استفتاء: السلام علیکم! مفتی صاحب ذہن کے اندر کچھ اختلافی مسائل کی بناء پر تردد ہے آپ اس کو حل فرمادیں، آپ کی نوازش ہوگی۔

(1) دیوبندی حضرات پر ہم اعتراض کرتے ہیں کہ بریلوی حضرات کے نزدیک حضور غوث پاک کا ماہ رمضان میں ماں کا دودھ نہ پینا یہ قرآن کریم کا حکم ہے اور وہ اس بات کا مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی  کتاب ’’جاء الحق‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ جب میں نے اس کتاب میں دیکھا تو واقعی اس طرح عبارت ’’جاء الحق‘‘ میں (علم غیب کے باب کے اختتام آخری صفحہ پر موجود تھی) تھی حوالہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور ص 136 پر عبارت موجود ہے اور آگے دیوبندی کہتے ہیں کہ یہ کس قرآن میں ہے کہ غوث پاک نے رمضان میں ماں کا دودھ نہ پیا؟ اور یہ بھی نہ بتایا کہ وہ کب پیدا ہوئے اور وفات کب پائی؟ اور کس آیت قرآن میں یہ حکم ہے کہ شیر خوار بچہ بھی ماہ رمضان میں اس امر کا مکلف ہوتا ہے کہ ماں کا دودھ چھوڑ دے؟ اور یہ قرآن کریم کے کس مقام پر ہے کہ سیدنا شیخ عبدالقادر غوث پاک ہیں؟ مفتی صاحب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی عبارت درست ہے یا نہ اگر درست نہیں تو پھر تو مسئلہ بھی نہیں۔ اگر درست ہے تو پھر کیسے درست ہے اور ان دیوبندیوں کے جو اعتراضات ہیں ان کا کیا جواب ہے؟

(2) دوسرا جو ہم رسالہ ’’الامداد‘‘ (اشرف علی) کی عبارت پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں جس میں اس کے مرید نے آکر اپنے خواب وغیرہ بتایا تو اشرف علی نے کہا کہ بعونہ تعالیٰ آپ متبع سنت ہیں تو مفتی صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس عبارت کی دیوبندی مولوی سرفراز صفدر نے تاویلیں پیش کی۔ اپنی کتاب (عبارت اکابر ص 200) میں اور اس کتاب کے آخر کے اندر ایک عجیب واقعہ ذکر کرتا ہے جس کی وجہ سے میرے ذہن میں تردد ہے چونکہ میرے پاس اتنی کتابیں بھی نہیں کہ میں خود اس میں دیکھ سکوں تو آپ کی طرف رجوع فرمایا۔ واقعہ ملاحظہ فرمائیں لکھتا ہے کہ سلطان العارفین سراج الساکین حضرت خواجہ نظام الدین چشتی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ المتوفی 18ربیع الثانی 725ھ نے یہ حکایت بیان فرمائی کہ حضرت شیخ شبلی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں ایک شخص مرید ہونے کے واسطے حاضر ہوا۔ شیخ شبلی علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا کہ میں تجھ کو ایک شرط پر مرید کرتا ہوں کہ جو کچھ میں ارشاد فرمائوں تو اس کا بجالاوے، اس نے قبول کیا۔ شیخ شبلی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اچھا کلمہ کس طرح پڑھتے ہو؟ اس نے ’’لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲﷺ‘‘ پڑھا آپ نے فرمایا کہ اس طرح پڑھو ’’لاالہ الا اﷲ شبلی رسول اﷲ‘‘ جوکہ یہ شخص عقیدہ میں راسخ تھا فورا پڑھنے لگا ’’لا الہ الا اﷲ شبلی رسول اﷲ‘‘ حضرت شبلی رحمتہ اﷲ علیہ فورا رو پڑے اور ارشاد فرمایا کہ میں کون ہوں؟ آنحضرتﷺ کے غلام سے خود کو منسوب کرنا بے ادبی سمجھتا ہوں چہ جائیکہ ان کی برابری کا دعویٰ کروں۔ یہ امر صرف تیری حسن عقیدت کے دریافت کے واسطے تھا (فوائد الفوائد اردو ترجمہ ص 251) پھر آگے سرفراز دیوبندی یہ واقعہ لکھنے کے بعد لکھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت شبلی علیہ الرحمہ اور ان کے عقیدت مند مرید اور حضرت خواجہ نظام الدین صاحب رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ جنہوں نے بلاانکار و تردیدیہ واقعہ نقل فرمایا اور ان کے ملفوظات کے جمع کرنے والے حضرت امیر حسن علائو الدین سنجری رحمتہ اﷲ علیہ جنہوں نے بلانکیر یہ واقعہ ملفوظات میں درج کیا، کیا یہ سب کے سب حضرات کافر ہیں؟ (العیاذ بااﷲ) اگر یہ کافر ہیں تو بریلوی حضرات نے ان کے کفر کی اشاعت کب کی؟ کس کتاب میں کی؟ اور اگر نہیں کی تو کیوں نہیں کی؟ اور ان کے خلاف یہ تکفیری محاذ کیوں قائم نہیں کیا؟ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر یہ سبھی حضرات مسلمان تو وہ کس تاویل سے اور کس توجیہ سے مسلمان ہیں؟ کیا یہ کلمہ کفر نہیں؟ اسی طرح اس واقعہ کے بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کا واقعہ بھی ہوبہو اسی طرح ذکر کیا اور اس کا حوالہ (محصلہ رشادالخیار صفحہ 540) کا دیا تو مفتی صاحب آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ آیا یہ واقعہ درست ہیں یا نہیں؟ اگر درست نہیں تو پھر بات یہیں ختم اور اگر درست ہیں اور واقعی مذکورہ کتابوں میں موجود ہیں تو ان کی کیا تاویلیں ہیں؟

(3) تیسرا مسئلہ کہ جو ’’تقویۃ الایمان‘‘ میں عبارت ہے کہ وہ یعنی جتنے اﷲ کے مقرب بندے ہیں وہ سب انسان ہی ہیں اور بندے عاجز اور ہمارے بھائی مگر ان کو اﷲ تعالیٰ نے بڑائی دی وہ بڑے بھائی ہوئے، ہم کو ان کی فرمانبرداری کا حکم ہے۔ ہم ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ سو ان کی تعظیم انسان کی سی کرنی چاہئے۔ تو مفتی صاحب پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ آیا اس پوری عبارت پر کفر کا فتویٰ ہے یا جو اس نے کہا کہ وہ بڑے بھائی اور ہم چھوٹے بھائی یا جو اس نے کہا کہ ان کی تعظیم انسانوں کی سی کرنی چاہئے۔ اگر اس وجہ سے کفر کا فتویٰ لگا کہ اس نے کہا کہ ان کی تعظیم انسانوں کی سی کرنی چاہئے۔ یہ تو عبارت واضح ہے اور اگر اس بات پر کفر لگا کہ اس نے کہا کہ وہ بڑے بھائی ہوئے اور ہم چھوٹے بھائی تو پھر میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو قرآن کریم میں ہے

انما المومنون اخوۃ اور جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا رشتہ طلب کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’انما انا اخوک‘‘ کہ حضرت میں تو آپ کا بھائی ہوں اور ایک موقع پر آپ نے فرمایا ’’وددت انا قد رأینا اخواننا‘‘ میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ کاش ہم اپنے بھائیوں (یعنی قیامت تک آنے والے امتیوں) دیکھ لیتے۔ نیز آپ نے ایک مرتبہ حضرت زید بن حارث رضی اﷲ عنہ کو ’’اخونا ومولانا‘‘ (بخاری، ج 1، ص 372، ومستدرک، ج 3،ص 120) فرمایا (ابو دائود، جلد 1،ص 210، اور ترمذی، ج 2، ص 195) میں ہے کہ سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ایک مرتبہ عمرہ کرنے روانہ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’اشرکنا یااخی فی دعائک‘‘ اے میرے چھوٹے بھائی ہمیں اپنی دعا میں شریک کرنا اور بھلا نہ دینا۔

مفتی صاحب ان تمام احادیث کا کیا مطلب ہے۔ اس میں تو واضح بھائی کا لفظ استعمال ہوا، اکثر جب ہم علماء سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان احادیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے صحابہ کو بھائی فرمایا لیکن صحابی نے کبھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھائی نہ کہا بلکہ جب بھی پکارا یارسول اﷲ، یا حبیب اﷲﷺ کہا۔ لیکن مفتی صاحب جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ والی حدیث ہے اس حدیث میں تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کہا ’’انما انا اخوک‘‘ کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔

مفتی صاحب ان تمام مسائل کا مدلل جواب دیں تاکہ ان سے میرا ذہن مطمئن ہوجائے، تاکہ کل کو جب کسی دیوبندی سے بات کریں تو اس سے اس مسئلہ پر بات کرسکیں۔

میں آپ کی مصروفیت کو سمجھتا ہوں کہ آپ بہت ہی مصروف ہوتے ہیں لیکن ہمارا آپ سے پوچھنا بھی لازم ہے کہ کما قال اﷲ ’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘ جب کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھو۔

اﷲ تعالیٰ آپ کے علم، عمل، عمر میں مزید برکتیں فرمائے۔ آمین

اگر کوئی بے ادبی یا گستاخی ہوگئی ہو تو معاف فرمانا

والسلام محمد یونس رضا عطاری

الجواب بعون الملک الوہاب

الحمدﷲ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین و علی آلہ وصحبہ واہل بیتہ اجمعین اما بعد

عزیز القدر سلمہ، آپ کا ارسال کردہ استفتاء ماہ ذوالقعدۃ الحرام 1428ھ کو ملا مگر فقیر یکم ذوالحجۃ تا 26 ذوالحجۃ الحرام شدید علیل رہا، اسباق بھی بند رہے۔ 10 محرم الحرام کو غسل صحت کیا اور باقاعدہ اسباق وغیرہ کا سلسلہ جاری ہوا تو اب آپ کے سوالات کا جواب دینے کی فرصت ملی جوکہ بالترتیب درج ذیل ہے۔

مسئلہ اولیٰ: سوال نمبر 1کا جواب بالصواب یہ ہے کہ حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ نے ’’جاء الحق‘‘ باب علم غیب، ج 1، ص 114 مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور کا آخری پیراگراف اس مسئلہ میں تحریر فرمایا کہ بعض اہل اﷲ کو منجانب اﷲ عالم شیر خوارگی میں بھی علم اجمالی حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ پھر علم تفصیلی تدریجا جاری رہتا ہے۔ جیسے سرکارﷺ اگرچہ عالم شیر خوارگی میں مکلف نہ تھے لیکن ان کا سجدہ کرنا اور امت کی شفاعت کرنا فی نفسہ حکم قرآنی پر عمل ہوا۔ ایسے ہی غوث پاک رضی اﷲ عنہ اگرچہ عالم شیرخوارگی میں مکلف نہ تھے لیکن ان کا ماہ صیام میں والدہ ماجدہ کا دودھ نہ پینا فی نفسہ حکم قرآنی پر عمل تھا کہ ماہ رمضان میں کچھ کھانا، پینا (صبح تا شام) منع ہے (نیز یہ کہ آپ چونکہ پیدائشی ولی تھے اور بقول سوانح نگار حضرت پندرہ یا سترہ پاروں کے حافظ بھی تھے اور ماہ صیام میں کھانے پینے سے رکنے کا حکم دوسرے پارے میں ہے لہذا اس پر بطور کرامت عمل کیا نہ کہ بطور مکلف کے اور یہ فی نفسہ حکم قرآنی پر عمل ہے اور یہ اہل اﷲ کی خصوصیات سے ہے جوکہ خارق عادت کے طور پر ہے) خود ’’جاء الحق‘‘ کی عبارت کا سیاق بھی اس کی تائید کررہا ہے واﷲ اعلم

مسئلہ ثانیہ: دوسرا مسئلہ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اشرف علی تھانوی کے مرید نے عالم بیداری میں باربار کلمہ ’’لاالہ الا اﷲ اشرف علی رسول اﷲ‘‘ پڑھا تو اس پر پیر مرید دونوں کی تکفیر کی گئی جبکہ بعینہ یہی واقعہ شیخ شبلی اور خواجہ اجمیری علیہما الرحمہ سے بھی منسوب ہے جس میں اول واقعہ کا حوالہ در ’’فوائد الفوائد‘‘ ملفوظات حضرت نظام الدین دہلوی علیہ الرحمہ کا سوال ہوا کہ حضرت شبلی اور مرید خواجہ محبوب الٰہی اور مرتب ملفوظات کا کیا حکم ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’فوائد الفوائد‘‘ ملفوظات سے ہے نہ کہ مکتوبات سے اور اس کتاب میں الحاقات کثرت سے ہیں منجملہ ان کے یہ واقعہ بھی ہے جو مذکور ہوا نیز چند مثالیں آپ کی تشفی قلب کے لئے حاضر ہیں اور وہ یہ ہیں۔

(الف) حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو (معاذ اﷲ) اﷲ تعالیٰ نے مکار فرمایا (فوائد الفوائد، ص 156، مطبوعہ شبیر برادرز)

(ب) ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے خود صرف ایک روایت بیان کی ہے (فوائد الفوائد، ص 125) (جبکہ مسند امام احمد میں ان سے 900 حدیثیں مروی ہیں) نیز صحاح ستہ اور کتب متداولہ وغیر متداولہ میں ابن مسعود سے بکثرت روایات مروی ہیں۔

(ج) حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بال کی برکت سے یہودیوں کی بخشش ہوگئی (فوائد الفوائد)

الغرض حیہ امثلہ ثلاثہ عقلا، نقلا، شرعا ظاہر البطلان ہیں۔ اول صحابی کی شان کے خلاف ہونے کی وجہ سے۔ ثانی ابن مسعود کے کثیرالروایت ہونے کی وجہ سے۔ ثالث قرآن کی نص قطعی (ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ الآیتہ) کے خلاف ہونے کی وجہ سے، رہا معاملہ اشرف علی کی تکفیر کا تو وہ اس واقعہ (کلمہ میں اشرف علی کا نام لیا گیا) اور اس کی عبارت دربارۂ مسئلہ علم غیب کتاب ’’حفظ الایمان‘‘ ص 13 کی وجہ سے کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے رسالہ ’’الجبل الثانوی علی کلیۃ التھانوی‘‘ فتاویٰ رضویہ جدیدہ جلد پندرہ میں ملاحظہ کیجئے۔ تسلی ہوجائے گی کیونکہ اس کا واقعہ یقینی ہے اور خود رسالہ ’’الامداد‘‘ میں اس نے برقرار رکھا۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

مسئلہ ثالثہ: تیسرا مسئلہ بھی حضرات دیوبندیہ وہابیہ کا مشہور مسئلہ کہ ان لوگوں نے معاذ اﷲ اپنا یہ وطیرہ بنالیا ہے کہ قرآن و سنت کی نصوصات قطعیہ کا غلط سلط مطلب لے کر اور اپنی طرف سے بعض من گھڑت باتیں بنا کر محبوب باری تعالیٰ کی عظمت کو گھٹانے کی ناپاک کوشش میں مصروف رہتے ہیں کبھی تو محبوب اعظم صلی المولیٰ علیہ وسلم کو اپنے جیسا عام بشر کہیں گے، تو کبھی کہیں گے کہ ان کی تعظیم اتنی کرو جتنی بڑے بھائی کی حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ’’واسرو النجوی الذین ظلموا ہل ہذا الا بشر مثلکم‘‘ یعنی ظالم لوگ (مشرکین مکہ) آپس میں خفیہ سرگوشی کرتے ہیں کہ یہ تو تمہاری مثل ہیں۔ (یہ کافروں کا سرکارﷺ کے بارے میں خیال تھا) صد افسوس! ان نام نہاد کلمہ گو وہابیوں پر کہ کفار مکہ بھی یہ عقیدہ اگرچہ رکھتے تھے لیکن آپس میں خفیہ باتیں کرتے تھے جبکہ یہ وہابی برسر منبر اور تقریر و تحریر دونوں میں بلکہ سربازار اور گلیوں کوچوں میں یہی بکواس کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’سرکار ﷺ‘‘ ہماری مثل عام بشر تھے اور قرآن مجید میں موجود مقولہ کفار کو نہیں لیتے تاکہ معلوم نہ ہوسکے کہ یہ ان کی پیروی کررہے ہیں بلکہ اس کی رٹ لگا رہے ہیں۔ قل انما انا بشر مثلکم یعنی میں تمہاری طرح بشر ہوں، حالانکہ یہ سرکارﷺ کی عین عاجزی ہے کیونکہ یہ مقام تبلیغ تھا۔ لوگوں کو قریب کرنا مقصود تھا کہ جنس جنس کی طرف میلان کرتی ہے اور خطاب کفار سے تھا وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی اور جنس ہیں، فرشتہ یا جن بلکہ نہیں فرمایا میں انسان ہوں۔ اب کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ معاذ اﷲ سرکارﷺ اور کفار مکہ واقعی ایک جیسے ہیں۔ ہرگز نہیں، وہ خاکی یہ نوری، وہ کفر کے پتلے یہ نور کے پیکر، برابری ہرگز نہیں بلکہ تواضعا فرمایا تاکہ مخلوق قریب آکر فیض پالے اور جہاں معاملہ مقام فضیلت کا تھا وہاں صحابہ کرام کو فرمایا ’’ایکم مثلی‘‘ کون میری مثل ہے اور فرمایا ’’لست کھیئتکم‘‘ میں تمہاری مثل نہیں اور صحابہ کرام عرض کرتے ہیں یارسول اﷲﷺ لسنا کھیئتکم آقا ہم آپ کی مثل نہیں۔ یہ سب روایات صحاح ستہ میں موجود ہیں تو سوال یہ ہے کہ معاذ اﷲ جب سرکارﷺ صحابی کی مثل نہیں تو کیا وہابی کی مثل ہوسکتے ہیں؟ حاشا وکلا اب رہا کہ اس کے باوجود صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا عرض کرنا ’’انما انا اخوک‘‘ تو اس سے یہ تو ثابت ہی نہیں ہوتا کہ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے ان کو بھائی پکارا ہو بلکہ عرض کی آقا میں تو آپ کا بھائی نہیں؟ یعنی وہ یہ سمجھے کہ اخوت اسلامی سے شاید آپس میں رشتہ داری کرنا بھی منع ہوجاتا ہے جبکہ اسلامی مسئلہ یہ نہ تھا اور زید بن حارثہ کو اپنا بھائی اور غلام کہنا یہ بھی انتہائی کرم ہے کہ غلام کی ڈھارس بندھائی، اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ سرکارﷺ کو فقط اپنا بڑے بھائی کی حیثیت دیتے تھے بلکہ مولا علی رضی اﷲ عنہ جوکہ واقعی چچا زاد بھائی تھے، ان کا سرکارﷺ کو فقط چچا زاد بھائی کہہ کر پکارنا یا سمجھنا اور اس سے زائد تعظیم نہ کرنا ثابت نہیں تو یہ فرقہ وہابیہ اسماعیلیہ آخر کیوں اس پر زور دیتا ہے کہ وہ فقط ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہیں جبکہ قرآن مجید ان کی پاکیزہ بیویوں کو مومنوں کی مائیں قرار دے چکا ہے تو پھر سرکارﷺ امت کے روحانی باپ ہوئے نہ کہ بڑے بھائی اور روحانی باپ استاد بھی ہو تو حقیقی والد سے زائد مرتبہ رکھتا ہے، چہ جائیکہ اﷲ کے نبی ان کی شان تو یہ ہے کہ وہ ابوالبشر آدم علیہ السلام کے بھی پدر معنوی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابوالبشر آدم علیہ السلام کو یاد محبوب ستاتی، یوں یاد فرماتے ’’یاابنی صورۃ وابی معنی‘‘ تو یہ اولاد آدم کیونکر ان کو اپنا بڑا بھائی ثابت کرسکتی ہے؟

الغرض یہ عقیدہ گمراہ کن رسوائے زمانہ کتاب ’’تفویۃ الایمان‘‘ کی پیداوار ہے۔ لہذا آپ اس کتاب کا رد اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی مشہور زمانہ فتاویٰ رضویہ جلد پندرہ کے دو رسالوں ’’سل السیوف الہندیۃ‘‘ اور ’’الکوکبۃ الشہابیۃ‘‘ میں اور صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی کتاب ’’اطیب البیان‘‘ میں بالتفصیل ملاحظہ کیجئے۔

فرقہ اسماعیلیہ وہابیہ کے بانی شیطانی کے رد میں شاہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی تصنیف لطیف ’’تحقیق الفتویٰ لابطال الطغوی‘‘ المعروف ’’شفاعت مصطفی‘‘ کا مطالعہ ضرور کیجئے۔ والسلام