ملعونہ گستاخ آسیہ کی اصلیت اور اس کے گستاخانہ کلمات کے باوجود سلمان تاثیر نے اس ملعونہ کی حمایت کی

in Tahaffuz, October 2011, تحفظ نا مو س ر سا لت

گزشتہ کچھ ماہ سے وطن عزیز میں ایک واقعہ زیر بحث ہے اور وہ واقعہ آسیہ نامی عیسائی عورت سے متعلق ہے جس نے 14 جون 2009ء بروز اتوار شانِ رسالت مآبﷺ میں گستاخی کی تھی، جس کی مکمل داستان آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ کو اس واقعہ کی مکمل آگاہی حاصل ہوجائے گی۔

آسیہ نامی عیسائی عورت ننکانہ صاحب کے نواحی گائوں اٹانوالی چک نمبر 3 گ ب تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔ اس کا کردار پورے گائوں میں قابل اعتراض مشہور ہے۔ مادر پدر آزادی کی دلدادہ ہے۔ سرعام قابل اعتراض گفتگو کرتی ہے۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اس کے نام نہاد خاوند عاشق کے ساتھ ہوئی تھی۔ جس سے اس کے خاوند کے تین بچے موجود ہیں۔ جب اس کی بڑی بہن کو بچے کی امیدواری ہوئی اور زچگی کے دن قریب آئے تو آسیہ اپنی بہن کے گھر کا کام کاج کرنے اس کے گھر آگئی۔ اپنی بہن کے گھر چند دن رہائش کے دوران اس کے خاوند (جوکہ اب آسیہ کا بھی خاوند ہی بن چکا ہے) سے ناجائز تعلقات قائم کرلئے اور حاملہ ہوگئی۔ والدین نے حمل چھپانے کی غرض سے شادی کرنا چاہی تو اس نے اپنی بہن کے خاوند عاشق مسیح کے سوا کسی اور سے شادی کروانے سے انکار کردیا بلکہ بغاوت کرکے زبردستی عاشق کے گھر رہنے لگی اور عاشق اپنی بیوی کے گھر موجود ہونے کے باوجود راتیں آسیہ کے ساتھ بسر کرنے لگا۔ اس پر بیوی نے سخت احتجاج کیا تو عاشق نے مار پیٹ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اب اصل بیوی، بے گھر اور سالی گھر والی بن کر زندگی گزارنے لگی۔ (ایسی حرکت پر ہی پنجابی میں کہا جاتا ہے ’’اگ لین آئی تے گھر دی مالک بن بیٹھی) عیسائی مذہب میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں، لیکن آسیہ نے اہل دیہہ اور برادری والوں کے اصرار کے باوجود عاشق کے گھر سے جانے سے انکار کردیا۔ آسیہ اور عاشق کے اس خلاف مذہب اقدام پر عیسائی برادری نے بھی سخت احتجاج کیا اور ان کا معاشرتی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن دونوں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی اور شادی کا سوانگ رچا ڈالا۔ دنیا کے دکھاوا کے لئے، مذہبی روایات کے برعکس عاشق نے آسیہ سے نام نہاد شادی کرلی اور دونوں بہنوں کو اکھٹا اپنے گھر آباد کرلیا جوکہ آج بھی دونوں حقیقی بہنیں عاشق کے گھر آباد ہیں۔ آسیہ قدرے پڑھی لکھی اور ’’روشن خیال‘‘ عورت ہے۔ اسی روشن خیالی کی وجہ سے این جی اوز کی آنکھ کا تارا بن گئی اور علاقے میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرنے لگی۔ دیہات میں چونکہ عورتیں کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں، آسیہ نے یہ طریقہ بنا رکھا تھا کہ عورتوں کے ساتھ مزدوری کے بہانے چلی جاتی اور اپنے ساتھ کام کرتی، عورتوں کو باتوں باتوں میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرتی۔

اسی معمول کے مطابق 2009- 6- 14کو گائوں کی عورتیں ادریس نامی زمیندار کے کھیتوں میں فالسہ کے باغ میں فالسہ توڑنے گئیں، آسیہ بھی ان عورتوں میں موجود تھی۔ عورتیں عام طور پر دوپہر کا کھانا ساتھ ہی کھیتوں میں لے جاتی ہیں۔ جب عورتیں دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھیں تو آسیہ نے مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے گلاس میں پانی پی لیا۔ انہوں نے اس کے جھوٹے گلاس میں پانی پینے کی بجائے اپنا سالن والا برتن خالی کرکے اس میں پانی پی لیا۔ اس بات کو آسیہ نے اپنی توہین سمجھ کر دونوں بچیوں کے ساتھ توتکار کرکے مذہبی گفتگو شروع کردی۔ دوران گفتگو آسیہ نے نبی اکرمﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ جن کا خلاصہ اس طرح سے ہے۔

تمہارے نبی موت سے ایک ماہ قبل سخت بیمار پڑے رہے۔ حتی کہ تمہارے نبی کے منہ اور کانوں میں (نعوذ باﷲ) کیڑے پڑگئے تھے۔ تمہارے نبی نے مال و دولت کے لالچ میں خدیجہ سے شادی کی اور مال و دولت بٹورنے کے بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ قرآن اﷲ کا کلام نہیں بلکہ خود سے بنائی گئی کتاب ہے

یہ باتیں مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے علاوہ یاسمین دختر اﷲ رکھا اور کھیت میں موجود دیگر کئی عورتوں نے سنیں تو مسلمان عورتوں کا مشتعل ہونا ایک فطری عمل تھا۔ انہوں نے آسیہ کو اپنا منہ بند رکھنے اور اپنے الفاظ واپس لینے کی بابت کہا، آسیہ کے انکار پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ جھگڑے کا شور سن کر کھیت کا مالک ادریس اوراس کی بیوی جو قریبی ڈیرہ پر موجود تھے، موقع پرآگئے۔ معاملہ سنا اور آسیہ نے مذکورہ بیان شدہ الفاظ کا کہنا تسلیم کیا۔ ادریس نے اسے اپنے کھیتوں میں سے چلے جانے کاکہا تو وہ چلی گئی۔ مسلمان عورتوں نے گائوں پہنچ کر یہ بات اپنے اپنے گھروں میں کی تو گائوں میں اشتعال پیدا ہوگیا اور گائوں کے معزز افراد پر مشتمل پنچائیت اکھٹی ہوئی جس میںعیسائی لوگ بھی موجود تھے۔ آسیہ کو بلاکر مذکورہ گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ان الفاظ کا کہنا تسلیم کیا اور معافی بھی مانگی۔ اس پر گائوں میں مزید اشتعال پیدا ہوگیا۔ اور لوگ آسیہ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے۔ گائوں کے نمبردار نے گائوں والوں کو سمجھایا کہ اس نے جو جرم کیا ہے، اس کی سزا موت ہی ہے۔ جو عدالت اسے دے گی، تم اسے قتل کرکے کیوں اپنے ذمے جرم لیتے ہو اور اس طرح قتل کردیئے جانے سے دیگر ممالک میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا بھی اندیشہ ہے۔ مناسب ہے کہ اسے قانون کے حوالے کردیا جائے۔ نمبردار صاحب کے سمجھانے پر گائوں والوں نے اس کے خلاف قاری محمد سالم کی مدعیت میں تھانہ صدر ننکانہ صاحب

کو پولیس نے مقدمہ نمبر09- 326 بجرم   19-06-2010 میں برائے اندراج مقدمہ درخواست گزاری تو

295/C

درج کرکے تفتیش محمد ارشد ڈوگر (ایس آ ئی)کے سپرد ہوئی