اﷲ رب العزت جل مجدہ نے ارشاد فرمایا

واعتصموا بحبل اﷲ جمیعاً ولاتفرقوا (آل عمران آیت 103)

ترجمہ کنزالایمان: اور اﷲ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا

اس کی تفسیر میں ’’حبل اﷲ‘‘ سے مراد اسلام یا بانی اسلام کی ہستی ہے اور اسلام کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے

ان الدین عنداﷲ الاسلام (آل عمران آیت 19)

ترجمہ کنزالایمان: بے شک اﷲ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔

نیز بانی اسلام کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے

لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنہ (الاحزاب آیت 21)

ترجمہ کنزالایمان: بے شک تمہیں رسول اﷲ کی پیروی بہتر ہے

ان مذکورہ ہر دوآیتوں سے معلوم ہوا کہ اسلام ہی دین حق ہے اور اس کے مدمقابل سب ادیان، ادیان باطلہ ہیں۔ ان میں خواہ یہودیت وعیسائیت ہو یا ہندومت و سکھ ہو سب باطل ہیں۔ اسی طرح اسلام کے اندر اعمال کا دارومدار بانی اسلام کی سیرت طیبہ پر ہے۔ اس کو نمونہ کاملہ قرار دیا ہے، جبکہ پہلی آیت کریمہ نے یہ بھی بتادیا کہ اسلام ہی کو تھامے رہو اور فرقوں میں مت بٹ جائو۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ اسلام کا دامن تھام کر سیرت طیبہ کے مطابق عمل اختیار کرو۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے اندر فرقوں کے بنانے کی ممانعت کے باوجود لوگوں نے فرقے تو بنالئے۔ اب اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کیسے ہوگی کہ اصل حقیقی اسلام پر عمل کرنے والے گروہ کا تعین ہم کیسے کریں؟ اور گمراہ فرقوں کو ہم کیسے پہچانیں؟ تو آیئے استاذ المحدثین، امام ابو عیسٰی ترمذی کی جامع ’’ابواب الایمان عن رسول‘‘ کے باب ’’افتراق ہذہ الامۃ‘‘ کی درج ذیل حدیث پڑھیئے

ارشاد نبوی ہے:

ستفترق امتی ثلثا و سبعین فرقۃً، کلہم فی النار الاواحدۃ

عنقریب میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے

صحابہ عرض گزار ہوئے:

من ہم یارسول اﷲ

وہ نجات پانے والے لوگ کون ہوں گے یارسول اﷲﷺ

ارشاد فرمایا:

ما انا علیہ واصحابی

جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں (ترمذی ج 2 ص 92، مطبوعہ کراچی)

دوسری روایت میں ہے :

ہم الجماعۃ (ابو داؤد) وہ جماعت ہوگی

احیاء علوم الدین الغزالی میں ہے:

ہم اہل السنۃ والجماعۃ (احیاء العلوم)

وہ اہل سنت و جماعت ہوں گے

امام علی قاری حنفی مکی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، غوث اعظم جیلانی، مجدد الف ثانی امام زینی دحلان مکی، سید یوسف بن اسماعیل مدنی، امام شامی، امام حصکفی ، امام احمد رضا حنفی رحمہم اﷲ کا اتفاق ہے کہ نجات یافتہ گروہ ’’اہل سنت جماعت‘‘ ہے اس کے سوا فرقے گمراہ، گمراہ گر اور ان میں بعض سرحد دین سے نکل کر اور ضروریات دین کا انکار کرکے کافر و مرتد ہوچکے ہیں۔

اب جب یہ واضح ہوچکا ہے کہ اسلام کے تہتر فرقوں میں سے ’’اہل سنت و جماعت‘‘ ہی اہل حق اور صحیح العقیدہ راسخ مسلمان افراد ہیں، ان کے عقائد و نظریات اسلام کے مطابق ہیں اور ان کے علاوہ دیگر فرقے خوارج و روافض و غیرہما گمراہ ہیں تو اسی نجات یافتہ گروہ کے عقائد کے مطابق عقائد اپنانا لازم ہوا۔ اس تصحیح عقائد کے بعد فرائض میں سے اعظم فرض نماز ہے کہ کلمہ اسلام کے بعد اہم ترین رکن اسلام ہے۔

ابن عمر رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے۔

بنی الاسلام علی خمس، شہادۃ ان لا الہ الا اﷲ وان محمد عبدہ و رسولہ، واقام الصلوٰۃ و ایتاء الزکوٰۃ، وصوم رمضان و حج البیت من استطاع الیہ

اسلام کی نورانی عمارت کی بنیاد ارکان خمسہ پر ہے۔ (1) اﷲ کی وحدانیت اور رسول کی عبدیت و رسالت کی گواہی دینا (2) نماز قائم کرنا (3) زکوٰۃ ادا کرنا (4) رمضان کے روزے رکھنا (5) استطاعت والے پر حج بیت اﷲ کرنا (بخاری و مسلم)

یاد رہے ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے اور باوجود اقرار کے اپنی شرائط کے ساتھ جب کسی پر ادائیگی فرض ہو ایک مرتبہ بے عذر ترک کبیرہ اور اس کی عادت بنانا فسق و فجور اور بربادی ایمان کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ ان میں سے خاص طور پر نماز ہر مومن مرد و عورت، عاقل و بالغ، آزاد و غلام، مقیم و مسافر پر پنجگانہ فرض عین ہے کہ بغیر اس کے خود ادا کئے دوسرے کی طرف سے ادائیگی نہ ہوگی اور اسے مومن و کافر کے درمیان ’’فرق‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی ادائیگی بھی ’’اسوہ حسنہ‘‘ کی روشنی میں ہوگی۔

چنانچہ خود رہبر اعظمﷺ کا فرمان ہدایت نشان ہے

صلوا کما رأیتمونی اصلی (بخاری شریف)

نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھو

اب قابل غور بات یہ ہے کہ خود حضور جان عالمﷺ نے نماز کی ادائیگی کیسے فرمائی تو اس سلسلے میں احادیث کریمہ اور سیرت طیبہ کی کتابیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان سے ہمیں اندازہ ہوسکتا ہے کہ ارکان نماز کی ادائیگی کا صحیح مسنون طریقہ کون سا ہے؟ آیا وہ کون سا عمل ہے جسے حضورﷺ نے ادا کیا اور پھر ترک کردیا۔ وہ کون سا عمل ہے جسے پہلے نہ کیا اور بعد میںاختیار کرلیا، کس عمل کے کرنے کی پہلے اجازت عطا فرمائی اور بعد میں اس کے کرنے سے سختی کے ساتھ روک دیا۔ بلکہ اعظم ارکان نمازتکبیر تحریمہ، قیام، قرأت، رکوع، سجود کی طرف تو خود قرآن عظیم نے ہماری رہنمائی کے لئے ارشادات سے ہمیں نوازا پھر یہ جھگڑے کیوں؟ ارشاد الٰہی ’’وربک فکبر‘‘ میں تکبیر تحریمہ ’’وقوموا الی اﷲ قانتین‘‘ میں قیام اور ’’فاقراء وما تیسر من القرآن‘‘میں قرأت ’’وارکعوا مع الراکعین‘‘ میں رکوع اور ’’واسجد واقترب‘‘میں سجود کا بیان واضح اور صاف ترین الفاظ میں موجودہے۔ اب رہا ان کی ادائیگی کا اصلی دائمی مسنون طریقہ جس کو منسوخ نہ کہہ سکیں جو حتمی ہو، جس پر حضورﷺ کا آخری عمر مبارک میں وصال سے پہلے تک مسلسل عمل ثابت ہو، وہ نماز کے سلسلے میں ’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہوگا۔ اس کے لئے اکابر صحابہ کے ارشادات سے موید طریقہ نماز ہمیں احادیث کریمہ کی معتبر کتب علی الخصوص صحاح ستہ اور مولفین صحاح کے اساتذہ کرام کی کتب سے اس کا طریقہ معلوم ہوسکتا ہے۔ اس کو ہمارے ائمہ کبار علی الخصوص امام اعظم ابو حنیفہ سیدنا نعمان ابن ثابت کوفی رضی اﷲ عنہ سے واضح کرکے بیان کردیا۔ مگر بات یہ ہے کہ دور حاضر میں ایک المیہ بقول پروفیسر محمد حسین آسی مدظلہ العالی یہ ہے، آپ اس کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں ’’ملت اسلامیہ جو اتحاد انسانیت کی علمبردار ہے خود انتشار کا شکار ہے‘‘ پھر یہ بات بھی انتہائی افسوس ناک ہے کہ جو چیزیں بالخصوص اتحاد کا سبق سکھاتی ہیں، ان کے نام سے بھی انتشار پھیلایا جاتا ہے مثلا یہی نماز اور پھر کتنے مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ نماز کے بارے میں موجودہ اختلافات محض علم و تحقیق کی بناء پرنہیں (جیسے قرون اولیٰ میں تھے) بلکہ اس میں بھی غیروں کا ہاتھ ہے۔علم و تحقیق کی بناء پر جو اختلاف کرتے تھے، وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، جیسا کہ مشہور روایت ہے کہ حضرت امام شافعی رضی اﷲ عنہ، حضرت امام اعظم رضی اﷲ عنہ کے مزار پرانوار پر حاضر ہوتے تو اپنی تحقیق کے بجائے ان کی تحقیق پر چلتے ہوئے نماز ادا کرتے تھے (اس کا ثبوت امام اعظم کی سیرت کی کئی ان کتابوں میں بھی موجود ہے جو شوافع  لکھی ہیں) برصغیر پاک و ہند میں موجودہ دور میں اختلافات کاآغاز انگریزوں کی آمد کے بعد ہوا اور انگریزوں کی شہ سے ہوا۔ اصل میں جس بات پر مسلمانوں کا اتفاق تھا، اسی کو نشانہ بنایاگیا تاکہ مسلمانوں کاشیرازہ بکھر جائے اور کسی بیرونی دشمن کا مقابلہ کرنے سے پہلے ایک دوسرے سے لڑبھڑ کر کمزور ہوجائیں، کون نہیں جانتا بخاری شریف پہلے پہل اس خطے میں اس وقت آئی، جب اسلام آیا، مگر بخاری شریف کے نام پر لڑائی جنگ آزادی 1857ء سے تیس چالیس سال پہلے شروع ہوئی، انگریزوں سے پہلے بڑے بڑے صوفیا،علماء اپنے اپنے دور میں جلوہ گر رہے مگر سب نے کتاب و سنت کی اس تعبیر پر عمل کیا جسے فقہ حنفی کہا جاتا ہے۔ انگریز مداری اپنا تماشا دکھا کرواپس چلاگیامگر جن کے ذریعہ مسلمانوں میں انتشار پھیلایا گیا تھا، وہ یہیں رہ گئے اور اب تک حق نمک ادا کررہے ہیں، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا، آمین اونچی آواز سے کہنا اور رکوع و سجود میں جاتے ہوئے ہاتھ اٹھاناوغیرہ فروعی مسائل میں کتنے دکھ کی بات ہے کہ ایک دوسرے کو چیلنج کرکے مناظروں کے پوسٹرز لگادیئے جاتے ہیں جن میں اسی قسم کی ابحاث پر زور دیا گیا ہے جبکہ ملت اسلامیہ کے از حد نازک دور ہے اور اسلام دشمن قوتوں کا ناپاک ترین منصوبہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الجھایا جائے۔

اصل بات یہ قابل غور ہے کہ آج عالمگیر سطح پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں بالعموم اور اسکول کالج کے طلبہ میں بالخصوص یہ بات ذہن نشین کرانے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے کہ جو بات ’’بخاری شریف‘‘ میں نہ ہو وہ قابل تسلیم ہی نہیں۔ اس کا صاف مطلب تو یہ ہوا کہ (معاذ اﷲ) بخاری شریف کا درجہ قرآن شریف سے بھی زیادہ ہوگیا حالانکہ امام اعظم رضی اﷲ عنہ امام بخاری کے چھٹے درجے میں امام مسلم کے ساتویں درجے میں اور امام ترمذی کے آٹھویں درجے میں استاذ ہیں اور یہ تینوں محدثین کرام صحاح ستہ میں اپنا علمی مقام دیگر تین محدثین ابن ماجہ، ابو دائود و نسائی رحمہم اﷲ سے زیادہ رکھتے ہیں۔ اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ خود ان تینوں مذکورہ محدثین، امام بخاری،مسلم و ترمذی نے اپنی اپنی اسناد صحیحہ کے ساتھ یہ حدیث بیان کی جس میں امام الانبیائﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا:

لوکان الایمان عند الثریا لنالہ رجل من ہٰؤلآء

یعنی اگر ایمان ثریا ستارے کے نزدیک بھی ہوتا، ان (عجمیوں) میں ایک شخص اسے ضرور پالیتا۔ بعض دیگر روایتوں میں ایمان کی جگہ علم اور دین کے الفاظ میں مذکور ہیں۔ بہرحال اتفاقی طور پر اس کا مصداق امام اعظم رضی اﷲ عنہ کی ہستی قرار دیئے گئے ہیں۔ آپ کی ولادت 80ھ یا 70ھ میں آپ کی وجہ سے آپ نے اولین تابعین کا زمانہ گزارا۔ لگ بھگ بیس صحابہ کرام کی زیارت سے مستفیض ہوئے۔ ان میں سے بعض سے روایات ہیں ابو موسیٰ اشعری، حضرت مولا علی و ابن مسعود وغیرہم رضی اﷲ عنہما کی وجہ سے جوکہ پہلے ہی علم کا مرکز بنا ہوا تھا اور امام اعظم کی علمی نسبت فقہی شجرہ افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الراشدہ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے ذریعے حضورﷺ تک متصل ہونے کی وجہ سے آپ کی فقاہت دیگر فقہائے امت سے ممتاز ہے۔ اس لئے کہ آپ نے فقہ امام حماد سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے حضرت علقمہ واسود سے انہوں نے ابن مسعود سے اور انہوں نے براہراست معلم کائناتﷺ سے اخذ علم کیا۔ اس کے علاوہ امام اعظم نے اپنے تلامذہ کی ایک جماعت فقہاء تیار کرکے ان کی شوریٰ بنائی اور اجتماعی طور پر ان حضرات کی رائے سے طے کردہ مسائل کا مجموعہ ’’فقہ حنفی‘‘ کہلاتا ہے۔ ان سب وجوہات کی وجہ سے ’’فقہ حنفی‘‘ کی برتری مسلّم ہے مگر کچھ ناعاقبت اندیش غیر مقلدین وہابیہ زمانہ اس اعلم العلماء امام ہمام رضی اﷲ عنہ کی فقہ حنفی کی نماز کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ لہذا فقیر قادری غفرلہ اس مضمون میں قسط وار فقہ حنفی کے مطابق پنجگانہ نماز، نماز جمعہ و عیدین، اور نماز جنازہ کا ثبوت امام بخاری، مسلم، ترمذی اور دیگر محدثین کی کتابوں کی روشنی میں پیش کرنے کی سعی کریگا۔ اس سلسلے کی یہ پہلی قسط ہے اسے ملاحظہ کیجئے۔ آئندہ سلسلہ جاری رکھنے کے لئے دعا فرمایئے تاکہ اس سلسلے کوپایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور عوام سادہ لوح کو فریبیوں کے فریب سے بچایا جاسکے۔ (جاری ہے)