ارشاد باری تعالیٰ ہے:

بے شک وہ جنہوں نے کہا : ہمارا رب اﷲ ہے‘ پھر ثابت قدم رہے‘ نہ ان پر کوئی خوف نہ ان کو کوئی غم (القرآن 13/46)

فرمان خداوندی ہے:

بے شک وہ جنہوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے پھر اس پر قائم رہے‘ ان پر فرشتے اترتے ہیں (انہیں خوشخبری سناتے ہیں) کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو‘ اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (القرآن 30/41)

حکم خداوندی ہے:

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ کرنا مگر مسلمان (یعنی اسلام ہی پر مرنا) (القرآن 106/3)

ارشاد ربانی ہے:

آج میں نے تمہارے لئے تمارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین پسند کیا (القرآن 3/5)

حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں (یعنی ان کے حلال یا حرام ہونے میں شبہ ہے) جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے‘ پس جو مشتبہ چیزوں سے بچا تو اس نے اپنے آپ کو اپنے دین اور اپنی عزت کو بچالیا (یعنی شریعت مطہرہ کی طرف سے اس کی گرفت نہیں کی جائے گی‘ ایسے ہی لوگ بھی اس کی عزت نہیں اچھالیں گے) اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو اپنے ریوڑ کو ممنوعہ چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ وہ اپنا ریوڑ اس چراگاہ میں لے جائے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ممنوعہ چیز ہوتی ہے۔ سنو! بے شک زمین پر اﷲ تعالیٰ کی ممنوعہ چیزیں اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! بے شک جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے‘ جب وہ ٹھیک رہتا ہے تو سارا بدن ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا بدن خراب ہوجاتا ہے۔ سنو! وہ دل ہے (صحیح بخاری شریف ج 1 ص 13‘ قدیمی کتب خانہ کراچی)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمدﷺ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام فرمادیا (مشکوٰۃ ج 1 ص15)

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

جو کوئی اس حال میں مرا کہ اسے اس بات پر یقین تھا‘ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں (اور محمدﷺ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں) وہ جنت میں داخل ہوگا (ایضا)

عظیم نعمت

مذکورہ تمام آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے یہ بات روز روشن سے بھی زیادہ عیاں ہوتی ہے کہ خدائے واحد اﷲ رب ذوالجلال کی وحدانیت اور اس کے بھیجے ہوئے نبی یا رسول کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنے والوں کے پاس سب سے بڑی دولت اور عظیم نعمت یہی ایمان ہے۔ اسی ایمان کو دنیا و آخرت کی عظیم تر کامیابیوں کا ضامن قرار دیا کہ صاحب ایمان کو یہ تو کوئی خوف لاحق ہوتا ہے نہ ہی کوئی غم۔ یہاں سے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ آج کی دنیا طرح طرح کی الجھنوں کا کیوں شکار ہے؟

کامیابی کا راز

ان تمام ارشادات مبارکہ سے یہ بات بھی خوب واضح ہوتی ہے کہ دنیا و آخرت میں انسان کی کامیابی کا راز اس میں ہے کہ وہ ایک سچے خدا پر ایمان لائے اور پھر تادم مرگ اس پر قائم رہے۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی جانب سے مبعوث فرمائے گئے نبی یا رسول پر ایمان لائے اور پھر تادم مرگ اس پر قائم رہے اور اس کی اطاعت بجا لائے۔ تاریخ انسانی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جو لوگ اس بات پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے۔ وہی ہر دور میں کامیابیوں سے ہمکنار رہے۔ ان کے نام آج بھی زندہ تابندہ ہیں اور جو لوگ اس عظیم راستے سے دور ہوئے‘ احکام خداوندی کو چھوڑ کر شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے‘ واضح حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام قرار دیا اور حرام چیزوں کو اپنے اوپر حلال کرلیا تو تباہی اور بربادی ہر دور میں ان کا مقدر بن کر رہ گئی۔ بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ آج ان کا کوئی نام و نشان تک نہیں۔ آج کا دور سائنس‘ جدید ٹیکنالوجی اور علمی مسابقت کا دور ہے۔ تاریخ پر زور وشور سے کام ہورہا ہے۔ آج کا مورخ یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ سابقہ امتوں کی اقتصادیات اور معاشیات کے حوالے سے کبھی بھی کوئی پریشانی لاحق نہیں رہی ہے۔ تاہم جب انہوں نے خدائے واحد کی نافرمانیاں کیں تو انہیں اس قسم کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا پھر ایسی قومیں تباہ و برباد ہوگئیں۔ اس کی زندہ مثال فرعون کی لاش ہے جس کو اﷲ جل مجدہ نے رہتی دنیا تک کے لئے نشان عبرت بنادیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار قطعاً ناممکن ہے۔ زیر تبصرہ مذہب بھی کچھ اس قسم کے معاملات کا شکار ہوا ہے جس پر ہم مختصر اورواضح کلام کریں گے۔

چین کی ابتدائی تاریخ

چین میں بنیادی طور پر دو مذاہب پائے جاتے ہیں۔ ایک تائو ازم اور دوسرا کنفیوشس ازم ہے۔

ہم مذہب تائو ازم کے حوالے سے کلام کریں گے۔ کنفیوشس مذہب پر آئندہ شمارے میں گفتگو ہوگی۔

چین کی تاریخ تقریبا 2700 برس قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ چینی تاریخ کے حوالے سے جو قدیم کتابیں ملتی ہیں۔ ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اہل چین پہلے خداوند قدوس کی وحدانیت کے قائل اور معتقد تھے۔ اﷲ تعالیٰ کو سعادت مطلق اور حاکم مطلق کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اسی کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی جزا و سزا اور آخرت کا اعتقاد بھی رکھتے تھے۔ پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان میں مذہبی اقدار کمزور ہونے لگیں‘ شکوک و شبہات‘ توہمات اور خود ساختہ مراسم میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ حلال و حرام کے امتیاز سے عاری ہوگئے۔ نتیجتاً شرک جیسے بدترین گناہ میں پھنس گئے۔ آندھی‘ دریا اور زمین کی عبادت میں مشغول ہوگئے۔

چھٹی صدی قبل مسیح تک ان معاشرتی‘ اخلاقی اور سماجی برائیوں نے اتنا اثر کیا کہ چینی مذہب اپنی تمام تر خوبیوں سے یکسر خالی ہوکر خالص مشرکانہ مراسم‘ معاشرتی اور اخلاقی برائیوں سے بھرپور مذہب کے طور پر سامنے آیا۔ پھر اس ظلمت و گمراہی کے دور میں تین عظیم رہنما پیدا ہوئے جن میں سے ایک لائوزے (Lao-tze) تھا۔ جس نے اہل چین کو پھر سے خدا تعالیٰ کے احکامات کی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ تاہم تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ بعض مورخین لائوزے نام کے کسی شخصیت کے پیدا ہونے کا انکارکرتے ہیں لیکن راسخ قول یہی ہے کہ اس نام کا چینی مذہبی رہنما گزرا ہے۔

لائوزے کے مختصر حالات

لائوزے (Lao-tze) 604) ق م چین کے صوبہ ٹشو (Tchu) میں پیدا ہوا۔ لائوزے کا اصل نام لی پہ یانگ تھا۔ اس نے طویل عمر پائی اور اگلی صدی کے اختتام تک زندہ رہا۔ اس کی پیدائش کے متعلق لوگوں کا ایک عجیب خیال ہے کہ وہ اکیاسی سال تک ماں کے پیٹ میں رہا۔ جب وہ پیدا ہوا تو اس کے بال سفید تھے۔ اور عقل کا پختہ تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے ایک کنواری عورت نے جنم دیا تھا۔ تاہم درست یہ ہے کہ یہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا پھر چو  (Chou) خاندان کی تاریخی دستاویزات کے محافظ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی۔ جہاں اس کو کتابوں کے مطالعہ کے بھی خوب مواقع ملے۔ جس سے وہ ایک حاذق معلم‘ دانشور اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا داعی بن کر سامنے آیا۔ جب اس نے لوگوں میں اپنی تعلیمات کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا تو لوگ اسے لائوزے (بوڑھے فلسفی) کے نام سے یاد کرتے تھے پھر لی پہ یانگ اسی لائوزے کے نام سے مشہور ہوگیا پھر اس نے ملک کے حکمرانوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے ملازمت سے استعفیٰ دے کر پہاڑیوں پر سکونت اختیار کرلی اور وہیں گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے لگا۔ پھر درے کے ایک محافظ کی درخواست پر اس نے اسے اپنے خیالات و نظریات لکھوا دیئے۔ اس کتاب کا نام تائوتی چنگ (Tao-Te-Ching) رکھا گیا یعنی سیدھا راستہ۔ یہ کتاب 81 ابواب اور 5000 الفاظ پر مشتمل ہے۔

بعض مورخین اسے اصل کتاب کا مسخ شدہ نسخہ اور بعض غیر مستند کتاب قرار دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس میں جہاں یقینا تحریف ہوئی وہیں اس کا ایک بڑا حصہ اس کے اصل افکار و نظریات کے ساتھ محفوظ ہے۔

تائو ازم کے عقائد ونظریات

تائو کے متعدد معانی بیان کئے گئے ہیں۔

مثلا خدا‘ عقل کل‘ امن کا راستہ وغیرہ لیکن لائوزے نے تائو کی جو صفحات بیان کی ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ کے تائو سے لائوزے کی مراد خداتعالیٰ کی ذات ہے

تائو کی حقیقت

تائو وہ ذات ہے جس کا وجود ہمیشہ سے ہے ، تائو ہر جگہ موجود ہے، تائو ہی کی ذات سے تمام کائنات کی عظمت اور شان وشوکت قائم ہے۔ تائو جسم سے پاک ہے ۔ تمام اجسام اسی نے پیدا کئے ہیں وہ سب کا خالق و رازق ہے ۔ وہ ناقابل تقسیم ہے ۔ خداتعالیٰ کی ان کے علاوہ صفات بیان کی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ لائوزے دین حق کا داعی تھا۔ خوداس پر کابند تھا۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حوالے سے لائوزے کا نظریہ تھا کہ تائو ہماری سمجھ سے اعلیٰ ہے ہم اس کی ذات کو نہیں سمجھ سکتے۔

اخلاق وآداب

لائوزے نے اخلاقیات کے حوالے سے لوگوں کو جو تعلیمات دی ہیں وہ بھی شاندارہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ عجزو انکساری کواپناؤ،ریاکاری،غرور،اپنے کو دوسروں سے برترسمجھناقابل مذمت ہے۔ کوئی تکلیف پہنچاتے تو تم اس کے ساتھ بھلائی کرو اچھوں کے ساتھ اچھے اور بروں کے ساتھ بھی اچھے رہو، ہرکسی سے خلوص و محبت کے ساتھ پیش آیا۔اگرچہ سامنے والا براہو۔ نرمی سخت ترین چیز کو بھی توڑڈالتی ہے دیکھو پانی سخت ترین چٹانوں کو بھی کاٹ ڈالتاہے۔ سب سے بڑاگناہ یہ ہے کہ انسان اپی خواہشات کا غلام بن جائے۔ لالچ بہت بڑاوبال ہے۔

موت کے بعد زندگی

لائوزے موت کے بعد زندگی ملنے کا قائل ہے۔ جیسا کہ اس نے کہا کہ انسان زندگی سے محبت کرکے فریب میں مبتلا ہوتاہے۔ مقام افسوس ہے کہ انسان موت کی ہولناکیوں سے تو واقف ہے لیکن اس کی راحتوں کو نہیں جانتا۔ موت ایک خوشگوارتبدیلی ہے۔ مردے وہ ہیں جو اپنے گھرکو جاپہنچے اور زندہ ابھی تک بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

اس مقام پر یہ بات یادرہے کہ لائوزے نے موت کے بعد گنہگاروں کو سزادیئے جانے کا تذکرہ واضح طورپر نہں کیاہے اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ لائوزے پر تبلیغ میں نرمی غالب تھی اور سزا وغیرہ کا ذکر تقریباً نہیں کرتاتھا۔

اہم وضاحت

لائوزے چونکہ کوئی نبی نہیں تھا اس لئے اس کے افکار و نظریات میں کہیں افراط تو کہیں تفریط کی گنجائش موجود ہے ۔ تاہم اس کی تعلیمات میں جو اچھائی کا عنصر غالب ہے اس سے صرف نظر کرنا یقیناً ناانصافی ہوگا۔

تائوازم کے بعد

وقت کے گزرنے کے ساتتھ ساتھ اس مذہب میں مختلف تبدیلیاں آتی رہیں لائوزے کی تعلیمات میں سے کچھ حصہ تلف کردیاگیا اور کچھ میں تحریف کردی گئی۔اور بقیہ تعلیمات کودھندلاکردیاگیا۔ اس طرح اس مذہب میں شرک جیسا بدترین گناہ داخل ہوگیا جس کے سبب مذہب تائو ازم اپنی اصلیت کھوکر کفر و شرک اور توہمات پر مشتمل افکار ونظریات والا مذہب بن کر سامنے آیا۔ آج اس میں چنگ تائولنگ نامی شخص کے دریا وغیرہ کی عبادت کی جارہی ہے۔

اسلام ہی غالب ہے

تائوازم اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود انسان کی مکمل رہنمائی نہیں کرتا۔ اس نے اپنے دور کی ضروریات پر زور دیاہے ۔ اس دور کی برائیوں کو ختم کرنے کی کوششیں کیں تاہم اس کو ہمہ جہت عالمگیر مذہب نہیں کہا جاسکتا۔ جبکہ دین اسلام آج بھی اسی طرح سے انسان کی ہر ضرورت کو پورا کرتاہے۔ قدم بقدم ہر سطح پر رہنمائی فراہم کرتاہے جیسے آج سے چودہ سو سال پہلے رہنمائی کرتارہاہے ۔

موجودہ دنیا کے تمام ترچیلنجزکا حل صرف اور صرف دین اسلام میں ہے اس کے علاوہ دنیا کاکوئی سربراہ ان کو ہرگز حل نہیں کرسکتا۔

ارشادربانی ہے: اور ہم نے تم پر قرآن اتاراکہ (یہ) ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(القرآن ۱۶/۸۹)

نوٹ

ہم نے اس مضمون کی تیاری میں تائوازم کے افکار و نظریات کے حوالے سے ’’مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ‘‘دنیا کامذہبی نظام اور فلسفہ اسلام وغیرہ سے استفادہ کیاہے۔