رب کائنات نے ارشاد فرمایا:

(ترجمہ) بے شک تمہارے لئے رسول اﷲ کی پیروی بہتر ہے۔ (یہ بہتری) اس کے لئے ہے جو اﷲ اور پچھلے دن (یوم آخرت) امید(یعنی یقین) رکھتا ہو اور اﷲ کو بہت یاد کرے (الاحزاب ۱۱)

خدائے واحد نے فرمایا:

(ترجمہ) اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت کے ساتھ جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی (یعنی کافی) ہے اور خوشخبری دینے والا اورڈر سنانے والا (بنا کر) لیکن بہت سارے لوگ نہیں جانتے (السبآء ۲۸)

مالک کل نے فرمایا:

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اﷲ (اپنے محبوب کی رسالت پر) کافی ہے گواہ (الفتح ۲۸)

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے ایسی پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سی پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں

(۱) میری ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے مدد کی گئی

(۲) میرے لئے پورے روئے زمین کو مسجد اور پاک بنایا گیا لہذا میرا کوئی بھی امتی جہاں کہیں نماز کا وقت پائے وہیں نماز پڑھ لے

(۳) میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا

(۴) کوئی بھی نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں

(۵) مجھے شفاعت عطا کی گئی

(الصحیح البخاری ج ۱ کتاب الصلوٰۃ ص ۶۲ مطبوعہ مکتبہ غوثیہ کراچی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے

نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی پس تحقیق اس نے اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی پس تحقیق اس نے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کی( سنن ابی ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اﷲﷺ ص ۲ کراچی)

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے

حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے اختیار کرو اور جس چیز سے منع کروں اس سے اجتناب کرو‘‘ (ایضا)

قوموں کو زوال کیوں آیا؟

محترم قارئین! مذکورہ آیات و احادیث مبارکہ میں اﷲ عزوجل اور اس کے حبیب کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں صراحتاً اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ قومیں کیونکر عروج حاصل کرتی ہیں وہیں اشارتاً اس راہ کی بھی نشاندہی فرما دی ہے کہ جو محض گمراہی کی حامل ہے۔

کہ اگر تم رسول خداﷺ کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلو گے تو عروج تمہارا مقدر ہوگا۔ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں للکار نہیں سکے گی۔ کیونکہ غلط افکار و نظریات‘ خراب معیشت ‘ بدامنی‘ بیروزگاری‘ غربت و جہالت سمیت زوال کا کوئی سبب تم میں نہیں ہوگا (سنن ابن ماجہ)

 اتباع سنۃ رسول اﷲﷺ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی اس کا کوئی بھی مخالف اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا‘‘

اور اگر تم اطاعت مصطفےﷺ کو چھوڑ کر غیروں کی اطاعت کرنے لگو گے تو یقینا تمہارے قلوب میں انہی کے باطل افکار و نظریات‘ فاسد مراسم و عقائد اور مبہم و غلط عادات و اطوار بس جائیں گے جو تمہارے اعمال کی صورت میں ظاہر ہوکر تمہیں گمراہی کی اتاہ گہرائی کی طرف اس طرح دھکیل دیں گے کہ تاریخ تمہیں ہمیشہ کے لئے یا تو فراموش کردے گی یا زوال یافتہ قوم کے نام سے یاد رکھے گی۔ تمہاری معیشت تباہ ہوجائے گی۔ غربت و جہالت عام ہوجائے گی‘ معاشرتی بے راہ روی تمہارے رگ و پے میں اس طرح سرایت کر جائے گی کہ تم زندہ رہ کر بھی زندہ نہ کہلائو گے۔ اضطراب اس قدر بڑھ جائے گا کہ کوئی بھی شخص کسی بھی حوالے سے مطمئن نہ ہوگا۔ اﷲ رب العالمین نے قرآن مجید میںواضح طور پر فرمادیا ’’اورجس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لئے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے‘‘ (طٰہ ۱۲۴)

محترم قارئین! متذکرہ عنوان کے تحت ہم ایک ایسی ہی قوم کا تذکرہ کررہے ہیں جو پہلے کبھی دین حق پر قائم تھی‘ اس کے افکار و نظریات درست تھے‘ عادات و اطوار افکار صحیحہ کے آئینہ دار تھے تاہم گزرتے وقتوں کے ساتھ ان میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اور پھران تبدیلیوں نے اتنا گہرا اثر مرتب کیا کہ آج اس قوم کو دیکھ کر معلوم نہیں ہوتا کہ یہ بھی کبھی دین حق کی راہی ہوا کرتی تھی۔

چین کا دوسرا مشہور مذہب

کنفیوشس ازم چین کا دوسرا بڑا اور مشہور مذہب ہے۔ کنفیوشس نامی شخص اپنے دور کا عظیم مصلح گزرا ہے۔ رہبر اعظم کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ صوبہ شان تنگ (Shantung) کے ایک علاقہ کوفو (Ch.uffu) میں ۵۵۰ یا ۵۵۱ قبل مسیح پیدا ہوا۔ والدین نے اس کا نام کنگ چن رکھا تاہم تاریخ میں کنفیوشس کے نام سے مشہور ہوا۔ تین سال کی عمر میں باپ کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد قبیلہ کی (Ki) نے اس کی پرورش کی۔ انیس سال کی عمر میں شادی کی جس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ پھر چار سال کے بعد طلاق ہوگئی۔ اس کے بعد کوئی شادی نہیں کی۔ تقریبا ۲۵ سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہوگیا۔ جس پر اس نے تین سال تک والدہ کا سوگ منایا۔ پیشہ کے اعتبار سے حکومتی ملازم تھا۔ ابتداً مال خانہ میں ملازمت کی پھر ترقی کرتے ہوئے زراعت اور چرواہوںکا نگران مقرر ہوا۔ دوران ملازمت اس نے تاریخ‘ ادب‘ شاعری اور سیاسیات کا خوب مطالعہ کیا۔ والدہ کے انتقال کے بعد اس نے ملازمت چھوڑ کر تدریس کاپیشہ اختیار کیا۔ شان تنگ (سابق ریاست لو LU) ہزاروںشاگردوں کا معلم و رہنما بن کر سامنے آیا۔ اس کا طریقہ تعلیم زبانی ہوا کرتا تھا۔ اس کی تعلیمات کا اتنا چرچا ہوا کہ لو کے وزیراعظم نے  بستر مرگ پر اپنے بیٹے کو کنفیوشس سے تعلیم حاصل کرنے کی وصیت کی۔ ۵۱ سال کی عمر میں شہر چنگ ٹو (Chung-tu) کا قاضی مقرر ہوا۔ اس دوران اس نے ایک مثالی عدلیہ قائم کی۔

پورے ملک میں جرائم کا سدباب کیا۔ ہر طرف امن وامان قائم کیا لیکن یہ سلسلہ کچھ زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ حکمران وقت اور کنفیوشس کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے جن کے سبب کنفیوشس کو اپنے عہدے سے معزول کرکے ملک بدر کردیا گیا۔ تقریبا ۱۴سال غریب الوطنی کی زندگی بسر کرنے کے بعد جب ڈیوک گائی سلطنت لو (LU) پر قابض ہوا۔ اسے واپس شہر چنگ  ٹو بلایا گیا۔ جہاں اس نے ازسرنو لوگوںکی اصلاح اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن اب کے مرتبہ اس کی زندگی نے وفا نہیں کی۔ تقریبا تین سال خدمات انجام دینے کے بعد ۴۷۸ یا ۴۷۹ قبل مسیح دار فانی سے کوچ کرگیا۔ تاہم اس کی تعلیمات کے اثرات دیرپا ضرور ثابت ہوئے۔

اﷲ تعالیٰ کے متعلق عقیدہ

۱۔ میں نے پچاس سال کی عمر میں خدا کا عرفان حاصل کیا

۲۔ خدائے تعالیٰ واحد ہے

۳۔ نور و ہدایت ہمیں خدا کی طرف سے حاصل ہوئے ہیں۔ جن کے ذریعے ہم اپنی اور نسل آدم کی اصلاح کرکے انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں۔

۴۔ خدائی نظام کے تحت کائنات وجود میں آئی ہے اور ایک مقررہ مدت تک قائم رہے گی۔

۵۔ اﷲ تعالیٰ اپنا نظام لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ جس پر عمل کرکے انسان حیات ابدی اور سعادت مندی حاصل کرسکتا ہے۔

۶۔ خدا ہی حقیقی پناہ گاہ ہے جس کی تلاش ہمیشہ سے جاری ہے۔

۷۔ جو خدا کو ناراض کرتا ہے اس کی نجات مشکل ہے۔

۸۔ اگر خدا چاہتا تو سارا عمدہ تمدن مٹ جاتا روئے زمین پر کسی انسان کو باقی نہیں رکھتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا

۹۔ تقویٰ‘ اﷲ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا ہی صراط مستقیم ہے

آخرت کے متعلق عقائد

موت کے بعد زندگی اور جزاء و سزا کے حوالے سے اس کے عقائد مبہم ہیں تاہم یی کنگ (Yeking) نامی کتاب (جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی اپنی تصنیف ہے) میں ایسے ارشادات ضرور ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حیات بعد الممات اور جزا و سزا کا عقیدہ رکھتا تھا۔ جیسا کہ اس نے ایک جگہ لکھا ’’جو خاندان نیکی کرتا ہے وہ یقینا بے انتہا خوشی جمع کرلے گا اور جو خاندان برائی کرتا ہے اسے غیرمحدود غم و افسوس سے واسطہ پڑے گا‘‘

تعلیمات و نظریات

۱۔ سچائی کی عظمت انسان سے ہے نہ کہ انسان کی عظمت سچائی سے ہے

۲۔ پست آدمی مصلحت اندیش ہوتا ہے۔

۳۔ انسان طبعاً نیک ہوتا ہے

۴۔ اعلیٰ انسان کوتاہی کا الزام اپنے سر لیتا ہے اور کمتر انسان دوسروں کے سر تھوپتا ہے

۵۔ اعلیٰ انسان فراخدلی سے کام لیتا ہے

۶۔ اعلیٰ انسان باعظمت‘ باوقار اور مطمئن رہتا ہے

۷۔ اعلیٰ انسان کے کردار کی علامت انسانیت سے ہمدردی اور شفقت ہے۔

۸۔ گفتگو میں خلوص رکھتا ہے

۹۔ معاملات میں ہوشیاری سے کام لیتا ہے

۱۰۔ نفع کے حصول میں نیکی کا خیال پیش نظر رہتا ہے

۱۱۔ غصہ کرنے کے نتائج سے باخبر ہوتاہے

حقوق العباد

کنفیوشس نے حقوق العباد کے قیام پر بھی زور دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ :

۱۔ باپ کے اندرشفقت اور بیٹے میں احترام ہونا چاہئے۔

۲۔ بڑے بھائی میں شرافت اور چھوٹے بھائی میں انکساری ہونی چاہئے۔

۳۔ شوہر کو سچا اور بیوی کو اطاعت گزار ہونا چاہئے

۴۔ بڑوں کو غور و فکر سے کام لینا چاہئے اور چھوٹوں کو بڑوں کا ادب کرنا چاہئے

۵۔ حکمرانوں میں خیر اندیشی اور عوام میں وفا شعاری ہونی چاہئے

کنفیوشس نے چار بنیادی اصول بھی پیش کئے ہیں۔ اس کے مطابق ان کو اپنایا جائے تو معاشرہ اعلیٰ ہوجاتا ہے۔

(الف) لی (LI) اس کا مطلب ہے سیدھا راستہ اس کا مطلب انسان کی فطرت درست رہنی چاہئے۔

(ب) یی (YI) وہ انداز عمل جو درست فطرت کے مطابق معاملات کو سرانجام دینے سے پیدا ہوتا ہے۔

(ج) جن (JAN) اس نظریہ کے مطابق سماجی اقدار کو بہترین بنانے کے لئے ہر فرد کو اس کی فطرت کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

(د) چی (CHIH) اس نظریہ کے مطابق ہر انسان سوال کا سامنا کئے بغیر عادت کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔

اس کے علاوہ کنفیوشس نے سیاسیات اور سلطنت کے امور کے متعلق بہت سے قوانین وضع کئے۔ اس کے مطابق اگر ان کو اپنایا جائے تو حکومت عوام کے اذہان کے مطابق ہوتی ہے اور عوام بھی حکومت کے قوانین کے مطابق عمل پیرا ہوتی ہے۔ باہمی اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ مثلا اس کا کہنا ہے:

(۱)حکمران اپنے عمل سے رعایا کے لئے اعلیٰ مثالیں قائم کریں۔

(۲) حکمران طبقہ اور رعایا اپنے اپنے فرائض خلوص سے سرانجام دیں

(۳) حکمران لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند نہ کرتا ہو (وغیرہ)

کنفیوشس ازم کا زوال

کنفیوشس نے اپنے عقائد و نظریات کی تبلیغ ہمیشہ حکمرانوں کے ماتحت رہ کر کی ہے۔ ایسے مواقع اسے بارہا تو نہیں ملے تاہم مختصر عرصہ کی محنت صدیوں پر غالب رہی اور اس کے نظریات اس کی موت کے بعد زیادہ مقبول عام ہوئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک اہل چین اسے کو ینگ (Kung) ’’قدیم استاد‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔

تاہم گزرتے وقتوںکے ساتھ اس مذہب میں غلط عقائد ونظریات شامل ہوتے رہے۔ بہت سے وہمی طریقے رائج ہوتے رہے۔ نتیجتاً یہ مذہب آج اصل شکل میں موجود نہیں رہا۔

دعوت فکر

اہل اسلام کے لئے یہ بات قابل غور ہے کہ ہمارے ہاں بھی کچھ مراسم ایسے آگئے جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مثلا جہاں کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے وہاں شہداء کی تصویریں رکھ دی جاتی ہیں اور لوگ ان تصاویر کے آگے موم بتیاں جلاتے اور پھول رکھتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری اور نام نہاد این جی اوز کے ارکان فوت شدگان کی یاد میں تھوڑی دیر کے لئے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

محترم قارئین! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں العیاذ باﷲ صحیح معنوں میں کلمہ بھی نہیں آتا ہے اور غیروں کے اس قدر وارفتہ ہیں کہ انہیں اسلام اورغیر اسلام میں فرق تک یاد نہیں رہا۔ اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ وہ غیر مسلم مزدور رہنما جنہوں نے یورپی ممالک میں مزدوروں کے حقوق کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا انہیں شہداء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس سے انکار نہیں کہ انہوں نے مزدوروںکے حقوق کے لئے آواز بلند کی‘ تکالیف اٹھائیں‘ یہ یقینا لائق تحسین ہیں۔ تاہم ان کو شہداء تو نہیں کہا جاسکتا۔

پھر بھی اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اپنی اقدار کا ہر لحاظ سے حفاظت کرنا جانتی ہے اور کررہی ہے۔ ان مٹھی بھر عناصر کے غیر اسلامی مراسم ادا کرنے سے انشاء اﷲ تعالیٰ اسلام کمزور نہیں بلکہ اور پھلتا پھولتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج کے دن سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا مذہب دین اسلام ہے۔

اس پاکیزہ دین اسلام کی حقانیت پر اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ ۱۴ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ کہ صرف عصر حاضر کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ رہنما اصول و ضوابط فراہم کررہا ہے بلکہ آئندہ برسوں کے لئے بھی خیر اندیش رہنما اصول فراہم کررہا ہے۔ سچ فرمایا رب کائنات نے ’’بے شک اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے‘‘

نوٹ: ہم نے اس مضمون کی تیاری میں قرآن و احادیث کے علاوہ مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ‘ دنیا کا مذہبی نظام اور فلسفہ اسلام سے استفادہ کیا ہے۔ راقم