سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ لڑکا شادی سے پہلے اپنی ہونے والی زوجہ کو دیکھ سکتا ہے؟
(سائل :محمدآصف عطاری،غریب آباد ، لیاقت آباد)
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :فانکحوا ما طاب لکم من النسائ(النساء ۴/۳) تو نکاح میں لائو جو عورتیں تمہیں خوش آئیں(کنز الایمان)
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
جاء رجل الی النبی ﷺ فقال :انی تزوجت امراۃ من الانصار ،قال:فانظر الیھا فان فی اعین الانصار شیئا(صحیح مسلم ۲/۱۰۴۰،مطبوعۃ بیروت،صحیح ابن حبان ۹/۳۵۱،مطبوعۃ بیروت،۱۴۱۴ھـ،سنن البیھقی الکبری ۷/۸۴،مکتبۃدار الباز،مکۃ المکرمۃ،۱۴۱۴ھـ،سنن النسائی المجتبی۶/۷۷،مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ،حلب ،۱۴۰۶ھـ،السنن الکبری للنسائی ۳/۲۷۳،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت ،۱۴۱۱ھـ،سنن الدار قطنی ۳/۲۵۳،دار المعرفۃ،بیروت،۱۳۸۶ھـ،کتاب السنن ۱/۱۷۴،الدار السلفیۃ،الھند،۱۹۸۲، شرح معانی الآثار ۳/۱۴،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۳۹۹ھـ،مسند احمد۲/۲۸۶،مؤسسۃقرطبۃ،مصر،مسند ابی یعلی ۱۱/۴۶،دار المامون للتراث،دمشق،۱۴۰۴ھـ،مسند ابی عوانۃ۳/۴۵،دار المعرفۃ،بیروت،۱۹۹۸ئ،)
’’ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ عرض کی کہ انصاریہ عورت سے نکا ح کا میرا ارادہ ہے تو حضور اقدس سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے یعنی انکی آنکھیں کچھ بھوری ہوتی ہیں‘‘
امام ابوزکریا یحیی بن شرف نووی (م۶۷۶ھ)اسی حدیث مذکورکی شرح میں لکھتے ہیں:
وفیہ استحباب النظر الی وجہ من یرید تزوجھا و ھو مذھبنا و مذھب مالک و ابی حنیفۃ و سائر الکوفیین و احمد و جماھیر العلمائ(شرح مسلم ۹/۲۱۰،دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۳۹۳ھـ)
’’اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ جس عورت سے شادی کا ارادہ ہو اس کا چہرہ دیکھنا مستحب ہے اور یہ ہمارا (شوافع ) مذہب ہے اور یہی امام مالک ، امام اعظم ابو حنیفہ اور باقی کوفیوں اور امام احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے ‘‘۔
نیزامام ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمہ(م۱۰۱۴ھ) اسی حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیںکہ:
وفیہ استحباب النظر الیھا قبل الخطبۃ(مرقاۃ ۶/۲۷۶، دارالفکر ، بیروت)
’’اور اس حدیث پاک سے پتہ چلا کہ پیغام نکاح سے پہلے جس عورت سے شادی کا ارادہ ہواسے دیکھنا مستحب ہے‘‘۔
نیز حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
قال:خطبت امراۃ فقال لی رسول اللہ ﷺ ھل نظرت الیھا، قلت: لا قال: فانظر الیھا فانہ احری ان یؤدم بینکما
’’انہوں نے کہاں کے میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے  فرمایا کہ تم نے اسے دیکھ لیا ہے عرض کی نہیں فرمایا اسے دیکھ لوکہ اس کی وجہ سے تم دونوں کے درمیان موافقت ہونے کا پہلو غالب ہے‘‘
(المستدرک علی الصحیحین ۲/۱۷۹،مطبوعۃ،بیروت،۱۴۱۱ھـ،جامع الترمذی۳/۳۹۷،دار احیاء التراث العربی،بیروت،سنن النسائی المجتبی ۶/۶۹مکتب المطبوعات الاسلامیۃ،حلب،۱۴۰۶ھـ،سنن ابن ماجۃ۱/۵۹۹،دار الفکر ،بیروت،سنن الدارمی۲/۱۸۰دار الکتاب العربی،بیروت،۱۴۰۷ھـ،صحیح ابن حبان ۹/۳۵۱،مطبوعۃ،بیروت،۱۴۱۴ھـ،کتاب السنن ۱/۱۷۱،الدار السلفیۃ، الھند، ۱۹۸۲ئ،مسند احمد ۴/۲۴۶،مؤسسۃ قرطبۃ،مصر،مسند ابی یعلی ۶/۱۵۸،دار المامون للتراث،دمشق،۱۴۰۴ھـ،مسند عبد ابن حمید۱/۳۷۵،مکتبۃ السنۃ،القاھرۃ،۱۴۰۸ھـ،شرح معانی الآثار ۳/۱۴،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۳۹۹ھـ،مصنف عبد الرزاق ۶/۱۵۶، المکتب الاسلامی،بیروت،۱۴۰۳ھـ، مصنف ابن ابی شیبۃ ۴/۲۱،مکتب الرشد،الریاض،۱۴۰۹ھـ،المعجم الکبیر ۲۰/۴۳۳،مکتب العلوم و الحکم،الموصل ،۱۴۰۴ھـ، المنتقی لابن جارود ۱/۱۷۰،مؤسسۃ الکتاب الثقافیۃ،بیروت،۱۴۰۸ھـ،معتصر المختصر۱/ ۲۵۸،الدار السلفیۃ، الھند،۱۹۸۲ھـ،تاریخ بغداد ۷/۳۸۴،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،الاحادیث المختارۃ ۵/۱۶۹،مکتبۃ النھضۃ الحدیثۃ،مکۃ المکرمۃ ،۱۴۱۰ھـ،موارد الطمآن ۱/۳۰۳،مطبوعۃ،بیروت،سنن الدارقطنی ۳/۲۵۳،دار المعرفۃ، بیروت،۱۳۸۶ھـ،)
نیز حضور اقدس سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اذا القی اللہ فی قلب امرأ خطبۃ امراۃ فلا باس ان ینظر الیھا (سنن ابن ماجۃ ۱/۵۹۹،دار الفکر ،بیروت،)
’’جب اللہ تعالی کسی آدمی کے دل میں کسی عورت سے شادی کا ارادہ ڈالے،تو اس عورت کو دیکھنے میں کچھ حرج نہیں ہے‘‘۔
علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (م۱۲۵۲ھ) لکھتے ہیں:
ولو اراد ان یتزوج امراۃ فلا باس ان ینظر الیھا ، وان خاف ان یشتھیھا لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام للمغیرۃ بن شعبۃ حین خطب امراۃ انظر الیھا فانہ احری ان یودم بینکما (ردالمحتار ۹/۶۱۱، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت)
’’اور اگر کسی عورت سے شادی کا ارادہ ہو تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چہ اسے شہوت کا خوف ہو اس لئے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے  حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب کہ انہوں نے ایک عورت کو پیغام نکاح دیا کہ اسے دیکھ لو کہ اس کی وجہ سے تم دونوںکے درمیان موافقت ہونے کا پہلو غالب ہے ‘‘۔
صدرالشریعہ مفتی امجد علی الاعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اور ایک صورت اور بھی ہے وہ یہ کہ اس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو تو اس نیت سے دیکھنا جائز ہے کہ حدیث میں یہ آیا ہے کہ جس سے نکاح کرنا چاہتے ہو اس کو دیکھ لوکہ یہ بقائے محبت کا ذریعہ ہوگا، اسی طرح عورت اس مرد کو جس نے اس کے پاس پیغام بھیجا ہے دیکھ سکتی ہے اگر چہ اندیشہ شہوت ہومگر دیکھنے میںدونوں کی یہی نیت ہو کہ حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔ (بہار شریعت ،حصہ۱۶،/۷۹مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)
ان تمام عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ لڑکا شادی سے پہلے اپنی ہونے والی زوجہ کو دیکھ سکتا ہے ،یہ مستحب کام ہے ، اور ا س میں  نیت حدیث شریف پر عمل کرنے کی ہو۔و اللہ اعلم بالصواب۔