عالی جناب حافظ علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ میری نظر میں

in Tahaffuz, July 2010, بشیر حسین ناظم, شخصیات

میں نے حضرت مخدوم المخادم مرد حق نگر و علیم‘ صاحب قلب سلیم‘ مظہر شان عظیم‘ فرد کریم‘ صاحب لطف عمیم‘ انیس غریبان‘ چارہ ساز کیئباں ‘ ولی برحق‘ خواجہ جہاں پناہ حضرت میاں غلام اﷲ ثانی لاثانی شرق پوری کی معیت کریمہ میں اپنے زمانہ طفولیت میں برصغیر پاک و ہند کے دور دراز سفر کئے اور اﷲ تعالیٰ کی قدرت حقہ کے دل کش مناظر و مظاہرے سے دیدہ حیران کو ورطہ تحیر سے نکالا۔ میری آنکھوں کے کویوں میں کئی مردم ہائے دیدگان گردش کرنے لگے اور اب تک ان میں اضافہ در اضافہ و ایزا دبیرایزاد ہورہا ہے۔ یہ نگاہ مرشد کا فیضان لمعات ہے۔
حضرت قبلہ ثانی لاثانی رحمتہ اﷲ علیہ حضور قبلہ قطب دوراں بایزید وقت اور جنید میاں غلام اﷲ مسند شیر محمد و شیر ربانی پر جلوہ آرا ہوئے تو آپ نے خلافت و سجادہ نشینی کا حق ادا کردیا۔ آپ نے تقریبا تیس سال تک مسند شیر محمد و شیر ربانی رحمتہ اﷲ علیہ کی حفاظت و حصانت و تکریم و تعظیم فرمائی۔ دربار عالیہ شرق پور شریف کے امور دینی ودنیوی کو اس شان دار طریقے سے سرانجام دیا کہ ایک عالم نے آپ کی شان خلافت‘ فراست و کیاست اور ذکاوت کی تحسین کی۔ مجھے یاد ہے کہ اہل ارادت کئی کئی ماہ منتیں سماجتیں کرتے کہ حضرت ہمارے تشریف لے چلیں برکت ہوجائے گی‘ مشکلیں آسان ہوجائیں گی لیکن حضرت فرماتے مسند شیر ربانی پہ کون بیٹھے گا جو فریضہ اعلیٰ حضرت مجھے سونپ گئے ہیں ان کو ادا کرنا میری سب سے بڑی عزت و توقیر ہے۔
تحریک پاکستان کے لئے حضرت قبلہ ثانی صاحب نے حضرت قبلہ حاجی فضل الٰہی مونگا علیہ الرحمہ کی معیت سرحد‘ مرکزی پنجاب بلکہ پٹیالے تک دورے کئے۔ آپ اکثر ٹرین پہ سفر فرمایا کرتے۔ فقیر راقم الحروف ایک باہوش ننتھے نعت خواں کی حیثیت سے آپ کی معیت ہوتا۔ فقیر اس مضمون میں حاجی قبلہ فضل الٰہی مونگا شرق پوری رحمتہ اﷲ علیہ کی اعلیٰ حضرت اور ثانی صاحب سے ارادت و عقیدت اور محبت و مودت کا کماحقہ اظہار کرنے سے قاصر ہے۔
میں نے حضرت ثانی لاثانی علیہ الرحمہ اور قبلہ حاجی فضل الٰہی مونگا کے ساتھ دور دراز کے سفر کئے۔ سفر کا آغاز قصور شریف سے ہوتا۔ قصور سے کھیم کرن تک کچھ افراد ساتھ ہوتے۔ کھیم کرن جو حضرت قبلہ بلبل بوستان نعت نبوی علامہ محمد شفیع اوکاڑوی کا آبائی گائوں تھا‘ اس میں کم از کم حضرت صاحب تین دن قیام کرتے اور قال اﷲ وقال الرسول کی محافل و مجالس مزین و آراستہ دیکھتے۔ حضرت قبلہ ثانی لاثانی رحمتہ اﷲ علیہ کی ذات میں اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد وشیر ربانی کے انوار و تجلیات جلوہ افروز تھے۔ آپ حاضرین کو فیوض و برکات سے نوازتے۔ کچھ لوگ ارادت مند ہوتے اور کچھ عالمان خوش نظر جن میں سے مولانا علامہ عبدالعزیز صاحب الگوں والے اس وقت معروف و مشہور شخصیات تھے‘ بھی حاضر ہوتے۔
اسی قریۂ خوش طالع میں حضرت قبلہ حافظ محمد شفیع دامت برکاتکم آپ کے والد حضرت میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ اور حافظ صاحب کے استاد محترم سے ملاقاتیں ہوتیں۔ محترم و مکرم میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ سے میں نے پوچھا تو مجھے فرمانے لگے‘ ہمارے آبائو و اجداد زیادہ عرصہ قنوج میں رہے اور پھر ترن تارن میں ہجرت کر آئے۔ پھر دو تین نسلوں کے بعد ہمارے بزرگ کھیم کرن میں مستقل رہائش پذیر ہوگئے اور مختلف اعزہ نے مختلف پیشے قوت لایموت کے حصول کے لئے اختیار کرلئے۔ میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ کپڑے‘ کمبل بافی اور چرم ہائے میش و جاموش کا کاروبار کرتے تھے اور حضرت قبلہ حافظ صاحب رحمتہ اﷲ علیہ ان کی ایک ولد الرشید کی طرح مدد نصرت کیا کرتے۔
میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ جنید دوراں و بایزید عصر اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد و شیر ربانی کے مرید باصفا تھے۔ میں ان کی آنکھوں اور پیشانی میں عجیب و غریب انوار و جلوے دیکھے ہیں۔ ان کا تبسم ابھی تک نظروں کے سامنے ہے۔ اتنی جاذب نظر شخصیت میں نے نہیں دیکھی۔ اس ضمن میں جاگر مراد آبادی کا شعر یاد آتا ہے۔
آدمی آدمی سے ملتا ہے        دل مگر کسی سے ملتا ہے
میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ حضرت کے مخصوص مریدوں میں سے تھے۔ وہ اعمال صالحہ اور کردار انیقہ میں پوری برادری اور سارے علاقے میں مشہور تھے۔ اپنے مرشد کا نام بکمال ادب لیتے۔ حضرت صاحب کی باتیں اس طرح کرتے کہ ان کا سارا جسم گداز ورقت کا بقعہ بن جاتا۔ میں نے ان کو گوشہ عزلت میں سربزانو ہوکر بیٹھا ہوا دیکھا ہے۔ انہیں پتا تھا دبیرستان صوفی زانو ہوتا ہے جس پر جھک کر وہ استفاضہ اسرار کرتا ہے لہذا صوفی دونوں زانوں کے درمیان سر رکھ کر حل مشکلات تلاش کرلیتا ہے۔ خاقانی نے اس ضمن میں خوب کہا ہے۔
دل من پیر تعلیم است و من طفل زبانش
دم تسلیم سر عشر و سر زانو دبستانش
میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قبلہ شیر ربانی اور قبلہ ثانی لاثانی نے اپنی نگاہ کیمیا اثر سے ابریز ورز بنادیا تھا۔ ان کا دل بے دار تھا۔ وہ شب بے داری کو محبوب رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے قلب کا تصفیہ اس حد تک کررکھا تھا کہ خداوند قدوس کو ان کا قالب نہیں قلب منظور تھا۔ وہ مستور الحال عاشقان رسول میں تھے اور دنیاوی معاملات میں سیدھے سادھے تھے۔ اپنے شیخ کی بارگاہ کو دارالشفاء سمجھتے تھے۔ شیخ طریقت کے احسان مند اور وفا وخدمت کے پابند تھے۔ کبھی کبھی بندش حواس ظاہر کی بھی تمرین کرلیا کرتے‘ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ تنویر حواس باطنی کا یہی تمرین باعث ہوسکتی ہے‘ خوردنوش میں حزم و احتیاط سے کام لیا کرتے۔ کبھی ابن الوقت ہوکر زندگی نہیں گزاری۔ قناعت اور سادگی ان کی عروس زندگی کی مانگ کا جھومر تھی۔ نام وری و شہرت سے میلوں دور بھاگتے تھے‘ المختصر میرے مخدوم حضرت حاجی میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ‘ اﷲ کریم کے مقبول و منظور بندوں میں سے تھے۔
حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کے استاذ حضرت قبلہ حافظ کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ صالحیت و نیکی کا مجسمہ تھے۔ انہوں نے کھیم کرن اور اس کے حوالی کے خوش بخت انسانوں کو حفظ قرآن کی دولت سے نوازا۔ حضرت اوکاڑوی سے انہیں خاص انس تھا۔ حضرت اوکاڑوی بھی ان کی عزت و احترام اور تکریم و تعظیم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ میں نے بحمداﷲ حضرت حافظ کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ کی زیارت کی ہوئی ہے‘ وہ بلاشبہ مرقع تقویٰ وپرہیزگاری تھے۔ علیہ الرحمہ
امت محمدیہ علیہ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے بعض بزرگان صاحب توقیر‘ عاشقان دل تنویر اور بندگان باتدبیر کے پیدا ہونے سے پہلے اہل اﷲ نے ان کی آمد کی نوید و تبشیر دی ہے۔ ان میں بہت حضرات گرامی شامل ہیں لیکن اس وقت مرد حق مرد نورانی‘ اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد و شیر ربانی‘ محترم و مکرم حضرت استاد حفیظ تائب رحمتہ اﷲ علیہ امام نعت گویاں اور برادر محترم خطیب اعظم پاکستان مجدد مسلک اعلیٰ حضرت بریلوی حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کے اسمائے گرامی کا تبرکا و تیمنا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔
ایک روایت کے مطابق جوا شہر ترین روایت ہے‘ حضرت امام الاولیاء قطب دوراں میاں شیر محمد شیر ربانی علیہ کی ولادت سعادت سے پہلے کئی بزرگ اعلیٰ حضرت کے کوچے میں آکر ایک گونہ خوش بووطیب سونگھا کرتے تھے اور حضرت میاں عزیز الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو آپ کی آمد کی خوشخبری ونوید دیا کرتے تھے۔
دوسری شخصیت حضرت استاد محترم محمد حفیظ تائب رحمتہ اﷲ علیہ کی ہے۔ ان کے والد حضرت الحاج چراغ دین رحمتہ اﷲ علیہ موضع احمد نگر ضلع گوجراں والا کے ساکنین میں سے تھے۔ میری ان سے زبردست یاد اﷲ تھی۔ وہ ایک عالم باعمل اور صوفی باصفا تھے۔ قبلہ استاد حفیظ تائب رحمتہ اﷲ علیہ کی پیدائش سے قبل الحاج چراغ دین رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس ایک کوچک ابدال (ملنگ) اکثر پھیرے لگایا کرتا تھا اور باتوں ہی باتوں میں حاجی صاحب کو ایک سعادت مند بچے کی آمد کی خوش خبریاں اور نویدیں دیا کرتا تھا۔
تیسری شخصیت حضرت علامہ خطیب اعظم محمد شفیع اوکاڑوی کی ہے۔ حضرت شیخ میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ نے مجھے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ حافظ محمد شفیع کی ولادت سے پہلے ان کے پاس تین چار بزرگ تشریف لائے۔ تینوں سے ان کی ملاقات محلے کی مشہور مسجد میں ہوئی۔ کسی نے کرم الٰہی کو کرم کی نوید دی۔ کسی نے عزت و احترام میں ایزادکی خوشخبری دی اور کسی نے خدمت دین مبین کا پرچم لہرانے کی سعادت کا ناد بجایا۔ اس کی تصدیق و توثیق مزید اعلیٰ حضرت سید محمد شیر ربانی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس وقت کی جب حضرت میاں کرم الٰہی آپ سے ارادت کیشی کی نیت سے شرق پوری شریف حاضر ہوئے۔ اعلیٰ حضرت شرق پوری نے میاں کرم الٰہی سے نام پوچھا تو آپ نے ایک شان عجز سے عرض کی حضرت میرا نام کرم الٰہی ہے۔ نام سنتے ہی اعلیٰ حضرت شرق پوری کے لبوں پر یہ مصرع آیا۔
کرم الٰہی دیاں نہراں وگیاں تے تسے پین ہزاراں
اس مصرعے کو اعلیٰ حضرت رحمتہ اﷲ علیہ نے تین بار دہرایا۔ اس وقت الحاج میاں فضل الٰہی مونگا رحمتہ اﷲ علیہ پاس ہی بیٹھے تھے۔ انہوں نے میاں کرم الٰہی کو دلی مبارکباد دی۔ حاجی محمد علی جو تقسیم ہند کے بعد راول پنڈی میں بازار بھابھڑیاں والا میں مقیم ہوگئے تھے‘ بھی میاں کرم الٰہی کے ساتھ تھے۔ راقم الحروف نے ان کی زیارت کی ہوئی ہے۔ نہایت خوش خلق‘ کریم النفس اور خوب صورت انسان تھے۔ ان کو بھی حضرت صاحب رحمتہ اﷲ علیہ نے محمد و علی نسبتوں سے حصول فیوض و برکات کی خوش خبریاں دیں۔
اس خوشخبری کے ساتھ میاں کرم الٰہی ایک گونہ راحت و فرحت کے ناز سے واپس کھیم کرن آئے اور حافظ محمد شفیع اوکاڑوی کے استاد شفیق سے تمام باتیں کردیں۔ حافظ صاحب باتیں سن کر پھولے نہ سمائے اور میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ کے فرمودات کو بشارت پر محمول کرکے مبارکباد دی۔ حافظ کرم الٰہی علیہ الرحمہ غیر معمولی روحانی شواہق کے مالک تھے۔ اعلیٰ حضرت شرق پوری کو ان کے علوشان کا پتا تھا۔
بعد ازاں میاں کرم الٰہی ایک رویائے صادقہ سے نوازے گئے۔ اس خواب دل نواز کا تذکرہ میاں کرم الٰہی نے حافظ کرم الٰہی اور حافظ فضل الٰہی مونگا رحمتہ اﷲ علیہ سے کیا۔ دونوں بزرگوں نے ان کو تہنیت سے نوازتے ہوئے فرمایا:
کرم الٰہی یہ خواب جو تم نے دیکھا ہے کہ تمہاری گود میں ماہ تمام اتر آیا ہے کی تعبیر یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے تجھے ایک ایسا فرزند عطا فرمائے گا جس سے دین حقہ کی روشنی ہر سمت پھیلے گی۔
اس خواب دل کشا کی تعبیر یہ نکلی کہ میاں کرم الٰہی کے ہاں 2 رمضان المبارک 1348ھ بمطابق 1930ء میلادی کو حافظ محمد شفیع اوکاڑوی کی ولادت کی نوید دل نواز ملی۔ میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ خوشخبری مسجد میں سنائی گئی۔ یہ نوید وخوشخبری سن کر میاں کرم الٰہی نے سجدہ شکر ادا کیا اور حافظ کرم الٰہی کو بتایا کہ معطی و وہاب جل مجدہ نے انہیں ایک حسین و جمیل بچے سے نوازا ہے۔
حافظ کرم الٰہی نے حافظ محمد شفیع کے کانوں میں درود پاک پڑھ کر اذان مع اقامت کہی۔ آیات قرآنی پڑھ کر ان پر دم کیا۔ میاں کرم الٰہی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے نوزائیدہ بچے کا نام محمد شفیع رکھا۔ حافظ کرم الٰہی نے رسم بسم اﷲ ادا کی اور پیدائش کے بعد رسم بسم اﷲ کی ادا کے بعد یہ شبہ فیصلہ ہوا کہ بچے کو بہر نمط قرآن کریم حفظ کرایا جائے گا۔
حضرت خطیب اعظم نے ہوش سنبھالا تو حفظ قرآن کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ ساتھ ہی ساتھ بارگاہ نبوی میں نعت کے نذرانے بھی پیش کرنے شروع کردیئے۔ اﷲ تعالیٰ نے لحن دائودی سے اور الحان حضرت ابو موسیع اشعری سے وافر حصہ عطا فرمایا۔
دوسری بار راقم الحروف قبلہ عالم حضرت ثانی لاثانی کے ساتھ 1946ء میں کھیم کرن حاضر ہوا۔ حافظ محمد شفیع کو حضرت ثانی صاحب نے فرمایا:
حافظ محمد شفیع اگلے مہینے کی آخری تاریخ کو حضور سیدنا شیخ احمد مجدد الف ثانی کے عرس پر ہمارے ساتھ چلنے کی تیاری کرو۔ تاریخ مقررہ پر حافظ محمد شفیع لاہور اسٹیشن پر تشریف لائے۔ ہمارا پینتیس افراد پر مشتمل قافلہ تھا‘ جس میں حضور قبلہ ثانی صاحب رحمتہ اﷲ علیہ‘ حاجی فضل الٰہی مونگا رحمتہ اﷲ علیہ‘ حاجی فضل احمد مونگا ‘ بابا کرم دین‘ حاجی شیخ محمد اسماعیل حلوائی‘ حاجی شیخ محمد اسلام‘ ڈاکٹر عبدالغنی مرحوم و مغفور‘ راقم الحروف اور دیگر افراد ذی وقار شامل تھے۔ ہم شام چار بجے گاڑی پر سوار ہوکر عازم سرہند شریف (قدیم سہرند) ہوئے۔ پھلور کے رستے جو ہندوستان میں سب سے بڑا پولیس ٹریننگ سینٹر تھا‘ سرہند شریف کے اسٹیشن پر اترے۔ سجادگان ارحمہم اﷲ نے اپنے چند خدام سرہند اسٹیشن پر ہمارے استقبال کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔سرہند اسٹیشن سے چند فرلانگ کے فاصلے پر حضور سیدنا امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ کا مزار پرانوار تھا۔ ہمیں عالی شان کمروں میں ٹھہرایا گیا لیکن میں اور حافظ محمد شفیع اورنگزیب عالمگیر کی بنائی ہوئی مسجد میں آکر استراحت کرتے اور حضور مجدد الف ثانی کے ذکر جمیل سے میں بزبان حافظ محمد شفیع متمتع ہوتا۔
دوسرے دن راقم الحروف اور حافظ محمد شفیع اوکاڑوی مسجد میں بیٹھ نرمک نرمک ہوا اور ماہ تمام کی روشنی سے لطف اٹھا رہے تھے کہ اچانک حضرت قبلہ ثانی صاحب نے زور زور سے پکارنا شروع کردیا۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے آپ کرب کے عالم میں ایسا کررہے ہیں۔ تمام احباب اپنے حجروں سے نکل کر حضرت ثانی صاحب کے حجرے میں آئے تو آپ کوپسینے سے شرابور دیکھا۔ آپ سے احوال پوچھے۔ آپ نے فرمایا کچھ نہیں ہوا۔ جائو جاکر نماز تہجد کی تیاری کرو‘ سب حضرات واپس اپنے اپنے مقام استراحت کی طرف چلے آئے۔
رات کے ساڑھے تین بج چکے تھے۔ یکایک پھر آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ سب متوسلین حجرے کے باہر جمع ہوکر آپ کی آواز سن رہے تھے۔ حضرت ثانی صاحب فرما رہے تھے۔ حضرت جی! حاجی فضل الٰہی مونگا آیا ہوا ہے‘ وہ بھی بخشا گیا ہے‘ حاجی فضل احمد مونگا آیا ہوا ہے‘ وہ بھی بخشا گیا۔ حافظ محمد شفیع آیا ہوا ہے وہ بھی بخشا گیا ہے‘ بشیر حسین ناظم آیا ہوا ہے‘ وہ بھی بخشا گیا‘ مستری کریم دین آیا ہوا ہے‘ وہ بھی بخشا گیا‘ حاجی اسماعیل حلوائی آیا ہوا ہے‘ وہ بھی بخشا گیا‘ ڈاکٹر عبدالغنی آیا ہوا ہے‘ وہ بھی بخشا گیا‘ الحمدﷲ آپ نے سب کا نام لے کر نوید بخشش سنائی۔ جب آپ سب کو مژدہ و نوید بخشش سنا چکے تو کچھ لوگ بالخصوص حاجی فضل الٰہی مونگا اندر گئے۔ حاجی صاحب نے بتایا کہ حضرت ثانی صاحب انہیں دیکھ کر مسکرائے۔ حاجی صاحب نے ماجرا پوچھا تو آپ نے فرمایا:
فضل الٰہی‘ حضور سیدنا مجدد صاحب رحمتہ اﷲ علیہ تشریف لائے ہوئے تھے اور میرے دل کے تنگ ظرف کو وسعتیں عطا فرما کر فیوض و برکات سے نواز رہے تھے اور مجھے تکلیف ہورہی تھی‘ اس لئے میں اونچا بولنے لگا۔ المنتہ ﷲ کہ مجھے حافظ محمد شفیع اور دیگر متوسلین کو حضور ثانی صاحب مژدہ بشارت بخشش سنائی۔
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کی تحریک میں حافظ محمد شفیع اور مولانا عبدالعزیز الگوں والوں نے قابل تحسین اور جدیر تعریف حصہ لیا۔ ممکن تھا کہ امرتسر‘ ہوشیار پور اور گورداس پور کے اضلاع پاکستان میں شامل ہوں گے لیکن احراریوں اور دیوبندیوں کی دسیسہ کاریوں نے ان اضلاع سے پاکستان کو محروم کردیا۔ وائے حسرتا
اعلان آزادی برصغیر ہوا تو حافظ محمد شفیع صاحب اپنے والد محترم اور دیگر افراد خانہ کے ساتھ تحصیل اوکاڑا ضلع ساہیوال میں مقیم ہوگئے۔ میاں کرم الٰہی نے اوکاڑا منڈی میں آرھت کا کاروبار شروع کیا اور حافظ صاحب قبلہ ان کی اعانت و نصرت فرمانے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ نعت خوانی اور خطابت کا سلسلہ جاری و ساری رکھا۔
حضرت علامہ محمد شفیع نے پاکستان پہنچتے ہی منشی فاضل کا امتحان پاس کیا اور برلا ہائی اسکول میں استاد کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہے۔ حضور قبلہ ثانی صاحب ہر مہینے کی گیارہ تاریخ کو گیارہویں شریف کا ختم بڑے اہتمام سے دلایا کرتے۔ اس محفل پاک میں نگینہ صاحب حافظ محمد شفیع اور راقم الحروف‘ سلیم و ممتاز برادران نعتیں پیش کیا کرتے تھے۔ ایک موقع پر حضور ثانی نے مجھے ارشاد فرمایا ’’او بشیریا نعت پڑھ‘‘ میں نے حضرت صاحب کی پسندیدہ نعت ’’فرش توں عرش تے چڑھ کے براق سوہنا چلنا‘‘ پڑھی تو آپ نے فرمایا‘ اک ہوڑ پڑھ۔ میں نے دوسری نعت ’’سوہنی مزمل تیری شان یا نبی کملی والے‘‘ پڑھی تو سرکار ثانی لاثانی نے فرمایا‘ بشیریا! اک ہور پڑھ۔ میں تیسری نعت راقب قصوری رحمتہ اﷲ علیہ کی پڑھی جس کا مطلع تھا ’’مدینے بلالو سیئاں ساریاں نوں‘ مصیبت زدہ غم دیا ماریاں نوں‘‘ راقم الحروف جوں جوں نعتیں پڑھتا جاتا محفل پرکیف وسرور کا عالم چھاتا جاتا۔
حضرت صاحب نے مجھ کو چوتھی نعت پڑھنے کا حکم دیا تو میں راقم قصور کی اردو کی نعت ’’بلالو اب تو یا احمد ٹھہر جانا نہیں اچھا‘ تڑپ کر یوں تیرے بسمل کا مرجانا نہیں اچھا‘‘ پڑھی۔ ان دنوں مرحوم محمد اعظم چشتی کا دور دورہ تھا۔ حضرت صاحب قبلہ نے مجھ سے چار نعتیں سنکر فرمایا ’’ساڈا اعظم تے بشیرا ای اے اﷲ برکتاں دے‘‘
مجھ سے چار نعتیں سن کر قبلہ ثانی صاحب نے محترم حافظ محمد شفیع صاحب کو نعت پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ حافظ صاحب اوکاڑوی نے حضرت مولانا حسن رضا بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی وہ نعت پڑھی جس کا مطلع ہے
نگاہ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
لئے ہوئے تو دل بے قرار ہم بھی ہیں
حافظ محمد شفیع نے یہ نعت اس اچھے لحن اور عمدہ ادائیگی سے پڑھی کہ محفل پر تجلیات کا ظہور ہونے لگا۔ قبلہ ثانی لاثانی نے وقت کی زلفوں کوتھام کر فرمایا:
حافظ محمد شفیع ! نعت پڑھن توں اڈ کچھ بیان وی کردیا کر اﷲ برکت پاوے گا۔ اس کے بعد میں نے اپنی چشم سر سے دیکھا ہے کہ جب حافظ صاحب کچھ بیان شروع کیا تو بے شمار برکات نے انہیں دامن میں لے لیا۔ مشرق و مغرب میں حافظ صاحب کی دھومیں مچ گئیں۔
میں آٹھ سال کا تھا تو مجھے الف با نہیں آتے تھے۔ ایک دن میں ثانی صاحب کی معیت میں کنویں کی طرف جارہا تھا تو قبلہ ثانی نے مجھے اپنی بانہوں میں تین بار کھینچ کر چھوڑ دیا اور فرمایا ’’لے اوے بشریا ایتھے تے اوتھے موجاں ای لیں گا‘‘
قارئین کرام! حضرت ثانی صاحب کی یہ دعا ایسی رنگ لائی کہ ملک کے تمام صدور اور وزرائے اعظم میری علمی وجاہت کی اساس پر دل سے تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ بھٹو صاحب مجھے حضرت صاحب کہہ کر پکارا کرتے۔ آج اہل علم و فضل میں جو میری عزت و وقار ہے‘ ان میں ثانی صاحب کی دعا کی تابانیاں اور شعشعانیاں ہیں۔
میدان خطابت میں اترنے سے پہلے محترم خطیب پاکستان نے باقاعدہ درس نظامی کا نصاب پڑا اس میں مزاوات حاصل کی اور اس پر مواظبت فرمائی۔
قبلہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی اعلیٰ اﷲ مقامہ نے حضرت علامہ شیخ الحدیث غلام اوکاڑوی سے تلمذ کیا۔ آپ نے حافظ صاحب کو نہ صرف علوم و فنون اسلامیہ کی تعلیم دی بلکہ علم الکلام‘ علم منطق اور علم المناظرہ میں بھی عالم متبحر و فاضل تمہر بنادیا۔ حافظ صاحب کا طریق استدلال مذکورہ بالا علوم پر مبنی ہوتا اور مخالفین کو کبھی علم الکلام سے شکست دیتے کبھی علم منطق سے ہزیمت دیتے اور کبھی علم المناظرہ سے گریزاں کرتے۔
حافظ صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت سیدنا محمد اسماعیل بخاری رحمتہ اﷲ علیہ المروف حضرت کرماں والا سے زبردست عقیدت تھی۔ حضرت ثانی لاثانی کی وفات کے بعد راقم الحروف چند احباب جن میں سید امجد علی شاہ ڈائریکٹر انسپکشن انڈسٹری پنجاب‘ لالہ منور خاں‘ چوہدری عبدالحمید‘ حاجی لال دین اور دیگر بزرگوں کی معیت میں حضرت سیدنا کرماں والا رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں ہر اتوار کو حاضر ہوتا۔ وہاں بسا اوقات حضرت علامہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی سے ملاقات ہوجاتی۔ حضرت کرماںوالا نہایت ہی فراخ دلی سے اہل محفل کو اپنے فیوض برکات سے نوازتے۔ لوگ مختلف بیماریوں کا علاج پوچھنے آتے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب بیسیوں بیماریوں کے علاج کے لئے ایک ہی نسخہ اہل محفل میں تجویز کراتے اور قبلہ حافظ صاحب سے بکثرت نسخہ تجویز کراتے۔ ایک دن حافظ صاحب میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ دریں اثناء کئی مریض مختلف عوارض میں مبتلا حاضر ہوئے۔ حضرت کرماں نے علامہ شفیع اوکاڑوی سے فرمایا ’’حافظ جی آج تسی کوئی دوا تجویز کرو‘‘
حافظ صاحب نے ’’شہد‘‘ تجویز کیا۔ حضرت صاحب بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا حافظ صاحب آپ نے میرے دل کی بات کیسے بوجھ لی حضرت صاحب نے حافظ صاحب کو بہت ہی دعائیں دیں۔ فرمایا آپ نے لوگوں کے امراض کی شفا کے لئے شہد کا نسخہ تجویز فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے زبان و بیان میں شیرینی و حلاوت پیدا کرے۔ قارئین آپ نے دیکھا ہوگا کہ حافظ کے زبان و بیان میں اﷲ تعالیٰ نے کیا حلاوتیں پیدا کیں۔ سبحان اﷲ
آئندہ اتوار کو حافظ صاحب سے دوبارہ دربار گوہر بار حضرت کرماں والا میں ملاقات ہوئی۔ اس روز علمی و ادبی گفتگو ہورہی تھی۔ حضرت قبلہ کرماں والا نے مجھ سے فرمایا ’’بیلیا! کوئی حدیث سنا‘ میں نے عرض کیا! مسلم مرآۃ المسلم۔ حضرت صاحب نے فرمایا دیکھیا جسے ایس بیلی نے صہیح تلفظ نال مرآۃ آکھیا اے ہنیں علماء حضرات ’’مراۃ‘‘ آکھ دیندے نیں۔ حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور مجھے فرمایا ’’لے بیلیا! توں اولیاء ہوجائیں گا۔‘‘
غور فرمایئے دو بزرگوں نے حافظ صاحب کو اور مجھے اپنی مخلص اور موثر دعائوں سے کس محبت کے ساتھ نوازا ہے جن کے ثمرات ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور ان شاء اﷲ دیکھتے رہیں گے۔
پاکستان کی تشکیل کے تقریبا دس سال بعد حضرت خطیب پاکستان نے صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی اور اس کے حوالے بلکہ پورے پاکستان کو اپنی خطابت و موعظت کی جولاں گاہ بنایا۔ ان کی لوری کے چرچے ہوئے۔ انہوں نے اعلیٰ حضرت کے عقائد و مسلک کے گلستان کی ازسر نو آبیاری فرمائی۔ لوگوں کو ساتھ سال بعد اعلیٰ حضرت کی سچی اور سچی راہ پر گامزن کیا اور مسلک رضا کا ہر جگہ لوہا منوایا۔ مجالس محرم کو اپنے زباں و بیاں سے ازسرنو مزین کیا۔ واقعہ کربلا کے حقائق اس صداقت و وثوق کے ساتھ بیان کیا کہ اہل تشیع حضرات نے بھی آپ کو داد و تحسین پیش کی۔ ایک ناہنجار اور ابن الدالخصام نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن آپ بتائید وفضل الٰہی بال بال بچ گئے۔ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ سلام رضا کو حضرت خطیب اعظم اور قاری غلام رسول مدظلہ العالیٰ نے بین الاقوامی سطح پر معروف لیکن تحسنتیں و اولین سعادت ترویج سلام رضا راقم الحروف کی ملی۔ 1946ء میں مسجد وزیر خاں میں انجمن حزب الاحناف کا سالانہ جلسہ دستار فضیلت منعقد ہوا۔ راقم الحروف اپنے والد محترم میاں غلام حسین چوہان رحمتہ اﷲ علیہ کے معیت میں شریک تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا۔ حضرت سیدنا سید احمد ابوالبرکات رحمتہ اﷲ علیہ نے مجھے نعت پڑھنے کی اجازت دی تو میں اعلیٰ حضرت کی مشہور نعت
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
پڑھی تو اہل محفل جھوم جھوم گئے۔ بعد میں تقریبا تین بجے رات سید صاحب نے میرے والد محترم سے پوچھا ’’بچے کو اعلیٰ حضرت کے سلام کے شعر آتے ہیں جب انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو سید صاحب نے مجھے سلام پڑھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ میں نے سلام پڑھا تو محفل تو محفل پر انوار و تجلیات کی بارش ہونے لگی۔ اختتام سلام پر حضرت محدث کچھوچھوی رحمتہ اﷲ علیہ نے مجھے گلے لگایا اور میرے ماتھا چوم کر مجھے بہت سی دعائیں دیں۔ میں نے 1957ء تک حزب الاحناف چنگڑ محلہ اندرون دہلی دروازہ سلام پڑھا۔ پھر پورا لاہور سلام کے زمزموں سے گونج اٹھا۔ میرے بعد حضرت قاری غلام رسول مدظلہ نے سلام رضا کو بام عروج تک پہنچایا۔ 1959ء میں لاہور کے اخبار مشرق میں یہ مضمون چھپا کہ سلام رضا کی ترویج کا سہرہ (سہرا نہیں) قاری غلام رسول صاحب کے سر ہے۔ اس پر شارح بخاری حضرت علامہ محمود احمد رضوی نے اپنے ماہانہ رسالے رضوان میں اس بات کی تردید کی اور واشگاف الفاظ میں لوگوں کو اطلاع دی کہ بشیر حسین ناظم نے سلام رضا کو تشکیل پاکستان سے پہلے مروج کیا تھا۔
اﷲ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی اور مجھ میں بہت سی اقدار مشترک ہیں جو ادعیہ حضرات والدین‘ ادعیہ مرشدین اور ادعیہ عامۃ الناس کا ثمر شیریں ہیں۔ مجھے نہ صرف سلام رضا کی ترویج کی سعادت حاصل ہوئی بلکہ اس پر شان دار تضمین (اردو) کہنے کی برکات نصیب ہوئیں۔ بعد ازاں سلام رضا کا انگریزی ترجمہ کرنے کا بھی موقع ملا۔ میں نے اعلیٰ حضرت کی کتاب بیعت و خلافت کو بھی انگریزی قالب میں ڈھالا۔ سید المرسلین کا بھی انگریزی زبان میں ترجمہ اور پھر اعلیٰ حضرت کی عمدہ ترین تصنیف منف ’’ختم نبوت‘‘ کو بھی انگریزی زبان میں منتقل کرچکا ہوں وہ بھی انشاء اﷲ جلد منصۂ شہود پر آجائے گی۔
میں نے یہ چند یادداشتیں علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کیطرح قلم برداشت لکھی ہیں۔ اﷲ تعالی قبول فرمائے اور ہمارے پیر بھائی علامہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی انہیں قبول فرمائیں۔ علامہ شفیع اوکاڑوی خود تو عرصہ پچیس سال سے ہمیں داغ مفارقت دے گئے ہیں لیکن ان کی یادیں ہمیشہ چل چراغ کی طرح جگ مگ جگ مگ کرتی رہیں گی۔
احم ہم نفسناں محفل ما        رفقید ولے نہ از دل ما