جاپانی مذہب اور اسلام

in Tahaffuz, March-April 2010, علامہ کمال الدین, متفرقا ت

فرمان باری تعالیٰ ہے
یااﷲ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے؟ اﷲ کے لئے پاکی ہے ان (کافروں) کے شرک سے (الطور آیت 43)
ارشاد خداوندی ہے
اے سننے والے! اﷲ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو بیٹھا رہے گا اس حال میں کہ تیری مذمت کی جاتی رہے گی (اور) تو بے یارومددگار ہوکر رہ جائے گا (بنی اسرائیل 22)
ارشاد قدسی ہے۔
اور اﷲ کے سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کرسکے‘ نہ برا پھر اگر تو ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں سے ہوگا (یونس 106)
حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اے معاذ کیا تو جانتا ہے بندوں پر اﷲ تعالیٰ کا حق کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اﷲ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کوسب سے زیادہ معلوم ہے۔ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا (وہ حق یہ ہے کہ) بندے اﷲ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں (اے معاذ) کیا تو جانتا ہے اﷲ تعالیٰ پر بندوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا (وہ حق یہ ہے کہ) اﷲ تعالیٰ ایسے بندوں کو عذاب نہ دے اور اپنی رحمت سے خوشیاں عطا فرمائے اور جنت میں داخل فرمادے (بخاری جلد 2 ص 1097‘ مطبوعہ کراچی)
شرک کی مذمت
کائنات کا خالق و مالک اﷲ رب العالمین ہی ہے جوکہ تنہا و یکتا ہے۔ کسی بھی صفت عالیہ میں اس کا کوئی شریک نہیں صرف وہی ازلی اور ابدی ہے۔ باقی سب حادث اور فانی ہیں۔ اس کی مخلوق ہیں ۔اس نے کائنات کے باسیوں کو بہترین معاشرتی نظام اور فلاح و بہبود کے لئے اسلام کی شکل میں اعلیٰ نظام عطا فرمایا جس سے مستفید ہوکر کثیر لوگ کامران و شادمان ہوئے۔ تاہم اس روئے زمین پر ایسے بدنصیب بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی خواہشات کو اس عظیم دین کے تابع کرنے کے بجائے اپنی ذاتوں کو خواہشات کے تابع کرلیا اور عقل کو بے لگام چھوڑ کر شرک جیسے گناہ میں مبتلا ہوگئے اور پھر جو بھی چیز انہیں نفع بخش معلوم ہوتی اسے اپنا خدا سمجھ لیا اور جو چیز ضرررساں معلوم ہوئی اس کے ضرر و نقصان سے بچنے کے لئے اس کی خوشامد کرتے ہوئے اسے بھی اپنا معبود بنالیا۔ نتیجتاً دنیا کی ان گنت اشیاء ان کی خدا قرار پائیں۔ یہ بدبختی ان کے حصے میں اس لئے آئی کہ انہوں نے اﷲ واحد کی اطاعت سے انکار کردیا تھا۔ اﷲ رب العالمین نے جہنم کو ان کا اور ان کے معبودوںکا ٹھکانہ قرار دیا ہے اور شرک سب سے بدترین گناہ قرار دیا ہے۔ دنیا میں ایسی اقوام کی ایک تعداد پائی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک جاپانی قوم بھی ہے جن کا مذہب شنٹو ازم کے نام سے مشہور ہے
شنٹو ازم کی تاریخ
شنٹو چینی زبان کے دو الفاظ شن اور ٹو سے مل کر بنا ہے اس کا مطلب ہے ’’دیوتائوں کے طور طریقے‘‘
شنٹو ازم جاپان کا قومی مذہب ہے اور یہ اسی قوم اور ملک تک محدود ہے۔ اس مذہب کا کوئی ایک بانی نہیں ہے۔ اس کا آغاز زمانہ قبل از تاریخ ہوا ہے۔ یہ مذہب جاپانیوں کی تہذیب و تمدن کا عکاس ہے۔ یہ مذہب نسل در نسل چلا آرہا ہے‘ کسی اور دین کا پیروکار اس مذہب میں داخل نہیں ہوسکتا۔ زمانہ قبل از تاریخ میں مملکت جاپان پر جو قبیلہ حکمران تھا وہ سورج کی عبادت کیا کرتا تھا اور اس کا عقیدہ تھا کہ سورج دیوی کے اردگرد ہزاروں دیوی دیوتا اور بھی ہیں۔ ایسے ہی وہ اپنے آبائو اجداد کی پرستش بھی کیا کرتا تھا۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ باقاعدہ ایک مذہب کی شکل اختیار کرگیا جو بعد ازاں شنٹو ازم کے نام سے مشہور ہوا۔
شنٹو ازم میں تغیرات
جاپانی مذہب میں چینی‘ کوریائی تاجروں اور پروہتوں (شنٹو ازم کے اہل علم مراد ہیں) کے ذریعے بیرونی اثرات داخل ہوئے۔  522 عیسوی میں جاپان میں بدھ مت متعارف ہوا۔ اسی سال جاپان کے بادشاہ کو بدھ کا مجسمہ اور اس کی مذہبی کتب پیش کی گئیں۔ پھر بدھ مت اتنا عام ہوگیا کہ شنٹو ازم اور بدھ مت کے عقائد و مراسم ایک دوسرے میں داخل ہوگئے یہاں تک کہ شنٹو ازم کی اپنی پہچان تک ختم ہوکر رہ گئی۔
شنٹو ازم کی از سر نو تشکیل
شنٹو ازم میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس کی ختم ہوجانے والی پہچان پر اس مذہب کے مصلحین کو سخت تشویش ہوئی جس کے بعد انہوں نے حکمران ٹوکوگا وا (Tokogawa) کے دور سے شنٹو ازم کو ازسر نو بحال کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ یہاں تک کہ جب 1868ء میں قومی انقلاب آیا تو انہوں نے شنٹو ازم کو تمام بیرونی تغیرات سے پاک کرکے سابقہ تشخص کے ساتھ بحال کردیا۔
آٹھ سو کروڑ خدا
اس مذہب میں دیوی اور دیوتائوں کے متعلق متضاد دعویٰ پایا جاتا ہے۔ ایک دعویٰ کے مطابق ان کی تعداد اسی کروڑ ہے اور ایک دعویٰ کے مطابق ان کی تعداد آٹھ سو کروڑ ہے۔ بہرطور اسی کروڑ ہو یا آٹھ سو کروڑ دونوں تعداد یقینا دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں۔
خدائوں کی اتنی بڑی تعداد
اس کی درج ذیل وجوہات ہیں
(1) مظاہر پرستی
(2) آباء پرستی
(3) شہنشاہ پرستی
(4) ہیرو پرستی
مظاہر پرستی کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ظاہر میں نظر آنے والی مفید اشیاء کی عبادات کرتے ہیں۔ مثلا سورج‘ سمندر‘ پہاڑ‘ کھیت‘ درخت‘ حیوانات‘ پرندے اور پودے وغیرہ۔
آپ اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ ان چیزوں کی تعداد کہاں تک پہنچتی ہے۔
آباء پرستی کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے فوت ہوجانے والے خاندان کے افراد کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پرستش کی وجہ کوئی دلی احترام و عقیدت نہیں ہے بلکہ ایک خدشہ ہے جو انہیں ہمہ وقت لگا رہتا ہے کہ مردے انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لہذا ان کو شر سے بچنے کے لئے ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ وہ نعشوں کو ناپاک سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سابقہ ادوار میں جس گھر میں فوتگی ہوتی اس گھر کو چھوڑ دیتے اور نعشوں سے جلدازجلد چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔
شہنشاہ پرستی کا مطلب یہ ہے کہ اہل جاپان اپنے بادشاہوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پرستش کی وجہ یہ ہے کہ ان بادشاہوں نے خود کو سورج دیوی کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ھا۔ یہ دعویٰ سب سے پہلے جیموٹینو (Jimmotenno) نے کیا تھا۔ اہل جاپان کا خیال ہے کہ جیسے سورج دیوی تمام دیوی دیوتائوں کی مخدومہ اور آقا ہے اسی طرح بادشاہ بھی تمام جاپانیوں کا مخدوم و آقا ہے۔ اس کی پرستش ضروری ہے چنانچہ شاہی محل شنٹو ازم کا مرکزی مذہبی مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اس عقیدے کی وجہ سے جاپانی سیاست مستحکم رہی اور ایک خاندان نسل در نسل 2500 سال سے زیادہ برسر اقتدار رہا۔ اس حکومت کا آغاز 660 قبل مسیح ہوا اور ماضی قریب میں جنگ عظیم دوم کے زمانے میں شاہ ہیرو ہیٹو ایک سو چوبیسواں بادشاہ تھا۔
ہیرو پرستی کا مطلب یہ ہے کہ اہل جاپان ہر اس شخص کی پرستش بھی کرتے ہیں جو کوئی نمایاں کارنامہ سرانجام دے۔
الحاصل یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جو ان کے خدائوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنیں۔
شنٹو مذہب کی عبادات
دیگر مذاہب کی طرح اس مذہب میں بھی عبادات کا تصور پایا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ خلاف عقل ضرور ہیں۔ تاہم اس قدر کثیر خدائوں کا حامل مذہب ہونے کے باوجود یہ بات بڑی دلچسپی ہے کہ ان کی مقدس عبادت گاہیں بہت سادہ ہیں۔ ان میں کوئی بت وغیرہ نہیں… ان میں پروہت مقرر ہیں‘ وہاں دعائیں کی جاتی ہیں۔ دیگر مراسم بھی اتنے نہیں ہوتے‘ البتہ سرکاری تقریبات کا انعقاد نسبتا زیادہ ہوتی ہیں۔ اس مذہب میں عبادت کا طریقہ بھی بڑا عجیب ہے۔ آدمی عبادت کے شروع میں اور آخر میں جھکتا ہے۔ شروع میں جھکنے کے عمل کے بعد گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے۔ بعض دفعہ یہ عبادت ناچ کرکے کی جاتی ہے اور بعض دفعہ تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ ان کی بعض اہم عبادت گاہوں میں باضابطہ طور پر اسٹیج بنے ہوتے ہیں اور وہاں رقاصائیں بھی میسر ہیں۔
تخلیق کائنات کے متعلق نظریہ
کائنات کی پیدائش کے متعلق ان کا نظریہ یہ ہے کہ آسمان کے تیرتے ہوئے پل پر ایک جوڑا رہا کرتا تھا۔ وہ زمین پر اترا وہاں ایک مکان بنایا جس میں ایک بڑا ستون تھا۔ وہ جوڑا اس ستون کے گرد گھومتا‘ جب اس دوران ان کا آمنا سامنا ہوا تو مادہ نے کچھ بولا تو نر کو غصہ آگیا اور اس نے مادہ کو دوبارہ گھومنے کے لئے کہا پھر جب گھومتے ہوئے ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہوا تو نر نے مادہ کی خوبی بیان کی۔ اس سے دونوں کے درمیان تعلقات پیدا ہوگئے جس کے نتیجے میں بہت سے دیوی دیوتا پیدا ہوئے‘ مادہ (جس کا نام ازونمی (Izonami) تھا کا آگ کی دیوی کی پیدائش کے وقت انتقال ہوگیا۔ اس پر نر کو (جس کا نام ازونگی) تھا‘ غصہ آگیا اور نومولود آگ کی دیوی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جس سے بہت سارے دیوی دیوتا پیدا ہوگئے پھر وہ نر اپنی مادہ کے پیچھے مردوں کی سرزمین موی (Yomi) میں گیا وہاں سے واپسی پر ایک سمندر میں غوطہ لگایا تو اس کے پلکوں سے ٹپکنے والے نظروں سے سورج پیدا ہوا اور ناک سے ٹپکنے والے قطروں سے چاند وغیرہ دیوی دیوتا پیدا ہوئے۔
شنٹو ازم کی کتابیں
شنٹو ازم کی مذہبی معلومات پر دو کتابیں مشہور ہیں
(1) کوجی کی (kojiki)
(2) نی ہونگی (nihongi)
پہلی کتاب دیوتائوں کی کہانیوں اور دوسری ان کے عظیم کارناموں سے متعلق ہے
تعلیمات
یہ مذہب طویل عرصے تک اپنے رہنمائوں سے محروم رہا۔ جس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جاتی رہی۔ طویل عرصہ بعد ان کے ہاں مذہبی مفکر پیدا ہوئے۔ وہ اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ بیک وقت آٹھ سو کروڑ خدا ہونے کے باوجود خدا ایک ہی ہے۔ وہی زمین و آسمان کی اصل ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کی ذات میں موجود ہے۔ وہی قادر مطلق ہے۔ انسانی الفاظ اس کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ سوچ سے بھی اعلیٰ ہے۔ یہ مذہب اخلاقیات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے‘ جس میں خلوص‘ جذبہ ایثار‘ روح کی پاکیزگی کی تعلیمات ہیں۔ اسی طرح اس کی تعلیم ہے کہ انسان اگر مخلص ہو کرجدوجہد کرے تو وہ دیوائوں کا قرب حاصل کرلیتا ہے۔
اسلام کے ساتھ تقابل
شنٹو ازم کی اسلام کے ساتھ کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی‘ کیونکہ شنٹو ازم ایک قومی اور ریاستی مذہب ہے۔ اسلام الہامی آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے۔ یہ ان گنت دیوی دیوتائوں کا مذہب دین اسلام خالصتاً ایک خدائے پاک کی تعلیم دیتا ہے۔ شنٹو مذہب میں اگرچہ ایک خدا کا تصور بھی ملتا ہے‘ مگر یہ تصور آٹھ سو کروڑ خدائوں کے ساتھ ہے۔ اسی طرح اخلاقیات کی تعلیم کامل نہیں ہے‘ جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انسان کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔
شنٹو ازم کا رد
خدا وہ ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا تو دوسروں کی حاجت روائی کرتاہے۔ دوسروں کی مشکل کشائی کرتا ہے اور خدا کے لئے ضروری ہے کہ وہ مخلوق سے برتر ہو۔ کیونکہ کمتر یا برابر ہو تو اس کے خدا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں اور جو فائدہ نہ پہنچا سکے‘ وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ ان مختصر دلائل کی روشنی میں ذرا جائزہ لیجئے کہ سورج کیونکر خدا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ خدا تو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اور وہ ہمیشہ فائدہ پہنچاتا ہے‘ جبکہ سورج ہمیشہ طلوع نہیں رہتا بلکہ غروب بھی ہوتا ہے۔ اس میں اتنی بھی طاقت نہیں کہ کبھی گھن لگ جائے تو اس کو دور کرسکے۔ یہی حال چاند کا بھی ہے۔ ایسے ہی درخت کیونکر خدا ہوسکتا ہے وہ تو سورج کی شعاعوں‘ پانی و دیگر اجزاء کا محتاج ہوتا ہے۔ ان کے بغیر وہ زندہ نہیں رہتا۔ سمندر بھی خدا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ظرف کا محتاج ہوتا ہے اس کے بغیر اس کا ٹھہرائو ممکن نہیں۔ آگ بھی خدا نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ہوا کی محتاج ہوتی ہے۔ اسی طرح حیوانات بھی خدا نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ خود اپنی بقاء کے لئے بے شمار اشیاء کے محتاج ہوتے ہیں۔ الغرض وہ تمام دیوی دیوتا جس کی اہل جاپان عبادت کرتے ہیں‘ وہ کسی بھی طرح خدائی صفات کے حامل نہیں ہیں۔
مضحکہ خیز خدا
سچ کہا جاتا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کسی قوم سے دین واپس لیتا ہے تو عقل بھی چھین لیتا ہے۔ ان اہل جاپان کو دیکھئے جو دنیاوی طور پر دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے باسی ہیں۔ بڑے بڑے نام نہاد دانشور رہتے ہیں لیکن ان کی عقل پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے کہ لومڑی جیسا جانور بھی ان کا خدا ہے۔ سانپ بھی ان کا خدا ہے پھردوسری طرف اس مذہب کی تعلیمات میں پاکیزگی پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ جب لومڑی اپنے آپ کو بدبو اور گندگی سے نہیں بچا سکتی‘ خود جہاں رہتی ہے وہاں کا حال خراب ہوتا ہے تو یہ دوسروں کو کیا پاک رکھے گی؟ ایسے تمام جانوروں گدھے گھوڑے‘ کتے‘ بلی‘ خنزیر سب پر غور کرتے جایئے اور ان کی عقل کو داد دیتے جایئے۔
دعوت اسلام
ہم ایسے لوگوں کو جو بہت سارے خدائوں پر ایمان رکھتے ہیں‘ انہیں دعوت فکر دیتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں اور انصاف سے کام لیں تو انشاء اﷲ عزوجل ان پر واضح ہوجائے گا کہ کون سا حق ہے اور کون سا باطل۔ آیئے ایسے خدا پر ایمان لایئے جو ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ ساری کائنات اس کے زیر کنٹرول ہے۔ وہ چاہے تو یہ باقی رہے ورنہ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے۔ دیکھ لیجئے لاطیبی امریکہ ہیٹی کا زلزلہ‘ اس کائنات کا کوئی بھی باشندہ اس کے حکم کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتا۔ سب کو وہی پالتا ہے‘ وہ یکتا قادر مطلق ہر عیب سے پاک کسی کا محتاج نہیں بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا محتاج ہے‘ وہی بلند و بالا اور تمام تعریفات کے لائق ہے۔
انتہا پسند کون؟
معزز قارئین!
یقیناً آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ جاپانی قوم ایک مذہبی قوم ہے اپنے مذہب پر عمل پیرا اور کاربند قوم ہے‘ لیکن عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی اصطلاح میں وہ انتہا پسند نہیں قرار پاتی۔
مگر ہم مسلمان اگر اپنے دین حق کی بات کریں تو ہمیں فوری طور پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ڈگری تھما دی جاتی ہے‘ کیوں؟ اس سوال کا جواب ہمیں ضرور تلاش کرنا ہوگا
اے میرے بھائی!
غور کر! کہیں اس کا جواب یہ تو نہیں ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گروہوں‘ طبقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوکر رہ گئے ہیں دوسری زبان بولنے والا مسلمان ہمارا دوست اور ہمدرد نہ رہا‘ نہ ہم اس کے ہمدرد رہے۔
آہ… اے مسلمان! تجھے کیا ہوگیا کب تک سوتا رہے گا؟ دیکھ! آنکھیں کھول کر دیکھ تو سہی! دشمن اپنوں کے لبادے میںآیا ہوا ہے۔ لیکن تجھے کیا ہوا؟ تو اسے کیوں نہیں پہچان رہا؟ اے پیارے دیکھ… آج پوری دنیا میں جگہ جگہ میرا مسلمان بھائی ہی پٹ رہا ہے… اے میرے دوست برصغیر میں مسلم لیگ تونے تو بنائی تھی‘ اپنے خون سے اسے تونے تو کامیاب بنایا تھا…! اس کا ایجنڈا صرف اسلام ہی تو تھا… پھر اﷲ تعالیٰ نے تجھے کامیابی سے ہمکنار بھی فرمایا۔ اس وقت تو دہشت گرد اور انتہا پسند نہیں کہلایا۔ دنیا پر تیرا ایک رعب و دبدہ تھا۔ لیکن کیا ہوا کہ تونے آج اپنا مقام کھودیا… اپنی نئی نسل کے ذہن میں یہ راسخ نہ کرسکا کہ اس برصغیر کے فاتح ہمارے اکابرین علماء و مشائخ اہلسنت ہی تھے۔
اب تو خواب غفلت سے بیدار ہوجا! اور دنیا کو بتادے ’’انتہا پسند ہم نہیں ہیں بلکہ تم اہل کفر اور ہم مسلمانوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے تمہارے ایجنٹ ہی انتہا پسند اور دہشت گرد ہیں‘‘ اور
دنیا والوں پر ثابت کردے!
’’ہم غیور مسلمان شجر اسلام کی آبیاری بخوبی جانتے ہیں‘‘
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دھر میں اسم محمدﷺ سے اجالا کردے
نوٹ: شنٹو ازم کے عقائد و مراسم کے متعلق ہم نے ’’مذاہب عالم‘‘ از عبداﷲ المدوسی اور مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ و دیگر تقابل ادیان کی کتب سے استفادہ کیا ہے۔ راقم