ممتاز قادری کی سزائے موت قانون کے مطابق نہیں

in Tahaffuz, October 2011, تحفظ نا مو س ر سا لت

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے ممتاز قادری کو دی جانے والی سزائے موت کے خلاف ملک بھر میں دینی جماعتیں سراپا احتجاج ہیں۔ ممتاز قادری کا مقدمہ غازی علم دین شہید کیس کی طرح ہوگیا ہے۔ کے تحت آتا ہے۔ یہ کیس جو اشتعال میں آکر قتل کرنے کا تھا، دفعہ

302-C

کیا اس پر سزائے موت ہوسکتی ہے؟

اس حوالے سے سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار اور راولپنڈی بار کے صدر توفیق آصف اور معروف قانون دان حشمت حبیب سے گفتگو کی گئی تو توفیق آصف ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ

302-C

کے تحت چلانا جانا چاہئے تھا۔ اس کے دلائل بڑے واضح ہیں۔ عدالت نے سزا سنانے کے لئے جو دلائل دیئے ہیں وہ انصاف کا تقاضا پورا نہیں کرتے۔ کیونکہ ممتاز قادری نے یہ قتل اشتعال میں آکر کیا ہے اور اس میں سزائے موت قانون کے مطابق نہیں ہے۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ممتاز قادری کے وکلاء یہ تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ کسی طرح بریت کا مقدمہ تھا۔ یقینی طور پر یہ مقدمہ سزا کا ہی تھا اور اس جرم کی سزا عمر قید ہی ہے۔ موت کی سزا اس جرم کی سزا نہیں ہے جو ممتاز قادری نے کیا۔ یعنی کوئی بھی ایسا اشتعال جس میں انسان اپنے حواس کھو بیٹھے تو ایسی حالت میں بہت سی چیزیں اس کے اپنے سیلف کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہیں۔ اس حالت میں جب کوئی شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ صرف اشتعال کے تحت ہوتا ہے۔ اس میں کوئی ارادہ شامل نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے دفعہ  کو شامل کیا گیا ہے۔ اس لئے جب بھی غیرت کی وجہ سے  کوشامل کیاگیاہے۔ 302-C

کے تحت سزا دی جاتی ہے۔قاتل کو اس لئے رعایت دی جاتی ہے کہ اگر وہ شخص قتل کرتا ہے تو یہ قتل اشتعال کے تحت آتا ہے302-C اس لئے  جب بھی غیر ت کی وجہ سے کوئی قتل ہوتاہے اس میں

اور اشتعال کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جس میں وہ اپنے قابو میں نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری پر دہشت گردی کا الزام بالکل غلط ہے۔ دہشت گردی کا جرم فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔ ممتاز قادری فساد فی الارض کا مرتکب تو نہیں ہوا۔ اس الزام میں اس بالکل بھی سزا نہیں ہونی چاہئے تھی۔ وہ محض ایک شخص کے قتل کا مرتکب ہوا ہے۔ لیکن اس پر دہشت گردی کا مقدمہ بنادیا گیا۔ اگرچہ مثال دینا کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے امتیاز برتا گیا ہے۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے بازار میں سرعام تین افراد کو قتل کیا۔ لیکن اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بننے دیا گیا۔ یہ تو پراسیکوٹر کا کام ہے کہ وہ اس پر بات کرے کہ اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعہ لگ سکتی ہے یا نہیں۔ اگلا مرحلہ عدالت کا آجاتا ہے کہ عدالت اس کا فیصلہ کرے گی کہ یہ دفعہ صحیح لگائی گئی ہے یا غلط۔ میرے خیال میں دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جہاں تک دیت کا تعلق ہے اس کے بارے میں قانون تو یہ ہے کہ جس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کے قانون اے ٹی اے کا سیکشن 7 لگا ہو تو وہاں پر مقدمہ فساد فی الارض کے ضمن میں لایا جائے پھر اس کی دیت نہیں ہوتی۔ اس میں تصفیہ نہیں ہوتا۔ ریمنڈ ڈیوس کیس میں مقتولین کے وکلاء ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی کے سیکشن 7 کے تحت مقدمہ درج کرانے کے لئے کہتے رہے۔ اس کے لئے انہوں نے ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی۔ اگر اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعہ لگ جاتی تو پھر تصفیہ نہیں ہوسکتا تھا۔ لہذا حکومت کی نیت ابتدا سے ہی درست نہیں تھی۔ ریمنڈ ڈیوس کو تو ویسے ہی چھڑانا تھا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات تو نہیں ہے۔ لیکن ممتاز قادری کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ لگادی گئی تاکہ سمجھوتہ نہ ہوسکے۔ تصفیہ کو بھی چھوڑیں، اصل بات یہ ہے کہ ممتاز قادری پر دہشت گردی کی دفعہ لگنی چاہئے تھی یا نہیں۔ میرا موقف یہ ہے کہ ممتاز قادری پر دہشت گردی کی دفعہ نہیں لاگو ہوسکتی تھی۔ اس نے فساد فی الارض نہیں کیا تھا۔ یہ محض حالت اشتعال میں ایک قتل تھا جس کے پیچھے نہ ذاتی دشمنی تھی نہ کوئی منصوبہ تھا۔ اس کے پیچھے صرف ایک وجہ تھی کہ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو گستاخ رسول سمجھا اور اس کے ذہن میں گستاخ رسول کی سزا موت تھی۔ اس وجہ سے یہ قتل 302 سی کے تحت آتا ہے۔

سلمان تاثیر قتل کیس میں ممتاز قادری کو دی جانے والی سزائے موت کے حوالے سے ممتاز وکیل حشمت حبیب ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جتنے بھی فوجداری مقدمات ہوتے ہیں ان میں ضابطہ فوجداری کے تحت جو چالان پیش کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں عدالت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ چالان قانون کے مطابق ہے یا نہیں ۔جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کو ثابت کرنے کے لئے شہادت ہے یا نہیں۔ اگر عدالت یہ دیکھے کہ چالان قانون کے مطابق نہیں ہے اور اس میں صحیح طور پر شہادت نہیں دی گئی ہے تو عدالت اس مقدمے کو خارج کرسکتی ہے۔ دوبارہ دائر کرنے کو کہہ سکتی ہے۔ فائل اٹھا کر پھینک سکتی ہے۔ اسی طرح انسداد دہشت گردی کی عدالت اس وقت کسی مقدمہ کی سماعت کرسکتی ہے کہ کسی عام فعل میں دہشت گردی کا پہلو پایا جائے۔ دہشت گردی کے فعل کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کام جس سے معاشرے میں عدم تحفظ پیدا ہوجائے، ہیجان پیدا ہوجائے، خوف و ہراس پیدا ہوجائے۔ یہ عدالت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ جب اس کے پاس چالان کی فائل آئے تو وہ دیکھے کہ آیا کوئی ایسی شہادت ہے جس کی بناء پر یہ الزام لگایا جاسکتا ہے یا نہیں یا دہشت پھیلی ہے۔ اس کے بعد جج یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس درخواست کی سماعت کی جاسکتی ہے یہ تو قانون ہے اس کے تقاضے ہیں۔ لیکن معمول یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایسا کوئی بھی چالان جاتا ہے جس پر اے ٹی اے کی سیکشن 7 کے تحت کیس پیش کیا جارہا ہوتا ہے تو وہ اس کی سماعت شروع کردیتے ہیں۔ لال مسجد کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ احتجاج کرنے والے 450 سے 500 افرد کے خلاف اے ٹی اے 7 کے تحت چالان کاٹ دیا گیا تھا۔ میں نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اے ٹی اے 7 کو لائوڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور پمفلٹ پر عائد کردیا جاتا ہے۔ یہ اے ٹی اے 7 کا ناجائز استعمال ہے۔ سپریم کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا تھا اور ریمارکس دیئے تھے اور دہشت گردی کی عدالت سے450 مقدمات ختم ہوگئے تھے۔ لہذا جب سلمان تاثیر قتل کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پہنچا تو یہ عدالت کی ذمہ داری تھی کہ وہ دیکھتی کہ اس شخص نے ابتدا میں ہی اعتراف کرلیا ہے کہ میں نے یہ قتل کیا ہے اور ان حالات میں اسلامی جذبے کے تحت قتل کیا ہے۔ اس کے خیال میں یہ شخص توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا۔ اس لئے میں جذبات پر قابو نہیں پاسکا۔ عدالت نے یہ نہیں دیکھا کہ ممتاز قادری کے اس اقدام کے بعد ملک کی اکثریت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ لوگوں نے ممتاز قادری پر پھول برسائے، سے ہار پہنائے گئے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ معاشرے میں اطمینان و سکون کی لہر دوڑ گئی اور ممتاز قادری کے حق میں نعرے لگے۔ لہذا ممتاز قادری پر دہشت گردی کا الزام ثابت نہیں ہوتا تھا۔ عدالت کو خود چاہئے تھا کہ وہ اس مقدمے کو واپس کردیتی کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ لیکن عدالت نے اپنے معمول کے مطابق مقدمے کی سماعت منظور کرلی۔ جب عدالت میں مقدمہ جاتا ہے تو یہ وکیل کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کرکے دیکھتا ہے کہ کیا یہ دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔ اس کے لئے کوئی شہادتیں مہیا کی گئی ہے یا نہیں۔ اول تو عدالت اس مقدمے کا جائزہ لے کر خود اس مقدمے کو واپس کردیتی کہ یہ انسداد دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنتا۔ عدالت نے اپنی طرف سے جانچ پڑتال کی ذمہ داری نہیں پوری کی۔ اب یہ ممتاز قادری کے وکلاء کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتے کہ اس مقدمے کی اس قانون کے تحت سماعت ہوسکتی تھی یا نہیں یا صرف محض الزام کے لئے انسداد دہشت گردی کے قانون کی سیکشن 7 کو لگادیا گیا ہے جبکہ کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ اس لئے وکیل انسداد دہشت گردی کے قانون کے 23 اے کے تحت عدالت کو درخواست دیتا ہے کہ جناب اس مقدمے میں ملزم کے ساتھ کوئی شہادت موجود نہیں ہے لہذا یہ مقدمہ عام عدالت کو منتقل کردیا جائے۔ پھر عدالت بحث و مباحثہ کرنے کے بعد سماعت کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس مقدمے میں ممتاز قادری کے وکلاء نے بھی درخواست پیش نہیں کی۔ ان سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ اگر جج کہتا کہ اس جرم پر انسداد دہشت گردی کا قانون لاگو ہوتا ہے تو پھر وکلاء ہائی کورٹ میں بھی جاسکتے تھے اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جج نے جو فیصلہ دیا اس میں اس نے خود کہا ہے کہ اسلامی قوانین اور اسلام کے مطابق آپ کا فعل درست ہے لیکن میں آپ کو ملکی قانون کے تحت سزا دیتا ہوں۔ جب وہ خود یہ اعتراف کرتا ہے تو یہ مقدمہ ایسا تھا کہ جس کے بارے میں جج کو یہ سمجھ لینا چاہئے تھا کہ یہ مقدمہ اس کے اختیار سے باہر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس مقدمے میں کوئی شخص ابتدا میں اعتراف کرلیتا ہے یا وضاحت کردیتا ہے کہ اس نے کس وجہ سے یہ قتل کیا، وہ اعتراف ہی اس کے لئے سزا کا تعین کا سبب بنتا ہے۔ جیسے غیرت کا مقدمہ جس میں ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کو میں نے اس لئے قتل کیا کہ میں نے ان کو قابل اعتراض حالت میں دیکھا تھا۔ ایسے مقدمات میں سزائے موت نہیں ہوتی بلکہ عمر قید کی سزائیں ہوتی ہیں۔ سات سال، 12 سال وغیرہ۔ اسی طرح ممتاز قادری کا مقدمہ فوری اشتعال کا کیس تھا۔ اس کے لئے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی نہ بازار سے پستول خرید کر لایا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق تھی اس نے چلادی۔ اس نے خود اعتراف کرلیا کہ اس نے کس وجہ سے اشتعال میں آکر سلمان تاثیر کو قتل کیا۔ ایسے مقدمات میں سزائے موت نہیں دی جاتی۔ آج تک پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمے میں کسی مجرم کو سزائے موت نہیں ملی، کیونکہ بین الاقوامی دبائو کے سامنے حکومتیں بے بس ہوجاتی ہیں۔ سلمان تاثیر نے ناموس رسالتﷺ کے قانون کو کالا قانون کہا تھا۔ اس بناء پر ممتاز قادری نے قتل کردیا، جواز موجود تھا۔ قانون کے مطابق ممتاز قادری کو سزائے موت نہیں ہونی چاہئے تھی۔ اب ضرورت ہے کہ ممتاز قادری کا ہائی کورٹ میں دفاع کیا جائے۔ ہائی کورٹ میں مقدمہ داخل کیا جائے، درخواست میں دو نکات اہم ہیں کہ یہ مقدمہ دہشت گردی کا مقدمہ نہیں تھا۔ دہشت گردی کی عدالت نے اپنے اختیار کو غلط سمجھا ہے اور اس مقدمے میں اشتعال کے سبب قتل ہوا، اس لئے سزائے موت نہیں ہوتی اور یہ اپیل ممتاز قادری کی طرف سے ہونی چائے۔ اس اپیل کا اہتمام سنی کونسل ممتاز قادری کو سمجھا کر کرے۔ کچھ لوگ ریمند ڈیوس کیس کی طرح دیت کی بات کررہے ہیں، لیکن دونوں معاملات میں فرق ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے دیت بھی غلط ادا کی گئی۔ ریمنڈ ڈیوس نے واقعتاً دہشت گردی کا ارتکاب کیا تھا اس میں اے ٹی اے 7 کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے تھا لیکن حکومت نے یہ دفعہ نہیں لگائی۔ محض قتل کا مقدمہ درج کرکے دیت لینے کے بعد ریمند ڈیوس کو معافی دے دی گئی۔ ریمنڈ ڈیوس کیس میں حکومت انسداد دہشت گردی کی شق 7 نہ لگانے کی مجرم ہے اور ممتاز قادری کیس میں حکومت یہی شق لگا کر مجرم ٹھہری ہے۔ اگر سلمان تاثیر کے ورثاء معاف بھی کردیں تو اے ٹی اے 7 کی سزا برقرار رہے گی اس سزا کو صرف عدالت ہی ختم کرسکتی ہے، یہ دیت کا معاملہ ہی نہیں ہے۔

اس معاملے میں حبیب الوہاب الخیری ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ممتاز قادری نے اصولوں کو قربان نہیں کیا۔ اس نے تسلیم کیا کہ ہاں میں نے یہ کام کیا۔ اگر ہمارے یہاں اسلامی قانون ہوتا تو ایسے واقعات اور فیصلے نہیں ہوتے لیکن حکمران ناموس رسالتﷺ کا پاس نہیں رکھتے۔ قائداعظم نے غازی علم دین کا مقدمہ لڑا تھا۔ اس وقت کی حکومت غازی علم دین کو پھانسی دینے پر تلی ہوئی تھی، اسی طرح موجودہ حکومت بھی ممتاز قادری کو پھانسی دینا چاہتی ہے۔ وکیل کچھ بھی کرلیں، اگر حکومت چاہے گی تو ممتاز قادری کو سزا ضرور دے گی۔ ممتاز قادری نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اس نے سلمان تاثیر کو قتل کیاہے۔ یہ اس کا اضطراری فعل تھا۔ فیصلہ اس کی روشنی میں ہونا چاہئے تھا۔ اس پر دہشت گردی کی دفعہ 7 لاگو نہیں ہوتی۔ حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کب تک توہین رسالتﷺ کے قانون کی خلاف ورزی کرتی رہے گی۔ جب تک وہ ایسا کرتی رہے گی، ممتاز قادری پیدا ہوتے رہیں گے۔