مہمل سیاست ناتمام

in Tahaffuz, January 2011, متفرقا ت, ہارون الرشید

اس قوم پر افسوس جو اپنی دنیا اور آخرت ادنیٰ لوگوں کے حوالے کردے۔ سیاست ہماری دنیا ہے کہ اسی پر امن اور معیشت کا انحصار ہے اور مذہب ہماری آخرت جو مولوی صاحب کو سونپ دیا گیا۔ خود ہم کن دھندوں میں پڑے ہیں۔

سیاست کا حال یہ ہے کہ اعلیٰ ترین افواج اور ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانستان میں یکسر ناکام امریکی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں ڈرون حملوں کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ نظم و نسق کا حال یہ کہ حجاز میں پاکستان کے عازمین حج بے یار و مددگار پھرتے ہیں۔ ایک کے بعد بدعنوانی کی دوسری داستان اور ایک کے بعد دوسرے افسر کو معطل کرکے تفتیش کے نئے سلسلے کا آغاز۔ سعودی شہزادے کی شکایت پر سپریم کورٹ کے بعد وزیر اعظم اور اب ایوانِ صدر نے تحقیقات کا ڈول ڈالا ہے۔ کوئی دن یہ ہنگامہ رہے گا اور پھر اگلے برس کا انتظار جب نئی کہانیاں جنم لیں گی۔

ہماری سیاست کن لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اخبار اٹھائیے یا ٹی وی کھولئے تو آپ کو چوہدری پرویز الٰہی چنگھاڑتے نظر آئیں گے۔ جہاں کہیں قاف لیگ کے دس بیس کارکن جمع ہو ں یا دو چار اخبار نویس ہاتھ لگیں ، چوہدری صاحب کا دیا کھیان شروع ہو جاتا ہے : پنجاب کو اس کے حکمرانوں نے برباد کردیا۔ آٹا مہنگا ہے ، ترقیاتی منصوبے ناکام ، امن و امان کی حالت خراب۔ شہباز شریف کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے مگر ان سے پوچھئے کہ کیا گرانی ، بدامنی اور بد نظمی فقط پنجاب میں ہے ؟ سندھ ، سرحد اور بلوچستان میں کیا دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں؟

سب جانتے ہیں کہ قاف لیگ کوئی حقیقی بنیاد نہیں رکھتی۔ فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے تلوار سے مسلم لیگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر الگ کر دیا تھا۔ نواز شریف فوجی حکمرانوں سے سمجھوتہ کر کے بیرون ملک چلے گئے۔ پورے ملک ، خصوصاًپختون خوا اور پنجاب میں لیگی ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم درکار تھا ؛چنانچہ پرویز مشرف کے سائے تلے ایک جماعت کھڑی کردی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اسے تحلیل ہو جانا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔ چوہدری پرویز الٰہی کا اصرار لیکن یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح نواز شریف کو کھیل سے نکال دیا جائے کہ مسلم لیگ ان کے حرم میں آباد رہے۔ منصوبہ یہی تھا۔ امریکہ اور اس کے کاسہ لیس ملکوں کی حمایت سے منصوبہ یہ تھا کہ نواز شریف کو جدّہ میں محصور رکھا جائے۔ پیپلز پارٹی اور قاف لیگ میدان میں اتریں۔ ان میں سے جو زیادہ نشستیں جیت لے، وزارتِ عظمیٰ اسے سونپ دی جائے اور دوسرے فریق کو شریکِ اقتدار کر لیا جائے۔ این آر او اسی لیے بنایا گیا۔ مقدمات اسی لیے واپس لیے گئے۔ پرویز مشرف صدر رہیں او ربے نظیر بھٹو یا پرویز الٰہی وزیر اعظم۔ پاکستان امریکہ کی کالونی بنا رہے اور افغانستان میں دندنایا کرے۔

وکلا کی تحریک اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے سبب یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور چوہدری پرویز الٰہی کا خواب بھی۔ ان کا خیال تھا کہ وزارتِ عظمیٰ وہ خود سنبھالیں گے اور لاہور میں ان کے فرزندِ ارجمند وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوں گے۔ ادھر بے نظیر کے مرنے کی خبر آئی اور ادھر لاہور میں چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی ، مونس الٰہی اور چوہدری وجاہت حسین کی تصاویر کے ہزاروں اور لاکھوں بینر نذرِ آتش کر دئیے گئے۔ آدمی کا بچّہ مر جاتا ہے تو وہ اسے سپردِ خاک کرتا ہے۔ بندریا اپنے بچّے کی لاش اٹھائے پھرتی ہے۔ اسلام آباد میں پرویز مشرف برسرِ اقتدار تھے اوراخبار نویسوں کے ساتھ چوہدری برادران کے مثالی تعلقات کہ اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بے پناہ وسائل، سرکاری مشینری اور اس تاثرکے تحت کہ نواز شریف کو روک لیا جائے گا، قاف لیگ قابلِ ذکر تعداد میں پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ بے نظیر بھٹو کی موت سے قبل ہی پیپلز پارٹی کی قیادت نے مگر دو چیزوں کا ادراک کر لیا۔ اوّل یہ کہ پرویز مشرف نامقبول ہو چکے اور ان کے ساتھ مل کر سیاست نہیں کی جا سکتی۔ ثانیاً نون لیگ ایک حقیقت ہے۔ اگر اقتدار مطلوب ہے تو اس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔آخر آخر تو خود امریکیوں کو احساس ہو گیا۔ اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر نواز شریف نے بے پناہ دھاندلی کے خوف سے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تو بے نظیر بھٹو کو ذمہ داری سونپی گئی کہ انتخابی عمل میں شرکت پر انہیںآ مادہ کریں۔ رچرڈ باؤچر او ران کے ساتھی اسلام آباد کے چکر لگاتے رہے اوراس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے، جب تک معرکہ سر نہ ہوگیا۔

الیکشن کے فوراً بعد بلوچستان میں قاف لیگ کے 22ارکان پیپلز پارٹی اورپنجاب میں بڑی تعداد نواز لیگ سے جا ملی۔ نواز شریف دانا ہو تے تو اپنے دروازے کھول کر پارٹی میں الیکشن کا اعلان کرتے۔ ان پر مگر سبق سکھانے کا بھوت سوار تھا۔ سیاست کا ایک ایک طالب علم جانتا تھا کہ نون اور قاف لیگ کے ووٹر اصل میں ایک ہیں؛چنانچہ فوراً ہی مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی جدوجہد شروع کر دی گئی۔ چوہدری صاحبان بضد رہے تو خورشید قصوری ، ہمایوں اختر، حامد ناصر چٹھہ اور سلیم سیف اللہ ایسے رہنماؤں کی قیادت میں ہم خیال گروپ وجود میں آیا، سینٹ اورقومی اسمبلی میں جسے تقریباً ایک تہائی ارکان کی تائید حاصل ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ متوقع ہے۔ خود چوہدری شجاعت حسین یہ جانتے ہیں کہ ان کی جماعت کا مستقبل کیا ہے ؛لہٰذا وہ نون لیگ کے بارے میں تلخ گوئی سے گریز کرتے ہیں۔ چوہدری وجاہت حسین بھی ، جسے خاندان میں (silent operator)کہا جاتا ہے اور جو اب تک کوئی الیکشن نہیں ہارے، پیپلز پارٹی سے جاملنے کے مخالف ہیں۔ اس کے علاوہ کہ ایسی صورت میں ، وہ اپنی باقی ماندہ عوامی بنیاد کھو دیں گے ، وہ اپنے والد چوہدری ظہور الٰہی کے قتل کو فراموش نہیں کرسکتے۔ اگرچہ براہِ راست بے نظیر بھٹو اور محترمہ نصرت بھٹو اس سانحے کی ذمہ دارنہ تھیں مگر پیپلز پارٹی کے دہشت گرد ہی تھے۔ خاندان کی خواتین بھی اور وہ ایک آواز رکھتی ہیں ، پیپلز پارٹی سے اتحاد کے حق میں نہیں۔ پرویز الٰہی مگر مصر ہیں اور کاتا ہوا سوت ادھیڑنے پر تلے ہیں۔

پارٹی کے ایما پر ہی سینیٹر طارق عظیم نے دوبار شریف برادران سے ملاقات کی۔ ایک بار پچھلے برس، جب وہ خاموشی سے رائے ونڈ گئے اور نواز شریف کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد بات چیت کی۔ دوسری بار گزشتہ ماہ ، جب سینیٹر ایس ایم ظفر سے مشورہ کیا تو خود انہوں نے شرکت کی خواہش کی۔ بعد ازاں اخبار نویسوں کو چوہدری پرویز الٰہی نے بتایاکہ طارق عظیم بہلا پھسلا کر ایس ایم ظفر کو ساتھ لے گئے۔ بزرگ لیڈر نے اس پر یہ کہا کہ کیا وہ دودھ پیتے بچّے ہیں ؟ ہرگزرتے دن کیساتھ قاف لیگ میں اضطراب ہے اورسلیم سیف اللہ کیساتھ رابطہ کرنیوالے ارکانِ اسمبلی کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ اگر چوہدری برادران موجودہ پالیسی پر گامزن رہے تو بالآخر بغاوت ہوگی اور قومی اسمبلی میں ان کے پا س صرف پندرہ بیس ارکان رہ جائیں گے۔ کوئی خواب ایسا اسیر کرنے والا ہو تاہے کہ وقت آدمی کے لیے تھم جاتا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کے لیے وقت ٹھہر گیا ہے۔ وہ ایک سپنے کی قید میں ہیں کہ انہیں وزیراعظم اور ان کے صاحبزادے کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننا تھا۔ ججوں کی نظر بندی کے باوجود، ہزاروں پاکستانی امریکہ کے حوالے کرنے اور لال مسجد کے باوجود۔ اب بھی ان کی آرزو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سے ساز باز کر کے مونس الٰہی کو کسی طرح وزیر اعلیٰ بنا دیں۔سالِ گزشتہ بھی سلمان تاثیر اور رحمٰن ملک سے بات کر کے پنجا ب میں گورنر راج اسی لیے نافذ ہوا تھا۔آئی بی سے پچاس کروڑ روپے اسی لیے نکلوائے گئے تھے۔ا س خواب سے نجات پانے کے لیے وہ تیار نہیں کہ اس کا سحر بے حساب ہے۔ وقت لیکن کسی کا انتظار نہیں کرتا اور اپنا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ قاف لیگ کے باقی رہنما ، کب تک اس مہمل سیاست میں ان کا ساتھ دیں گے؟ طالب علم مگر یہ سوچتاہے کہ اس قوم پر افسوس جو اپنی دنیا او رآخر ت کو ایسے ادنیٰ لوگوں کے حوالے کر دے۔