سوال:کیا فرماتے ہیںعلماء دین اس بارے میں کہ سرکار دوعالم (ﷺ) نے داڑھی کہاں تک رکھی ،اور شرع میں کس حد تک داڑھی رکھنا سنت ہے؟(سائل:محمد ایوب سیفی نقشبندی،سینٹر فائر بریگیڈیر)
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :{لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ}(الاحزاب۳۳/۲۱)
’’بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے‘‘(کنز الایمان)
امام مالک و احمد و بخاری و مسلم و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و طحاوی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ، حضور پرنور سید عالم  ﷺ فرماتے ہیں :
خالفو المشرکین احفوا الشوارب و اوفروا اللحیۃ
’’مشرکوں کے خلاف کرو، مونچھیںخوب پست کرو، اور داڑھیاں بڑھاؤ‘‘
(صحیح البخاری ،کتاب اللباس،۲/۸۷۵،صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ،باب خصال الفطرۃ،۱/۱۲۹،سنن الترمذی،۵/۹۵،سنن النسائی المجتبی،۱/۱۶،سنن ابی داؤد،۴/۸۴،مسند احمد،۲/۱۶،شرح معانی الآثار،۴/۲۳۰،مؤطا ،۲/۹۴۷)
داڑھی ایک مشت یعنی چار انگل تک رکھنا واجب ہے اور اس سے کم کرنا نا جائز ہے،
شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دھلوی (۱۰۵۲ھ) لکھتے ہیں:
گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است و آنکہ آنرا سنت گیند بمعنی طریقہ مسلو ک دین است یا بجہت آنکہ ثبوت آں بسنت است ، چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند (اشعۃ اللمعات،کتاب الطہارۃ ، باب السواک ،۱/۲۱۲،فتاوی رضویہ،۲۲/۵۸۱،مطبوعہ جدید)
’’داڑھی بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت ﷺ کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہا جاتا ہے ‘‘
اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے:
ان النبی ﷺ کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا و طولھا
’’یعنی حضور پرنور ﷺ اپنی ریش مبارک کے بال عرض و طول سے لیتے تھے‘‘(جامع الترمذی،ابواب الآداب ، باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ،۲/ ۱۰۰،امین کمپنی دھلی)
ور اعلی حضرت امام اھل سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۳۴۰ھ) لکھتے ہیں :
’’علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا کب ریش اقدس ایک مشت سے تجاوز فرماتی بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی ‘‘(فتاوی رضویہ، ۲۲/ ۵۹۰،مطبوعہ جدید)
نیز اعلی حضرت امام اھل سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۳۴۰ھ) لکھتے ہیں :
’’اس سے زائد اگر طول فاحش حد اعتدال  سے خارج بے موقع بد نما ہو تو بلا شبہہ خلاف سنت و مکروہ کہ صورت بد نما بنانا، اپنے منہ پر دروازہ طعن مسخریہ کھولنا ،مسلمانوں کو استہزاء و غیبت کی آفت میں ڈالنا ، ہرگز مرضی شرع مطہر نہیں ‘‘ (فتاوی رضویہ، ۲۲/ ۵۸۲،مطبوعہ جدید)
ان عبارات سے واضح ہوگیا کہ ایک مشت کی مقدار داڑھی رکھنا واجب ہے ، نیز حضور اکرم نور مجسم ﷺ کی داڑھی مبارک ایک مشت تھی ،جب تجاوز کرجاتی تو آپ ﷺطول و عرض میں سے کم فرماتے ،لیکن ایک مشت ہمیشہ رہی،نیز اس قدر لمبی رکھنا کہ بد نما صورت ہوجائے مکروہ ہے ۔و اللہ اعلم بالصواب۔