ مشائخ اور علماء نے مجھے اپنے قریب بیٹھنے کا موقع دیا اور اپنی نظر التفات سے نوازا۔مجھے مختلف علمی مراکز میں اس عہد کے جید اساتذہ سے علمی فیض حاصل کرنے کی سعادت میسر رہی مگر اساتذہ کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان سب کے اسمائے گرامی لکھنے سے قاصر ہوں لیکن ایک بات عرض کروں گا کہ مجھے علم حاصل کرنے کے لئے ’’دانہ می  چیدم ہر جائے کہ خرمن یافیتم‘‘ کا شرف حاصل رہا۔ اسی طرح مجھے مختلف ادوار میں نوجوانوں کو پڑھانے کا بھی موقع ملا۔ نامور شاگردوں کے نام لکھنے سے بھی قاصر ہوں مگر مجھے کم و بیش پچیس ہزار طالب علموں کو پڑھانے کا شرف ملا ہے۔ ان میں سے کئی اعلیٰ سرکاری عہدوں پر رہے۔ عدلیہ کے جج بنے‘ دینی خدمات میں مصروف رہے اور بڑے بڑے علمی مناصب پر فائز ہوئے جبکہ بعض روحانی دنیا کے آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے۔ میرے ان شاگردوں کا حلقہ ملک اور بیرون ملک اب تک مصروف کار ہے۔ بایں ہمہ خود نہ میں ’’پیر طریقت‘‘ بن سکا اور نہ ’’خلیفہ مجاز‘‘ بن سکا۔
یہ دنیا میرے لئے میری خوشگوار زندگی کا گہوارہ رہی ہے۔ غربت سے ابھر کر دولت کی فراوانی تک پہنچا۔ اینٹوں کے سرہانے اور بوریا کے فرش سے اٹھا‘ مخملیں بستروں تک پہنچا۔ درویشی سے نکل کر خوشحال زندگی بسر کرنے لگا۔ اﷲ کے انعامات میسر آئے‘ اس نے اپنے بندوں کے دلوں میں اس فقیر بے نوا کی محبت ڈال دی‘ جہاں گیا‘ عزت پائی‘ لوگوں نے بے پناہ عزت دی‘ احترام دیا اور دل و جان سے چاہا۔ اساتذہ نے میری خدمات کو قبول کیا۔ مشائخ نے اپنی قربت میں جگہ دی۔ وقت کے امراء و وزراء نے میرے لئے اپنے محلات کے دروازے کھول دیئے۔ لہذا اس دنیا نے مجھے بہت کچھ دیا اور شکر ہے دنیا بنانے والے کا‘ اس نے اپنی حفاظت میں رکھا‘ اپنے محبوبﷺ کی محبت سے غافل نہیں ہونے دیا اور اپنے بندوں کو میرا احترام دیا‘ محبت دی‘ عزت دی‘ ذالک فضل اﷲ یوتی من یشاء میری زندگی علماء کرام‘ مشائخ عظام‘ واعظان خوش بیان اور نعت خوا نانِ شیریں بیان کے درمیان گزری اور میں سعدی شیرازی کی زبان میں:
تمتع زہر گوشہ یافتم    زہر خرمنے خوشہ یافتم
ان اہل علم و فضل کے ساتھ ساتھ مجھے ملک کے سیاستدانوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا۔ وزرائ‘ امراء اور راہنمایان قوم کے قریب ایک عرصہ گزارا۔ یہ حسرت نہ رہی کہ پاکستان کے حکمران تو بلند و بالا ہیں۔ اب میں موت کی وادی کے قریب پہنچ چکا ہوں مگر کسی چیز کی حسرت نہیں رہی۔ اس لئے اﷲ کی یہ دنیا میرے لئے ایک خوشگوار لمحہ ہے ’’شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم‘‘
ہاں میں اپنی گزری زندگی کے شب و روز پر نگاہ ڈالتا ہوں۔ اپنی کوتاہیوں‘ گناہوں اور فروگزاشتوں کے مہیب اندھیرے سامنے آتے ہیں تو کانپ جاتا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں خالی ہاتھ اس دنیا سے جارہا ہوں اور اعتراف کرتا ہوں ’’زندگی بے بندگی شرمندگی‘‘ میں اپنے اﷲ کا کس طرح سامنا کروں گا اور وہاں مجھے کون چھڑائے گا۔ ’’من دست و دامان آل رسول‘‘
مجھے اہل سنت کی صورتحال خوش کن دکھائی نہیں دیتی۔ خصوصا پاکستان میں اہل سنت بڑے انحطاطی اور افتراقی دور سے گزر رہے ہیں۔ انتشار و افتراق نے انہیں پارہ پارہ کردیا ہے۔ کوئی رہنما‘ کوئی قائد اور کوئی لیڈر دکھائی نہیں دیتا جو پاکستان کی اس عظیم دینی قوت کو یکجا کرکے ملت کی رہنمائی کے لئے آمادہ کرسکے۔ سنیوں میں بڑے بڑے علماء کرام‘ مشائخ عظام اور اہل علم و دانش ہیں مگر سب کے سب ’’صفیں کج‘ دل پریشان‘ سجدے بے ذوق‘‘ کہ جذب اندروں باقی نہیں ہے۔ علمائے کرام میں وعظ فروشی‘ نعت خوانوں میں نعت فروشی اور لیڈران کرام میں خود فروشی اس زمانہ میں ایک روایت بن گئی ہے۔ مشائخ کے حجرے سجادہ نشینوں کے قبضے میں آگئے ہیں۔ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن آگئے ہیں۔ خانقاہی نظام تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ دینی مدارس رسمی تعلیم دے رہے ہیں‘ جدید عصری تقاضے پورے کرنا تو دور کی بات‘ ہمارے مدارس قدیم دینی تعلیم سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں ۔جو طلبہ عربی‘ فارسی میں مشاق ہوکر نکلتے ہیں‘ وہ عربی اور فارسی میں چند جملے نہیں بول سکتے ’’زبان یار من عربی و من عربی نمی دانم‘‘
آپ نے دہشت گردی سے متعلق سوال کیا ہے‘ ان چیزوں کو کوئی شخص پسند نہیں کرتا‘ مگر موجودہ عہد میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسلمانوں سے منسوب کرنے کا رواج عام ہوگیا ہے حالانکہ مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے مغربی و امریکی قوتوں کے ظالمانہ رویوں نے دنیا بھر میں دہشت گردی کو جنم دیا ہے۔ جتنے مظالم ان مغربی قوتوں نے مسلمانوں پر ڈھائے ہیں۔ اس کی مثال سابقہ صدیوں میں نہیں ملتی۔ بعض لوگ ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کی راہیں اپنا رہے ہیں مگر وہ صحیح راستے سے ہٹ کر اپنے ہی ملکوں میں اپنے ہی مسلمانوں کے قتل کرنے میں نکلی پڑے ہیں۔ یہ اقوام مغرب کی جادو گری ہے یا نادان نوجوانوں کی بے راہ روی۔ جن تلواروں نے دین اور اسلام کی حفاظت کرنا تھی‘ وہ اپنے لوگوں کی گردنیں کاٹنے لگی ہیں اور خوارج کی طرح مسلمانوں کو قتل کرکے ’’مجاہدین اسلام‘‘ بن بیٹھے ہیں۔ ان تیغ زن ٹولوں کو اسلام کی ہدایات پر کام کرنا چاہتے تھا اور اگر اسلامی نقطہ نظر سے جہاد کرنا ہے تو قتل و غارت گری چھوڑ کر اسلامی اصولوں کی روشنی میں جہاد کرنا چاہئے اور ایک مسلمان مجاہد کی طرح تیغ زنی کرنا چاہئے۔
میرے نزدیک آج پاکستان کے اندر جہاد کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں غیر اسلامی قوتیں اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ کر عوام کا استحصال کررہی ہے۔ سود‘ شراب‘ لوٹ کھسوٹ‘ مار دھاڑ کا جو رواج پاکستان کے حکمران طبقہ کے اندر روا رکھا جارہا ہے۔ اس کے خلاف اسی طرح آواز بلند کرنا ضروری ہے جس طرح اسلامی سلطنتوں میں رائج تھا مگر جب اجتماعی قوت حاصل ہوجائے تو مدنی مجاہدین کی طرح ہر برائی کو ختم کرنا ہوگا۔ ستر سال سے ایک بے دین طبقہ غریب مسلمانوں کا استحصال کررہا ہے اب وہ وقت آنے والا ہے کہ ’’اخرج الیہود او وانصاریٰ من الجزیرۃ العرب‘‘ کا نعرہ بلند ہو۔ یہود اور نصاریٰ کی معیشت کو پاکستان کی سرزمین سے اب بزور شمشیر ختم کرنا ہوگا مگر افسوس کہ آج کا سرکش مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ہی یہود ونصاریٰ اور مشرک و بدعتی قرار دے کر تیغ زنی کو نکلا ہے‘ ایسے وحشی انسانوں کو اسلام دشمن کہنا ہوگا۔ موجودہ دہشت گردی کا دور انشاء اﷲ عنقریب ختم ہوگا اور میرا اپنا وجدان کہتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ اسلام کا اصل روشن چہرہ پاک سرزمین پر چمکے گا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے کئی سوالات کا جواب نہیں دے سکا۔ مجھے اجازت دیں میں آپ کا شکریہ ادا کروں‘ آپ نے میرے خیالات کو سنا۔ پسند کیا پھر اسے اپنے موقر قلم کی وساطت سے اپنے قارئین تک پہنچایا۔ پاکستان کی صحافت کے آسمان پر ایک درخشاں ستارہ ہے جو اپنے قارئین تک مضامین اور مقالات کی روشنیاں پھیلا رہا ہے۔ میں سابقہ بیس سال سے اپنی علمی اور فکری بے بضاعتی کے باوجود ماہنامہ ’’جہاں رضا‘‘ کی اشاعت میں سرگرم ہوں۔ آج اس کے قارئین کا حلقہ پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر ہندوستان‘ امریکہ‘ جنوبی افریقہ‘ کینیڈا‘ عرب امارات اور یورپ کے خطوں میں بسنے والے سنیوں تک پہنچ رہا ہے۔ ’’جہاں رضا‘‘ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے افکار و نظریات کو ترجیحی طور پر پھیلا رہا ہے۔ آج تک بیس سالوں میں علمائے رضویت کے چالیس ہزار سے زیادہ مقالات شائع کرچکا ہے جو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے افکار و اعتقادات پر ایک ریکارڈ ہے۔ لاہور کے ایک نامور اسکالرز حکیم محمد موسیٰ امرتسری رحمتہ اﷲ علیہ نے امام اہل سنت فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ سے سنی حضرات خصوصا علماء کرام کی بے اعتنائی کو دیکھتے ہوئے مرکزی مجلس رضا کی 1968ء میں لاہور میں بنیاد رکھی اور اعلیٰ حضرت کی کتابوں کی اشاعت کا آغاز کیا۔ اس عبقری سنی عالم دین کی تحریروں کو مختلف انداز میں عوام تک پہنچانا شروع کیا تو سارا پاکستان بلکہ ہندوستان کے علماء کرام نے محسوس کیا کہ:        گونج گونج اٹھے ہیں نغمات رضا سے بوستاں
حکیم محمد موسیٰ امرتسری رحمتہ اﷲ علیہ نے بیس لاکھ کتابیں شائع کرکے مفت تقسیم کیں اور سنیوں میں تازہ روح پھونک دی۔ الحمدﷲ