حکیم اہل سنت حکیم محمد موسی امرتسری ثم لاہوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ

in Tahaffuz, March-April 2010, شخصیات, شیر زمان ملک

مدینہ منورہ میں سیدی و مرشدی قطب مدینہ فضیلۃ الشیخ حضرت قبلہ شاہ ضیاء الدین احمدقادری مدنی علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ پر پاکستان کے جن مشائخ و علماء اور احباب کا غائبانہ طور پر ان کی غیر موجودگی میں اچھے الفاظ میں ذکر ہوتا تھا‘ ان خوش نصیبوں میں جناب حکیم محمد موسٰی رحمتہ اﷲ علیب بھی شامل تھے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مقبول بارگاہ رسالت مآب علیہ التحیہ والثناء کے ہاں آپ کا کتنا رتبہ و مرتبہ تھا ‘ حضرت مدنی نور اﷲ مرقدہ آپ کی اہل سنت اور خصوصا فروغ رضویت کے حوالے سے خدمات سے بخوبی آگاہ و معترف تھے اور ادھر حکیم صاحب کا یہ حال تھا کہ آپ فخریہ طور پر کہا کرتے تھے  کہ الحمدﷲ ہمارا نبیﷺ بھی مدینے والا اور شیخ بھی مدینے والا۔ لہذا ہمارا سب کچھ مدینہ ہی مدینہ ہے (شرف اﷲ زادہا)
دو مدینے والے میرے دل کے مالک ہوگئے
ایک اﷲ کا نبی اور ایک اﷲ کا ولی
پیر خانہ پر حکیم اہلسنت کا غائبانہ تعارف سن کر احقر کے دل میں بھی حکیم صاحب سے ملاقات کا شوق انگڑائیاں لینے لگا اور ارادہ کیا اب جب بھی حضور داتا صاحب رضی اﷲ عنہ کی حاضری کے لئے لاہور جانا ہوا تو آپ سے ضرور ملاقات کی جائے گی اور پھر بعد میں تو یہ معمولات ہوگئے تھے کہ لاہور شریف کی حاضری صرف انہی دو مقاصد کے لئے ہوا کرتی تھی یعنی داتا حضور کی حاضری اور حکیم صاحب سے ملاقات ‘ باقی سب کام ثانوی حیثیت اختیار کرگئے تھے بلکہ انہی کے صدقہ میں باقی کام بھی ہوجایا کرتے تھے۔ حکیم صاحب کی شخصیت کیا تھی۔ مجسم علم و حکمت‘ تصوف اور اہل سنت کا انسائیکلو پیڈیا‘ جبکہ شعر و ادب پر بھی آپ کی گہری نظر تھی۔ آپ کی صلاحیتوں کے جوہر تو اس وقت کھلتے تھے‘ جبکہ آپ کے مدمقابل کوئی پروفیسر ‘ محقق‘ نقاد یا پی ایچ ڈی قسم کے ڈاکٹر ہوتے تھے۔ ورنہ عام مصروفیات میں ہم جیسے عام لوگوں سے ہماری حیثیت کے مطابق ہی کلام فرمایا کرتے تھے۔ پہلی ملاقات کیا تھی۔ آپ توقعات سے زیادہ بڑھ کر پیش آئے‘ آپ تو ہر آنے والے اور خصوصا علم سے دلچسپی رکھنے والے اور کتب سے محبت کرنے والوں سے بڑی ہی شفقت فرماتے‘ اور خوب نذرانے اور طلب سے زیادہ عطا کرتے اور ساتھ ساتھ فرماتے جاتے کہ یہ بھی لے جائو‘ یہ بھی لے جائو‘ کام آئے گا۔
بعض بزرگان دین کے ہاں کھانے کے لنگر کی فراوانی ہوتی ہے اور بعض مشائخ کے ہاں وظائف و اذکار کی کثرت‘ جبکہ ہمارے حکیم صاحب علم کی موتیوں‘ کا لنگر تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والا کتب کی اہمیت و افادیت سے خوب واقف ہوجایا کرتا تھا۔ آپ کے ہاں سے علم کے خزانے لے جانے والا شاید ہی کوئی ایسا کم ظرف ہو جوکہ کتابیں لے جا کر ان سے مستفیض نہ ہوتا ہو‘ بلکہ اکثر یہی دیکھا گیا کہ وہ مفید کتب اس کے لئے بھی کارآمد ثابت ہوتیں اور مزید آگے مطالعہ کرنے والوں کے لئے بھی کار اصلاح اور انشاء اﷲ تا قیامت حکیم صاحب علیہ الرحمہ کے لئے صدقہ جاریہ‘ حکیم صاحب انتھک محنت کرنے والے ایک ایسے محرک آدمی تھے جن کی ساری زندگی تادم واپسی دکھی انسانیت کی خدمت اور فروغ سنیت و رضویت کے لئے وقف تھی‘ جن دنوں آپ صاحب فراش تھے اور مطب پر تشریف نہیں لاتے تھے‘ احباب میں سے جب بھی کوئی عیادت کے لئے حاضر ہوتا تو اس وقت بھی موضوع علمی گفتگو بھی ہوتا اور آنے والا آپ سے ڈھیروں دعائوں کے ساتھ علم و معلومات کے خزانہ سے بھی مالا مال ہوکر جاتا تھا۔
مدینہ طیبہ سے فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا الحاج الحافظ شاہ فضل الرحمن صاحب القادری مدنی علیہ الرحمہ لاہور تشریف لائے تو ان دنوں آپ صاحب فراش تھے‘ تو حضرت صاحب آپ کے ہاں گھر پر ہی رونق افروز ہوئے اور آپ کو اپنی مدنی دعائوں سے نوازا اور اپنے ساتھ مدینہ عالیہ سے لائی ہوئی سوغاتوں سے بھی‘ ویسے بھی مدینہ شریف سے اکثر آپ کے ہاں سے حکیم صاحب کے لئے ہدیہ جات کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور ادھر لاہور سے بھی حکیم صاحب کبھی فون کرکے حاضری لگوارہے ہیں کبھی احباب میں سے کوئی جارہا ہے‘ تو اس کے ہاتھ کوئی تحفہ بھجوا رہے ہیں اور کبھی کوئی رقعہ و خط وغیرہ دے کر کسی کے بیعت ہونے کی حضرت سے سفارش فرما رہے ہیں۔
یہ حکیم اہل سنت کی ہی صحبت اور کتب نوازی کا اثروفیضان تھا کہ دور دراز پسماندہ علاقہ میں رہنے والے مجھ جیسے کئی ہیچ مدانوں نے اپنے ہاں عوام الناس کے بلا معاوضہ استادہ کے لئے لائبریریاں بنالیں۔ دینی مدارس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ علماء اور خطباء بنانے والی یہ فیکٹریاں اگر خدانخواستہ نہ ہوں گی تو ہمارے ہاں مساجد نہ صرف ویران ہوں گی بلکہ اغیار کے نرغہ میں‘ جس کی تلافی ناممکن ہے۔ اس کا خمیازہ وہی لوگ بھگت رہے ہیں جو اپنی بنائی ہوئی مساجد پر مخالفین اہل سنت کو منافقانہ طریقے سے قابض ہوتے دیکھ چکے ہیں العیاذ باﷲ… لیکن حضرت حکیم اہل سنت نے اپنی دانش مندانہ حکمت سے دوسرا سیکٹر سنبھالا اور عوام الناس اور پڑھے لکھے طبقہ میں مطالعہ کے شعور کو بیدار کیا۔ جس میں مرکزی مجلس رضا کا قیام تھا جس کے تحت ضخیم کی بجائے جوکہ عام قاری پر بار گراں نہ گزرے‘ درمیانہ سائز کی کتب شائع کرکے لاہور شہر میں دستی طور پر اور اندرون اور بیرون ملک بذریعہ ڈاک خانہ جات تقسیم کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور ساتھ ہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے عرس کی مناسبت سے یوم رضا کی داغ بیل ڈالی‘ جس میں بڑے بڑے معروف اور نامور علماء و مشائخ اور عوامی خطباء کو مدعو کرکے عام لوگوں کو روشناس کرایا۔ اس بیداری کا یہ نتیجہ نکلا کہ لاہور شہر سے باہر ہی مخلصین کے تعاون سے ایسے ادارے وجود میں آگئے جنہوں نے فروغ سنیت و رضویت کے لئے قبلہ حکیم صاحب کی پیروی کی۔ یوم رضا پر پڑھے جانے والے مقالات ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوئے اور اپنے اور اغیار ہر کسی کو فری بھجوائے۔ آہ افسوس اور صد افسوس… یہ کمند اس وقت ٹوٹی جبکہ بالکل عروج پر تھی۔ مجلس رضا کو نظربد لگ گئی اور مجلس کے متعلق ہمارے سب خواب چکنا چور ہوگئے۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون
جناب بشیر حسین ناظم صاحب محکمہ اوقات کی طرف سے حج پر گئے تھے۔ شام کو جب آستانہ مرشدی پر باب مجیدی میں حاضری ہوئی تو ایک پیر بھائی نے بتایا کہ ناظم صاحب آئے ہیں اور تمہارا پوچھ رہے تھے۔ کوئی ضروری تم سے بات کرنی ہے۔ حرم نبوی شریف میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حکیم صاحب کا سلام پہنچایا اور پھر مجلس کا شیرازہ بکھرنے کی بات سنائی جوکہ افسوس کے ساتھ ہم پہلے ہی سن چکے تھے اور مزید تفصیلات سے آگاہ اور ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل کے لئے حکیم صاحب کا پیغام بھی دیا اور میرا مشورہ چاہا… جس پر بصد احترام احقر نے یہ عرض کیا کہ ابھی مجھے فریق ثانی کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور ویسے بھی یہاں ہزاروں میل دور عملی طور پر ہم کیا کرسکتے ہیں البتہ پیر خانہ سے جو قربت و رابطہ حکیم صاحب کا ہے‘ اس نسبت سے ہماری ہمدردیاں اور خیر خواہی و تعاون حکیم صاحب کے ساتھ ہے‘ اہم چیز جو ہے وہ ہے اہلسنت کی خدمت کا کام۔ اس سلسلے میں توپہلے بھی ہم حکیم صاحب کے ساتھ تھے اور انشاء اﷲ آئندہ بھی حکیم صاحب کو ہمارا تعاون حاصل رہے گا۔ ان دنوں کتاب ’’انوار قطب مدینہ‘‘ کے لئے مضامین اکھٹے کرنے کی تگ و دو میں حکیم صاحب کے ساتھ برابر کا شریک رہا۔ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ سے تاثرات لکھوائے‘ پیر محمد کرم شاہ الازہری سے مضمون لکھوایا‘ علامہ نور احمد قادری انڈونیشیا ایمبیسی سے مقالہ لکھوایا۔ علامہ سید سعادت علی قادری مولانا عبدالستار خان نیازی اور دیگر بہت سارے علماء و مشائخ جن سے حکیم صاحب کے مراسم نہیں تھے۔ پاکستان اور بھارت سے علامہ مدنی میاں اور علامہ ارشد القادری صاحب نے مقالات لکھوائے اور آئے بھی لیکن مجلس کے انتشار کی نذر ہوگئے اور شامل اشاعت نہ ہوسکے۔ بہرحال یہ حکیم صاحب کے اعتماد اور فقیر پر شفقت کا نتیجہ تھا جس کا اظہار آپ نے کتاب انوار قطب مدینہ کے تقدیمی کلمات میں احقر کا نام لے کر کیا۔ آپ کے مزاج و طبیعت میں جلالی عنصر غالب تھا لیکن اس کے استعمال میں حد درجہ گریز کرتے تھے۔ باوجود اس کے پھر بھی کبھی کبھار اظہار ہو ہی جاتا تھا… چنانچہ ایک دفعہ فقیر آپ کے پاس حاضر ہوا تو ادب سے دست بوسی کر ڈالی۔ جس پر آپ نے مدینہ شریف کی نسبت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اور کچھ زیادہ غصہ تو نہ کیا لیکن تھوڑی دیر کلام نہیں کیا جس کو میں نے بھی محسوس کیا پھر میاں زبیر صاحب کی سفارش پر جوکہ ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے‘ نارمل ہوئے اور فرمایا کہ مجاہد بنو‘ کام کی ضرورت ہے‘ ان چیزوں کی ابھی ضرورت نہیں ہے۔
ایک مرتبہ جب حاضر ہوا تو تھوڑی دیر سلام دعا کے بعد فرمایا کہ کیا اس صدی کی سب سے بڑی خبر پڑھی ہے؟ ناچیز نے جب نفی میں جواب دیا تو خود ہی بتایا کہ بھارتی وزیراعظم (غالبا دیوگووڑا) نے آستانہ  عالیہ رضویہ بریلی شریف کے سجادہ نشین سے درگاہ اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ پر حاضر ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ حاضر ہوکر مدرسہ و خانقاہ کی مالی مدد بھی کرے گا اور حاضری بھی دے گا۔ جس پر وہاں کے علماء و مشائخ نے متفق ہوکر سختی سے منع کردیا کہ ہمیں آپ کے یہاں آنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ نے بائی آرڈر بزور قوت آنے کی کوشش و جسارت کی تو ہم بریلی شریف کے محلہ سوداگراں میں جمعیت رضائے مصطفی کے خدام کھڑے کردیں گے جوکہ مزاحمت کریں گے‘ لہذا آپ ان کی لاشوں سے گزر کر ہی آسکتے ہیں تو بھارتی وزیراعظم نے پروگرام منسوخ کردیا۔ اﷲ اﷲ یہ ہے بریلی شریف والوں اور دیوبندیوں کا فرق۔ کیونکہ قبل ازیں جب جشن آمد مصطفیﷺ کے منکرین نے اپنے جشن دیوبند کے لئے ایک ہندو کافر و مشرک عورت کو اپنے ہاں مہمان خصوصی کے طور پر دعوت دے کر خود بلایا تھا تو اس وقت ان کے مے خانہ توحید میں کچھ فرق نہیں آیا تھا لیکن یہاں غلامان مصطفیﷺ و محبان اولیاء کرام رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ملی غیرت نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ کوئی ناپاک‘ و نجس قدم اس درگاہ عالیہ میں آکر رکھے اور اعلیٰ حضرت کی روح کو تڑپائے کیونکہ یہاں تو وہ عاشق غیور آرام فرما ہے جوکہ بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ مجھے ان دنیاداروں سے کوئی غرض نہیں ہے۔
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ ناں نہیں
حکیم صاحب نے فرمایا کہ یہ بہت اہم خبر ہے اسے سنبھال کر رکھو۔ آپ کے مطب پر آنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جن میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے حضرات علماء و مشائخ اہل علم و ادیب خطباء شعراء وغیرہ آپ کے ہاں تشریف لاتے تھے اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق پیاس بجھاتے تھے۔ کشف المحجوب شریف اور دیگر چند ایک اہم کتب پر آپ کی تقاریظ آپ کے علمی جلالت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ملتان کی تاریخی سنی کانفرنس کے موقع پر جو سنی رائٹر گلڈزترتیب دیا گیا تھا اس کی صدارت کے لئے بھی سب کی نگاہوں نے آپ ہی کی ذات والا صفات کا انتخاب کیا تھا۔ آپ دوران گفتگو اپنے موقف میں بزرگان دین کے اقوال و واقعات اور سلف صالحین کی حکایات و کرامات سے استدلال فرماتے تھے۔ آپ کا ایک مضمون جوکہ ماہنامہ قومی ڈائجسٹ لاہور کے پیران پیر نمبر اور دہلی کے الہدیٰ ڈائجسٹ کے محبوب سبحانی و شہباز لامکانی نمبر میں شائع ہوا تھا‘ اس میں حضور غوث الثقلین رضی اﷲ عنہ کی افضلیت کے بارے میں آپ تحریر کرتے ہیں کہ جیسے حضور غوث پاک تمام اولیاء کرام میں افضل و اعلیٰ ہیں اسی طرح آپ کا سلسلہ عالیہ قادریہ (خصوصا قادریہ امامیہ) بھی دیگر سلاسل شریف سے افضل ہے لہذا اگر کوئی پہلے سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں داخل ہے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اعلیٰ سے دوسرے سلسلے کی طرف رجوع کرے ہاں البتہ اگر کوئی آدمی پہلے کسی دوسرے سلسلہ میں بیعت ہے تو اگر وہ چاہے تو قادریہ سلسلہ کے کسی شیخ کی طرف رجوع کرسکتا ہے‘ جیسا کہ حکیم صاحب کا خود اپنا عمل اس بات کا گواہ ہے‘ کہ پہلے آپ سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں داخل تھے اور پھر بعد میں سلسلہ عالیہ قادریہ امامیہ میں سیدی قطب مدینہ کے توسط سے نسبت حاصل کی (واﷲ اعلم بالصواب)
حضور نبی کریمﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ تم اس وقت مومن نہیں ہوسکتے جب تک جو چیز تم اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی پسند کرو۔ قبلہ حکیم صاحب کو چونکہ اچھی کتب کے ساتھ جنون کے حد تک لگائو تھا۔ اسی لئے وہ اس چیز کو اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے‘ اسی لئے اس کارخیر میں اپنے احباب اور ہر خواص و عام کو شریک کرلیا کرتے تھے‘ چونکہ آپ کو بذات خود اچھی کتابوں سے لگن تھی تو اس لئے آپ یہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ میرے دوسرے مسلمان بھائی اس سے محروم رہیں۔ آپ نے نایاب مفید اور قدیمی اہم کتب دریافت کیں اور ان کو دوبارہ زیور طباعت سے آراستہ کرکے ہزاروں کی تعداد میں فری تقسیم کیا۔
حضرت حکیم اہلسنت کو جن چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور سطور میں اپنی کم علمی کی بناء پر خراج عقیدت پیش کیا ہے اس کا اختتام اپنے گزشتہ روز دیکھے گئے ایک خواب پر کرتا ہوں۔ جس میں ناچیز نے آپ کی خواب میں زیارت کی۔ وہ چہرہ پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ اور ہشاش بشاش رونق و سادگی و درویشی اور سفیدی مائل لباس اور ہاتھ میں چند کتابیں‘ مجھے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ ان میں سے کون سی چاہئے۔ میں نے عرض کیا کہ جناب مجھے تو خطوط والی کتاب چاہئے۔ چند دنوں کے بعد ہمایوں صاحب نے بتوسط علامہ اقبال فاروقی صاحب ایک کویت آئے صاحب کے ہاتھ کتابوں کا پیکٹ بھجوادیا جن میں خطوط والی کتاب بھی شامل تھی۔
اﷲ تعالیٰ غریق رحمت کرے کیا کیا خوبیاں تھیں جانے والے میں اور کیسی ہستیاں منوں مٹی تلے چلی گئیں۔