سوال: معراج کی حقیقت قرآن سے ثابت کریں؟
جواب: معراج شریف کی حقیقت قرآن مجید سے ملاحظہ ہو
القرآن… سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من اٰیتنا انہ ہو السمیع البصیر (سورہ بنی اسرائیل‘ آیت 1 پارہ 15)
ترجمہ: پاکی ہے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہم نے اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے۔
سرکار اعظمﷺ کے سفر معراج کا ذکر قرآن مجید کی متعدد آیات میں مفصلاً‘ مجملاً‘ کنایتاً اور اشارتاً ملتا ہے۔ متذکرہ آیت مقدسہ کے علاوہ سورۂ والنجم پارہ 27 کی ابتدائی آیات ایک تا اٹھارہ مسلسل مضامین معراج کا ہی بیان کرتی ہیں۔
متذکرہ آیت میں لفظ آیا ہے ’’بعبدہ‘‘ اس سے مراد بندہ ہے کیونکہ بندہ روح اور جسم کے ایک ساتھ ہونے سے بنتا ہے ورنہ اگر صرف روح ہوتی تو آیت میں ’’بروحہ‘‘ آتا۔
مگر یہاں بعبدہ بیان کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ معراج کا سفر سرکار اعظمﷺ نے روح اور جسم کے ساتھ فرمایا۔
سوال : حدیث شریف کا مفہوم یوں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ معراج کی رات میں نے سرکار اعظمﷺ کا جسم گم نہ پایا اس کا جواب دیں؟
جواب: حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سرکار اعظمﷺ کو ایک نہیں بلکہ کئی معراجیں کرائی گئیں جن میں سے ایک معراج روح اور جسم کے ساتھ ہوئی بقیہ تمام معراجیں صرف روحانی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی حدیث میں جس معراج کا ذکر ہے وہ معراج روحانی ہے
سوال: شب معراج سرکار اعظمﷺ کا اپنے رب جل جلالہ کا دیدار کرنا احادیث کی روشنی میں ثابت کریں؟
جواب: سرکار اعظمﷺ نے شب معراج اپنے سر کی آنکھوں سے رب تعالیٰ کا دیدار کیا۔
الحدیث: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اعظمﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب کریم کو دیکھا۔ (مسند احمد از کتاب‘ دیدار الٰہی)
اس حدیث کے بارے میں امام اجل امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ خصائص کبریٰ اور علامہ عبدالرئوف شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں‘ کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
الحدیث… حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اعظمﷺ فرماتے ہیں کہ بے شک اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دولت کلام بخشی اور مجھے اپنا دیدار عطا فرمایا۔ مجھ کو شفاعت کبریٰ و حوض کوثر سے فضیلت بخشی (بحوالہ: ابن عساکر از کتاب: دیدار الٰہی)
الحدیث: طبرانی معجم اوسط میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے بے شک سرکار اعظمﷺ نے دو مرتبہ اپنے رب جل جلالہ کو دیکھا۔ ایک بار اس آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل کی آنکھ سے (طبرانی‘ معجم اوسط)
الحدیث: حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا حضورﷺ نے اپنے رب جل جلالہ کو دیکھا۔ عکرمہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا اﷲ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ’’لاتدرکہ الابصار وہو یدرک الابصار‘‘
حضرت ابن عباس رضی اﷲ نے فرمایا۔ تم پر افسوس ہے کہ یہ تو اس وقت ہے جب وہ اپنے ذاتی نور سے جلوہ گر ہو حضورﷺ نے اپنے رب جل جلالہ کو دو مرتبہ دیکھا۔
(بحوالہ: ترمذی شریف جلد دوم‘ ابواب تفسیر القرآن‘ رقم الحدیث 1205 صفحہ 518‘ مطبوعہ فرید بک لاہور)
الحدیث: حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ’’ماکذب الفوا دمارایٰ‘‘ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ حضورﷺ نے اﷲ تعالیٰ کو دل (کی آنکھوں) سے دیکھا۔
(بحوالہ ترمذی شریف‘ جلد دوم‘ابواب تفسیر القرآن‘ رقم الحدیث 1207‘ صفحہ 519‘ مطبوعہ فرید بک لاہور)
عقیدہ: حضورﷺ کے خصائص سے معراج ہے کہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے ساتوں آسمان اور کرسی و عرش تک بلکہ بالائے عرش رات کے ایک خفیف حصہ میں مع جسم شریف تشریف لے گئے اور وہ قرب خاص حاصل ہوا کہ کسی بشر و ملک کو کبھی نہ حاصل ہوا‘ نہ ہوگا اور جمال الٰہی اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا اور کلام الٰہی بلا واسطہ سنا اور تمام ملکوت السموات والارض کو بالتفصیل ذرہ ذرہ ملاحظہ فرمایا (بہار شریعت حصہ اول)
سوال: شب معراج کو عبادت کا خصوصی اہتمام کرنا اور اس رات کی برکتیں احادیث کی روشنی میں ثابت کریں؟
جواب: شب معراج کو اﷲ تعالیٰ کے محبوب سرکار اعظمﷺ سے نسبت ہے اس لئے اس رات اور اس دن کی بڑی فضیلتیں ہیں‘ عبادت و ریاضت ہر رات میں باعث ثواب ہے مگر متبرک اور مقدس راتوں میں عبادات کی فضیلت نہایت مختلف ہے۔
حدیث شریف: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا‘ رجب کی 27 ویں رات میں عبادت کرنے والوں کو سو سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے (احیاء العلوم‘ مصنف: امام غزالی علیہ الرحمہ‘ جلد اول‘ ص 373)
سوال: 27 رجب کے دن روزہ رکھنا کیسا؟
جواب: 27 رجب کو روزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے:
روایت: امام بیہقی رضی اﷲ عنہ نے شعب الایمان میں لکھا ہے کہ ماہ رجب میں ایک دن اور ایک رات بہت ہی افضل اور برتر ہے۔ جس نے اس دن روزہ رکھا اور اس رات عبادت کی تو گویا اس نے سو سال کے روزے رکھے اور سو سال تک عبادت کی۔ یہ افضل رات‘ رجب شریف کی 27 ویں شب ہے۔ (بحوالہ: ماثبت من السنہ ص 171)
یہ روایات اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ’’فضائل اعمال‘‘ میں ضعیف روایات مقبول ہوتی ہیں (بحوالہ: مرقاۃ اشعۃ للمعات)
معلوم ہوا کہ شب معراج کی فضیلت بہت زیادہ ہے لہذا اس رات کو عبادت میں گزارنی چاہئے عوام بہکانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں۔
حدیث: بیہقی شعب الایمان اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ نے مرفوعاً روایت کی: رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن کا روزہ رکھے اور وہ رات نوافل میںگزارے‘ سو برس کے روزوں اور سو برس کی شب بیداری کے برابر ہو اور وہ 27 رجب ہے اسی تاریخ اﷲ تعالیٰ نے محمدﷺ کو مبعوث فرمایا (الفردوس بما ثور الخطاب حدیث 4381‘ دارالکتب العلمیہ بیروت 142/3‘ فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)
حدیث: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ 27 رجب کو مجھے نبوت سرفراز فرمایا۔جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے‘ دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو (تنزیہ الشریعہ بحوالہ فوائد ہناد کتاب الصوم حدیث 41‘ دارالکتب العلمیہ‘ بیروت ‘ 161/3‘ فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)