بیسویں صدی کے بے مثل انسان خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی قادری علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, January 2010, د ر خشا ں ستا ر ے

مولانا شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی چودھویں صدی ہجری اور بیسویں صدی عیسوی کے بے مثل انسان تھے۔ ایسے کہ جن کی شخصیت جامع مانع‘ ناقابل تسخیر تھی۔ دنیا کے کئی علوم و فنون اور ادیان کے ماہر تھے۔ آٹھ زبانوں کے قادر الکلام لیکچرار اور یگانہ روزگار تھے۔ نیز اپنے دور کے حجۃ الاسلام اور آیۃ من آیات اﷲ تھے جنہوں نے تمام براعظموں کے غیر مسلم ممالک اور اطراف واکناف میں اسلام کا آفاقی پیغام‘ موثر انداز میں پہنچایا اور دوسرے ادیان مذاہب کے بالمقابل اسلام کی حقانیت کو ثابت کرکے ہزاروں اسکالروں‘ سائنس دانوں‘ مذہبی پیشوائوں اور ممتاز شخصیات اور لاکھوں عوام کو اسلام کے نور سے منور کیا۔ آپ تحریک پاکستان میں قائداعظم کے مخلص اور معتمد علیہ ساتھی رہے اور اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور اپنی خداداد صلاحیت‘ شہرت اور تعارف کے باعث تحریک پاکستان کو بین الاقوامی اسٹیج پر متعارف کرایا اور انہی خدمات کی وجہ سے اہلیان کراچی نے 1946ء میں قائداعظم سمیت آپ کا کراچی بندرگاہ پر بے مثال والہانہ استقبال کیا۔ قیام پاکستان کے فورا بعد قائداعظم سمیت دیگر قائدین اور عوام کے پہلے بڑے اجتماع سے خطاب کے لئے آپ کو منتخب کیا گیا۔

الغرض! آپ نے عالمی سطح پر اسلام کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور زندگی کے آخری مراحل تک ملک سے باہر تمام براعظموں کے ممالک میں مصروف عمل ہے اور وہاں اسلامی مراکز قائم کئے اور ہر ملک میں نومسلم حضرات کی رابطہ تنظیمیں اور ان کے لئے ویلفیئر سینٹر نیز تعلیمی ادارے قائم فرمائے۔ اسی وجہ سے آپ برصغیر پاک و ہند کی نسبت باہر ممالک میں زیادہ متعارف ہیں چنانچہ مشرق بعید‘ جزائر ‘ فلپائن کے مسلمانوں کے قائد ڈاکٹر احمد نے فرمایا : جزائر فلپائن کو مولانا عبدالعلیم صدیقی کے ذریعے اسلام کی روشنی ملی اور انہی کی مساعی سے مسلمان ہوئے۔ پروفیسر ڈاکٹر مطلوب حسن ایم اے ہسری رقم طراز ہیں: مولانا عبدالعلیم میرٹھی 1950ء میں اورینٹ کلچر سوسائٹی آف ٹوکیو جاپان کے زیر اہتمام انگلش میں ایک زبردست مقالہ پیش کیا جس میں انہوں نے جامع مانع انداز میں اسلام کے ناقدین کے رویہ کا نہایت خوبصورتی سے رد کیا اور اس کی جہالت کو واضح کیا۔ حضرت شیخ التبلیغ (میرٹھی) کے اس مقالہ کے مطالعہ کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ دنیا بھر کے علوم و فنون پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ علوم جدید کیمسٹری‘ فزکس ‘ ریاضی‘ بیالوجی‘ فلکیات‘ و اراضیات کی اصطلاحات کا آپ نے جس مہارت اور روانی سے استعمال کیا اس سے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ ان تمام علوم پر مہارت تامہ رکھتے تھے پھر انگریزی زبان میں ایسی ندرت کے سننے اور پڑھنے والا محو حیرت رہتا۔

اورینٹ کلچرل سوسائٹی آف ٹوکیو میں اسلام کے آفاقی سفیر حضرت مولانا میرٹھی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے مقالہ کے مترجم ڈاکٹر رضا فاروقی لکھتے ہیں: حضرت شیخ التبلیغ نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں اطراف عالم میں جاری وساری کردیں‘ عرب و عجم‘ امریکہ‘ یورپ اور افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک کے مسلمان عوام آج ان کے تبلیغ دین کے گواہ ہیں۔

1919ء تا 1954ء کے 35 سالہ عرصہ میں آپ نے بے شمار ممالک میں اسلام کی روشنی کو بکھیرااور ایک لاکھ افراد کو حلقہ بگوش اسلام کیا۔ ان میں ڈاکٹر‘ فلاسفر‘ سائنسدان اور دہریئے بھی شامل ہیں۔ جن میں بورنیو کی شہزادی میکڈی‘ پائمیری کی خاتون ‘ وزیر میروخیل ڈونا‘ افریقی ریاست‘ ماریشس کے فرانسیسی گورنر مرویٹ‘ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ آپ سے متاثر ہونے والی شخصیات میں قائداعظم محمد علی جناح‘ سید امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین‘ الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنائ‘ سیلون کے جسٹس ایم مروانی‘ کولمبوکے چیف جسٹس سپریم کورٹ‘ مولانا محمد علی جوہر‘ شاہ سعودی عرب عبدالعزیز بن سعود‘ شہنشاہ اردن سید عبداﷲ اور جارج برنارڈ شاہ وغیرہ شامل ہیں۔ شیخ التبلیغ کا شمار تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے برصغیر اور بیرونی ممالک کے دوروں میں قائداعظم کے ایماء پر تحریک پاکستان اور علیحدہ اسلامی ریاست کی اہمیت کوآشکار کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ’’سفیر پاکستان‘‘ کا خطاب دیا۔ پاکستان معرض وجود میں آیا تو سرکاری طور پر پہلی نماز عیدالاضحی کراچی میں آپ نے پڑھائی۔ قائداعظم اور دیگر زعمائے وقت نے آپ کی قیادت میں نماز عید ادا کی۔

کاش کہ ہم اس عظیم شخصیت کی دینی‘ ملی‘ سیاسی و علمی بین الاقوامی خدمات کو متعارف کرواسکتے۔ آج بھی اگر عالم اسلام کے اس محسن کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لئے عالمی سطح کر ایسا ادارہ قائم کیا جو آپ کی چالیس سالہ بے مثال مساعی جمیلہ کے ریکارڈ کو یکجا کرکے تمام بین الاقوامی زبانوں میں شائع کرے تاکہ تقاریر‘ مناظرے‘ مقالات‘ لیکچرز‘ خطوط (موصولہ و جاری کردہ) ویلفیئر مراکز‘ تبلیغی مراکز‘ مدارس‘ مساجد‘ ان سے متعلقہ مختص روئیدادیں محفوظ ہوجائیں اور آئندہ کے لئے رہنمائی کا کام دیں۔ حضرت ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اور شاہ احمد نورانی کے دور کا جائزہ بھی شامل کیا جائے۔ اگر یہ کام ہوجائے تو اہل سنت خصوصا رضوی قادری خاندان کی عالمی‘ علمی‘ تبلیغی اور ملی حیران کن کامیابی تاریخ کا قابل فخر حصہ قرار پائے گی جس سے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہوگا۔

آپ کا وصال مبارک 23 ذوالحجہ شریف بمطابق 22 اگست 1954ء کو ہوا۔