سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ مردے کو عمامہ شریف پہنا کر دفنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟اور اگر پہنا کر دفنا دیا تو یہ عمل کیسا ہوگا؟ کیا ہمارے اسلاف سے یہ عمل ثابت ہے؟(سائل:حامد رضا،قیوم آباد ،کورنگی روڈ ،کراچی)
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:
مرد میت کے لیے تین کپڑے کفن میں سنت ہیں،لفافہ،ازاراورقمیص،یہ طاق عدد ہوا ،اور یہ عدد اللہ تعالی کو بھی پسند ہے ،حدیث شریف میں ہے حضور اقدس  ﷺ نے ارشاد فرمایا:
[ان اللہ تعالی وتر یحب الوتر]’’اللہ تعالی طاق ہے ،طاق عدد پسند فرماتا ہے‘‘
(صحیح البخاری،۵/۲۳۵۴،صحیح مسلم ،۴/۲۰۶۲، جامع الترمذی،۲/۳۱۶،سنن ابی داود،۲/۶۱،سنن النسائی المجتبی،۳/۲۲۸،سنن ابن ماجۃ،۱/۳۷،السنن الکبری للنسائی،۱/۱۷۱،صحیح ابن خزیمۃ،۱/۴۲،صحیح ابن حبان،۳/۷۹،المستدرک علی الصحیحین،۱/۲۶۱،الاحادیث المختارۃ،۲/۱۳۶،موارد الظمآن،۱/۲۶،سنن الدارمی ،۱/۴۴۸،السنن الصغری للبیھقی، ۱/۴۴۴،سنن البیھقی الکبری،۱/۱۰۴،مجمع الزوائد، ۱/۲۱۱، مصنف ابن ابی شیبۃ،۱/۱۵۷،الجامع لمعمر بن راشد ،۱۰/۴۴۵،مصنف عبد الرزاق، ۳/۳،المعجم الاوسط،۶/۱۳۱،مسند البزار،۲/۲۶۱،مسند احمد،۱/۱۰۰،مسند الحمیدی، ۲/۴۷۹، مسند الطیالسی،۱/۱۵،مسند ابی یعلی،۱/۴۳۹،مسند ابن الجعد،۱/۱۴۹،شعب الایمان، ۱/۱۱۵،الاربعین للھروی،۱/۴۹،الاعتقاد،۱/۵۰،الترغیب و الترھیب،۱/۲۲۹،نوادر الاصول،۳/۱۱۳،الفردوس بماثور الخطاب،۱/۱۵۸،حلیۃ الاولیائ،۱/۳۱۷،التدوین فی اخبار قزوین،۲/۳۶۵،تاریخ بغداد،۲/۴۴،)
اولا احناف کے یہاںکفن میں عمامہ نہیں ہے چنانچہ علامہ کمال الدین ابن الھمام لکھتے ہیں:
و لیس فی الکفن عمامۃ عندنا’’اور احناف کے یہاں کفن میں عمامہ نہیں ہے ‘‘(فتح القدیر شرح الھدایۃ،۲/ ۱۱۴،دار الفکر ،بیروت)
علامہ شیخ نظام الدین حنفی لکھتے ہیں:
و لیس فی الکفن عمامۃ فی ظاھر الروایۃ’’اور ظاھر الروایہ میں کفن میں عمامہ نہیں ہے ‘‘ (الفتاوی الھندیۃ،۱/ ۱۷۶،مطبوعہ بیروت لبنان)
ثانیاکفن میں عمامہ باندھنے کی صورت میں عدد طاق نہیں رہے گا جو کہ سنت ہے اسی وجہ سے فقہاء کرام نے کفن میں عمامہ کو مکروہ بتایا ہے ،چنانچہ ملک العلماء علامہ ابو بکر بن سعود کاسانی(۵۸۷ھ)لکھتے ہیں:
و قد کرھہ بعض مشائخنا لانہ لو فعل ذالک لصار الکفن شفعا و السنۃ فیہ ان یکون وترا(البدائع و الصنائع،کتاب الصلوۃ،باب وجوب التکفین،۲/۳۷،مطبوعہ،بیروت لبنان، و عنہ فی فتح القدیر شرح الھدایۃ،۲/ ۱۱۵،دار الفکر ،بیروت)
’’اور بتحقیق ہمارے بعض مشائخ نے کفن میں عمامہ کو مکروہ بتایا ہے،اس لیے کہ اگر کفن میں عمامہ شامل کیا جائے تو کپڑوں کا عدد جفت(چار)ہوجائے گا جبکہ کفن میں سنت تین کپڑے ہیں‘‘
علامہ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی(۱۰۰۴ھ)لکھتے ہیں:(و تکرہ العمامۃ)للمیت(فی الاصح) مجتبی،’’اور میت کے لیے صحیح ترین قول کے مطابق عمامہ مکروہ ہے مجتبی‘‘(تنویر الابصار ،مع الدر المختار،۳ /۱۱۲،مطبوعہ،بیروت،لبنان)
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی (۱۰۶۹ھ)متنا،اور علامہ سید احمد طحطاوی (۱۲۳۱ھ) شرحالکھتے ہیں:
(و تکرہ العمامۃ فی الاصح)کذا فی المجتبی لانھا لم تکن فی کفن رسول اللہ ﷺ ،و عللھا فی البدائع لانھا لو فعلت لصار الکفن شفعا ، والسنۃ ان یکون وترا(نور الایضاح،مراقی الفلاح،مع الحاشیۃ،/ ۵۷۸،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان، و مثلہ فی النھر الفائق،۱/ ۳۸۶،دار الکتب العلمیۃ، لبنان)
’’اور صحیح ترین قول کے مطابق عمامہ کفن میں میت کے لیے مکروہ ہے اسی طرح مجتبی میں ہے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے کفن پاک میں عمامہ نہ تھا ،اور بدائع میں اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ اگر کفن میں عمامہ شامل کیا جائے تو کپڑوں کا عدد جفت(چار)ہوجائے گا جبکہ کفن میں سنت تین کپڑے ہیں‘‘
البتہ بعض متاخرین فقہاء کرام و مشائخ عظام نے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے۔
چنانچہ ملک العلماء علامہ ابو بکر بن سعود کاسانی(۵۸۷ھ)لکھتے ہیں:
و استحسنہ بعض مشائخنا لحدیث ابن عمر : [ انہ کان یعمم المیت و یجعل ذنب العمامۃ علی وجھہ ](البدائع و الصنائع،کتاب الصلوۃ،باب وجوب التکفین،۲/۳۷،مطبوعہ،بیروت لبنان)
’’اور بعض مشائخ نے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنھما  کی حدیث کی وجہ سے کہ آپ میت کو عمامہ باندھتے تھے اور عمامہ کے شملہ کو اس کے چہرے کی طرف کر دیا کرتے تھے ‘‘
علامہ کمال الدین ابن الھمام لکھتے ہیں:
و استحسنھا بعضھم لما روی عن ابن عمر انہ کان یعممہ(فتح القدیر شرح الھدایۃ،۲/ ۱۱۴،دار الفکر ،بیروت)
’’اور بعض فقہاء نے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے اس لیے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ میت کو عمامہ باندھتے تھے‘‘
علامہ عالم بن علاء انصاری دھلوی(۷۸۶ھ)لکھتے ہیں:
و ھل یعمم الرجل ؟ اختلف المشائخ رحمھم اللہ ،منھم من قال:یعمم لان ابن عمر رضی اللہ عنمھما اوصی بہ ،و فی الخانیۃ:و استحسن المتاخرون العمامۃ و ھو مروی عن عمر رضی اللہ عنہ و بہ اخذ مالک (الفتاوی التاتارخانیۃ،۲/ ۱۴۶،مطبوعہ،کراچی پاکستان)
’’اور کیا مرد میت کو عمامہ باندھا جائے؟مشائخ علیھم الرحمہ کا اس بارے میں اختلاف ہے ،بعض یہ کہتے ہیں کہ عمامہ باندھا جائے ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما نے اس بات کی وصیت فرمائی تھی،اور فتاوی قاضی خان میں ہے :اور متاخرین نے عمامہ کو مستحسن جانا اور یہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اسی قول کو امام مالک نے لیا ہے ‘‘
لیکن فقہاء کرام نے اس باب میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ کفن میں عمامہ صرف علماء کرام و مشائخ عظام و سادات کے لیے جائز اور ان کے ساتھ خاص ہے چنانچہ علامہ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی(۱۰۰۴ھ)لکھتے ہیں:و استحسنھا المتاخرون للعلماء و الاشراف’’اور متاخرین نے علماء اور سادات کے لیے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے ‘‘(تنویر الابصار ،مع الدر المختار،۳ /۱۱۲،مطبوعہ،بیروت،لبنان)
علامہ شیخ نظام الدین حنفی لکھتے ہیں:و فی الفتاوی: استحسنھا المتاخرون لمن کان عالما،’’اور فتاوی میں ہے متاخرین نے عالم کے لیے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے‘‘(الفتاوی الھندیۃ،۱/ ۱۷۶،مطبوعہ بیروت لبنان)
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی (۱۰۶۹ھ)متنا،اور علامہ سید احمد طحطاوی (۱۲۳۱ھ) شرحالکھتے ہیں:
قولہ(و استحسنھا بعضھم) وھم المتاخرون ،و خصہ فی الظھیریۃ بالعلماء ،و الاشراف دون الاوساط کما فی النھر و غیرہ(نور الایضاح،مراقی الفلاح،مع الحاشیۃ،/ ۵۷۸،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان، و مثلہ فی النھر الفائق،۱/ ۳۸۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت لبنان)
’’اور متاخرین نے علماء اور سادات کے لیے عمامہ کو مستحسن جانا ہے یہ عوام کے لیے نہیں ایسا ہی نھر وغیرہ میں ہے ‘‘
علامہ عمر بن ابراھیم حنفی(۱۰۰۵ھ)لکھتے ہیں:و فی السراج اذا کان من الاوساط فلا یعمم’’اور سراج میں ہے کہ عوام کو کفن میں عمامہ نہ باندھا جائے‘‘ (النھر الفائق،۱/ ۳۸۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت لبنان)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:’’اور کفنی میں عمامہ علماء و مشائخ کے لیے جائز عوام کے لیے مکروہ‘‘(فتاوی امجدیہ،۱/ ۳۶۷،مکتبہ رضویہ،کراچی)
ان تمام عبارات سے یہ باتیں معلوم ہوئیں کہ اسلاف میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما میت کو عمامہ باندھتے تھے ،اور انہوں نے اس کی وصیت بھی فرمائی تھی ،نیز امام مالک کا یہ ہی مذھب ہے ،اور کفن میں عمامہ صرف علماء و مشائخ کے لیے جائز ہے ،اور عوام کے لیے مکروہ۔ا للہ اعلم بالصواب۔