سورۂ آل عمران

یہ سورت ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی تیسری سورت ہے۔ یہ سورت مدنی ہے۔ اس سورت میں چودہ ہزار پانچ سو بیس حروف، تین ہزار کلمات یا تین ہزار چار سو پانچ کلمات اور دو سو آیات ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس نے جمعہ کے دن سورۂ آل عمران کی تلاوت کی۔ سورج غروب ہونے تک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر رحمت نازل فرماتے ہیں اور قیامت میں جہنم کے پل سے ہر آیت کے بدلے امان ملے گی اور یہ سورت اور سورۂ بقرہ فرشتوں کی صورت میں آکر اس کی شفاعت کریں گے۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو۔

نام رکھنے کی وجہ

اس سورت کا نام آل عمران اس لئے رکھا گیا کہ اس میں حضرت مریم علیہا السلام کے والد عمران و ان کے خاندان کا تذکرہ ہے اور اس میں اس عبادت گاہ کا تذکرہ بھی ہے جو ان کی والدہ ماجدہ نے ان کی عبادت کے واسطے بنایا تھا اور اﷲ تعالیٰ کا انہیں محراب میں رزق عطا فرمانا (یعنی حضرت مریم علیہا السلام کے لئے ہے، بے موسم پھل کاآنا، خوارق عادات (کرامات سے ہے) اور اﷲ تعالیٰ کا ان کو نیک برگزیدہ بندیوں میں شمار کرتے ہوئے اس زمانے کی اور عالمین کی عورتوں پر فضیلت دینا حضرت اسماء بنت یزید رضی اﷲ عنہا کی ایک روایت کے مطابق حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسم اﷲ الاعظم (یعنی اسم اعظم) ان دو آیتوں میں ہے والہکم الہ واحد لا الہ الا ہو الرحمن الرحیم اور اﷲ لا الہ الا ہو الحی القیوم

سبب نزول

اس سورت میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تخلیق کے متعلق بتایا گیا ہے۔

سورۂ بقرہ میں مومنین اور غیر مومنین کا حال بتایا گیا ہے جبکہ اس سورت میں فتنہ انگیزوں کی فتنہ انگیزی جو قرآن کے محکمات و متشابہات میں تاویلات کے ذریعے فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں، بتائی گئی جبکہ ’’راسخین فی العلم‘‘ کے متعلق جو کتاب کے محکمات و متشابہات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سب علم اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے۔

اس سورت میں دین پر ثابت قدم رہنے اور دعوت الی اﷲ کرنے اور آخرت کے ثواب کے متعلق بتایا گیا۔

مومنین کی فلاح ان کے ثابت قدم رہنے کو بتایاگیا۔

اس سورت میں رب تعالیٰ کی وحدانیت، حضورﷺ کی نبوت، قرآن مجید کے صدق، اہل کتاب کے شبہات کا جواب جو وہ آپﷺ اور قرآن مجید پر وارد کرتے تھے اور عند اﷲ دین اسلام کے مقبول ہونے اور عیسائیوں کا حضرت عیسٰی ں کی الوہیت پر مناقشہ اور اسلام کے بھیجے جانے پر تکذیب (جھٹلانے) کا ذکر ہے اور اس میں اہل کتاب کے کیدومکر سے بچنے کی تدابیر بھی ہیں۔

سورت کا اختتام تفکر و تدبر چاہتا ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کی تخلیق زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں عجائب و اسرار سے ہے، معلوم کرے جبکہ ساتھ ہی جہاد پر صبر اور اﷲ تعالیٰ کی راہ میں ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت اور ’’تقویٰ اﷲ‘‘ اختیار کرنے کی تلقین ہے۔

بعض احکام شرعیہ مثلا فریضہ حج اور جہاد اور سود کی حرمت اور زکوٰۃ روکنے والوں کی جزاء بعض دروس عبرت اور مواعظ اور غزوات بدر و احد کے تذکرے ہیں۔

اس سورت کی انچاسویں آیت میں مٹی سے پرند کی سی صورت بنانا پھر اس میں پھونک مار کر اس کو زندہ کردینا، مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفا عطا کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا، حضرت عیسٰی ں کے معجزات بتائے گئے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنے رب کی عطا سے مردوں کو زندہ بھی کرتے ہیں اور بیماروں کو شفایاب بھی۔

اس سورت کی آیت اکیاسیویں کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ازل میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسٰی علیہ السلام تک آنے والے تھے، تمام سے سرکار علیہ التحیہ والثناء کی نسبت عہد لیا، اس آیت میں واضح اشارہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت دنیا میں بھیجنے کے بعد نہیں دیتا بلکہ نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے۔ نبوت کا تاج پہلے سے سجا ہوتا ہے، اعلان نبوت بعد میں کیا جاتا ہے۔

حضورﷺ کے پاس بعض نصاریٰ آئے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق مخاصمت کرتے (جھگڑتے) رہے تو تقریبا ابتدائی اسی سے زائد آیات نازل ہوئیں۔ بعض روایات میں نجران کے وفد کے متعلق آیا حضورﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے جواباً کہا کہ ہم پہلے ہی آپﷺ پر ایمان لاچکے ہیں۔ ان کے جواب پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم جھوٹے ہو۔ تمہیں اسلام سے تمہارے شرک (یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرانے یا خنزیر کھانے پر صلیب کی پوجاکرنے) نے روک رکھا ہے تو انہوں نے کہاکہ پھر کون حضرت عیسٰی علیہ السلام کا والد ہے۔ اگر وہ اﷲ کے بیٹے نہیں تو؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ اﷲ تعالیٰ ’’حی یا یموت‘‘ ہے (وہ زندہ ہے اس پر موت نہیں) جبکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پر فنا آنی ہے اور اس طرح کے کئی سوالات آپﷺ نے فرمائے پھر جب سکوت فرمایا تو یہ ۸۰ سے زیادہ آیات سورۂ آل عمران کی نازل ہوئیں (بحوالہ: تفسیر مظہری، قاضی ثناء اﷲ العثمانی الحنفی)

تفصیل کے لئے تفسیر المنیر، خزائن العرفان، مظہری، اسباب نزول القرآن للواحدی ملاحظہ فرمائیں))

سورۂ نساء

سورۂ نساء مدنی ہے اس میں چودہ ہزار پانچ سو پینتیس حروف، تین ہزار سات سو پینتالیس کلمات اور ایک سو چھتر آیات ہیں۔ یہ قرآن مجید کی چوتھی سورت ہے۔

نام رکھنے کی وجہ

اس سورت میں چونکہ زیادہ تر وہ احکام ہیں جن کا تعلق عورتوں (نسائ) سے ہے اور اس کا اختتام بھی ان احکامات پر ہوا ہے جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں۔ اس وجہ سے اس کا نام سورۃ النساء رکھا گیا ہے (ابن عاشور)

سبب نزول

اس سورت کی چند آیات کا نزول غطفان قبیلے کے ایک آدمی جس کے پاس اس کا یتیم بھتیجا تھا اور اس کا باپ اس کے لئے کثیر مال چھوڑ کر گیا تھا۔ جب وہ یتیم بچہ بالغ ہوا تو اس نے اپنے چچا سے مال طلب کیا اور اس کے چچا کے منع کرنے پر یہ مسئلہ حضورﷺ کی خدمت میں پیش کیاگیا تو آیت (واتو الیتامیٰ اموالہم) نازل ہوئی تو اس کے چچا نے فورا کہا کہ ہم نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے محبوبﷺ کی اطاعت کی اور اس کی طرف مال لوٹا دیا (بحوالہ: ابن عاشور وغیرہ)

مفسرین فرماتے ہیں کہ اوس بن ثابت انصاری ثکا جب انتقال ہوا تو ان کی ایک بیوی اور تین بیٹیاں تھیں، ان کے قبیلے سے دو آدمی جن کے نام سوید اور عرفجہ تھے، وہ دونوں حضرت اوس بن ثابت ث کے چچا زاد تھے، انہوں نے میت کا مال لے لیا اور ان کے بیوی بچوں کو کچھ نہ دیا۔ حضرت اوس بن ثابت انصاری ث کی بیوی اُمّ حجُہّ حضورﷺ کی بارگاہ میں آئیں اور سارا معاملہ بیان کردیا۔ حضورﷺ نے ان کو بلوایا تو ان دونوں نے آپﷺ کی بارگاہ میں کہا کہ اس کا بیٹا نہ ابھی گھوڑے پر سواری کرسکتا ہے اور نہ ہی بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ حضورﷺ نے ان کو واپس بھیجا کہ میں انتظار کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ ان کے معاملے میں کیا وحی فرماتا ہے۔ اس وقت سورۂ مبارکہ کی ساتویں آیت کا نزول ہوا اور اس میں عورتوں اور مردوں کے میراث میں حصے کو مشروع کیا گیا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیںکہ میں جس وقت ہجرت کے پہلے سال حضورﷺ کے پاس آئی اور ماہ شوال میں حضورﷺ کی صحبت ابد قرار میں میری زندگی کے لمحات شروع ہوئے یہ سورت اس وقت نازل ہوئی۔

خلاصہ

یہ سورت چھوٹے خاندان، بڑے خاندان، مملکت اسلامیہ اور مجموعی طور پر انسانوں کے احکام سے متعلق ہے۔ پھر انسان کی منشاء (پیدائش) کہ کس طرح سے وہ نفس واحدہ سے پیدا کیاگیا پھر اسے ایک مخصوص طبقے کا رقیب و نگہبان مقرر کیا گیا کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرنے کا ظاہری اور باطنی طور پر حکم کریں۔ اس میں عورت کے زوجہ اور بیٹی ہونے کے اعتبار سے احکامات صادر ہیں اور عورت کی کمال اہلیت اور مرد کی غیر موجودگی میںاس کی مستقل مزاجی اور مرد کے مالی معاملات کی ذمہ داری کا تذکرہ ہے۔ اسی طرح مردوںکو یہ حکم کہ عورتوں سے حسن معاشرت کریں۔ ان کا مہر ان کا نفقہ، میراث و ترکہ چاہے اس کے شوہر کی طرف سے ہویا باپ کی طرف سے اس کا حق ادا کرے اس میں علاقۂ زوجیت کی تقدیس اور ازدواجی زندگی کے احکام سکھائے گئے ہیں۔ نیز محرمات اور مصاہرت کے علاقے بتائے گئے ہیں اور اگر میاں بیوی کے درمیان نزاع (جھگڑا) ہوجائے تو اس کے رفع کرنے کے طریقے تعلیم کئے گئے ہیں اور مرد کی عورت پر فوقیت کا سبب بتایا ہے۔ اس میں ایک دورے کو نصیحت کرنا، آپس میں تعاون اور تراحم کی فضا کو بحال رکھنا، ایک دوسرے کی کفالت کرنا اور امت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے اخلاق اور معاملات کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیزلوگوں کی ذہنی کجی کو جو عقیدۂ توحید میں تثلیث کے ذریعے نصاریٰ نے پیدا کی تھی، اس کا رد بھی موجود ہے۔

اس سورت کی انسٹھویں آیت میں اﷲ تعالیٰ، رسول اکرمﷺ اور صاحب امر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ صاحب امر سے مراد علمائے حق ہیں۔ ان کی بھی اطاعت کا حکم ہے۔ اطاعت کے مرادی معنی تقلید کے ہیں، صاحب امر میں ائمہ مجتہدین اور علمائے حقہ شامل ہیں (گویا منکرین تقلید کے لئے مقام غور ہے)

اس سورت کی چونسٹھویں آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بارگاہ رسالتﷺ میں جانے کا حکم دیاہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ گناہوں کے مریضوں، دکھ درد کے ماروں کو ایک شفا خانے کا پتہ بتایا ہے اور یہ حکم قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے ہے۔ مزید فرمایا کہ گنہ گار میرے محبوبﷺ کی بارگاہ میں آکر مجھ سے توبہ کریں بلکہ یہی نہیں میرا محبوبﷺ بھی تمہاری سفارش کرے تو اﷲ تعالیٰ کو ضرور توبہ قبول فرمانے والا پائیں گے۔

اس سورت کی آیت ایک سو تین میں حکم دیا گیا کہ جب تم نماز پڑھ چکو تو اﷲ تعالیٰ کی یاد کرو۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ دعا مانگنا بھی اﷲ تعالیٰ کی یاد ہے لہذا فرض، نوافل اور ہر نماز چاہے نماز جنازہ ہو، اس کے بعد دعا مانگنا حکم الٰہی ہے۔

اور مسلمانوں کی جماعت کے درمیان معاملات، اموال، خون بہا اور قتل عمدہ خطا اور ظالم پر دفاع کے حقوق کی اصل بیان کی گئی ہے۔ نیز نفس کی خواہشات سے تحذیر اور شراب کی حرمت کی تہمید اسی سورت میں ہے (ابن عاشور)

مزید تفصیل کے لئے تفسیر منیر، خزئن العرفان، اسباب نزول القرآن للواحدی وغیرہا ملاحظہ فرمائیں))