شیخ حمود بن عبداﷲ حمود تویجری مزید رقم طراز ہے
ولقد صدق من قال‘ ان یہود ہذہ الامۃ ہم الشیعۃ‘ وان یہود اہل النسۃ ہم المقلدون الجامدون‘ وخاصۃ امثال ہٰؤلاء التبلیغین الذین یناصرون الجہل والتقلید الجامد وعبادۃ الکبراء وتعظیم والخضوع لہم‘ ویروجون البدعۃ فی المسلمین‘ ویوجبون علی المسلمین مالم یوجبہ اﷲ و یشرعون لہم مالم یشرعہ اﷲ ورسولہ (القول البلیغ ص 20)
ترجمہ: ابن حمود اپنی کتاب ’’القول البلیغ‘‘ میں تبلیغیوں کی شیعوں کے ساتھ مشابہت بیان کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ کہا ’’ولقد صدق من قال‘‘ یعنی اس شخص نے بالکل سچ کہا جس نے کہا امت مرحومہ کے یہودی وہ شیعہ ہیں اور اہل سنت کے یہودی وہ یہ جامع قسم کے مقلدین ہیں‘ خاص طور پر یہ تبلیغی جماعت والے جو جہالت اور اندھی تقلید اور اپنے بڑوں کی پوجا پاٹ اور ان کی حد درجہ بڑائی بیان کرنے میں معاون بنے ہوئے ہیں اور یہ تبلیغی جماعت والے مسلمانوں کے اندر بدعتوں کی ترویج کررہے ہیں اور یہ مسلمانوں پر ایسی چیزوں کو واجب ٹھہراتے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے واجب نہیں ٹھہرایا اور یہ تبلیغی مسلمانوں کے لئے ان چیزوں کو شرعی قرار دیتے ہیں جن چیزوں کو اﷲ تعالیٰ اور رسول اﷲﷺ نے شریعت نہیں بنایا۔
قارئین کرام! گزشتہ چند قسطوں میں آپ حضرات نے تبلیغی جماعت والوں کے بارے میں یہ معلوم کرلیا کہ یہ شیعہ لوگوں کی طرح حق باتوں کو چھپا لیتے ہیں اور اسے حکمت کا نام دیتے ہیں اور یہی چیز شیعہ کے ہاں ’’تقیہ‘‘ کہلاتی ہے اور ان کے مذہب کا عظیم شعار ہے اور پھر آپ نے امت مرحومہ کے عظیم المرتبت علمائے دین کی آراء کی روشنی میں تقیہ‘ تبرا اور تقویٰ کا مفہوم خوب وضاحت سے مطالعہ کرلیا۔ اب آیئے اس بحث کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور وہ درج ذیل ہے۔
شیخ حمود کہتا ہے کہ امت مرحومہ میں شیعہ کی مثال یہود کی طرح ہے اور اہل سنت کہلانے والوں میں یہ نام نہاد جھوٹے مقلدین (دیوبندی وہابی) یہ یہودیوں کی طرح ہیں‘ پھر ان دیوبندیوں میں خاص طور پر یہ تبلیغی نمائندے‘ جہالت پھیلانے ‘ اپنے بڑوں کی اندھی تقلید کرنے میں‘ اپنے بڑوں کی ناجائز تعظیم کرنے میں اور ان کے لئے غایت درجہ عاجزی کرنے میں یہودیوں کی طرح ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ تبلیغی لوگ ایک ظلم عظیم یہ بھی کرتے ہیں کہ مسلمان معاشرے میں نت نئی بدعات پھیلاتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہوئے مسلمانوں پر وہ چیزیں واجب کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں کہ جو چیزیں خالق کائنات نے ضروری قرار نہیں دیں بلکہ وہ ان تبلیغیوں کی محض اپنی من گھڑت نئی شریعت ہے جوکہ درحقیقت  شریعت نہیں بلکہ نری نجدیت دیوبندیت و وہابیت ہے اصل میں جہاں تک شیعوں کا یہودیوں کی طرح سخت ہونا ہے۔ اس کی تو بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد ہی یہودیوں سے پڑی ہے۔
ابن سباء ایک یہودی لڑکا تھا جوکہ امیر المومنین عثمان ابن عفان رضی اﷲ عنہ کی محفل میں بیٹھا کرتا تھا لیکن ان کی مخالفت شروع کردی اور اس کے بعد حضرت مولائے کائنات شیر خدا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہ کو اس نے اہمیت دینی شروع کردی اور ان کی خلافت بلا فصل کی تحریک چلادی اور یوں اپنے ہمنوا پیدا کرکے اس نے رافضیت کی بنیاد رکھی۔ اس کی تفصیل ہمیں ’’شیعہ مذہب‘‘ از شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ ’’تحفہ اثناء عشریہ‘‘ از شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اور ’’تحفہ حسینیہ‘‘ از شیخ الحدیث علامہ اشرف سیالوی اور خاص طور پر مناظر اسلام علامہ محمد علی علیہ الرحمہ صاحب مہتمم جامعہ رسولیہ شیرازیہ رضویہ بلال گنج لاہور کی کتب تحفہ جعفریہ‘ فقہ جعفریہ‘ عقائد جعفریہ‘ دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ اور میزان الکتب میں مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خود کتب شیعہ میں یہ بات موجود ہے کہ ’’الشیعیۃ ماخوذۃ من الیہودیۃ‘‘ یعنی شیعیت یہودیت سے نکلی ہے‘ اب جب شیعوں کی ماں یہودیت ہے تو پھر ظاہر ہے کہ شیعہ تو اس لئے اس امت کے یہودی کہلاتے ہیں اور انہی کی طرح حق بات کو چھپاتے ہیں جیسا کہ یہودیوں کے بارے میں قرآن جگہ بہ جگہ فرماتا ہے ’’ویکتمون الحق‘‘ اور ’’ویلبسون الحق باالباطل‘‘ یعنی حق چھپاتے اور حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہیں‘ اسی طرح شیعہ خلیفہ اول بلا فصل کی امامت چھپاتے اور مولا علی کو خلیفہ اول بلا فصل بتاتے ہیں۔ پانچ نمازوں کو چھپاتے اور تین نمازوں کا اظہار کرتے ہیں۔ انبیاء کرام کی شان گھٹاتے اور ائمہ کرام کی بڑھاتے ہیں۔
اب رہا ان تبلیغیوں‘ دیوبندیوں کا معاملہ تو اہل سنت و جماعت کہلاتے تو ہیں لیکن درحقیقت اہل سنت ہیں نہیں بلکہ یہ لوگ پکے وہابی ہیں اور اہل سنت کی طرح حقیقی حنفی نہیں بلکہ نام کے حنفی بن کر بجائے امام اعظم علیہ الرحمہ کی تقلید کرنے کے اپنے بڑے گرو گھنٹالوں کی اندھی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس طرح کہ یہودیوں کے بڑے جو رشوت خور اور ذلیل و کمینے تھے لیکن ان کے پٹھو ان کے چیلے ان کی اندھی تقلید کرتے تھے‘ اسی طرح ان تبلیغیوں کے بڑے اشرف علی تھانوی‘ قاسم نانوتوی‘ رشید احمد گنگوہی‘ حسین احمد مدنی‘ محمود الحسن دیوبندی‘ انور کاشمیری‘ وغیرہم سب یہودیوں کے ایجنٹ تھے۔ انگریز گورنمنٹ کے وظیفہ خوار اس کے علاوہ ذات الٰہی‘ ذات مصطفیٰ‘ صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے گستاخ‘ اس پر طرۂ یہ کہ یہودیوں کی طرح حق کو چھپانے اور حق کو باطل کے ساتھ ملانے میں اپنی مثال آپ تھے۔  اس پر ان سب کے گرو اسماعیل دہلوی کی کتابیں اور خود ان کی کتاہیں گواہی دے رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے مرتے دم تک توبہ نہ کی اور ان کے پچھلوں نے ’’حکایات اولیائ‘‘ کے نام سے ان کی کرامات کا مجموعہ شائع کردیا‘ لیکن تبلیغی جماعت والے ان کی اندھی تقلید میں حد سے گزر گئے اور اشرف علی تھانوی کی بے حیائی کا مجموعہ کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ گھر گھر پہنچا کر مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کو بے حیائی کا درس دے رہے ہیں اس کے علاوہ ذکریا سہارنپوری کی ’’تبلیغی نصاب‘‘ میں جگہ جگہ اپنی من مانی تحریف کرکے پھیلا رہے ہیں۔اس کے علاوہ سماعیل دہلوی کی کفریات سے مالا مال کتابیں گھروں میں دیتے ہیں‘ جن کے ذریعے مسلمانوں کے گھروں‘ بازاروں‘ دفتروں‘ اسکولوں اور کالجوں یونیورسٹیوں میں ان نئی گھڑی ہوئی باتوں کو پھیلا رہے ہیں جن کی شریعت سے کوئی فصاحت نہیں کی بلکہ یہ ان کی اپنی اخترا پردازیاں ہیں۔ اس کے ذریعے محض نجدیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔(جاری ہے)