ممتاز قادری سے بھی خوں بہا لے کر رہا کیا جائے

in Tahaffuz, October 2011, تحفظ نا مو س ر سا لت

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملک ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی ہے۔ واضح رہے کہ ممتاز قادری پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس میں کانسٹیبل تھا اور ایک عیسائی شاتم رسولﷺ آسیہ کی حمایت کرنے پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ ممتاز قادری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج پرویز علی شاہ نے ان پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سات دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ جبکہ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے والے افراد کا ہجوم لگ گیا تھا۔ ممتاز قادری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہم ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ اس موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر سنی تحریک، تحریک اسلام پاکستان، جامعہ رضویہ العلوم، شباب اسلامی اور انجمن طلبہ اسلام سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے لوگ موجود تھے جو فیصلے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ حاجی نواز کھوکھر کے بھائی ملک امتیاز کھوکھر جو تاجی کھوکھر کے نام سے اسلام آباد میں جانے جاتے ہیں، انہوں نے ممتاز قادری کی طرف سے دیت کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلمان تاثیر کے اہل خانہ چاہیں گے تو وہ دیت کی رقم بڑھا بھی سکتے ہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ریمنڈ ڈیوس کو خون بہا لینے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔ اسی طرح ممتاز قادری کو بھی رہا کیا جائے۔ فیصلہ سننے کے بعد ممتاز قادری کی کیفیت کیا تھی؟ یہ جاننے کے لئے اس کے بھائی ملک دل پذیر سے گفتگو کی گئی توانہوں نے بتایا کہ ممتاز قادری نے جب اپنی سزا کا فیصلہ سنا تو نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس کا حوصلہ پہلے سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ممتاز قادری نے ہم سے کہا کہ میں آج بہت خوش ہوں۔ ممتاز قادری کے بھائی نے کہا کہ ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ یہ فیصلہ نہایت عجلت میں سنایا گیا۔ فیصلے کے وقت نہ تو ہمارے وکلاء کو بلایاگیا اور نہ ہی ہمیں اندر داخل ہونے دیا گیا۔ آج ہمارے وکلاء کو درخواست پیش کرنا تھی کیونکہ تفتیشی آفیسر نے یہ کہہ دیا تھا کہ ممتاز قادری کا یہ عمل دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا لیکن نہ جانے کیا ہوا کہ جج نے صبح صبح یہ فیصلہ پڑھ کر سنادیا۔ ہمیں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ ساڑھے دس بجے جج صاحب آئیں گے لیکن جب ہم ساڑھے نو بجے جیل پہنچے تو جج صاحب فیصلہ سنا کر نکل چکے تھے۔ ملک دل پذیر کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کریں گے۔ علماء، وکلاء اور دیگر لوگ اگر اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل کرنا چاہیں تو کریں۔ ہم اس لئے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔ کیونکہ اس فیصلے سے ممتاز قادری خوش ہے۔ ممتاز قادری کی رہائی کے لئے ملک تاجی کھوکھر (ملک امتیاز کھوکھر) جو حاجی نواز کھوکھر کے بھائی اور وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفی نواز کھوکھر کے چچا ہیں، انہوں نے ممتاز قادری کی رہائی کے لئے دیت دینے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے مرحلے میں سلمان تاثیر کے گھر والوں کو 5 کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی ہے، جو میں انہیں آدھے گھنٹے میں دینے کے لئے تیار ہوں۔ تاجی کھوکھر نے کہا کہ اگر سلمان تاثیر کے اہل خانہ کو یہ رقم کم لگتی ہے تو وہ جتنی مرضی دیت مانگیں، میں دینے کو تیار ہوں مگر اسے بھی ریمنڈ ڈیوس کی طرح خون بہا لے کر رہا کیا جائے۔ ملک تاجی سے جب کہا گیا کہ ممتاز قادری پر تو دہشت گردی کا مقدمہ ہے تو انہوں نے کہا کہ میں کسی مقدمے سے نہیں ڈرتا۔ میں نے تو کئی سال جیل میں گزارے ہیں۔ حکومت نے ریمنڈ ڈیوس والے معاملے میں تو مقتولین کے ورثاء کو راضی کیا کہ وہ دیت لے لیں اور ان لوگوں نے دیت لے کر ریمنڈ ڈیوس کو معاف کردیا۔ مقدمے کا فیصلہ چاہے سپریم کورٹ تک برقرار رہے لیکن اگر ورثاء چاہیں تو معاف کرسکتے ہیں اور جب تک سپریم کورٹ سے اپیل خارج نہیں ہوتی، صدر یا وزیراعظم اس معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ میں نے تو سلمان تاثیر کے ورثاء سے کہا کہ وہ ریمنڈ ڈیوس والے معاملے کی طرح دیت لے لیں اور میں ان کو آدھے گھنٹے میں 5 کروڑ روپے دینے کو تیار ہوں۔ میں یہ رقم لے کر ان کے گھر جانے کو تیار ہوں اور میں نے اس سلسلے میں تفصیلی مشاورت بھی کی ہے۔ میں تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سلمان تاثیر کے اہل خانہ سے کہیں کہ وہ دیت لے لیں۔ ممتاز قادری کے وکیل ملک رفیق کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس تیزی سے فیصلہ سنایا کہ مجھ تک اس کی نقل بھی نہیں پہنچی۔ اب یہ نقل مجھے پیر کو ملے گی اور پرسوں ہی ہم ممتاز قادری کی طرف سے اپیل ہائی کورٹ میں دائر کردیں گے۔ عدالت میں فیصلے کے وقت وکیل کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔ ممتاز قادری کا مقدمہ اتنا حساس ہے کہ جج صاحب 8 بجے ہی اڈیالہ جیل پہنچے ہوئے تھے اور صبح پونے نو بجے فیصلہ سنا کر جج صاحب وہاں سے چلے گئے۔ ممتاز قادری کے وکلاء نے بتایا کہ اس مقدمے میں عدالت نے نہ صرف بہت سے معاملات کو نظرانداز کیا بلکہ ہم نے مقدمہ کی نوعیت کو 302-C کے تحت ثابت کیا تھا جس کے تحت عدالت صرف قید کی سزا دے سکتی تھی، اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید۔ یہ عدالت کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کتنی سزا دیتی ہے، لیکن شواہد کے برخلاف ممتاز قادری کو دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی جبکہ ممتاز قادری پر دہشت گردی کا جرم ثابت ہی نہیں ہوا۔ ممتاز قادری کی رہائی کے لئے جو لوگ سرگرم ہیں۔ ان میں راولپنڈی اسلام آباد کے مفتی مولانا حنیف قریشی نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ جج نے قبل از وقت فیصلہ کیا۔ وکلاء کو بھی یہ بحث کرنا تھی کہ ممتاز قادری پر دہشت گردی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے اور یہ بحث سنے بغیر ہی فیصلہ دے دیا گیا۔ دیت کے حوالے سے مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ قرآن و سنت کے تقاضوں کے مطابق سلمان تاثیر کے ورثاء کو دیت نہیں دی جاسکتی، تاہم ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ ہم اس سلسلے میں ملک تاجی کے شکر گزار ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سلمان تاثیر کے اہل خانہ رقم لے کر معاملے کو ختم کردیں۔دوسری طرف اسلام آباد کے گردونواح کے دیہات میں جگہ جگہ ممتاز قادری کے بینرز لگ چکے ہیں۔ عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مختلف مذہبی جماعتیں، راولپنڈی اسلام آباد کی سطح پر متحد ہوکر احتجاج کررہی ہیں۔