سوال:   کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس عالم کے بارے میں جو شیعہ (رافضی) کی امام بارگاہ کے سامنے یا اندر بیان کرے ‘فقط حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان بیان کرے اور دیگر(صحابۂ کرام علیھم الرضوان) کو نظر انداز کرے، اور دل میں یا بظاہر شیعوں (رافضیوں ) کو مومن (مسلمان) جانے یا کہے تو یہ شریعت کے کس حکم میں ہے ؟(سائل عبد اللہ قادری)
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
ومن یتولھم منکم فانہ منھم( المائدۃ ۵/۵۱ )’’جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا تو وہ یقینا انہیں میں سے ہوگا‘‘۔
نیز اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین( الانعام ۶/۶۸)
’’اگر تجھے شیطان بھلا ڈالے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو‘‘۔
حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اکرم سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
( ان اللہ اختارنی و اختارلی اصحا با واصھارا و سیاتی قوم یسبونھم  و ینتقصونھم فلا تجالسوھم و لا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم )(ضعفاء العقیلی ا/۱۲۶مطبوعۃ بیروت، ۱۴۰۴ھـ ، السنۃ للخلال ۲/۴۸۳ دار الرایۃ ، الریاض ۱۴۱۰ھـ ، صحیح ابن حبان ۱/۲۷۷دار طیبۃ ، الریاض ۱۴۰۲ھـ ، اعتقاد اھل اھل السنۃ ۴/۶۹۵ دار طیبۃ ، الریاض ۱۴۰۲ھـ  العلل المتناھیۃ ۱/۱۵۳ مطبوعۃ بیروت ۱۴۰۳ھـ الجامع لاخلاق  الراوی و آداب السامع ۲/۱۱۸مکتبۃ المعارف الریاض ۱۴۰۳ھـ)
’’بیشک اللہ عزوجل نے مجھے چن لیا اور میرے لئے یاراور خسرال کے رشتہ دار پسند فرمائے اور عنقریب کچھ لوگ آئیں گے کہ انہیں برا کہیں گے اور انکی شان گھٹائیں گے ،تم ان کے پاس نہ بیٹھنا ،نہ ان کے ساتھ پانی پینا،نہ کھانا کھانا، نہ شادی بیاہت کرنا‘‘۔
اعلیحضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ (م ۱۳۴۰ھ)لکھتے ہیں:
’’رافضی وغیرہ بد مذہبوں میں جس کی بدعت حد کفر تک پہنچی ہو وہ تو مرتد ہے اس کے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافر ذمی کے مانند بھی برتائو جائز نہیں ، مسلمانوں پر لازم ہے کہ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے وغیرہا تمام معاملات میں اسے بعینہ مثل سوئر کے سمجھیں ،اور جس کی بدعت اس حد تک نہ ہو اس سے بھی دوستی محبت تو مطلقا نہ کریں‘‘۔
’’اور بے ضرورت و مجبوری محض کے خالی میل جول بھی نہ رکھیں کہ بد مذہب کی محبت آگ ہے اورصحبت ناگ اور دونوں سے پوری لاگ‘‘۔
’’جاہل کو ان کی صحبت سے یوں اجتناب ضرور ہے کہ اس پر اثر بد کا زیادہ اندیشہ ہے اور عالم مقتدا، یوں بچے کہ جہال اسے دیکھ کر خود بھی اس بلا میں نہ پڑیں بلکہ عجب نہیں کہ اسے ان سے ملتا دیکھ کر ان کے مذہب کی شناعت(برائی) ان کی نظروں میں ہلکی ہوجائے‘‘(فتاوی رضویہ ۲۴/۳۲۰طبع جدید)
ان مذکورہ عبارات سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ روافض انکار ضروریات دین کے باعث مرتد ہیں ،اور ان کی مجالس میں جانا ،ان سے میل جول رکھنا مطلقا حرام ہے، کیونکہ وہ قرآن مجید کی توہین کرتے ہیںاور اسے ناقص جانتے ہیں اور جو شخص ایسے رافضی کو مومن یا مسلمان سمجھے یا کہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔