صاحب دلائل الخیرات شریف حضرت سیدنا ابی عبداللہ محمد بن سلیمان جزولی

in Articles, Tahaffuz, February 2010, د ر خشا ں ستا ر ے, محمد ہارون ابدانی

بلاد عربیہ میں مشرقی مراکش کے ایک قدیم بر بر قبیلے کا نام جزولہ جو شہر سوس میں آباد تھا‘ اس قبیلہ کی ایک شاخ سملالہ تھی۔ جزولہ اور سملالہ میں کئی نامور شخصیت نے جنم لیا۔ انہیں میں ایک شخص جن کے چہرے مہرے سے شرافت‘ علمیت اور بزرگی جھلک رہی تھی۔ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ پانی کی تلاش میں سرگرداں تھے مگر گرمی کے باعث گائوں کے گھروں کے دروازے بند تھے۔ شدت پیاس و نماز ظہر کے وقت کی تنگی کے باعث پریشان پھر رہے تھے۔ بہت تلاش اور جستجو کے بعد ایک کنواں نظر آیا مگر افسوس کے کنویں پر نہ کوئی ڈول تھی‘ نہ ہی رسی‘ پانی کنویں سے کس طرح نکالیں۔
ابھی اسی سوچ میں گم تھے کہ قریب ایک گھر کی کھڑکی کھلی اس میں سے ایک چھوٹی بچی نے سر نکالا‘ اس بچی کو دیکھ کر آپ نے اس کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ نماز ظہر کا وقت تنگ ہورہا ہے اور پیاس کی بھی شدت ہے‘ کنواں تو ہے مگر اس میں سے پانی نکالنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ سن کر بچی نے کہا کہ حضرت میں ابھی آتی ہوں‘ یہ کہہ کر دروازہ کھول کر بچی کنویں کے قریب آگئی اور پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے تشریف لائے ہیں؟
حضرت نے اپنا تعارف کرایا تو بچی نے عرض کیا… حضرت آپ کی علمیت و بزرگی کے تو بڑے چرچے ہیں مگر حیرت ہے کہ آپ بغیر رسی و ڈول کے کنویں سے پانی نہیں نکال سکتے۔ یہ کہہ کر بچی نے کچھ پڑھ کر کنویں میں پھونک ماردی‘ بس اس کے ساتھ ہی کنویں کا پانی ابل آیا اور باہر آکر زمین پر بہنے لگا۔ بزرگ اور ان کے ساتھیوں نے وضو کیا اور اپنی پیاس بجھائی اور نماز ظہر ادا کی‘ مگر تجسس نے ان کو بے تاب کئے رکھا۔ نماز سے فارغ ہوکر اس بچی کے مکان پر گئے اور لڑکی سے کہا… تمہیں اﷲ کی قسم! جس نے تم کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس مرتبہ تک پہنچایا۔ یہ بتائو کہ تم اس مقام تک کیسے پہنچی اور تم نے کون سا عمل کیا۔ بچی نے کہا حضرت یہ مرتبہ مجھے درود شریف کی برکت سے حاصل ہوا‘ جس کا ورد میں ہمیشہ کرتی ہوں۔
یہ ایک خاص درود ہے کیونکہ یہ درود حضورﷺ سے میرے بزرگوں کو ملا ہے اور سینہ بہ سینہ مجھ تک پہنچا ہے۔ بزرگ نے کہا اچھا میںدرود پڑھتا ہوں‘ اگر تمہارے درود کا کوئی حصہ اس میں ہو تو بتادینا۔ بچی نے حامی بھرلی۔ اب بزرگ درود پڑھنے لگے‘ پڑھنے کے دوران جہاں بھی اس درود کا حصہ آتا بچی بتادیتی‘ آخر کار بچی کا درود پاک مکمل ہوگیا۔ پھر آپ نے مکمل جدوجہد کے ساتھ درود کو حاصل کرلیا۔ درود کے حصول پر حضرت کے دل میںخیال آیا کہ ایک ایسی کتاب مرتب کی جائے جس میں تمام بہترین درود شامل ہوں اور اس میں بچی کا وہ پراثر درود بھی موجود ہو‘ اس ارادہ کی تکمیل کی غرض سے حضرت بلاد مغرب کے شہر فاس جسے اولیاء کا شہر بھی کہا جاتا ہے‘ تشریف لائے اور اس شہر میں آپ نے کتاب مذکورہ کو تحریر کرتے وقت جامع قروبین کی لائبریری میں موجود کتب سے استفادہ کیا۔ یہ کتاب مختلف صیغوں پر مشتمل گلدستہ درود و سلام اور دعائوں کا مجموعہ ہے۔
دلائل الخیرات و شوارق الانوار ذکر الصلوٰۃ علی نبی المختار اور مقدمہ میں ہی اس کے اغراض و مقاصد بھی تحریر فرمادیئے اور الحزب السادس یعنی چھٹے حزب میںآپ نے رب کی بارگاہ میں یہ بھی عرض کیا کہ پروردگار جس کا تو نے مجھ کو انعام کیا اور جس کی تو نے اجازت عطا فرمائی وہی میں نے جمع کیا جیسے ہی یہ کتاب منظر عام پر آئی تو اس کی خوشبو سے مشرق و مغرب مہک اٹھے۔
یہ بزرگ تاریخ میں ابو عبداﷲ سید محمد بن سلیمان الجزولی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
آپ کا اسم مبارک محمد والد کا نام عبدالرحمن ‘ دادا کا نام ابی بکر اور پردادا کا نام مبارک سلیمان ہے۔ آپ اسی نام سلیمان سے مشہور ہوئے۔ آپ کو اپنے پردادا کے نام سے منسوب کرکے محمد بن سلیمان کہا جاتا ہے۔ بلاد عربیہ میں آپ سیدی بن سلیمان کے نام سے معروف ہیں۔ آپ جزولہ کی نسبت سے جزولی اور سملالہ کی نسبت سے سملالی کہلاتے ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت ۸۰۷ھ بمطابق ۱۴۰۴ء بحر اوقیانوس اور اطلس پہاڑوں کے درمیان آباد شہر سوس کے بربر قبیلے کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب انیس پشتوں کے بعد حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کو بے شمار القابات مبارکہ سے یاد کیاجاتا ہے۔ لیکن وہ لقب جو رسول اﷲﷺ نے عطا کیا‘ اس کا کیا کہنا۔ حضرت امام جزولی خود ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور آپﷺ نے مجھے فرمایا کہ ’’میں رسولوں کی زینت ہوں اور تم اولیاء کی زینت ہو‘‘
حضرت امام جزولی نے ابتدائی تعلیم مقامی طور پر حاصل کی‘ اس کے بعد اپنے آبائی وطن سے اعلیٰ تعلیم کی خاطر فاس تشریف لے گئے اور اس وقت کے مشہور زمانہ مدرسہ ’’مدرسہ الصافرین‘‘ میں داخل ہوگئے۔ شہر فاس کے مدرسہ الصافرین میں آج بھی آپ کا رہائشی حجرہ معروف و مشہور ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے اسی حجرہ مبارکہ میں دلائل الخیرات شریف تحریر فرمائی۔
شیخ احمد بابا السودانی علیہ الرحمہ کے مطابق آپ نے علم و ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ درجہ ولایت میں بھی کمال حاصل کیا۔ یکتائے زمانہ‘ عارف کامل الشیخ ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ‘ مغار الصغیر رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہوئی جن کی دست اقدس میں آپ نے سلسلہ شاذلیہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا جس کے بعد سلوک میں مزید منازل طے کرنے کے لئے خلوت نشینی اختیار فرمائی‘ جو چودہ سال کے طویل عرصے پر محیط ہے۔ چودہ سال کی خلوت نشینی کے بعد حضرت امام جزولی کو خلق خدا کی طرف ظاہر ہونے کا حکم ملا۔ آپ سے حیرت انگیز خوارق اور بے شمار عظیم کرامتوں کا ظہور ہوا۔ بے شمار مخلوق خدا آپ کے دست اقدس پر تائب ہوکر حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ بارہ ہزار سے زائد آپ کے تلامذہ تھے۔ حضرت کی شہرت‘ عزت اور مقبولیت اور تصوف میں اعلیٰ مرتبے پر فائز ہونے کی وجہ سے عوام و خواص کے بے پناہ ہجوم کو دیکھتے ہوئے مخالفین اور حاسدین کا ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا۔ حاکم آسفی کو بھی اپنا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ اسی وجہ سے آپ کو زہر دے دیا گیا۔ آپ کا وصال اسی زہر کی وجہ سے فجر کی نماز کے دوران سجدے کی حالت میں تقریبا ۶۳ سال کی عمر میں ہوا۔ اسی روز نماز ظہر کے بعد آپ کو اپنی تعمیر کردہ مسجد کے وسط میں سپرد خاک کردیا گیا۔
حضرت امام جزولی کے وصال کے ۷۷ سال بعد سعادین سلطان مراکش ابو العباس احمد المعروف بہ الاعرج کے حکم سے جب آپ کے جسد اقدس کو قبر مبارکہ سے نکالا گیا تو اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ذکر مصطفیﷺ (دلائل الخیرات شریف) کی برکت سے تروتازہ تھا‘ حتی کہ آپ نے وصال سے قبل جو سر اور داڑھی مبارکہ کا خط بنوایا وہ بھی بالکل تر و تازہ تھا۔ کسی شخص نے آپ کے چہرہ انور کو انگلی سے دبایا تو فورا اس مقام سے خون ہٹ گیا اور جب انگلی ہٹائی تو خون پھر اپنی جگہ واپس آیا جیسے زندہ انسان کا ہوتا ہے۔آپ کے جسد مبارکہ کو مراکش کے قدیم حصہ میں دفن کیا گیا اور اس پر ایک عمارت (مزار) بھی تعمیر کیا گیا۔
حضرت علامہ مہدی الفاسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی پر کثرت سے درود شریف اور دلائل الخیرات شریف پیش کرنے کی وجہ سے آپ کی قبر مبارکہ سے کستوری کی مہک آتی ہے۔ ہزاروں زائرین آپ کے مزار مقدسہ پر حاضر ہوکر دلائل الخیرات شریف کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپ کا مزار مبارک آج بھی مرجع خلائق ہے۔
آپ کی عظمت اور بلند مرتبے کے اعتراف میں پوری دنیا میں آپ کے معتقدین آپ کا یوم عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ ہر سال ربیع الاول کے پہلے ہفتے کوان عظیم بزرگ کا عرس مبارک جامع مسجد آرام باغ کراچی میں بہت ہی عقیدت و احترام سے منعقد کیا جاتا ہے۔