قارئین کرام!

گزشتہ قسط میں تبلیغی جماعت والوں کی حق پوشی اور شیعوں کی تقیہ بازی کا مختصر بیان آپ نے ملاحظہ کیا۔ اب ذرا تفصیل سے ’’تقیہ‘‘ کے بارے میں پڑھئے اور اندازہ کیجئے یہ کس قدر خطرناک ہے

چنانچہ علامہ بدر القادری مدظلہ العالی یوں رقم طراز ہیں

تقیہ

تقیہ (عربی) مصدر و ق ی مادہ وتیٰ یقی تقی تقاء تاء وا و سے بدنی ہوئی ہے۔ معنی حذر‘ خوف بچاؤ۔

فرقہ شیعہ کی اصطلاح میں غیر کے خوف ضرر سے خلاف اعتقاد و قولا یا فعلا کچھ کہنا یا کرنا

اہل تشیع تقیہ کے جواز میں کھینچ تان کر قرآن مجید کی جن آیات کو لاتے ہیں۔ وہ یہ ہیں آل عمران ‘ آیت 28‘ النحل 16‘ آیت 106‘ آیت 195‘ اور المومن 28

مزے کی بات یہ ہے کہ شیعوں کے قدیم ماہرین فن نے اپنی فقہی اور کلامی کتابوں میں تقیہ کو مستقل عنوان نہیں بنایا۔ البتہ متاخرین میں ان کے شیخ مرتضیٰ انصاری (م 1281ھ) نے اپنی کتاب ’’المکاسب‘‘ کے ملحقات میں تقیہ کے عنوان پر مستقل ایک رسالہ لکھا ہے۔

اس باب میں اسلامی موقف

یہاں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ تقیہ علمائے اہل سنت اور ان کے متبعین کے نزدیک کوئی اصطلاح نہیں ہے۔ اور اصطلاح علمیہ پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں کہیں اس کلمہ کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ صرف اہل تشیع اور ان کے مختلف فرقوں کی اصلاح ہے۔ دائرہ معارف اسلامیہ لاہور میں ہے۔

امام ابوحنیفہ کے اصحاب نے کہا کہ یہ (تقیہ) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک رخصت ہے اور اس رخصت پر عمل نہ کرنا بہتر ہے اور یہی زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اگر کسی پر زبردستی کی گئی کہ کلمہ کفر کہہ اور اس نے جان دینا منظور کیا مگر کلمہ کفر کہنا منظور نہ کیا۔ یہاں تک کہ اسے قتل کردیا گیا تو یہ شخص اس شخص سے افضل ہے جس نے جان بچانے کے لئے زبان سے کلمہ کفر کہہ دیا۔ یہی حکم ان سب باتوں کا ہے جس میں دین کی عزت برقرار رکھنے کا سوال درپیش ہو۔ دین کی عزت کو برقرار رکھتے ہوئے جان دے دینا اس سے افضل ہے کہ رخصت پر عمل کرے اور جان بچائے (دائرہ معارف اسلامیہ لاہور ج 6‘ ص 584-584)

اب آیئے امام احمد بن حنبل کی بارگاہ میں حاضری دیں اور ان سے پوچھیں کہ اس باب میں آپ کیا فرماتے ہیں۔

اے امام باوقار! آپ کے سر پر اگر کوئی شخص تلوار لے کر کھڑا ہوجائے (آپ سے خلاف حق بات کہلوانا چاہے) تو کیا آپ اس کی بات مان لیں گے۔ امام احمد جواب دیتے ہیں نہیں۔ اگر عالم نے تقیہ کرکے مان لیا اور جاہل تو جاہل ہے ہی تو حق کے ظاہر ہونے کی کیا صورت ہوگی۔ پچھلے لوگ اگلوں کے جو حالات بیان کرتے آئے ہیں۔ ان میں ہمارے پاس چھوٹوں کو بڑوں کی بابت مسلسل یہی بیان پہنچتا ہے کہ صحابہ تابعین اور تبع تابعین نے اپنی جانیں اﷲ کے لئے دے دیں اور اس بارے میں ان پر ملامت کرنے والوں کی ملامت کا کوئی اثر نہیں ہوا اور نہ کسی زبردست ظالم کی سختی کو وہ خاطر میں لائے۔

امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں۔

تقیہ انہی صورتوں میں جائز ہے جن میں اظہار حق اور دین کا سوال ہو۔ مگر جن صورتوں میں کسی اور پر برا اثر پڑتا ہو مثلا قتل‘ زنا‘ مال کا غصب‘ جھوٹی گواہی‘ محصنہ پر تہمت اور دشمنوں کو مسلمانوں کے کمزور پہلوئوں کی بابت اطلاع دینا (جاسوسی) ان سب صورتوں میں تقیہ قطعا ناجائز ہے (تفسیر کبیر ج 2 ص 46)

حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل بیت پاک رضی اﷲ عنہم کی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر حق کا اعلان کیا اور کبھی مداہنت فی الدین کا شکار نہ ہوئے۔ حضرات اہل بیت کا کیا کہنا وہ تو دنیا میں احقاق حق اور ابطال باطل کے امتیازی مینار ہیں۔ اور ان کی روش روشن اور قول وفعل سے تو نظام اسلام کی ترتیب ہوتی ہے۔ کیونکہ امہات المومنین اور دیگر وابستگان خاندان نبوت نے ہی سرور عالمﷺ کی حیات مبارکہ اور حضور کی علمی زندگی سے متعدد گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ کے دیدار سے مشرف ہونے والے صحابہ اور تابعین پھر تبع تابعین (الی ما بعد) نے اسلام کی صداقت اور دین کی حقانیت کو اجاگر کرنے کے لئے وہ قربانیاں دی ہیں جو آج بھی حیرت انگیز ہیں۔

حضرت ابن حذیفہ کا جانبازانہ اعلان حق

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن حذیفہ کو مسیحیوں نے گرفتار کرلیا اور ان سے کہا کہ عیسائی ہوجائو۔ اس پر انہوں نے نہایت جرات کے ساتھ فرمایا کہ

’’اگر تم لوگ اپنی اور تمام اہل عرب کی دولت مجھے اس شرط پر دو کہ میں لمحہ بھر کے لئے اپنے نبی کے دین سے منحرف ہوجائوں… تو یہ میری لئے ناقابل قبول ہے‘‘

اس پر بادشاہ نے قتل کی دھمکی دی۔ آپ اپنے قول پر قائم رہے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں سوالی پر چڑھا دیا جائے اور تیر اندازوں سے کہا کہ حذیفہ کے ہاتھ پائوںکو زخمی کریں۔ اس پر بھی آپ نے عیسائیت قبول نہیں کی۔ بادشاہ نے پھر انہیں سولی سے اتارنے کا حکم دیا اور ان کے سامنے ایک تانبے کی دیگ کو آگ پر رکھ کر خوب گرم کروایا اور حضرت حذیفہ کے سامنے ہی اس میں ایک مسلمان قیدی کو ڈال کر جلا ڈالا۔ اور حضرت حذیفہ سے کہا کہ اب تمہارا کیا خیال ہے۔ عیسائیت قبول کرتے ہو یا نہیں؟ آپ نے کہا نہیں۔ بادشاہ نے اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ انہیں بھی دیگ میں ڈالیں جب جلادوں نے حذیفہ کو پکڑا اس وقت ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔ بادشاہ نے سمجھا اب یہ خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ شاید میری بات مان لیں اور اشکباری کا سبب پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس بات پر رو پڑا کہ میری محض یہ ایک جان ہے جسے رضائے الٰہی کے لئے آگ میں ڈالا جارہاہے۔ کاش! میرے جسم کے رونگٹوں اور بالوں کی مقدار میں میری جانیں ہوتیں تو اپنے مالک و مولا کی خوشنودی کے لئے میں سب کو کھولتی دیگ کے حوالے کردیتا۔ بادشاہ نے حضرت حذیفہ کو قید میں ڈال دیا۔ اور وہاں خنزیر کا گوشت اور شراب ان کے کھانے کے لئے بھیجتا رہا۔ مگر متعدد کئی شبانہ روز گزر جانے کے باوجود انہوں نے ان چیزوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بادشاہ نے پھر اپنے دربار میں طلب کیا اور کچھ بھی نہ کھانے پینے کی وجہ دریافت کی تو حضرت حذیفہ نے کہا‘ حالت اضطرار میں اگرچہ ان حرام چیزوں کا کھانا بھی میرے لئے حلال تھا مگر میں اس رخصت پر عمل کے ذریعہ اپنی عزیمت کو کمزور کرنا اور تجھے خوشی دینا نہیں چاہتا۔

حضرت حذیفہ کو اپنے ایمان و ایقان میں اتنا پختہ اور ناقابل تسخیر دیکھ کر بادشاہ کے حوصلے پست ہوگئے اور اس نے کہا کہ اگر تم میرے سر کو بوسہ دو تو میں تمہیں آزاد کردوں۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا۔ یہ شرط میں اس وقت قبول کروں گا جب تو میرے ساتھ میرے تمام مسلمان بھائیوں کو جو تیری قید میں ہیں‘ آزاد کرنے کا وعدہ کرے۔ بادشاہ نے وعدہ کیا اور حضرت حذیفہ اپنے تمام ساتھیوں سمیت قید سے رہا ہوکر مدینہ طیبہ پہنچے۔

امیرالمومنین سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب واقعہ سنا تو فرمایا۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ حذیفہ کی پیشانی کو بوسہ دیں۔ اور سب سے پہلے انہوں نے خود حضرت حذیفہ کی پیشانی کو چوما (رضی اﷲ عنہم)

حضرت عبداﷲ بن حذیفہ کا یہ واقعہ تاریخ امت مسلمہ کے سمندر کا ایک قطرہ ہے۔ قرون اولیٰ بالخصوص جانباز اصحاب نبیﷺ و رضی اﷲ عنہم کے ایثار و قربانی جانبازی و جاں سپاری پر تو خود رب تعالیٰ کا قرآن شاہد ہے۔ سورۃ النحل کی آیت مبارکہ کو تقیہ کے سلسلے میں اہل تشیع اپنی سب سے بڑی دلیل قرار دیتے ہیں۔

من کفر باﷲ بعد ایمانہ الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان (سورہ نحل آیت 106)

جس نے کفر کیا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا‘ اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے۔

آیئے اس آیت مبارکہ کی شان نزول ملاحظہ کیجئے۔

اعلان حق کی شاندار مثال

مکہ مکرمہ میں جانبازان رسول کی صف میں عمار‘ یاسر اور سمیہ کے نام اسلام کی تاریخ کے لعل و جواہر ہیں۔ ایک بار کفار مکہ نے ان تینوں کو بہت اذیت دی تاکہ وہ خوفزدہ ہوکر اسلام سے منہ موڑلیں۔ مگر بے سود‘ بالاخر چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ دلدادگان ظلم و ستم نے حضرت سمیہ کے دونوں پائوں دو اونٹوں کے پیروں سے باندھے۔ ابوجہل لعین نے ان کی شرم گاہ پر نیزہ سے وار کیا اور دونوں اونٹوں کو دو جانب ہانک دیا۔ حتی کہ ایمان اور اسلام کی پاداش میں ان کا سر دو حصوں میں چر گیا۔ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا‘ اور سمیہ کا نام شہدائے اسلام کے دفتر میں سب سے پہلے رقم کیا گیا… یہی نہیں اس کے بعد ان کے شوہر حضرت یاسر کو بھی نہایت بے رحمی سے قتل کیا اور زن و شوہر دونوں یکے بعد دیگرے دولت شہادت سے سرفراز ہوئے۔ مکہ کا یہ دلگداز واقعہ اور ماں باپ دونوں کی اس حالت میں شہادت نے عمار بن یاسر کو کچھ سوچنے پر مجبور کردیا اور انہوں نے طوعا و کرہا زبان سے کلمات کفر کہہ کر اس وقت اپنی جان بچالی۔ عمار کے والدین نے عزیمت پر عمل کیا‘ مگر عمار نے رخصت کو اپنایا۔ مگر ان کے دل میں شرم و ندامت کروٹ لینے لگی۔ دوڑے ہوئے بارگاہ رسولﷺ میں حاضر ہوئے‘ لوگوں نے کہا عمار تو کافر ہوگئے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔

’’ہرگز نہیں‘ عمار تو سر سے لے کر پیروں تک ایمان سے لبریز ہیں‘‘

حضورﷺ اقدس عمار سے پوچھتے ہیں۔ اس وقت جب تمہاری زبان سے کلمات کفر ادا ہوئے‘ تمہارے دل کا کیا حال تھا۔ عمار نے عرض کیا ’’مطمئنا بالایمان‘‘ وہ تو ایمان سے مطمئن تھا۔ اس وقت یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی اور آقائے نامدار نے اپنے غلام باوفا کے اشک ندامت اپنے دست مبارکہ سے پونچھ دیئے (تفسیر مظہری)

ہمشیرہ فاروق اعظم کی اسلامی عزیمت

امام احمد رضا رضی اﷲ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے معارج کے حوالے سے تحریر فرمایا۔ ابوجہل لعین نے معاذ اﷲ حضورﷺ کو شہید کروانے کے لئے انعام کا اعلان کیا اور عمرننگی تلوار لے کر گھر سے نکلے۔ ادھر رب تعالیٰ نے قسم فرمائی کہ اب یہ تلوار اس وقت تک نیام میں نہ جائے گی جب تک عمر خود کفار کو قتل نہ کریں۔ پھر عمر کو راہ میں نعیم بن عبداﷲ صحابی ملے اور کہا تم پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو بعد میں کچھ اور کرنا۔ وہیں سے پلٹ کر بہن‘ بہنوئی کے گھر آئے انہیں حضرت جناب سورہ طٰہ کی تعلیم دے رہے تھے۔ عمر کی آہٹ سن کر حضرت جناب خباب کوٹھری میں جاچھپے۔ بہن سے پوچھا کیا تو آبائی دین سے پھر گئی۔ جواب میں صالحہ بہن نے برملا اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ اور بالاخر آیات قرآنیہ سن کر عمر کا دل بھی نور ایمان سے جگمگا اٹھا اور انہوں نے دار ارقم کے اندر خدمت رسول میں پہنچ کر کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ امام احمد رضا قدس سرہ حضرت عمر کی ہمشیرہ کی جرات ایمانی بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔

’’اسلام میں رافضیوں کا سا تقیہ کہاں؟ (بہن نے) صاف کہہ دیا۔ میں نے سچا دین اسلام قبول کرلیا (الملفوظ‘ امام احمد رضا قادری ج 3 ص 56)

شیعہ مذہب میں تقیہ کی اہمیت

تقیہ اہل تشیع کے نزدیک ایک نہایت بنیادی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور ان حضرات کے خیال میں دنیا کے اندر کئی مقدس شخصیات نے تقیہ کیا ہے۔

ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی اور ان کے چار سچے ساتھیوں نے خلفائے ثلثہ یعنی سیدنا صدیق اکبر‘ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہم کی بیعت تقیہ کے طور پر کی تھی۔

احتجاج طبرسی میں ہے کہ

’’سوائے علی کے اور ہمارے ان چاروں حضرات کے امت میں سے کسی نے ابوبکر کی بیعت جبر و اکراہ سے مجبور ہوکر نہیں کی۔‘‘

اور اسی کتاب میں ایک نہایت ناشائستہ روایت بھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں ان کے گھر سے گھسیٹتے ہوئے لایا گیا۔ وہاں کچھ صحابہ تلواریں سونتے کھڑے تھے اور عمر نے دھمکایا کہ بیعت کرو ورنہ سر تن سے اڑا دوں گا۔ اس وجہ سے حضرت علی نے مجبورا بیعت کی (احتجاج الطبرسی ص 48-47)

گویا حضرت اسد اﷲ الغالب رضی اﷲ عنہ نے خلفائے ثلثہ کی بیعت خوف یا دھوکہ دہی کے طور پر کی تھی اور صرف انہوں نے ہی نہیں بلکہ تمام شیعہ اماموں نے اپنے اپنے دور کی ظالم حکومت کے ساتھ ایسا ہی طریقہ اپنا رکھا۔ ایرانی انقلاب کے بانی جناب خمینی صاحب کے جانشین جناب علی خامنہ ای نے ایک طویل مقالہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے۔

ہمارے ائمہ اور سیاسی جدوجہد

اس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان حضرات ائمہ کی گویا پوری زندگی اسی ادھیڑ پن میں منہک رہی کہ کس وقت حکومت وقت کے ہاتھ ہے اقتدار کو چھین لیں اور تخت حکومت پر قبضہ کرلیں۔ ہم طوالت مضمون کے خوف سے اس مضمون کے حوالوں کو قلم انداز کرتے ہیں۔ ایک جملہ ہی بطور نمونہ ازبس ہے۔

’’اگرچہ جب تک ہارون بقید حیات رہا‘ امام ہشتم کو بھی خاموشی اور تقیہ کی زندگی بسر کرنی پڑی  پھر بھی آپ کی جدوجہد اور سیاسی مہم جاری رہتی ہے‘‘ (مقالہ ہمارے ائمہ اور سیاسی جدوجہد‘ مجلہ توحید ج 4‘ شمارہ 6‘ ص 117)

شیعہ اصول فقیہ میں بھی تقیہ کا لحاظ

تقیہ ان کے رگ و پے میں اتنا رچا بسا ہوا ہے کہ اپنی فقیہ کے سلسلے میں انہوں نے جو اصول فقہ ترتیب دیئے ہیں اس میں سنت تقریری کی بحث میں بھی اس بات کو شامل کرتے ہیں کہ معصومین (واضح رہے کہ ان کے نزدیک انبیاء کی طرح ائمہ بھی معصوم ہیں‘ بلکہ ائمہ کو انبیاء سے بھی زیادہ افضل کہتے ہیں اور رسول خداﷺ کی طرح تمام ائمہ کے اعمال و اقوال کو بھی سنت کہتے ہیں اور ائمہ کے قول فعل نیز ان کے سامنے کیا جانے والا ہر وہ کام جس کو انہوں نے دیکھا اور اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہو‘ شریعت کا ماخذ ہے) کی خاموشی کہیں بطور تقیہ نہ ہو‘ چنانچہ مصادر فقہ کے تحت جناب سید مصطفی محقق داماد شیعی ایرانی مجتہد نے سنت تقریری کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے۔ معصوم کی تقریر یا تصدیق کے لئے دو شرطیں لازم ہیں

’’پہلی یہ کہ معصوم کو کامل طور سے فعل کی انجام دہی کی اطلاع رہی ہو یعنی وہ فعل مکمل طور سے امام کی موجودگی میں اور ان کے سامنے انجام پایا ہو‘‘

دوسری یہ کہ امام کے امر بالمعروف  اور نہی عن المنکر کے لئے کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو۔ یعنی امام فعل کے واقع ہونے کے وقت یا جگہ کے لحاظ سے خود عمل یا اس کے طریقہ صحت میں اظہار نظر کے لئے کوئی مانع نہ رکھتے ہوں۔ اس جگہ مختصر سی وضاحت ضروری ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ ائمہ علیہم السلام اور ان کے جملہ احباب باوفا ظالم حکام و سلاطین کی طرف سے ہمیشہ جاسوسوں کے زیر نظر رہے اور بنیاد اسلام کی حفاظت نیز مخفی وعلنی شیعوں کی بقاء کے لئے اکثر اس میں مصلحت تھی کہ خود کو ساکت و پنہاں کئے رہیں۔ جس کے مشہور مظاہر میں سے ایک تقیہ ہے چونکہ غاصب اور ستمگر خلفاء زیادہ تر شیعوں کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے ائمہ علیہم السلام کے اردگرد جاسوس معین کرتے تھے اور یہ حضرات بھی اس بات سے واقف تھے لہذا شیعی اقدامات کے پوشیدہ رکھنے کے خیال سے مجبورا مختلف راہوں اور احتیاط کے گوناگوں طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے اکثر شرعی معیارات کے بیان کرنے کا موقع اور امکان نہ رکھتے ہوئے سکوت اور خاموشی کو ترجیح دیتے تھے۔ لہذا تقریر معصوم کے مطالعہ اور اس کی وقعت و حیثیت جاننے کے لئے ہمیشہ یہ بات دھیان میں رکھنی چاہئے (مجلہ توحید‘ قم ایران ج 3 شمارہ 6‘ ص 149-148)

علی خامنہ ای خمینی اور روایت تقیہ

نائب خمینی جناب علی خامنہ ای لکھتے ہیں:

’’اصل میں تقیہ کا مورد اور عنوان سمجھنے کے لئے لازم ہے کہ وہ تمام روایات جو کتمان اور پردہ داری نیز خفیہ سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔ ان کی چھان بین کی جائے تاکہ ایک طرف تو ائمہ علیہم السلام کے اس ادعاء اور ہدف کے پیش نظر جن کا گزشتہ صفحات میں ذکر کیا جاچکا ہے۔ (یعنی کسی طور پر سیاسی غلبہ) اور دوسری طرف خلفائے زمانہ کے اس شدید ردعمل کے پیش نظر جو ائمہ علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی سرگرمی او رسیاسی فعالیت کے خلاف ظاہر ہوتا ہے تاکہ تقیہ کا صحیح اور حقیقی مفہوم سمجھا جاسکے (ہمارے ائمہ‘ مجلہ توحید‘ ج 4‘ شمارہ 6‘ ص 128)

ان شیعہ حضرات کا کوئی عمل تقیہ سے خالی نہیں ہوتا۔ حتی کہ ان کی عبادات میں بھی تقیہ ہر جگہ گھسا پڑا ہے۔ اب افضل عبادات نماز ہی کو لے لیجئے۔ خدا کی اس عظیم ترین عبادت میں بھی انہوں نے تقیہ کے مسائل اور اس کے فضائل اپنی کتابوں میں لکھے ہیں۔

’’جوشیعہ کسی غیر شیعہ کے ساتھ جماعت میں شامل ہوکر نماز پڑھتے ہیں اور اپنی شیعیت کو پوشیدہ رکھتے ہیں ان کے اس تقیہ کی وجہ سے ان کو پچیس نمازوں کا ثواب ملتا ہے (من لا یحضرہ الفقیہ ج 1 ص 127)

شیعی ولایت فقیہ کے مسند نشیں جناب خمینی صاحب اپنی کتاب ’’تحریر الوسیلہ‘‘ میں نماز کے اندر تقیہ کے مسائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’دوسری چیز جو نماز کو باطل کردیتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھا جائے جس طرح ہم شیعوں کے علاوہ دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ ہاں تقیہ کی حالت میں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں (تحریر الوسیلہ‘ للخمینی ج 1ص 186)

اسی طرح آگے لکھا ہے۔

نویں چیز جس سے نماز باطل ہوتی ہے وہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہنا ہے۔ البتہ تقیہ کے طور پر کہنے میں کوئی حرج نہیں (تحریر الوسیلہ للخمینی ج 1ص 190)

شیعہ کتب حدیث اور تقیہ

تقیہ اہل تشیع کے نزدیک جب اتنا اہم کام ہے تو اس کا سراغ کتاب و سنت میں کچھ تو لگنا چاہئے چونکہ اس چیز کا تعلق اسلام سے بالکل نہیں اس لئے مسلمان جسے کتاب و سنت (قرآن اور حدیث) کہتے ہیں ان میں تو واقعی یہ تقیہ کہیں نہیں ملتا۔ البتہ اہل تشیع کی اپنی حدیثوں میں اس کے لئے کافی مواد موجود ہے۔ قرآن کے بعد ان کے نزدیک جو صحیح ترین کتاب ہے۔ اس کے اندر تقیہ کا ایک مستقل باب موجود ہے۔ ہم اختصار کے پیش نظر روایات کے صرف ترجمے ہی نذر قارئین کرتے ہیں۔

’’ابو عمیر اعجمی سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو عبداﷲ (امام جعفر صادق) علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا۔ اے ابو عمیر! دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ میں ہیں۔ ولا دین لمن لا تقیہ لہ اور جس نے تقیہ نہیں کیا اس کا دین ہی نہیں‘‘ (اصول کافی ص 482)

حبیب بن بشیر روایت کرتے ہیں کہ ابو عبداﷲ (امام جعفر صادق) نے فرمایا کہ میں نے اپنے والد (امام باقر) سے سنا وہ فرماتے تھے۔ روئے زمین پر کوئی شے مجھ کو تقیہ سے زیادہ پسند نہیں۔ اے حبیب جو شخص تقیہ کرے گا اﷲ اس کو عظمت سے نوازے گا۔ اور جو تقیہ نہیں کرے گا اﷲ اس کو پستی میں گرادے گا (اصول کافی ص 483)

’’ابو جعفر (امام باقر) علیہ السلام نے فرمایا تقیہ میرا دین ہے اور میرے آبائو کا دین ہے اور جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان ہی نہیں ہے (اصول کافی ص 484)

اسی کتاب میں زرا رہ سے مروی ہے وہ امام ابو جعفر (باقر) سے نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تقیہ ہر ضرورت کے لئے کافی ہے۔ اب صاحب تقیہ خود اپنی ضرورت کا زیادہ علم رکھتا ہے (اصول کافی ص 484)

اصول کافی کتاب العلم میں زرارہ بن اعین کی روایت ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں نے امام باقر سے ایک مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے مجھے مسئلہ کا جواب دیا۔ اس کے بعد اسی وقت ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی امام سے وہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس کا کچھ دوسرا جواب دیا پھر ایک اور آدمی نے بھی آکر وہی مسئلہ پوچھا۔ تو امام نے اس کو (ان دونوں جوابوں سے مختلف جواب دیا۔ پھر جب لوگ چلے گئے تو میں نے امام سے عرض کیا۔ اے فرزند رسول! عراق کے دو باشندے جو شیعان اہل بیت میں سے تھے۔ وہ آئے اور ان دونوں نے آپ سے ایک ہی مسئلہ دریافت کیا۔ آپ نے دونوں کو دو مختلف جواب دیا۔ (ایسا کیوں؟) تو حضرت امام نے فرمایا۔ اے زرارہ ! اسی میں ہماری اور تمہاری خیر و بقاء ہے اور اگر تم تمام لوگوں کا مسلک ایک ہوگیا تو لوگ تمہیں ہم سے تعلق کے معاملے میں سچا سمجھیں گے اور اس میں ہم سب کی بقاء کو خطرہ ہے۔ اس کے بعد زرارہ نے کہا کہ میں نے ایک بار امام جعفر صادق سے عرض کیا کہ آپ کے شیعہ ایسے باوفا ہیں کہ اگر انہیں نیزوں کے اوپر یا آگ میں کودنے کو کہا جائے تووہ ایسا کردیں گے۔ لیکن جب وہ آپ لوگوں کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو ان میں باہم اختلاف ہوتا ہے۔ زرارہ نے کہا کہ امام جعفر صادق نے میری اس بات کا وہی جواب دیا جو جواب ان کے والد امام باقر نے مجھے دیا تھا (اصول کافی ص 37)

اس روایت سے یہ پتہ چلا کہ یہ ائمہ تقیہ کے طور پر دینی مسائل بھی غلط بتاتے تھے (العیاذ باﷲ)

شیعی حدیث میں بطور تقیہ حلال کو حرام‘ اور حرام کو حلال کرنے کی مثال:

ابان بن تغلب کی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو عبداﷲ (امام جعفر صادق) سے سنا۔ وہ فرماتے تھے کہ میرے والد (امام باقر) دور بنو امیہ میں تقیہ کے طور پر یہ فتویٰ دیتے تھے کہ اگر کوئی بازو شاہین کا شکار کرے اور وہ (قبل ذبح) مرجائے تو وہ حلال ہے۔ اور میں تقیہ نہیں کرتا تو کہتا ہوں کہ وہ حرام ہے۔ (فروع کافی ج 2ص 80)

فروع کافی میں سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جن کی ذات جرات‘ و حق گوئی‘ خلوص و للہیت اور صبروعزیمت کی شاہکار ہے۔ ان کی جانب ایک نہایت بزدلانہ بلکہ منافقانہ روایت منسوب ہے۔ العیاذ باﷲ

عامر بن سمط امام جعفر صادق سے راوی۔ انہوں نے بیان کیا کہ منافقین میں سے ایک آدمی مرگیا۔ تو حسین بن علی علیہما السلام گھر سے باہر نکلے اور جنازہ کے ہمراہ چلے تاکہ شرکت کریں۔ تو ان کا ایک غلام سامنے آگیا (جو میت کی منافقت کی وجہ سے شریک جنازہ نہیں ہونا چاہتا تھا) انہوں نے غلام سے فرمایا۔ اے فلاں تو کدھر جارہا ہے۔ اس نے عرض کیا میں اس منافق کے جنازہ سے بھاگنا چاہتا ہوں۔ امام حسین نے اس سے فرمایا۔ تم نماز میں میرے دائیں کھڑے ہوجائو اور جو مجھے کہتے ہوئے سنو تم بھی کہو (اس کے بعد امام جعفر کہتے ہیں جب ولی میت نے نماز جنازہ شروع کی اور تکبیر کہی تو امام حسین نے بھی تکبیر کہی۔ اس کے بعد کہا۔ اے اﷲ اپنے اس بندے پر ایک ہزار لعنتیں کر جو متواتر مسلسل ہوں‘ متفرق نہ ہوں‘ اور اے اﷲ اسے اپنے بندوں میں ذلیل کر اور اسے نار جہنم میں پہنچا اور عذاب سخت کا مزا چکھا۔ یہ شخص تیرے دشمنوں سے دوستی کرتا تھا اور تیرے دوستوں سے دشمنی کرتا تھا۔ اور اہل بیت نبی سے بغض رکھتا تھا (فروع کافی ج 1ص100 – 99)

شیعوں کی معتبر کتاب تہذیب میں ہے کہ مخالفین ولایت کے جنازے کو غسل دے اور نماز پڑھے بلکہ اسے اہل خلاف کی طرح غسل دے۔ اس کے ساتھ جریدہ نہ رکھے اور نماز پڑھے تو دعا کی جگہ اس پر لعنت کرے (تہذیب ج 1ص 96)

فروع کافی میں اس کے بعد ایسی ہی روایتیں حضرت امام زین العابدین اور سیدنا امام جعفر صادق سے بھی منسوب کی گئی ہیں۔

ہر سلیم الفطرت فکر خود فیصلہ کرے

یہ اور اس قسم کی درجنوں روایات کے ہوتے ہوئے دھوکہ دہی‘ فریب کاری‘ مکاری و عیاری‘ اور منافقت کا بھی کوئی مفہوم باقی رہ جاتا ہے۔ اگر مذکورہ بالا الفاظ اپنے اندر کوئی حقیقی معنی و مفہوم رکھتے ہیں تو حضرات شیعہ کے نزدیک جسے تقیہ کہا جاتا ہے اور جس کی مثالیں ان کی اصح کتب بعد کتاب اﷲ اور دیگر دستاویزی ماخذ میں موجود ہیں۔ صرف ان کا ایک تقیہ اپنے اندر مکروفریب‘ دجل و دغل اور دور خاپن اور منافقت کی تمام غلیظ ترین شاخوں کو لئے ہوئے ہے یا نہیں؟ اور کیا کوئی ذرا بھر ایمان رکھنے والا انسان بھی ان روایت کو خانوادہ نبوت کے مقدس فرزندوں کی طرف منسوب کرسکتا ہے؟ شیعیت کی پوری تاریخ اور تحریک کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ایک وسیع النظر فکر جس نتیجہ پر پہنچتی ہے۔ یہ یہ ہے کہ تقیہ بھی اس فرقے کو داغ بیل ڈالنے والوں کی ایک لازمی ضرورت ھی۔ ایک ایسا تیر بہدف نسخہ جوشیر خدا مولائے کائنات سیدنا علی کرم اﷲ وجہ الکریم سے لے کر اہل تشیع کی تمام معتمد شخصیات کو اپنے خود ساختہ سانچہ میں فٹ کرسکے۔ جسے اگر ہم جناب خمینی صاحب کے لہجے میں کہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ تقیہ بانیان فرقہ شیعہ کا ایسا طاغوتی حربہ ہے جس نے اسد اﷲ الغالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کی جلالت مآب‘ سرمایہ شجاعت‘ بے باک‘ نڈر‘ حق گوئی‘ حق شعار‘ نسل پاک پر صدہا سال تک حق پوشی‘ منافقت‘ دور خاپن‘ اور خلاف ضمیر زندگی گزارنے کا الزام لگایا ہے (العیاذ باﷲ)

سورہ آل عمران کی آیت مبارکہ:

’’نہ بنائیں مومن کافروں کو اپنا دوست مومنوں کو چھوڑ کر اور جس نے کیا یہ کام پس نہ رہا اﷲ سے (اس کا) کوئی تعلق۔ مگر اس حالت میں کہ تم کرنا چاہو ان سے اپنا بچائو (سورہ آل عمران آیت 28)

اور یہ ہے ہمارا بے داغ آئینہ

لفظ ’’تقیہ‘‘ کی مفسرین اسلام نے جو تشریح کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے

’’اگر مسلمان کفار کے نرغے میں آجائے اور اسے اپنے قتل ہوجانے‘ مال چھن جانے اور ناموس لٹ جانے کا قوی اندیشہ ہو‘ تو اس بے بسی کے عالم میں وہ ایسی بات کہہ لے جس سے وہ کفار کے شر سے محفوظ رہے‘‘

اس عالم خوف و خطر میں اسے یہ اجازت ہرگز نہیں کہ وہ ایسا فعل کرے یا ایسی بات کہے جس سے دوسرے مسلمان کو ایسا ضرر پہنچے جس کی تلافی نہ ہوسکے۔ مثلا کفار اس سے اگر کسی مسلمان کو قتل کرنے‘ زنا کرنے‘ کسی پاکدامن عورت پر بہتان لگانے یا کفار کو مسلمانوں کے راز بتانے پر مجبور کریں تو اس مسلمان کو اس امر کی ہرگز اجازت نہیں کہ وہ اپنے بچائو کے لئے ان کاموں میں سے کوئی کام کرے۔

اگروہ اپنی جان بچانے کے لئے زبان پر کلمہ کفر لائے (جس طرح حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ نے کیا) اور اس کا دل مطمئن ہو تو اسے ایسا کرنے کی رخصت تو ہے لیکن اس کا ایمان پر ڈٹے رہنا اور اپنی جان دے دینا بہت افضل ہے۔

عصر حاضر کے اسلامی مفکر مولاناپیر کرم شاہ ازہری اہل تشیع کی تقیہ کے حق میں دلیلوں کا جائزہ لینے کے بعد اسلامی قانون میں جس حیلہ کو حلال کیا گیا ہے اور جو عزیمت کے مقابلہ میں محض ایک رخصت ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے رقم طرز ہیں۔

’’اس چیز کو اس تقیہ سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے جو مذہب شیعہ کا اصل عظیم ہے۔ اور بڑا کار ثواب ہے۔ جس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے وہ یہاں تک کہہ جاتے ہیں اگرچہ خلفائے ثلثہ نے قرآن کی تحریف کردی۔ احکام شریعت کو بدل ڈالا۔ سنت رسول کو مٹا دیا۔ لیکن حضرت علی نے تقیہ پر عمل کیا اور وہ خاموش رہے۔ بلکہ کاروبار حکومت میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ ان کے مال غنیمت سے اپنا حصہ قبول کرتے رہے۔ ان کے پیچھے نمازیں ادا کرتے رہے۔

استغفر اﷲ! شاہ مرداں‘ شیر یزداں علیہ وآلہ افضل الثناء و اکمل الرضوان کی ذات مقدس پر یہ کتنا ناپاک بہتان ہے (ایسی بہتان تراشی پر ہم اﷲ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں) (تفسیر ضیاء القرآن ‘ علامہ محمد پیر کرم شاہ الازہری ج 1‘ ص 221)

(جاری ہے)