قرآن کریم اور19کا ہندسہ

in Tahaffuz, March-April 2010, متفرقا ت

کافی عرصہ پہلے مجھے کسی کرم فرما نے ایک مختصر تحریر بھیجی جس میں قرآن کریم کے ایک ریاضیاتی معجزے کا ذکر تھا۔ جس میں قرآن کریم میں 19 کے ہندسے کی معجزانہ اہمیت اور اس کی چند مثالیں پیش کی گئی تھیں۔ مثلا یہ کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم جس میں کل 19 حروف ہیں یا قرآن کریم میں 114 سورتیں ہیں اور 114 کا عدد 19 ہی کا حاصل ضرب ہے۔ یعنی 19 کو اگر 6 سے ضرب دیں تو 114 حاصل ہوگا۔
اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پورے قرآن کریم میں 19 کا عدد ایک خاص کوڈ ہے اور قرآن کریم کی سورتیں‘ آیات‘ الفاظ اور مقطعات وغیرہ سب 19 کے اس کوڈ سسٹم کے تحت نازل کی گئی ہیں۔ اگر پورے قرآن کریم میں کسی ایک حرف کی تبدیلی ہوگی تو یہ ریاضاتی کوڈ ٹوٹ جائے گا۔ مثلا بسم اﷲ میں 19 حروف ہیں‘ اگراس میں ایک حرف مثلا الف کا اضافہ یا کمی ہوگی تو 19 کا عدد باقی نہیں رہے گا۔
راقم نے اس تحریر کو اس وقت کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی تھی‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن کریم کا معجزہ ہونا ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے اور اس کی اعجازی خصوصیات پر ہمارے اکابر اور اسلاف نے ضخیم کتابیں لکھی ہیں مثلا اس ی وضاحت و بلاغت‘ اس کا نظم‘ اس کی پیش گوئیاں‘ پچھلی اقوام کی تاریخ اور صحت‘ انسانی ہدایت کا بے مثال اصول‘ اس میں پائی جانے والی حکمت کے نادر نمونے‘ یہ سب اس کو معجزہ ثابت کرچکے ہیں۔ قرآن کریم نے ایک امی رسول کی زبان سے پورے عرب اور پوری انسانیت کو یہ چیلنج دے دیا کہ اس جیسی ایک سورت انسان اور جنات مل کر بنالائیں۔ یہ چیلنج آج تک قائم ہے کہ صرف دو سطری سورت سورۃ الکوثر کے برابر جیسی تحریر پیش کرنے کی جرأت کسی کو آج تک نہ ہوسکی۔ اس لئے قرآن کو اپنے آپ کو معجزہ ثابت کرنے کے لئے کسی سائنسی یا ریاضیاتی دلائل کی حاجت نہیں ہے۔
چنانچہ اس وقت میں نے ان عددی مثالوں کو حسن اتفاق سمجھ کر کسی فائل میں ڈال دیا تھا اور خیال تھا کہ یہ ایسا موضوع نہیں ہے جس پر علمی سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے۔ اب وہ تحریر قرآن کریم کی تفسیر کے مطالعے سے میرا یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا۔ چنانچہ جب 19 کے عدد کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ ہوا تو راقم نے اس موضوع پر سنجیدگی سے مطالعہ کیا۔ کتابوں سے اور انٹرنیٹ کے ذرائع سے اس پر مواد جمع کرنا شروع کیا۔ جوں جوں یہ مواد سامنے آتا گیا‘ قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان و یقین میں نمایاں اضافہ محسوس ہوا اور قرآن کریم کی اس آیت میں کی گئی پیش گوئیوں یا وعدوں کی صداقت سامنے آتی چلی گئی‘ جس میں اﷲ تعالیٰ عزوجل نے 19 کے عدد کا ذکر فرمایا ہے۔
اس حیرت انگیز معجزے کی دلچسپ تفصیلات اور عددی مثالوں کو پیش کرنے سے پہلے قرآن کریم کی ان آیات سے 19 کے عدد کے بارے میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
ترجمہ ’’اور تو کیا سمجھا کیسی ہے وہ آگ‘ ناباقی رکھے اور نہ چھوڑے‘ اس پر مقرر ہیں انیس (فرشتے) اور ہم نے جو رکھے ہیں دوزخ پر داروغہ وہ فرشتے ہی ہیں۔ اور ان کی جو گنتی رکھی ہے۔ سوجانچنے (فتنہ) کو منکروں کے تاکہ یقین کرلیں وہ لوگ جن کو ملی ہے کتاب… اور بڑھے ایمان داروں (ایمان والوں) کا ایمان اور دھوکہ نہ کھائیں‘ جن کو ملی ہے کتاب اور مسلمان۔ اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دل میں روگ ہے‘ اور منکر کیا غرض تھی اﷲ کو اس مثل (عجیب مضمون) سے۔ یونہی بچلاتا ہے (گمراہ کردیتا ہے) جس کو چاہے‘ اور راہ دیتا ہے (ہدایت کرتا ہے) جس کو چاہے اور کوئی نہیں جانتا تیرے سب کے لشکروں کو مگر خود وہی۔ اور وہ تو سمجھاتا ہے لوگوں کے واسطے‘‘ (سورۃ المدثر آیات 27 تا 31)
یہ ترجمہ معارف القرآن کی آٹھویں جلد سے لیاگیا ہے اور بریکٹ کی وضاحتیں اکثر حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجمہ سے ماخوذ ہیں۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل نکات خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔
(1) دوزخ کی آگ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اس پر انیس مقرر ہیں (یہاں فرشتوں کی وضاحت نہیں ہے) اگلی آیت میں وضاحت ہے کہ دوزخ کے داروغہ فرشتہ ہی ہیں۔
(2) اس عدد کے ذکر کرنے کا منشاء یہ ہے کہ اس پر منکروں یعنی کافروں کے لئے آزمائش یا فتنہ مرتب ہو۔
(3) تاکہ اہل کتاب اس عدد کو سن کر یقین کرلیں
(4) اور تاکہ اس عدد کے ذکر سے ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہو
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمتہ اﷲ علیہ انیس کے عدد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’اور نکتہ خاص انیس کے عدد میں حقیقتاً اﷲ ہی کو معلوم ہے۔ لیکن دوسرے حضرات نے جو ذکر کیا ہے‘ ان میں سب سے اقرب وہ ہے جو اﷲ نے اس حقیر کے دل میں القا فرمایا۔ وہ یہ کہ اصل تعذیب کفار کی عقائد حقہ کی مخالفت پر ہے‘‘ (معارف القرآن خلاصہ تفسیر مذکورہ آیات)
اس کے بعد حضرت تھانوی قدس اﷲ سرہ نے 19 کے عدد کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ اس سے مراد 9 تو وہ عقائد ہیں جن کا تعلق عمل سے نہیں ہے (1) ایمان باﷲ (2) عالم کا حادث ہونا (3) فرشتوں پر ایمان (4) جنت کا تعین (9) دوزخ کا تعین کرنا
اور دس عقائد وہ ہیں جن کا تعلق عمل سے ہے۔ ان میں پانچ می کرنے کا حکم ہے اور پانچ سے منع کرنے کا حکم ہے۔
(1) تلفظ بالشہادتین (زبان سے اقرار توحید کرنا) (2) اقامت صلوٰۃ (3) زکوٰۃ ادا کرنا (4) رمضان کے روزے رکھنا (5) اور حج بیت اﷲ اور پانچ جن سے منع کیا گیا ہے اور جن کے حرام ہونے کا اعتقاد واجب ہے وہ یہ ہیں (6) چوری(7) زنا (8) قتل (9) بہتان (10) عصیان فی المعروف‘ یعنی جن کاموں سے منع کیا گیا ہے ان میں نافرمانی کرنا‘ اس کے بعد فرماتے ہیں:
’’پس یہ سب مل کر انیس ہوئے‘‘ (حوالہ بالا)
راقم نے یہ عبارت اس لئے نقل کی ہے کہ اس سے اس موضوع کا علمی ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اور اس کے علاوہ مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں۔
(1) انیس کے عدد میں کوئی خاص نکتہ یا راز ہے جو ’’حقیقتاً اﷲ ہی کو معلوم ہے‘‘
(2) یہ عدد منکرین کے لئے فتنہ یا آزمائش ہے
(3) اہل کتاب کے لئے یہ عدد تعین کرنے کا ذریعہ ہے۔ (تفصیل انشاء اﷲ آگے آئیگی)
(4) اس عدد سے ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوگا (اس کی تفصیل ہی اس کا اصل موضوع ہے)
اب چند سوال ذہن میں آتے ہیں
(الف) کیا انیس کے عدد میں جو راز یا نکتہ موجود ہے‘ وہ یا اس کا کچھ حصہ معلوم ہوسکتا ہے؟
(ب) منکرین کے لئے یہ عدد فتنہ کیسے ہے؟
(ج) اہل کتاب کے لئے تعین کرنے کا یہ عدد کیسے ذریعہ بن سکتا ہے؟
(د) ایمان والوں کے دلوں میں اس عدد سے ایمان میں اضافہ کیسے ہوگا؟
ان سوالوں کا جواب طویل بھی ہے اور علمی بھی اور عام قارئین کے لئے غیر دلچسپ بھی۔ اس لئے یہاں صرف یہ عرض کرکے آگے بڑھتا ہوں کہ 19 عدد تورات میں بھی آیا ہے اور اس پر گیارہویں صدی میں ایک یہودی عالم ربی یہودا خدا پرست Rabbi Judal the pious نے بہت محنت اور تحقیق کے بعد انیس کے عدد کو تمام آسمانی صحیفوں کے لئے ایک خفیہ کوڈ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کسی بھی آسمانی کتاب میں ایک حرف کا ردوبدل بھی اس کوڈ کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد ایک مصری مسلمان پروفیسر راشد خلیفہ نے اس پر کمپیوٹر کے ذریعے بہت تحقیق کے بعد یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن ہی وہ واحد کتاب ہے جو اس پر ریاضیاتی کوڈ کو ہر جگہ برقرار رکھتی ہے۔ لیکن اس کوشش میں وہ اس حد تک منہمک ہوگیا کہ بعض قرآن آیات سے بھی صرف اس لئے منکر ہوگیا کہ وہ آیات اس کوڈ پر پوری نہیں اترتیں اور حدیث کا سرے سے انکار کردیا‘ جس کے نتیجے میں وہ مرتد ہوا اور امریکہ میں کسی کے ہاتھ قتل کردیا گیا۔ چنانچہ یہ عدد اس طرح اس جیسے منکروں کے لئے فتنہ بن گیا جس کی تفصیل طولانی ہے۔
اس طرح قرآن کریم کا یہ دعویٰ ثابت ہوگیا کہ یہ عدد منکرین کے لئے فتنہ ہوگا‘ اب چند حیرت انگیز مثالیں دیکھئے اور قرآن کریم کے مطابق اپنے ایمان میں اضافہ کیجئے۔
(1) بسم اﷲ میں 19 حروف ہیں
(2) قرآن کریم میں 114 سورتیں ہیں یعنی 19×6
(3) قرآن کریم کی آیات کی مجموعی تعداد 6346 یعنی 19×334
(4) 6,3,4,6 کے ہندسوں کو جمع کیجئے 6+3+4+6=19
(5) بسم اﷲ قرآن میں سورتوں کے شروع میں 113 مرتبہ آئی ہے اور سورہ نحل میں بسم اﷲ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے۔ کل 114 = یعنی 19×6
(6) سورہ توبہ ہے جس کے شروع میں بسم اﷲ نہیں ہے‘ سورہ نحل تک سورتوں کی تعداد 19 ہے
(7) سورہ توبہ جس کا نمبر 7 ہے اور سورہ نحل جس کا نمبر 27 ہے۔ اگر 9 سے 27 تک تمام نمبروںکو آپس میں جمع کریں تو میزان 342 ہے یعنی 19×8
(8) سورہ نحل کے شروع میں بسم اﷲ اور آیت میں جو بسم اﷲ آئی ہے ان کے درمیان الفاظ کی تعداد بھی 342ہے یعنی 19×18
(9) سب سے پہلے وحی سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیتوں پر مشتمل تھی۔ ان پانچ آیتوں میں کل حروف کی تعداد 76 ہے۔ یعنی 19×4
(10) سورہ علق سے ختم قرآن تک سورتوں کی تعداد 19ہے
(11) راقم عرض کرتا ہے کہ سورہ الفاتحہ سے سورہ العلق کی تعداد 95 ہے یعنی 19×5
(12) راقم کہتا ہے کہ سب سے پہلی سورت سورہ الفاتحہ کے حروف کی میزان 525 ہے اور اس سورت میں سات آیتیں ہیں۔ 532=7+525 یعنی 532=19×28
(14) سورہ نصر یعنی اذا جاء میں الفاظ کی تعداد 19 ہے
(15) اسی سورہ النصر کی پہلی آیت کے حروف کی تعداد بھی 19ہے
(16) اسی سورہ النصر میں جو 19 الفاظ ہیں ان الفاظ کے حروف کی مجموعی تعداد 76 ہے یعنی 19×4
(17) سورہ شوری کے شروع میں حروف مقطعات حمعسق ہیں اگر اس سورت میں آپ ان میں سے ہر حرف کی تعداد جمع کریں یعنی ح۔ع۔م۔س۔ق۔ جو اس سورت میں آئے ہیں ‘ ان کی مجموعی تعداد 570 ہے۔ 570=19×30
(18) حروف مقطعات میں 14 حروف پورے قرآن میں استعمال ہوئے ہیں اور ان حروف کو 14 مختلف الفاظ میں استعمال کیا گیا ہے اور قرآن کریم کی 29 سورتوں کے شروع میں یہ حروف آئے ہیں۔ اب ان کو جمع کیجئے 14+14+29=57 یعنی 57=19×3
(19) سورۃ القلم حروف مقطعات میں سے حرف ’’ن‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور اس سورت میں ’’ن‘‘ کل 133 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ یعنی 133=19×7
یہ اس موضوع کا تعارف ہے۔ یہ انیس مثالیں صرف نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ 19 کا عدد صرف قرآن کریم کی سورتوں اور آیات ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی تخلیق‘ فلکیات اور دوسرے شعبوں میں بھی کافرما نظرآتا ہے۔ ان کو دیکھ کر مومن کے ایمان میں تازگی اور اضافہ محسوس ہوتا ہے (واﷲ اعلم)