حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, January 2011, د ر خشا ں ستا ر ے

’’مجھے بھوک نہیں ہے۔ زمانہ ہوا کہ میں نے کھانا چھوڑ دیا ہے‘‘ روغن گر کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس کی شدت غم کا احساس ہوا تو آپ نے فرمایا ’’تو اس حالت تک کس طرح پہنچا؟‘‘

روغن گر نے اپنی بیوی کے بچھڑنے کا پورا واقعہ سناتے ہوئے کہا ’’اس کے بغیر یہ زندگی ایک عذاب ہے۔ اگر آپ کے پاس بھی میرے غموں کا علاج نہیں ہے تو میں چلا جاتا ہوں‘‘

’’تم کھانا تو کھاؤ‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا حال زار سن کر فرمایا ’’عجیب نہیں کہ حق تعالیٰ تمہاری ساری پریشانیاں دور فرمادیں‘‘

روغن گر نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اصرار پر دوچار لقمے حلق سے اتارے مگر اس طرح کہ جیسے وہ کانٹے نگل رہا ہو۔ کھانے کے بعد اس نے وحشت زدہ لہجے میں پوچھا ’’اب میں کیا کروں؟ کہاں جائوں؟‘‘

’’صبر کرو…!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

’’بابا…! اب مجھ سے صبر نہیں ہوتا‘‘ روغن گر حضرت شیخ کے قدموں سے لپٹ کر رونے لگا۔

’’صبر تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے تسلی دی ’’کچھ دن تک میرے پاس رہو‘‘

روغن گر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ مجبورا خانقاہ کے ایک گوشے میں جاپڑا مگر اس طرح کہ ہر گھنٹے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس آتا اور فریاد کرتا کہ ابھی تک اس کی بیوی نہیں ملی۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ہر بار خندہ پیشانی کے ساتھ اس وارفتہ شوق کو تسلی دیتے اور پھر اپنے مریدوں کو مخاطب کرکے فرماتے ’’تم لوگ دیکھ رہے ہو کہ عشق کی آگ کس انداز سے بھڑک رہی ہے۔ بے چارے کی روح تک جلی جاتی ہے اگرچہ یہ دنیا کے عشق میں مبتلا ہے لیکن اس کا عشق سچا ہے‘‘

آخر اسی کشمکش میں دو دن گزر گئے۔ روغن گر کی مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی پھر تیسرے دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دیپال پور کے حاکم نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ اجودھن کے منشی کو پکڑ کر اس کے سامنے پیش کریں اگرچہ منشی بے قصور تھا لیکن کچھ مخبروں نے حاکم دیپال پور کو اطلاع دی تھی کہ وہ اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے، نتیجتاً منشی کو گرفتار کرلیا گیا پھر جب اسے دیپال پور لے جایا جانے لگا تو اس نے سپاہیوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا۔

’’اگر تم لوگ مجھے کچھ دیر کے لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں لے چلو تو میں تمہیں ایک قیمتی چیز پیش کروں گا‘‘

’’تو وہاں جاکر کیا کرے گا؟‘‘ حاکم دیپال پور کے سپاہیوں نے پوچھا

’’بس چند لمحوں کی بات ہے‘‘ منشی نے بڑے عاجزانہ لہجے میں کہا ’’میں حضرت شیخ کی خدمت میں سلام پیش کروں گا اور پھر تم لوگوں کے ساتھ دیپال پور روانہ ہوجائوں گا‘‘

سپاہی ویسے تو شاید انکار کردیتے مگر بڑی رقم کے لالچ نے انہیں منشی کی بات ماننے پر مجبور کردیا۔

پھر اجودھن کا منشی اسی حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس پہنچا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔

’’اے شخص! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منشی سے دریافت کیا۔

’’سرکار! میں بے قصور ہوں مگر حاکم دیپال پور کے سپاہی مجھے گرفتار کرکے لے جارہے ہیں‘‘ منشی رونے لگا۔ ’’میرے پاس کسی اعلیٰ افسر کی سفارش نہیں اگر کچھ ہے تو بس آپ کی دعائوں کا سہارا ہے‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ چند لمحوں تک کچھ سوچتے رہے پھر منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اگر وہ حاکم جس نے تیری گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے تجھ پر مہربان ہوجائے تو کیا شکرانہ پیش کرے گا‘‘

’’میرے پاس جس قدر مال و اسباب ہے، وہ سب آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا‘‘ منشی نے دست بستہ عرض کیا۔

’’وہ شکرانہ بھی میں نے تجھے بخش دیا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’مجھے اپنے اﷲ کے کرم پر یقین ہے کہ وہ فتنہ پرداز حاکم تجھے آزاد کردے گا۔ خلعت فاخرہ سے نوازے گا اور تحفے کے طور پر تجھے ایک کنیز بھی دے گا مجھ سے وعدہ کرکہ تو اس کنیز کو روغن کے حوالے کردے گا‘‘

’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے ایک ایک حکم پر دل وجان سے عمل کروں گا‘‘ منشی نے عرض کیا

پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے روغن گر کو اپنی خدمت میں طلب کیا اور منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’حسب وعدہ تم کنیز کو اس شخص کے حوالے کردوگے‘‘

منشی نے روغن گر سے کہا ’’میرے ساتھ چلو کہ یہی حکم شیخ ہے‘‘

روغن گر منشی کی بات سن کر رونے لگا… ’’شیخ! میرے پاس اتنی دولت ہے کہ آٹھ خوبصورت کنیزیں خرید سکتاہوں… مگر میں ایسا نہیں کروں گا مجھے صرف اپنی بیوی سے عشق ہے۔ اس کے سوا کسی عورت کی رفاقت گوارا نہیں‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’تو اﷲ کا نام لے کر منشی کے ساتھ دیپال پور جا، پھر دیکھ کہ پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‘‘

مجبورا وہ روغن گر منشی کے ساتھ چلا گیا مگر اسے اپنی بیوی کے ملنے کی امید نہیں تھی۔

سپاہیوں نے منشی کو لے جاکر حوالات میں بند کردیا اور روغن گر شدید مایوسی کے عالم میں قید خانے کے باہر بیٹھ گیا۔

دوسرے دن منشی کو حاکم دیپال پور کے سامنے پیش کیا گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اجودھن کا منشی حاکم کے قہروغضب سے محفوظ نہیں رہے گا اور اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔ خود حاکم دیپال پور کا یہ حال تھا کہ وہ منشی کے آنے سے پہلے سخت پیچ و تاب کھا رہا تھا پھر جیسے ہی منشی کو اس کے سامنے پیش کیا گیا، صورتحال یکسر بدل گئی، حاکم دیپال پور نے اپنے قیدی کی طرف دیکھا اور بے اختیار کہنے لگا۔

’’تم سازشی نہیں ہوسکتے، یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں‘‘

پھر حاکم نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ منشی کی زنجیریں کھول دی جائیں۔ وہاں موجود تمام لوگ حیرت زدہ تھے کہ ایک معتوب شخص چند لمحوں میں بے قصور کیسے ثابت ہوگیا؟ حاکم نے منشی کے لئے کرسی منگوائی اور اسے اپنے قریب بٹھایا۔ کچھ دیر تک معذرت کرتا رہا پھر اس نے منشی کو قیمتی خلعت سے نوازا اور ایک اعلیٰ نسل کا گھوڑا دیا۔ جب منشی انعام لے کر جانے لگا تو حاکم دیپال پور نے ایک برقع پوش خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’اور یہ کنیز تیری خدمت کے لئے ہے‘‘

منشی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ وہ پتھر کے کسی ستون کے مانند ساکت کھڑا تھا۔ مگر اس کا ذہن ایک درویش کے کوچے میں بھٹک رہا تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ مجسم ہوگئے تھے۔

’’کیا کچھ اور چاہتا ہے؟‘‘ منشی کو گم صم پاکر حاکم دیپال پور نے پوچھا۔

منشی اپنے تصورات کے حصار سے باہر نکل آیا اور شکر گزاری کے لہجے میں کہنے لگا

’’میرے لئے آپ کی یہی عنایت بہت ہے‘‘ اب وہ کسے بتاتا کہ حاکم دیپال پور کی نفرت محبت میں کیسے بدل گئی… اور یہ کس کی دعائوں کا صدقہ ہے۔

منشی حاکم کے دربار سے باہر آیا۔ برقع پوش کنیز اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ پھر جب منشی حوالات کے قریب پہنچا تو روغن گر سر جھکائے اداس بیٹھا تھا، یکایک کنیز دوڑی اور روغن گر سے جاکر لپٹ گئی۔

روغن گر نے ایک نامحرم عورت کو اتنے قریب پایا تو گھبرا کر کھڑا ہوگیا ’’دور ہوجا مجھ سے، مجھے اپنی بیوی کے سوا کسی عورت کی طلب نہیں‘‘

’’میں ہی تمہاری بیوی ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے کنیز نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دیا۔

روغن گر کو سکتہ سا ہوگیا پھر کچھ دیر بعد وہ چیخیں مار کر رونے لگا ’’بابا! بابا!‘‘ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یاد کررہا تھا۔

’’تم کسے پکار رہے ہو؟‘‘ بیوی نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا

’’اسے آوازیں دے رہا ہوں جس کی دعائوں کے طفیل مجھے تیرا دیدار نصیب ہوا ہے‘‘ روغن گر زاروقطار رو رہا تھا ’’اگر اس کی نگاہ کرم نہ ہوتی تو میں آتش فراق میں جل کر راکھ ہوچکا ہوتا‘‘

منشی نے پورا واقعہ سنا تو اس کی آنکھیں بھیک گئی ’’خدا شیخ کو سلامت رکھے کہ انہیں دیکھ کر ہماری بے قرار دل سکون پاتے ہیں‘‘

اجودھن پہنچ کر روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں سے لپٹ گیا۔

’’اب کیا چاہتا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے پوچھا

’’عشق کی وہ آگ چاہتا ہوں جو کبھی نہ بجھے‘‘ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ایک نظر خاص کی بھیک مانگ رہا تھا۔

’’اﷲ تیرا شعلۂ عشق کو اور بھڑکادے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دعا دی۔

پھر وہ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوکر عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچا۔

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس وعظ آراستہ تھی، آپ الہام اور خبر کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ پھرجب درس ختم ہوا تو ایک مرید نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر عرض کیا۔

’’بہائو  الدین خالد کہا کرتا تھا کہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسے شیخ العالم کے دیدار کا بہت شوق تھا۔ اس وقت حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن کی جامع مسجدمیں تشریف فرما تھے۔ بہائو الدین خالد نے آگے جانے کی بہت کوشش کی مگر لوگوں نے اسے راستہ نہیں دیا۔ مجبورا وہ محراب کے سامنے بیٹھ گیا۔ محراب میں ایک شگاف تھا، اچانک بہائو الدین خالد کی نظر کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے وہ کاغذ اٹھالیا۔ کاغذ پر واضح حروف میں عبارت تحریر تھی۔

’’خالد کو فرید کی طرف سے سلام پہنچے‘‘

یہ واقعہ سن کر دوسرے مرید نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے عرض کیا ’’یہ کاغذ کوئی لکھتا ہے یا بارگاہ الٰہی سے آتا ہے؟‘‘

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں