کیا امام احمد رضا خان فرقہ واریت کے نقیب تھے؟

in Tahaffuz, March-April 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, محمد اسماعیل بدایونی

تیسرا مقدمہ
وکیل استغاثہ: جناب والا آج کی اس عدالت کو یقینا اس بات کی حقیقت سے کوئی انکار نہ ہوگا کہ مولانا احمد رضا‘ بریلوی فرقے کے امام اور مسلمانوں کو وہابی‘ دیوبندی اور بریلوی میں تقسیم کرنے والے ایک مذہبی اسکالر تھے۔ اور بریلی وہ شہر تھا جہاں انہوں نے کفر کی مشین لگائی ہوئی تھی‘ وہ چاہتے اور جسے چاہتے کافر بنا دیتے تھے۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے مخالف تھے۔
وکیل صفائی: جناب والا! آج کی اس عدالت میں‘ میں وکیل استغاثہ کے طرز بیان اور انداز تکلم پر احتجاج کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ اہل عقل و دانش کی عدالت میں وکیل استغاثہ تہذیب و شرافت کے دامن کو نہ چھوڑا کریں (حالانکہ انہوں نے کبھی پکڑا نہیں) اور عدالت میں مقدمے سے قبل ہی انہوں نے عدالت کے معزز ججوں کو لفظوں (اس عدالت کو یقینا اس بات کی حقیقت سے کوئی انکار نہ ہوگا) سے خریدنے کی جو سنگین خطا کی ہے‘ وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔
وکیل استغاثہ: آج کا مقدمہ اتنا آسان نہیں جتنا وکیل صفائی سمجھ رہے ہیں‘ آج وکیل صفائی لفظوں کے دریا اور جملوں کی شوخیاں بہا کر حقیقت کی اس شمع کو گل نہ کرسکیں گے۔
وکیل صفائی: آج وکیل استغاثہ کے غرور کو دیکھ کر شیطان بھی سہم گیا ہوگا۔ اگر حقیقتاً ایسا ہی ہے تو دماغ کی میان سے دلائل کی تلوار نکال کر میدان عمل میں کود پڑیں اور اگر پچھلے دو مقدموں کا حشر یاد ہے تو میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ اس سے گریز کریں۔
وکیل استغاثہ: وکیل صفائی تو دلائل کے حملوں سے قبل ہی گھبرا گئے۔
وکیل صفائی: اگر وکیل استغاثہ تکبر کی شراب پی کر اتنے مدہوش ہوچکے ہیں کہ انہیں پچھلے دو مقدموں کا حشر یاد نہیں‘ تو وقت ضائع کئے بغیر دلائل اس عدالت کے سامنے پیش کرنا شروع کریں۔
وکیل استغاثہ: جناب جج صاحب! آج دلیل نہیں دلائل ہیں‘ آج حوالہ نہیں حوالہ جات ہیں۔ آج مقدمے میں لفظوں کی جنگ نہیں‘ حقیقت کا رنگ ہے۔
جناب والا: آج اگر مولانا احمد رضا کو فرقہ واریت کا نقیب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ محترم جج صاحب! ڈاکٹر خالد محمود صاحب جوکہ ایک مایہ ناز اسکالر ہیں‘ وہ اپنی کتاب مطالعہ بریلویت میں مولانا حمد رضا کی نقاب کشائی کرتے ہوئے وصایا شریف کے حوالے سے لکھتے ہیں’’ بانس بریلی ہندوستان کے ایک صوبہ یوپی کا ایک شہر ہے جہاں مولانا احمد رضا خاں پیدا ہوئے‘ انہوں نے ایک مذہب ترتیب دیا اور اپنے پیروئوں کو اس پر چلنے کی وصیت کی۔ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے‘ اس پر مضبوطی سے قائم رہنا‘ ہر فرض سے اہم فرض ہے‘ اﷲ توفیق دے‘‘
(مطالعہ بریلویت‘ ص 19‘ مطبوعہ دارالمعارف لاہور 1968)
مزید آگے لکھتے ہیں ’’جس شخص نے ایک نیا مذہب بنا رکھا ہو اور لوگوں کو برملا کہے‘ میرے دین و مذہب پر قائم رہنا‘ ہر فرض سے اہم فرض ہے‘‘ (مطالعہ بریلویت ص 27)
اس روشن مثال کے بعد کیا کسی دلیل کی حاجت رہ جاتی ہے کہ مولانا نے اسلام کو فرقہ واریت کی تلوار سے پارہ پارہ کر ڈالا اور ایک نئے دین جوان کی کتب سے ظاہر ہے کہ پیروی کی وصیت کی۔
وکیل صفائی: جب اہل علم‘ علم ودانش کی عدالتوں میں علمی خیانت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں اور حقائق کی شکل مسخ کرنے کا مقدس فریضہ انجام دینے لگیں تو ان کے لئے یہی کہا جاسکتا ہے۔
وکیل صفائی: وکیل استغاثہ نے ڈاکٹر خالد محمود کا وصایا شریف کے حوالے سے جو اقتباس نقل کیا ہے‘ وہ ادھورا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے۔ اصول عبارت یوں ہے۔
’’حتی الامکان اتباع شریعت نہ چھوڑو اور میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے‘‘
عقل و دانش کی اس عدالت میں تشریف فرما ہونے والے بزرگو! اعلیٰ حضرت نے تو ’’میرا دین و مذہب‘‘ سے پہلے ہی یہ فرمایا کہ ’’حتی الامکان اتباع شریعت نہ چھوڑو‘‘
اگرچہ اس جملے سے وضاحت ہوجاتی ہے لیکن میں مثال دے کر بات آگے بڑھاتا ہوں۔
جناب والا! قبر میں فرشتے یہ سوال کرتے ہیں ما دینک تیرا دین کیا ہے؟ تو مسلمان جواب دے گا ’’میرا دین اسلام ہے‘‘ مولانا احمد رضا نے بھی تو یہی فرمایا ’’حتی الامکان اتباع شریعت کو نہ چھوڑنا اور میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے‘ اس پر مضبوطی سے قائم رہنا‘ ہر فرض سے اہم فرض ہے‘‘
مولانا احمد رضا کی کتب میں یہی تو ہے کہ ہر گمراہی اور الحاد سے دور رہو اور بے دین گمراہوں سے دور بھاگو۔ اسی وصایا شریف میں ہے ’’تم مصطفیﷺ کی بھولی بھالی بھیڑیں ہو‘ بھیڑیئے تمہارے چاروں طرف ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بہکادیں‘ تمہیں فتنہ میں ڈال دیں۔ تمہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں۔ ان سے بچو اور دور بھاگو‘ دیوبندی ہوئے‘ رافضی ہوئے‘ نیچری ہوئے‘ قادیانی ہوئے‘ چکڑالوی ہوئے۔ غرض کتنے ہی فرقے ہوئے اور اب سب سے نئے گاندھوی ہوئے‘ جنہوں نے ان سب کو اپنے اندر لے لیا۔ یہ سب بھیڑیئے ہیں‘ تمہارے ایمان کی تاک میں ہیں۔ ان کے حملوں سے اپنے ایمان بچائو‘‘ (وصایا شریف‘ ص 18‘ مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ)
مزید مولانا احمد رضا اپنے اسلاف اہل سنت و جماعت کی طرح عشق رسول اور محبت مصطفی کا درس یوں دیتے نظر آتے ہیں ’’اﷲ عزوجل و رسول اﷲﷺ کی سچی محبت اور ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت۔ جس سے اﷲ عزوجل و رسول اﷲﷺ کی شان میں ادنیٰ توہین پائو۔ پھر وہ کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو‘ فورا اس سے جدا ہوجائو‘ جس کو بارگاہ رسالتﷺ میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو‘ اپنے اندر سے اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو‘‘ (وصایا شریف‘ ص 19-18)
محترم جج صاحب! یہ عبارت بتا رہی ہے کہ عاشق رسول محب مصطفیﷺ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں اور ایسے ہی مومنوں اور عاشقوں کے لئے قرآن یوں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: یعنی تم نہ پائو گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں‘ ان سے جنہوں نے اﷲ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کہنے والے ہوں‘ یہ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش فرمایا اور اپنی طرف کی روح سے مدد کی۔(سورہ مجادلہ‘ آیت 22)
وصایا شریف کا مضمون قرآن کریم کے عین مطابق ہے مجھے یقین ہے کہ وکیل استغاثہ مطمئن ہوگئے ہوں گے‘ لیکن وکیل استغاثہ اور ان کے یار غار ڈاکٹر خالد محمود کے اکابرین کی کتب سے لیں گے۔ اس سے قبل کہ میں اکابرین دیوبند کی کتب سے اس الزام کے رد میں حوالے پیش کروں۔ ایک ایسا حوالہ پیش کرنا چاہوں گا کہ جس کا جواب وکیل استغاثہ اور ڈاکٹر خالد محمود پر ادھار رہے گا۔
وکیل استغاثہ کے اکابر مولانا رشید احمد گنگوہی نے بارہا یہ کہا ’’اور بقسم کہتا ہوں کہ میں کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانے میں ہدایت و نجات موقوف ہے میرے اتباع پر‘‘ (تذکرۃ الرشید جلد دوم ص 17)
وکیل استغاثہ اس عبارت پر کیا کہیں گے۔ رسول اﷲﷺ کی اتباع کا درس دینے کے بجائے اپنی اتباع کا حکم دے رہے ہیں اور ہدایت و نجات بھی اسی پر موقوف ہے (انا ﷲ و انا الیہ راجعون) محترم جج صاحب! مولانا احمد رضا کا مسلک وہی تھا جو علمائے بدایوں کا تھا‘ مولانا اسی فکر کی ترویج و اشاعت میں مصروف عمل رہے جو فکر شاہ عبدالحق محدث دہلوی اور شاہ ولی اﷲ کی تھی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ نہ چلے۔
سلیمان ندوی صاحب جو اہل حدیث مکتب فکر کے حامل ہیں‘ لکھتے ہیں ’’حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کے بعد دو گروہ نمایاں ہوئے:
1۔ علمائے دیوبند اور مولانا سخاوت علی جونپوری وغیرہ‘ اس سلسلے میں توحید خالص کے جذبہ کے ساتھ حنفیت کی تقلید کا رنگ نمایاں رہا۔
2۔ میاں نذیر حسین‘ اس سلسلے میں توحید خالص اور رد بدعت کے ساتھ فقہ حنفی کی تقلید کے بجائے براہ راست کتب حدیث سے بقدر فہم استفادہ اور اس کے مطابق عمل کا جذبہ نمایاں ہوا اور اسی سلسلے کا نام اہل حدیث مشہور ہوا۔
ان دو کے علاوہ ایک تیسرا سلسلہ بھی تھا۔ تیسرا فریق وہ تھا جو شدت کے ساتھ اپنی روش پر قائم رہا اور اپنے آپ کو اہل السنۃ کہتا رہا‘ اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے‘‘ (حیات شبلی‘ ص 46/44 کا انتخاب)
سلیمان ندوی صاحب کے اس بیان سے روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہوگئی کہ مولانا احمد رضا قدیم مذہب اہل سنت و جماعت کے پیروکار تھے۔ جبکہ وکیل استغاثہ اور ڈاکٹر خالد محمود جس مذہب کے پیروکار ہیں وہ نیا مذہب ہے اور ان کے اکابر مسلمانوں میں فرقہ واریت کے بیج کی نمو کرنے والے ہیں۔
وکیل استغاثہ: جناب والا! وکیل صفائی ایک نئے مقدمے کی فائل کھولنا شروع کررہے ہیں۔
وکیل صفائی: آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے۔ جناب والا! میں نہ تو نئے مقدمے کی فائل کھول رہا ہوں اور نہ ہی کسی پر کیچڑ اچھال رہا ہوں‘ بلکہ حقیقت کی حقیقی معنوں میں تصویر دکھا رہا ہوں۔
مسلک اہل حدیث کے نمائندہ اور بڑے عالم دین ثناء اﷲ صاحب امرتسری نے 1937ء میں اپنی کتاب ’’شمع توحید‘‘ میں اسی حقیقت کو یوں نقل کیا ہے ’’امرتسر میں مسلم آبادی غیر مسلم آبادی (ہندو سکھ وغیرہ) کے مساوی ہے 80 سال قبل پہلے سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو بریلوی حنفی خیال کیا جاتا ہے‘‘ (شمع توحید ص 40)
اور مشہور مورخ شیخ محمد اکرم لکھتے ہیں ’’انہوں (مولانا احمد رضا) نے نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی ‘‘ (موج کوثر‘ ص 70 طبع ہفتم‘ 1930ئ)
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ امام احمد رضا اسی مسلک کے پیروکار تھے جو شاہ عبدالحق محدث دہلوی کا تھا‘ جو خواجہ غریب نواز کا تھا‘ جو سلف صالحین کا تھا۔ مولانا احمد رضا خاں اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے۔
وکیل استغاثہ: وکیل صفائی کے ذہن پر اگر گراں نہ گزرے اور وہ پریشان نہ ہوں تو اس عدالت میں مولانا کے کفر کے فتوئوں کی حقیقت کو بھی آشکار کریں۔ اور اس عدالت کو بتائیں کہ کیا مولانا احمد رضا نے علمائے دیوبند کو کافر قرار نہیں دیا۔ کیا اتحاد بین المسلمین کے داعی کا کردار ایسا ہی ہوتا ہے؟
وکیل صفائی: وکیل استغاثہ کے اعتراض سے قبل میں یہ ثابت کرچکا کہ مولانا احمد رضا نے کسی نئے مسلک کی بنیاد ہرگز ہرگز نہیں رکھی بلکہ ہمیشہ مذہب اہل سنت و جماعت کے داعی رہے‘ لیکن وکیل استغاثہ نے دوسرا سوال یہ چھیڑ دیا کہ کفر کے فتوے دیئے‘ اس سے قبل کہ اس پر بحث کروں‘ میں اس عدالت سے درخواست کروں گا کہ دیوبند کی تاریخ بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔
جج: اجازت ہے
وکیل صفائی: جناب والا! دارالعلوم دیوبند کے استاذ الحدیث مولانا انظر شاہ کشمیری ابن مولانا انور شاہ کشمیری رقم طراز ہیں: ’’میرے نزدیک دیوبندیت خالص ولی اللہی فکر بھی نہیں اور نہ کسی خانوادہ کی لگی بندھی فکر دولت و متاع ہے۔ میرا یقین ہے کہ اکابر دیوبند جن کی ابتداء میرے خیال میں سیدنا الامام مولانا قاسم صاحب اور فقیہ اکبر مولانا رشید احمد گنگوہی سے ہے۔ دیوبندیت کی ابتداء حضرت شاہ ولی اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ سے کرنے کے بجائے مذکورہ بالا دو عظیم انسانوں سے کرتا ہوں‘‘ (ماہنامہ البلاغ مارچ 1969ء ص 48)
جناب والا! وکیل استغاثہ کے گھر کی شہادت سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ دیوبندی مذہب بالکل نیا مذہب ہے‘ جس کے بانی قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی تھے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو اہل سنت کی راہ سے جدا راہ چلا۔
جج! عدالت کا وقت ختم ہوا جاتا ہے‘ اس پر آئندہ تاریخ میں بحث کی جائے گی۔