قرآن کے غلط تراجم کا تقابلی جائزہ

in Tahaffuz, October 2011, ا سلا می عقا ئد, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

قرآن مجید فرقان حمید مینارۂ نور ہے۔ یہ وہی کتاب ہے جس میں ہر چیز کا ذکر موجود ہے۔ اس کتاب کو رب کریم جل جلالہ نے اپنے حبیبﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا۔ یہ کتاب مسلمانوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمائی ہے۔ مسلمان اس کتاب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ یہ تو کتاب ہے جس کی آیات سن کر کفار دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔

قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ اہل عرب باآسانی اسے پڑھ کر اسے سمجھنے لگے مگر جب اسلام مختلف زبانوں کے لوگوں تک پہنچا اور ان کے اندر قرآن مجید سمجھنے کا شوق پیدا ہوا تو مختلف زبانوں میں جید علمائے اسلام نے اس کے تراجم کئے تاکہ ان کے لئے سہولت ہو۔ وقت گزرتا گیا، قرآن مجید کے نور سے مسلمان منور ہونے لگے۔ یہود ونصاریٰ کو تشویش ہونے لگی۔ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کسی طرح اس کتاب یعنی قرآن مجید کو اس دنیا سے ختم کردیا جائے مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہے اس لئے کہ جس کلام کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہو، مومن کے دل کو جس کی حفاظت کا مقام بنایا ہو، ایسے کلام کو کون مٹا سکتا ہے۔

یہود ونصاریٰ جب مکمل طور پر مایوس ہوگئے تو انہوں نے یہ چال چلی کہ اب ہم قرآن مجید کے تراجم میں تبدیلی اور اسلام مخالف عقائد شامل کریں گے چنانچہ انہوں نے چند نام نہاد اسلامی اسکالرز کو تیار کیا جنہوں نے اپنے ترجمہ قرآن میں ایسی باتیں شامل کیں جوکہ اسلامی عقائد و نظریات کے سراسر خلاف تھیں اور یہود ونصاریٰ کی ترجمان تھیں۔

اکثر مترجمین قرآن کی نظر الفاظ قرآنی کی روح تک نہیں پہنچ سکی اور ان کے ترجمہ سے قرآن کریم کا مفہوم ہی بدل گیا ہے بلکہ بعض مقامات پر ترجمے میں ان سے تحریف بھی ہوگئی، لفظ بلفظ ترجمہ کرنے کے سبب حرمت قرآن، عصمت انبیاء علیہم الاسلام کا پاس نہیں رکھا گیا جس کے باعث ان کے تراجم سے اسلام کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان تمام تراجم کو ہم سامنے رکھ کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے ترجمۂ قرآن کنزالایمان سے اس کا تقابل کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دیگر مترجمین نے کہاں کہاں ٹھوکر کھائی ہے اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے کس طرح اپنے ترجمۂ قرآن کنزالایمان میں اس کا ادب و تعظیم اور قرآن کی اصل روح کو مدنظر رکھ کر اپنا قلم اٹھایا ہے۔ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے جملہ مستند و مروج تفاسیر کی روشنی میں قرآن مجید کی ترجمانی فرمائی ہے جس آیت کی وضاحت مفسرین کرام نے کئی کئی صفحات میں فرمائیں مگر امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کو یہ خوبی عنایت فرمائی گئی کہ وہی مفہوم ترجمہ کے ایک جملہ یا ایک لفظ میں ادا فرمایا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ سمندر کو کوزے میں بند کردیا۔

اب ہم آپ کے سامنے مختلف تراجم اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے ترجمۂ قرآن کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے۔ بلا تعصب آپ پڑھ کر خود فیصلہ کریں کہ کس کا ترجمہ اسلامی عقائد پر مبنی اور کس کا ترجمہ اسلامی عقائد کے منافی ہے۔

 1:ویمکرون ویمکراﷲ واﷲ خیر المٰکرین (سورۂ انفال آیت ۳۰ ، پارہ ۹

ترجمہ: وہ بھی دائو کرتے تھے اور اﷲ بھی دائو کرتا تھا اور اﷲ کا داؤ سب سے بہتر ہے (محمود الحسن دیوبندی)

ترجمہ: اور وہ تو اپنی تدبیر کررہے تھے اور اﷲ میاں اپنی تدبیر کررہے تھے اور سب سے مستحکم تدبیر والا اﷲ ہے (اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ: اور حال یہ ہے کہ کافر دائو کررہے تھے اور اﷲ اپنا دائو کررہا تھا اور اﷲ سب دائو کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے (ڈپٹی نذیر احمد)

ترجمہ: وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اﷲ اپنی چال چل رہا تھا، اﷲ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے (مودودی)

محترم قارئین! آپ نے ان موجودہ اردو تراجم کو ملاحظہ فرمایا۔ مترجمین نے ترجمہ کرتے وقت مکر، فریب اور چال کی نسبت اﷲ تعالیٰ کی طرف کی ہے جوکہ اﷲ تعالیٰ کی شان کے سراسر خلاف ہے۔ مکر، فریب اور چال یہ تو عیوب ہیں جبکہ اﷲ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ ان تراجم کو مدنظر رکھ کر ذرا سوچیں کہ اگر کوئی غیر مسلم ان تراجم کو دیکھے گا تو اس کا ذہن یہی کہے گا کہ کیا مسلمانوں کا رب مکر، فریب اور چال چلتا ہے (معاذ اﷲ)

اب آپ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

ترجمہ کنزالایمان: اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اﷲ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اﷲ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ہے (امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

2:اﷲ یستہزیٔ بہم ویمدہم فی طغیانہم یعمہون (سورۂ بقرہ آیت ۱۵، پارہ ۱)

ترجمہ: اﷲ ٹھٹھا کرتا ہے ان سے اور کھینچتا ہے ان کو بیچ سرکشی ان کی کے بہکے ہیں (شاہ رفیع الدین دیوبندی)

ترجمہ: اﷲ ہنسی کرتا ہے ان کے ساتھ اور ان کو ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکے پھریں (عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی)

ترجمہ: اﷲ ان سے مذاق کررہا ہے وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں (مودودی)

ترجمہ: اﷲ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے (سعودی ترجمہ)

ترجمہ: جبکہ اﷲ مذاق کررہا ہے ان سے کہ مہلت دیئے جارہا ہے انہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹک رہے ہیں (مولوی شبیر احمد، دوکلر والا)

ترجمہ: اﷲ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دیئے جارہا ہے یہ بھٹکتے پھر رہے ہیں (امین احسن اصلاحی قرآن)

محترم قارئین! آپ نے ان موجودہ اردو تراجم کو ملاحظہ فرمایا۔ مترجمین نے ترجمہ کرتے وقت ٹھٹھا، ہنسی اور مذاق کی نسبت اﷲ تعالیٰ کی طرف کی ہے جوکہ اﷲ تعالیٰ کی شان کے سراسر خلاف ہے۔ ٹھٹھا، ہنسی اور مذاق یہ تو عیوب ہیں جبکہ اﷲ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے ۔ ان تراجم کو مدنظر رکھ کر ذرا سوچیں کہ اگر کوئی غیر مسلم ان تراجم کو دیکھے گا تو اس کا ذہن یہی کہے گا کہ کیا مسلمانوں کا رب ٹھٹھا، ہنسی اور مذاق کرتا ہے (معاذ اﷲ) اب آپ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

ترجمہ کنزالایمان: اﷲ ان سے استہزاء فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں( امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے ترجمہ میں واضح کیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزہ و پاک ہے یہاں جزاء استہزاء کوفرمایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہوجائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ایسے موقع پر جزا کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جزاء سئیہ سئیہ میں کمال حسن بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملہ سابقہ پر معطوف بہ فرمایا گیا۔ کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا۔

 3: اذ قالوا لیوسف واخوہ احب الیٰ ابینا منا و نحن عصبۃ، ان ابانا لفی ضلٰل مبین سورۂ یوسف آیت ۸، پارہ ۱۲

ترجمہ: دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں، حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے اباجان بالکل ہی بہک گئے ہیں (مودودی)

ترجمہ: (خیال کرو) جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں بے شک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے (امین احسن اصلاحی)

ترجمہ: جب وہ (آپس میں) کہنے لگے کہ یوسف اور اس کا بھائی (بن یامین) زیادہ پیارا ہے، ہمارے باپ کو ہم سے حالانکہ ہم قوت کے لوگ ہیں، بے شک ہمارا باپ صریح غلطی میں ہے (عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی)

ترجمہ: وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ان کے بھائیوں نے گفتگو کی کہ یوسف اور ان کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں۔ واقعی ہمارے باپ (اس مقدمہ میں) کھلی غلطی میں ہیں (اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ: جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بہ نسبت ہمارے باپ کو بہت زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم (طاقتور) جماعت ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں (سعودی ترجمہ)

محترم قارئین کرام! آپ نے ان موجودہ اردو تراجم کو ملاحظہ فرمایا۔ مترجمین نے ترجمہ کرتے وقت اﷲ تعالیٰ کے معصوم نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کو صریح غلطی پر لکھا جبکہ (معاذ اﷲ) مودودی صاحب نے تو بہکا ہوا لکھ دیا حالانکہ اسلامی عقائد میں یہ بات موجود ہے کہ نبی معصوم ہوتے ہیں گناہوں، خطائوں سے۔ ان تراجم کو مدنظر رکھ کر ذرا سوچیں کہ اگر کوئی غیر مسلم ان تراجم کو دیکھے گا یہ اعتراض ضرور کرے گا کہ اے مسلمانو! جب تمہارا اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام گناہوں اور خطائوں سے معصوم ہیں تو پھر ترجمہ قرآن میں ان کو صریح غلطی پر اور بہکا ہوا کیوں لکھا ہے۔

اب آپ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

ترجمہ کنزالایمان: جب بولے کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں، بے شک ہمارے باپ صراحتاً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

4: ماکنت تدری ما الکتٰب ولاالایمان (سورۂ شوری آیت ۵۲، پارہ۲۵)

ترجمہ: تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے (مودودی)

ترجمہ: تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب اﷲ کیا چیز ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں (ڈپٹی نذیر احمد)

ترجمہ: آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب اﷲ کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان کا انتہائی کمال کیا چیز ہے (اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ: نہ تم یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے (امین احسن اصلاحی)

محترم قارئین کرام! آپ نے موجودہ اردو تراجم کو ملاحظہ فرمایا۔ مترجمین نے سیّدعالمﷺ کے بابت لکھا کہ آپ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ایمان کس کو کہتے ہیں؟ او رکتاب کیا چیز ہے؟ حالانکہ حضورﷺ جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے مگر کتب پڑھنا نہیں جانتے جوکہ رب تعالیٰ نے سکھائی مگر مترجمین نے یہاں خیانت سے کام لیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا نبی ہو ،اور ایمان کو نہ جانتا ہو، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ہاں احکام شرع کی تفصیل نہ جانتے تھے جوکہ اﷲ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ بتائیں۔ معلوم ہوا کہ تمام مترجمین کی اصل روح کو مدنظر نہیں رکھا۔

اب آپ کے سامنے چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ پیش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔

ترجمہ کنزالایمان: اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل (امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

5:ان ربکم اﷲ الذی خلق السمٰوٰت والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش (سورۂ اعراف آیت ۵۴، پارہ ۸)

ترجمہ: بے شک تمہارا پروردگار اﷲ ہے جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین پر چھ دن میں پھر بیٹھا تخت پر (عاشق الٰہی میرٹھی)

ترجمہ: بے شک تمہارا رب اﷲ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا (اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ: بے شک تمہارا رب اﷲ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر قائم ہو ا(سعودی ترجمہ)

ترجمہ: بے شک تمہارا رب وہی اﷲ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر متمکن ہوا (امین احسن اصلاحی)

ترجمہ: بے شک تمہارا رب اﷲ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر تخت پر چڑھا (نواب وحید الزماں اہلحدیث)

محترم قارئین کرام! آپ نے موجودہ اردو تراجم کو ملاحظہ فرمایا۔ تمام مترجمین نے ذات باری تعالیٰ کے متعلق محتاط انداز نہیں اپنایا بلکہ بعض مترجمین نے تخت پر بیٹھا اور تخت پر چڑھا تک لکھ دیا جوکہ کھلی گمراہی ہے جبکہ ہمارا یہ بنیادی اسلامی عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جسم و جسمانیت اور مکان سے پاک ہے تو ایسے الفاظ کا استعمال کرنا کیا اسلامی عقائد کے منافی نہیں ہیں۔

اب آپ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

ترجمہ کنزالایمان: پھر عرش پر استویٰ فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے (امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

6:وﷲ المشرق والمغرب فاینما تولوا فثم وجہ اﷲ، ان اﷲ واسع علیم (سورۂ بقرہ  آیت ۱۱۵، پارہ ۱)

ترجمہ: مشرق اور مغرب سب اﷲ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رخ کروگے، اسی طرف اﷲ کا رخ ہے  اﷲ بڑی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے (مودودی)

ترجمہ: اور اﷲ ہی کی مملوک ہیں (سب سمتیں) مشرق بھی اور مغرب بھی کیونکہ تم لوگ جس طرف منہ کرو ادھر (ہی) اﷲ تعالیٰ کا رخ ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ (تمام جہات کو) محیط ہیں، کامل العلم ہیں (اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ: اور مشرق اور مغرب کا مالک اﷲ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منہ کرو اور ادھر ہی اﷲ کا منہ ہے اﷲ تعالیٰ کشادگی اور وسعت والا بڑے علم والا ہے (سعودی ترجمہ)

ترجمہ: اور اﷲ ہی کا ہے پورب اور پچھم سو جس طرف تم منہ کرو ادھر ہی اﷲ کا سامنا ہے، بے شک اﷲ بڑی گنجائش والا خبردار ہے (عاشق الٰہی میرٹھی)

ترجمہ: اور مشرق اور مغرب کا مالک اﷲ ہی ہے پس جدھر کو منہ کرو پس وہی ہے منہ اﷲ کا۔ اﷲ کا چہرہ ہے بے شک وہ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے (نواب وحید الزماں اہلحدیث)

محترم قارئین کرام! آپ نے موجودہ اردو تراجم ملاحظہ فرمائیں۔ تمام مترجمین نے اﷲ تعالیٰ کا رخ، اﷲ کا منہ، اﷲ کا سامنا اور اﷲ تعالیٰ کا چہرہ اپنے ترجمے میں لکھ کر غیر محتاط انداز اپنایا ہے۔ رخ اور چہرے کی نسبت اﷲ تعالیٰ کی ذات کی طرف کی گئی ہے حالانکہ اﷲ تعالیٰ کی ذات سمتوں، جہتوں اور جسم و جسمانیت سے پاک ہے مگر مترجمین نے اس معاملے میں سخت غلطی کی ہے۔

اب آپ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

ترجمہ کنزالایمان: اور پورب و پچھم سب اﷲ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اﷲ ہے (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بے شک اﷲ وسعت والا علم والا ہے (امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

7:ووجدک ضآلاً فہدیٰ (سورۂ والضحیٰ آیت ۷، پارہ۳۰ )

ترجمہ: اور پایا تجھ کو راہ بھولا پس راہ دکھائی (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ: اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا (عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ: اور تم کو دیکھا کہ راہ حق کی تلاش میں بھٹکے بھٹکے پھر رہے ہو تو تم کو دین اسلام کا سیدھا راستہ دکھایا (ڈپٹی نذیر احمد)

ترجمہ: اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا راستہ بتلادیا۔ (اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ: اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی (مودودی)

ترجمہ: اور تجھے راہ بھولا پاکر ہدایت نہیں دی (سعودی ترجمہ)

ترجمہ: اور تجھے پایا بھٹکتا تو رستہ دکھا دیا (عاشق الٰہی میرٹھی)

محترم قارئین کرام! آپ نے تمام تراجم کا مطالعہ کیا۔ آپ مذکورہ میں لفظ ’’ضآلاً‘‘ استعمال ہوا ہے اس کے مشہور معنی گمراہی اور بھٹکنا ہے، چنانچہ تمام مترجمین نے مخاطب پر نوک قلم کے بجائے خنجر پیوست کردیا۔ یہ نہ دیکھا کہ ترجمہ میں کس کو راہ گم کردہ، بھٹکتا، بے خبر، راہ بھولا کہا جارہاہے۔ کیا ان جملوں میں رسول کریمﷺ کی عصمت باقی رہتی ہے یا نہیں۔ اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

کاش یہ مفسرین تفاسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد ترجمہ کرتے یا کم از کم اس آیت کا سیاق و سباق (اول تا آخر) ہی بغور دیکھ لیتے۔ انداز خطاب باری تعالیٰ پر نظر ڈال لیتے۔ ایک طرف ’’ماودعک ربک وما قلیٰ وللاٰخرۃ خیر لک من الاولیٰ‘‘ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا اور بے شک پچھلی تمہارے لئے پہلی سے بہتر ہے الخ۔ اس کے بعد ہی تاجدار کائناتﷺ کی گمراہی کا ذکر کیسے آگیا۔ آپ خودغور کریں۔ حضور کریمﷺ اگر کسی لمحہ گمراہ ہوتے تو راہ پر کون ہوتا یا یوں کہئے کہ جو خود گمراہ رہا ہو، بھٹکتا پھرا ہو، راہ بھولا ہوا ہو، وہ ہادی کیسے ہوسکتا ہے؟ اور خود قرآن مجید میں نفی ضلالت کی صراحت موجود ہے۔

ماضل صاحبکم وما غوٰی (سورۂ نجم، آیت ۲، پارہ۲۷ )

آپ کے صاحب (نبی کریمﷺ) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بے راہ چلے

جب ایک مقام پر رب کریم قرآن مجید میں گمراہی اور بے راہ روی کی نفی فرما رہا ہے تو دوسرے مقام پر خود ہی کیسے گمراہ ارشاد فرمائے گا؟

اب آپ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں جنہوں نے مقام مصطفی ﷺ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا خوب ترجمہ فرمایا ہے۔

ترجمہ کنزالایمان: اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی راہ دی (امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ)

مذکورہ بالا تمام تراجم کا مطالعہ کرنے کے بعد عوام خود فیصلہ کریں کہ تمام تراجم اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے ترجمہ قرآن بنام کنزالایمان میں امتیاز ہے۔ تمام مترجمین نے کہیں نہ کہیں اسلامی عقائد کے منافی ترجمے کئے ہیں جس کی وجہ اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

ان تراجم کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ صرف زیب و زینت اور خوبصورت پیکنگ دیکھ کر قرآن مجید کا ترجمہ مارکیٹوں سے لینے والے حضرات صرف زیب و زینت پر نہ جائیں بلکہ تراجم کی درستگی کو مدنظررکھ صرف کنزالایمان پڑھیں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص یہ کہے کہ کنزالایمان دوسرے تراجم کے مقابلے میں کچھ مشکل ہے؟ اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ تھوڑی سی محنت کرکے مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی اشرفی علیہ الرحمہ کا حاشیہ بنام ’’تفسیر خزائن العرفان‘‘ کا ساتھ ساتھ مطالعہ کریں۔ ایک رکوع ترجمہ پڑھیں پھر اس کی تفسیر خزائن العرفان پڑھیں تاکہ ترجمہ باآسانی سمجھ میں آجائے۔

اگر باوجود کوشش کہ کچھ الفاظ سمجھ میں نہ آ ئیں تو الگ سے لکھ لیں پھر اپنے علاقے کی اہلسنت کی مسجد کے عالم دین سے پوچھ لیں۔ مگر کسی صورت بھی ان غلط تراجم کو نہ پڑھیں ورنہ ایمان ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔