مسئلہ حجاب: عصری تناظر میں

in Tahaffuz, October 2011, متفرقا ت

ملا مزاج شاعر جناب اکبر الہ آبادی کیا خوب فرماگئے:

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑھ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

اشتراکیت پر ایمان رکھنے والے تجدد پسند مسلم ناقدین کے نزدیک اس قسم کے اشعار کل تلک ’’روایت‘‘ کے زمرے میں آرہے تھے مگر بقول شخصے اب زمانہ کافی ترقی کرچکا ہے۔ اب اس طرح کے اشعار پڑھنے اور سننے سے شدید اندیشہ ہے کہ انسان موجودہ ترقی کے سفر میں نہ صرف بچھڑ جائے اور اس کا وجود گرد کارواں میں گم ہوکر رہ جائے بلکہ عین ممکن ہے کہ اس کی فکر کی پرواز رک جائے اور اس کے حواس خلل کا شکار ہوکر رہ جائیں

پچھلے دنوں مجھے ایک دانشورانہ (اس کا معنی احمقانہ نہیں ہے) قسم کے ایک مباحثے میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ اتفاق (اس میں حسن اور سوء کی قید نہیں ہے) سے تقریبا مباحثے کے تمام شرکاء کا شاعر مزاج ملا تھے۔ شاعر مزاج میں انہیں اس لئے کہتا کہ انہیں شعر و ادب کا ذوق تھا بلکہ اس لئے کہ ان کی دانشوری کچھ شاعرانہ یعنی خیالی قسم کی تھی اور ’’ملا‘‘ کہنے کی وجہ تو صاف ہے، کیونکہ ان میں اکثر بے ریش ہوتے ہوئے بھی اپنے ساتھ کسی نہ کسی مدرسے کی سند رکھے ہوئے تھے۔ مباحثے کا موضوع تھا ’’حجاب مفید یا مضر؟‘‘ زیر بحث موضوع کے دونوں پہلوئوں پر پرزور دلائل دیئے جارہے تھے اور میں حیرت و استعجاب کا مجسمہ بنے دیکھے جارہا تھا۔ اچانک ایک داڑھی لہرائی، پیشانی پر نوع بہ نوع سلوٹیں پڑیں۔ میں نے سوچا اب حجاب کے منکرین کی خیر نہیں اور جناب گویا ہوئے: حجاب کے مسئلہ پراب ہمیں روایت سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

کا سبب ہوتاہے Hesitationاس میں شبہ نہیں کہ حجاب

اس کے ہوتے ہوئے مرد اور عورت بے تکلف تبادلہ خیال نہیں کرسکتے جوکہ مخلوط دنیا میں ضروری ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آج جہاں کہیں بھی عورتیں حجاب لگاتی ہیں وہ مردوں کے دباؤ میں ایسا کرتی ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ گذشتہ دنوں ایران میں ایک فیشن منعقد ہوا جس کے بعد وہاں کی عورتوں نے ایک سروے کو انٹرویو دیتے ہوئےبتایا کہ وہ ذاتی طور پر حجاب پسند نہیں کرتیں۔

اس سے قطع نظر کہ موصوف نے میرے اعتبار کا خون کر دیا جی چاہا کہ ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کردوں کہ ’’جیسا کہ جناب نے خود بھی شاید سماجی دبائو میں داڑھی رکھ لی ہے‘‘ انہیں میں یہ کیسے سمجھاتا کہ موجودہ دنیا میں رائج ہر چیز کو ’’ضرورت‘‘ کے ذیل میں شامل کرنا ہمارے لئے ایک مسائل انگیز حل ہے۔ دنیا کا موجودہ نظام غیر مساوی بنیادوں پر قائم ہے، کسی کے پاس دو روٹی کی قیمت نہیں اور کسی کے پاس اتنی دولت ہے کہ اس کو رکھنے کے لئے بینک اور خزانے بھی تنگ پڑرہے ہیں۔ اقوام متحدہ جس کی تشکیل امن عالم کی بحالی کے لئے ہوئی ہے، اس نے طاقتور ملکوں کو ویٹو پاور دے کر انصاف کے معاملے میں انسانوں کو تقسیم کردیا ہے اور ان باتوں کو بھی چوڑھیئے آج سیکس کلچر اور پرونو کلچر کی باتیں چل رہی ہیں اور یہ چیزیں ترقی یافتہ ممالک کے نظام کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ کیا موصوف جیسے دانشور ان چیزوں کی تائید کے لئے بھی نظرثانی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ بھی جدید نظام کا حصہ ہیں۔

میں جناب کو یہ بھی نہیں سمجھا سکتا کہ فیشن شو کے بعد جو سروے ہوا ہے، اس پر آنکھ بند کرکے یقین کرلینا جدید دانشوری تو ہوسکتی ہے دانش مندی نہیں۔ کسی بھی سماج کو سمجھنے کے لئے دو پیمانے ہوسکتے ہیں۔ ایک اس کی عمومی صورتحال اور دوسرے اس کے بعض افراد کی ذاتی آراء اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایران کا وہ سروے دوسرے معیار کا ہے۔ وہ بھی فیشن شو کے بعد جس میں شریک ہونے والی خواتین سے صرف اسی جواب کی توقع کی جاسکتی تھی اور نہ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ دوسرا معیار عقل اور منطق کے خلاف ہے۔

حجاب اور ستر کا اسلامی مفہوم

حضرت عبداﷲ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’المرأۃ عورۃ‘‘ عورت واجب الستر ہے (ترمذی) سورۂ نور ۴ ہجری میں نازل ہوئی، اس میں ستر سے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔

ولا یبدین زینتہن الا ماظہر منا ولیضربن بخمر ہن علی جیوبہن ولا یبدین زینتہن الا لبعولتہن او ابائہن او اباء بعولتہن او ابنائہن او ابناء بعولتہن او اخوانہم او بنی اخوانہن او بنی اخواتہن او نسائہن او ما مالکت ایمانہن او التابعین غیر اولیٰ الاربۃ من الرجال او الطفل الذین لم یظہر واعلیٰ عورات النساء (النور: ۳)

ترجمہ: اور مسلمان عورتیں اپنے بنائو سنگھار (میک اپ) کو نہ دکھائیں بجز اس چیز کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں کو دوپٹے سے ڈھانک کر رکھیں ، وہ اپنے بنائو سنگھار کو صرف ان لوگوں پر ظاہر کرسکتی ہیں۔ عورتوں کے شوہر، ان کے باپ، ان کے شوہروں کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے شوہروں کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھائیوں کے بیٹے، ان کی بہنوں کے بیٹے، دیگر مسلمان عورتیں، ان کی لونڈیاں اور ایسے غلام یعنی مرد خدمت گار، جو عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔

صاحب ہدایہ علامہ ابو الحسن المرغینانی فرماتے ہیں۔

’’آزاد عورت کا چہرہ اور ہاتھوں کے سوا پورا جسم ستر ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے ’’المراۃ عورۃ مستورۃ‘‘ عورت

چھپائے جانے کی چیز ہے۔ اور ہاتھوں اور چہرے کا استثناء اس لئے ہے کہ کام کاج اور ادائے شہادت کے وقت اس کو انہیں ظاہر کرنا پڑتا ہے، اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ عورت کے قدم بھی ستر ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ عورت کے قدم ستر نہیں ہیں اور یہی قول زیادہ صحیح ہے (ہدایہ اولین ص ۷۶)

ستر سے مراد عورت کے جسم کا وہ حصہ ہے جس کا شوہر کے علاوہ کسی اور کا دیکھنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ چہرہ اور ہاتھ ستر کے حکم سے خارج ہیں اور قدم کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ ان اعضاء کا ستر کے حکم سے مستثنیٰ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ انہیں محرم دیکھ سکتے ہیں۔ رہے غیر محرم مرد تو ان کے سامنے ان اعضاء کو کھولنا بھی جائز نہیں بلکہ ان کو غیر محرم مردوں سے چھپانے کے لئے عورتوں پر حجاب کا استعمال کرنا ضروری ہے جس کا حکم ۵ ہجری میں نازل ہوا۔ ہوا یوں کہ ازواج مطہرات کا چہرہ چھپائے بغیر گھروں سے نکلنا حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو ناگوار گزرتا تھا۔ وہ حضور نبی کریمﷺ سے بار بار اصرار کرتے کہ ازواج مطہرات حجاب لگا کر نکلا کریں مگر پیغمبر علیہ السلام وحی کے انتظار میں خاموش رہتے۔ بالاخر سورۂ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی۔

یاایھا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المومنین یدنین علیہن من جلابیبھن (الاحزاب: ۵۹)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہئے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکالیا کریں۔

اس آیت کا تعلق گھروں سے باہر نکلنے سے ہے جہاں اجنبی مردوں سے سامنا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عورتوںکو اپنے اوپر ’’جلبات‘‘ (وسیع و عریض چادر) ڈالنے کا حکم ہوا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ ہیں یدنین علیہن من جلابیبھن

مفسرین نے فرمایا ہے کہ علیہن میں مضاف مخذوف ہے، عبارت یوں ہوگی وعلی وجوہہن یعنی اپنے چہرے پر جلبات ڈال لیں اور من جلابیبہن میں من بعضیت کو بتانے کے لئے ہے۔ یعنی جلباب کا کچھ حصہ، مفسرین کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ ایک آنکھ ڈھنک جائے اور دوسری کھلی رہے۔ چونکہ سامنے دیکھنے کے لئے ایک آنکھ کا کھلا رہناضروری تھا۔ اس لئے دونوں آنکھیں ڈھنکنے کا حکم نہیں ہوا لیکن نقاب کی نئی شکلیں سامنے آنے کے بعد پورا چہرہ چھپا بھی رہتا ہے تو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اور آیت کا مطلوبہ چہرے کو چھپانا ہے نہ کہ دکھانا اس لئے نقاب کی وہ شکل جس میں پورا چہرہ چھپا رہتا ہے نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔

جدید دانشوری کی جناب میں

حجاب پر انگشت نمائی کرنے والی جدید دانشوری کو ہم تین خانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں (۱) بے دین دانشوری (۲) مسیحی و یہودی دانشوری (۳) مسلم دانشوری

اول الذکر حجاہ مخالف دانشوری کا نقطہ کمال ہے جبکہ آخر الذکر نقطہ آغاز جو دراصل اوسط الذکر کے توسط سے لادینی افکار حاصل کرتی اور فکری لااساسیت کی طرف ڈگمگاتی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

حجاب کے تعلق سے ہم بے دین دانشوری کی جناب میں کچھ عرض نہیں کرسکتے، کیونکہ لادینیت کا مطلب صرف دین کا انکار ہرگز نہیں بلکہ بالواسطہ اصول اور قوانین کا انکار بھی ہے۔ جب ان کے پاس کوئی ٹھوس بنیاد ہی نہیں ہے اور نہ کوئی مسلمہ اصول ہے پھر ان سے کسی چیز کے اثبات و نفی میں نتیجہ خیز بحث نہیں ہوسکتی۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان کے انکار کو بھی کوئی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ انکار کے لئے کسی مسلمہ اصول کا ثابت ہونا ضروری ہے۔

مسیحی و یہودی دانشوروں سے کچھ عرض کرنا بھی بے سود ہے۔ کیونکہ ان میں سے اکثر نے اپنے ساتھ مسیحیت یا یہودیت کا صرف لیبل لگا رکھا ہے، حقیقی مسیحیت و یہودیت سے انہیں دور دور تک کوئی نسبت نہیں۔ انہوں نے بھی فی الواقع خود کو پہلے خانے میں شامل کرلیا ہے ورنہ اگر وہ حقیقی معنی میں یہودی یا مسیحی ہوں تو وہ حجاب کا کسی طور پر بھی انکار نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہر مذہب ’’اخلاق‘‘ پر بے انتہا زور دیتا ہے اور حجاب کا اٹھا دینا درحقیقت باب اخلاق کے توڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔

حجاب مخالف مسلم دانشوری کی صورتحال ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ والی ہے۔ اس کے سامنے مغرب کا ترقی یافتہ نظام بھی ہے اور تعفن زدہ معاشرہ بھی، وہ بیک وقت اقدام بھی چاہتا ہے اور گریز بھی۔ اس کشمکش میں اس نے اتنی بات طے کرلی ہے کہ اب نئے ڈھنگ سے اور جدید انداز میں اسلامی احکام و فرامین پرغور کرنا ہوگا۔ی اس اضطرابی کیفیت نے اسے حجاب کی مخالفت پر کمربستہ کردیا ہے۔ اس کے پاس دلائل بھی ہیں جن کا مرکزی نقطہ ’’عصری روش کو قبول کرنا‘‘ ہے۔ اس نے عصری روش کو فقہی قاعدہ ’’ضرورت‘‘ کے ضمن میں شامل مان لیا ہے اور پھر اس کی ساری گفتگو اسی کی گرد گردش کرتی ہے۔

حجاب مخالف مسلم دانشوری کو بھی ہم دو خانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک پختہ اور دوسری خام، پختہ دانشوری سے مراد وہ سوچ ہے جو جدید سوسائٹی میں اعلیٰ معیار زندگی ساتھ رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اس کی نشوونما اسی بے حجاب سوسائٹی میں ہوئی ہے اس لئے وہ فطری طور پر حجاب کی موافقت کے لئے خود کو تیار نہیں کرپاتی لیکن بے حجابی کی تباہیاں بھی اس کے سامنے ہیں۔ اس لئے وہ گریز کی راہ بھی ڈھونڈنا چاہتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسے یہ راہ مل نہیں پاتی۔ اس کے برخلاف خام دانشوری سے مراد وہ سوچ ہے جو باحجاب اور مہذب معاشرے میں رہنے کے بعد اچانک بے حجاب سوسائٹی میں چھلانگ لگا دینے سے پیدا ہوتی ہے۔ایسی سوچ کے حاملین کے سامنے ترقی اور روشنی کی ایک شاہراہ نظر آتی ہے۔ جس سے وہ خود کو دور پاتے ہیں اور اس دوری کی وجہ وہ حجاب کو سمجھتے ہیں جو ان کے خیال میں روشنی اور ان کے بیچ حائل ہوتا ہے۔ ایسے لوگ یکطرفہ طور پر حجاب کے خلاف بھرے رہتے ہیں اور وقت ملتے ہی پھٹ پڑتے ہیں۔

حجاب کے ناقدین کو غور کرنا چاہئے کہ اگر بعض مسلم ملکوں میں عورتوںکو حجاب پہنا کر انہیں کپڑے میں کس دیا گیا ہے تو مغربی ممالک میں حجاب اترنے کے بعد عورتوں کے جسم سے کیا کیا اتروالیا گیا ہے۔ اگر یہ صنف نازک پر ظلم ہے تو وہ بھی تو عنایات نہیں۔ یہ نکتہ سمجھنے کا ہے کہ حجاب اور عریانیت کے بیچ کوئی تیسرا اسٹیج نہیں ہے جس کو اعتدال یا بیچ کی راہ قرار دے کر کوئی اس کی حمایت کا مدعی ہو اٹھے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو مشاہداتی اور دوسری عقلی۔ مشاہداتی یہ کہ عورتوں کے لباس کے تعلق سے اب تک جو احتجاجی نظریات سامنے آئے ہیں وہ صرف دو ہی نوعیت کے ہیں۔ ایک نظریہ حجاب کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور دوسرا عریانیت کے خلاف۔ دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اب تک صرف دو قسم کے اہل الرائے سامنے آئے ہیں (کسی استثنائی مثال کی بات نہیں کی جاسکتی) ایک وہ ہیں جو حجاب کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو اس کی مخالفت اور جو حجاب کی مخالفت کرتے ہیں ان کے پاس کوئی متعین معیار ہی نہیں جس سے یہ واضح ہوسکے کہ وہ حجاب اتار کر عورت کو کتنا لباس پہنانا چاہتے ہیں۔

حجاب اور عریانیت کے بیچ کسی تیسرے اسٹیج کے نہ ہونے کی عقلی وجہ یہ ہے کہ عقلی طور پر نگاہوں کی دو ہی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ ایک وہ جو جھکنا چاہتی ہیں اور اجنبی عورت کے دیکھنے سے گریزاں ہیں۔ ایسی نگاہیں اسلام میں مطلوب ہیں جو حجاب کا تقاضا کرتی ہیں اور دوسری وہ نگاہیں جنہیں اجنبی عورتوں کو دیکھنے کا شوق ہے اور یہ شیطان کی مطلوب ہیں اور ان شائق نگاہوںکی طلب کی کوئی حد نہیں بلکہ وہ شوق دید میں ہر لمحہ ہل من مزید کا نعرہ بلند کرتی رہتی ہیں اور جب یہ یہ طے ہوگیا کہ عقلی طور پر دو ہی منزل ہیں۔ ایک حجاب کی اور دوسری عریانیت کی تو ایسے میں موجود دانشوروںکو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ عورت کے حق میں کون سی منزل مطلوب اور اس کی عفت و آبرو کی محافظ ہے اور کون سی ظلم و جبر ہے۔

اگر حجاب کے بالمقابل کوئی شخص عریانیت کو پسند کرتا ہے تو لامحالہ وہ

کاحمایتی ہوگا Sex Culture اورPorno Culture

اور اگر وہ اس کی حمایت کا بھی دم بھر دیتا ہےتو پھر اسے جرائم کے بڑھتے ہوئے تناسب اور اخلاق باختگی سے پیدا شدہ تباہیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے بھی تیار ہونا پڑے گا۔ اس سے یہ بات بھی بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ حجاب کی مخالفت صرف نقاب یا برقعہ کی مخالفت نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ ایک بھیانک ابلیسی نظام کی بنیادوں سے جا ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی باآسانی برآمد ہوگیا کہ حجاب کی مخالفت بالواسطہ عریانیت کی تائید ہے۔

چونکہ حجاب کی موافقت یا مخالفت کی بحث کی تان مخلوط نظام کی موافقت یا مخالفت پر ٹوٹتی ہے۔ اس لئے اس بحث کووسعت بھر سمجھنے کے لئے مخلوط نظام کے مثبت و منفی پہلوئوں کا منصفانہ تجزیہ ضروری ہے۔ قارئین اس کے لئے اگلے شمارے کا انتظار کریں۔