سید عالم نور مجسمﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لئے عملی نمونہ ہے۔ آپﷺ کی ہر ہر ادا حکمت و فلاح کا راستہ ہے۔ ہر ہر سنت ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ حضور کریمﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت عمامہ شریف ہے۔ جسے اہل عرب کا وقار اور عزت قرار دیا گیا۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ساری زندگی عمامہ کا تاج اپنے سر انور پر سجایا۔ کبھی آپﷺ نے سفید، کبھی سیاہ، کبھی زرد اور کبھی سبز عمامہ باندھا۔

ان چار رنگوں کے عمامے احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔ موجودہ پرفتن اور مادیت کے دور میں سبز عمامے کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ سبز رنگ کا عمامہ سنت نہیں ہے۔ احادیث سے ثابت نہیں ہے لہذا سبز عمامہ باندھنا بدعت ہے۔ یہ پروپیگنڈہ کرکے نادان اور علم سے بے بہرہ لوگ مسلمانوں میں فتنہ برپا کرتے ہیں۔ لہذا ہم نے مناسب سمجھا کہ احادیث اور مستند کتابوں کی روشنی میں سبز عمامے کو سنت ثابت کیا جائے۔

اہل جنت کا لباس سبز ہوگا

ارشاد باری تعالیٰ ہے

یحلون فیہا من اساور من ذہب ویلبسون ثباباً خضراً من سندس واستمراق

وہ اس (جنت) میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز کپڑے کے …اور… کے پہنیں گے‘‘ (۱۵/۱۷ سورۃ الکہف آیت نمبر ۳۱)’’

امام قرطبی علیہ الرحمہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں کہ:

وخص الاخضر بالذکر کرلانہ الموافق للمصر

اور سبز رنگ کا خصوصی طور پر اس لئے ذکر فرمایا ہے کہ وہ بینائی کے زیادہ موافق ہے‘‘ (الجامع الاحکام القرآن جلد ۱۰ ص ۳۴۴)’’

محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ سبز رنگ کی طرف نظر کرنا بینائی کو زیادہ کرتا ہے (ضیاء القلوب ص ۳)

امام اسماعیل حقی علیہ الرحمہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اہل جنت کپڑوں کا رنگ اس لئے سبز ہوگا کہ سبز رنگوں میں زیادہ حسین تر اور تازگی میں بکثرت اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے (تفسیر روح البیان جلد ۵ ص ۲۴۳)

محدث جلیل ملا علی قاری علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں ’’سبز رنگ کے کپڑے اہل جنت کے لباس سے ہیں اور اس کے لئے یہی شرف کافی ہے‘‘ (جمع الوسائل جلد ۱ص ۱۴۴، مرقاۃ المفاتیح جلد ۴ ص ۴۱۵)

دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

علیہم ثیاب سندس خضر و استمرق

ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے اور قتادیز کے‘‘ (پارہ ۲۹ سورۃ الدھر آیت ۲۱)’’

امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ سبز رنگ کے کپڑے اہل جنت کا لباس ہوں گے (تفسیر ابن کثیر جلد ۶ ص ۳۶۵)

وہابیہ دیوبندیہ کے محقق سید امیر علی نے بھی یہی لکھا ہے (تفسیر مواہب الرحمن جلد ۹ ص ۶۔۴۳۵)

حضور اکرمﷺ کا پسندیدہ رنگ سبز

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’رسول اﷲﷺ کو سبز رنگ بہت ہی زیادہ پسند تھا‘ (تفسیر مظہری جلد ۲ ص ۳۳، مرقاۃ المفاتیح جلد ۴ ص۴۱۵ )

حجۃ الاسلام امام غزالی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ آپﷺ کو سبز کپڑے پسند تھے (احیاء العلوم جلد ۲ ص ۳۳۵)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ ’’آنحضرتﷺ کو سفید رنگ کے بعد سبز رنگ بہت ہی زیادہ پسند تھا‘‘ شرح سفر السعادۃ ص ۴۳۱، کتب فقہ میں سبز لباس کو سنت لکھا ہے (مجمع الانہار جلد ۲ ص ۵۴۳۲، بدر المتقی جلد ص ۵۴۳۲، رد المحتار جلد ۵ ص ۲۴۷)

حضور اکرمﷺ کا سبز چادر میں طواف کعبہ فرمانا

حضرت ابن امیہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اضطباع کئے ہوئے سبز چادر زیب تن کئے طواف فرمایا

(سنن ابو دائود جلد ۲ ص ۲۵۹، مشکوٰۃ المصابیح ص ۲۲۸، سنن کبریٰ بیہقیجلد ۵ ص ۷۹، بلوغ المرام ص ۵۴، مصابیح السنۃ جلد ۲ ص ۲۵۱)

حضور اکرمﷺ کا سبز چادر زیب تن فرمانا

حضرت ابو رمشہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو دو سبز چادریں پہنے ہوئے دیکھا۔

(جامع ترمذی جلد ۲ ص ۱۰۹، سنن ابو دائود، جلد ۲ ص ۲۰۶، سنن نسائی جلد ۲ ص ۱۶۳، مشکوٰۃ المصابیح ص ۳۷۶، مصابیح السنۃ جلد ۳ ص ۲۰۲، شرح السنۃ جلد ۱۲، ص ۲۱، مسند امام احمد جلد ۶ ص ۸۹)

حضرت ابو رمشہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ دو سبز کپڑے پہنے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے (سنن نسائی جلد ۲ ص ۲۵۳)

دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی نے بھی حضور اکرمﷺ کی دو سبز چادروں کا ذکر کیاہے (نشر الطیب ص ۷۔۲۲۶)

ہجرت کی رات سبز چادر

ہجرت کی رات رسول اعظمﷺ نے سرکار حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو فرمایا کہ میرے بستر پر سوجائو اور میری اس حضری چادر کو اوڑھ لو (سیرۃ النبویہ ابن ہشام جلد ۲ ص ۲۲۲، تاریخ کامل ابن ایثر جلد ۲ ص ۹)

حضور اکرمﷺ کی رفرف کا رنگ سبز تھا

حضور اکرمﷺ نے اپنے معجزہ معراج شریف کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’اس کے بعد میرے لئے سبز رنگ کی رفرف بچھائی گئی جس کا نور آفتاب کے نور سے غالب تھا اس سے میری آنکھوں کانور چمکنے لگا (مدارج النبوت فارسی جلد ۱ ص ۱۶۹)

خواب میں اذان سکھانے والے شخص کا لباس سبز تھا

حضرت عبداﷲ بن زید انصاری رضی اﷲ عنہ نبی کریمﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲﷺ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا ایک شخص دو سبز چادریں اوڑھے ایک دیوار کے ٹکڑے پر کھڑا ہوا اور اس نے اذان و اقامت کہی الخ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۱ ص ۲۳۱، سنن کبریٰ بیہقی جلد ۱ ص ۴۲۰)

اس حدیث کو دیوبندی محقق انوار خورشید نے بھی نقل کیا ہے (حدیث اور اہل حدیث صفحہ ۲۵۹) وہابیہ کے امام ابن جزم نے اس روایت کو اعلیٰ درجے کی صحیح قرار دیا ہے (المحلی بالآثار جلد ۳ ص۱۵۸ )

مقام محمود پر امام الانبیائﷺ کا لباس سبز ہوگا

رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب لوگ روز قیامت قبروں سے نکلیں گے میں اپنی امت کو لے کر ایک ٹیلے پرپہنچوں گا وہاں میرا رب تعالیٰ مجھے سبز حلہ پہنائے گا۔ پھر اجازت ملنے پر اﷲ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کروں گا جو اﷲ تعالیٰ چاہے یہی مقام محمود ہوگا (تذکرۃ الحفاظ جلد ۲ ص۵۰۹ )

حضور اکرمﷺ وفود سے ملاقات کے وقت سبز کپڑا زیب تن فرماتے

محدث ابنجوزی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ’’اور آپﷺ کا ایک سبز کپڑا تھا جس کو وفود کی آمد کے وقت زیب تن فرماتے تھے‘‘ (الوفا باحوال المصطفیٰ جلد ۲ ص ۵۶۸ طبع فیصل آباد)

جبرائیل امین کا لباس سبز

رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جبرائیل امین میری بارگاہ میں سبز لباس میں حاضر ہوئے‘‘ (کشف الغمہ جلد ۱ ص ۱۸۴ از امام عبدالوہاب شعر انی)

فرشتوں کے سبز عمامے

حدیث شریف: ہشیم، حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بدر کے روز فرشتوں کی علامت سفید عمامے تھے جنہیں وہ اپنے پشتوں کی جانب چھوڑے ہوئے تھے اور حنین کے روز سبز عمامے تھے۔ روز بدر کے علاوہ کسی دن بھی فرشتوں نے قتال نہ کیا۔ وہ تو محض تعداد بڑھانے اور مدد کے لئے ہوتے، وار نہ کرتے۔

(دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی رقم الحدیث ۳۹۴ وقد ذکر فی معالم التنزیل للبغوی جلد ۳ ص ۳۳۳ ولباب التاویل فی معانی التنزیل للخازن جلد ۳ ص ۱۶۷، والتفسیر الوسیط للطنطاوی ص ۱۷۸۹)

مہاجرین اولین کے سبز عمامے

حضرت سلیمان بن ابی عبداﷲ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے مہاجرین اولین کو سیاہ، سفید، سرخ، سبز اور زرد اونی عمامے پہنتے پایا۔ ان میں سے ایک شخص عمامہ کو اپنے سر پر رکھتا اور ٹوپی کو عمامہ کے اوپر رکھتا، پھر عمامہ کو یوں گھماتا، یعنی اس کے پیچ پر، اسے اپنی تھوڑی کے نیچے سے نہ نکالتا (اخرجہ ابن ابی شیبہ الکوفی فی المصنف جلد ۶ ص ۴۸، مطبوعہ لاہور، بسندر رجالہ تقات وابن راہویہ فی المسند جلد ۳ ص ۸۸۲۔  (۸۸۳

مسئلہ: پگڑی باندھنے میں سنت یہ ہے کہ سفید ہو کسی دوسرے رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ اور آنحضرتﷺ کی دستار مبارک (عمامہ شریف) اکثر سفید ہوا کرتی تھی اور کبھی سیاہ پگڑی اور بعض اوقات سبز (ضیاء القلوب فی لباس المحبوب ص ۱، محقق شاہ عبدالحق دہلوی)

حضورﷺ کو سبز رنگ محبوب تھا

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے نزدیک محبوب ترین لباس یہ تھا کہ آپﷺ جرہ زیب تن فرمائیں (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۸۶۵)

اس جرہ چادر سے آپﷺ کو کفن دیا گیا (بخاری جلد ۲ ص۸۶۵ )

بخاری شریف کے حاشیہ میں امام دائودی نے جرہ کا رنگ اور اس کی وجہ محبوبیت یوں بیان کی ہے جرہ کا رنگ سبز تھا اور محبوب اس لئے کہ یہ اہل جنت کا لباس ہے (حاشیہ بخاری جلد دوم ص۸۶۵ )

محدث جلیل ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ آپﷺ کو وہ کپڑا اس لئے پسند تھا کہ اس میں سبز رنگ پایا جاتا تھا اور یہ بھی اہل جنت کا لباس ہے۔ یہ محبوب ہونے کی وجہ ہے (مرقاۃ المفاتیح جلد ۸ ص ۲۳۴)

حضرت عیسٰی علیہ السلام کا سبز عمامہ

شیخ مورخ یوسف بن یحییٰ بن علی المقدسی الشافعی السلمی (المتوفی ۶۸۵ھ) عقد الدر رضی اخبار المنتظر میں رقم طراز ہیں۔

پھر اﷲ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارنے کا حکم فرمائے گا اور آپ علیہ السلام دوسرے آسمان پر ہیں۔ پس جناب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آکر عرض کریں گے۔ اے روح اﷲ اور کلمۃ اﷲ! آپ کا پروردگار جل جلالہ آپ کو زمین کی طرف اترنے کا حکم فرماتا ہے۔ پس حضرت عیسٰی علیہ السلام اس حال میں نزول فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور آپ علیہ السلام کا عمامہ (پہنے) ہوں گے (عقد الدر فی اخبار المستنظر ص۶۰ )

حضرت امام مناوی علیہ الرحمہ ’’فیض القدیر شرح الجامع الصغیر‘‘ جلد تیسری ص ۷۱۸ رقم طراز ہیں پھر جناب عیسٰی علیہ السلام زمین کی جانب اتریں گے جبکہ آپ علیہ السلام سبز عمامہ پہنے، گلے میں تلوار لٹکائے، اپنے گھوڑے پر سوار ہوں گے اور آپ علیہ السلام کے دست اقدس میں برچھی ہوگی۔ پس آپ علیہ السلام دجال کے پاس آکر اسے اس برچھی سے مار کر قتل فرمادیں گے۔

غزوہ حنین میں فرشتوں کا سبز عمامے باندھے نزول فرمانا

حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔

کانت سیماء الملائکۃ یوم بدر عمائمہ بیض قدر ارسلوہا الی ظہورہم ویوم حنین عمائم خضر

(دلائل النبوت لابی نعیم جلد ۲ ص ۴۷۴، تفسیر خازن جلد ۲ ص ۱۸۲، تفسیر معالم التنزیل جلد ۳ ص ۱۵، تفسیر الوسیط طنطاوی (زیر آیت انفال) سیرت حلبیہ جلد ۲ ص ۱۷۶، مجمع الزوائد جلد ۶ ص ۸۳)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ :

’’جبرائیل علیہ السلام پانچ سو فرشتوں کے ساتھ اور میکائیل علیہ السلام پانچ سو فرشتوں کے ساتھ انسانی شکل و صورت میں ابلق گھوڑوں پر سوار اترے اس وقت ان کے جسموں پر سفید لباس اور ان کے سروں پر سفید عمامے اور روز حنین سبز عمامے تھے‘‘ (مدارج النبوت فارسی جلد ۲ ص ۹۳)

دیوبندیوں کے معروف محقق محمد یوسف کاندھلوی لکھتے ہیں:

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ فرشتوں نے لباس یوم بدر میں سفید عمامے تھے جن کے شملوں کو اپنی حیثیت پر چھوڑ رکھا تھا اور یوم حنین میں سبز عمامے تھے (حیات الصحابۃ جلد ۳ ص ۵۹۸دہلی)

صحابی حضرت رفاعہ رضی اﷲ عنہ کی بیوی کی اوڑھنی سبز

امام بخاری علیہ الرحمہ نے باب الثیاب الخضر کے تحت ایک حدیث نقل فرمائی ہے جس میں حضرت رفاعہ رضی اﷲ عنہ اور ان کی بیوی کا واقعہ درج ہے۔ اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ اس عورت پر سبز اوڑھنی تھی (صحیح بخاری جلد دوم ص ۸۶۶)

اگر یہ رنگ منع ہوتا کہ حضور اکرمﷺ منع فرما دیتے، منع نہ فرمانا یقینا جواز کی دلیل ہے۔

حضور اکرمﷺ کا سبز عمامہ باندھنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی زبانی

شیخ محقق علی الطلاق شیخ عبدالحق دہلوی علیہ الرحمہ کہتے ہیں:

دستار مبارک آنحضرتﷺ اکثر اوقات سفید بود گاہے دستار سیاہ و احیانا سبز

آنحضرتﷺ کی دستار مبارک اکثر اوقات سفید کبھی کبھی سیاہ رنگ اور کبھی کبھار سبز رنگ کی ہوتی تھی‘‘ (کشف الالتباس ص ۳ طبع دہلی، ضیاء القلوب مع خلاصۃ الفتاویٰ جلد ۳ ص۱۵۳ )’’

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ  کے پوتے

حضرت قاسم رضی اﷲ عنہ کا سبز عمامہ باندھنا

دیوبندی محقق و مورخ معین الدین ندوی لکھتے ہیں:

عمامہ آپ کا سفید ہوتا تھا زعفرانی رنگ زیادہ پسند خاطر تھا۔ کبھی کبھی سبز بھی استعمال کرتے تھے‘‘ (تابعین ص۳۶۵ )’’

یہ تمام دلائل مستند کتب سے آپ کی خدمت میں پیش کئے جس سے یہ بات واضح ہوگئی۔ سبز عمامہ باندھنا فقط ایک گروہ کا شعار اور پہچان نہیں بلکہ یہ سنت ہے۔ اس کو بدعت کہنے والے علم سے بے بہرہ ہیں۔ اگر وہ کچھ علم حاصل کرلیتے تو کبھی ایسا فتویٰ نہ لگاتے۔ اب آپ کی خدمت میں اکابر دیوبند کی کتب سے سبز عمامے کا جواز ثابت کریں گے۔

سبز عمامہ کا دیوبندی اکابر سے ثبوت

قارئین کرام! ہم بحمدﷲ سبز عمامہ کا حضور اکرمﷺ اور صحابہ کرام اور تابعین عظام سے ثبوت پیش کردیا ہے۔ اب ہم اتمام حجت کے واسطے خود دیوبندی اکابر کی عبارات سے سبز عمامہ کا اثبات نقل کریں گے۔ ان میں سے بعض دیوبندی اکابر کی عبارات گزشتہ اوراق میں نقل کی جاچکی ہیں۔

حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی

دیوبندی اکابر کے پیرومرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی نے حضور اکرمﷺ کی خواب میں زیارت  کے حصول کا طریقہ یوں بیان کیا ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد پوری پاکی سے نئے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر ادب سے مدینہ منورہ کی طرف منہ کرکے بیٹھے، اور خدا کی بارگاہ میں جمال مبارک آنحضرتﷺ کی زیارت حاصل ہونے کی دعا کرے اور دل کو تمام خیالات سے خالی کرکے آنحضرتﷺ کی صورت کا سفید شفاف کپڑے اور سبز پگڑی اور منور چہرہ کے ساتھ تصور کرے۔ اور الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ کی داہنے اور الصلوٰۃ والسلام علیک یا نبی اﷲ کی بائیں اور الصلوٰۃ والسلام علیک یا حبیب اﷲ کی ضرب دل پر لگائے اور متواتر جس قدر ہوسکے درود شریف پڑھے… انشاء اﷲ مقصد حاصل ہوگا۔

(ضیاء القلوب مشمولہ کلیات امدادیہ ص ۶۱ طبع کراچی)

اس سے دو چیزیں واضح ہوئیں۔

                 (1)حضور اکرمﷺ کا سبز عمامہ باندھنا حق ہے۔

                 (2)الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ بناوٹی درود نہیں ہے بلکہ اس کے ورد سے حضور اکرمﷺ کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔

مدرسہ دیوبند میں سبز عمامہ سے دستار بندی

دیوبندی ترجمان ماہنامہ الرشید کے دارالعلوم دیوبند نمبر میں مرقوم ہے کہ ۱۲۹۰ھ / ۱۸۷۳ء سے انتظامیہ نے دستار بندی اور عطائے سندکا سلسلہ شروع کردیا۔ دارالعلوم کے سرپرست فارغ التحصیل طلبہ کے سر پر اپنے ہاتھ سے سبز دستار باندھتے اور سند عطا فرماتے تھے (ماہنامہ الرشید دارالعلوم دیوبند نمبر ص ۵۵۱)

انورشاہ کشمیری کا سبز عمامہ باندھنا

دیوبندی محدث العصر انور شاہ کشمیری کے متعلق ان کی سوانح میں مرقوم ہے کہ اس حسین اور پرکشش جسم پر جب موسم سرما آتا، سبز عمامہ زیب سر اور سبز قبا زیب بدن کرتے تو ایک فرشتہ انسانوں کی اس دنیا میں چلتا پھرتا نظر آتا (حیات کشمیری (نقش دوام) ص۷۵ )

مہتمم مدرسہ دیوبند کا سبز عمامہ باندھنا

دیوبندی ابن الحسن عباسی رقم طراز ہیں:

’’میں اٹھنے ہی والا تھا کہ ایک سبز رنگ کا پٹکا باندھے آئے اور سلام کرکے بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا آپ کی تعریف؟ بولے کہ میں مہتمم ہوں اور تین بڑے بڑے رجسٹر میرے سامنے رکھ دیئے اور بتلایا کہ یہ سال بھر کے آمدوصرف کا حساب‘‘ (دینی مدارس ص ۸۵)

یہ عبارت تاریخ دارالعلوم دیوبند از مولوی محبوب اور ماہنامہ الرشید دارالعلوم دیوبند نمبر میں بھی موجود ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ان میں ابتدا کی جملہ سبز پٹکا کی جگہ یوں ہے ’’ایک صاحب سبزہ رنگ آئے‘‘ تاریخ دارالعلوم دیوبند جلد ۱، ص ۱۸۰، ماہنامہ الرشید دارالعلوم دیوبند نمبر۱۹۵ ))

خلیل احمد انبیٹھوی کا سبز عمامہ باندھنا:

دیوبندی محدث خلیل احمدانبیٹھوی کے متعلق دیوبندی محقق و مورخ عاشق الٰہی میرٹھی لکھتے ہیں

’’عمامہ حضرت متوسط طول کا باندھتے تھے مگر نہایت خوبصورت شملہ دو سوا دو بالشت پیچھے چھوڑتے اور اکثر مشروع بھاگلپوری کا سبز یا کالا ہوتا تھا۔ ہمیشہ آپ کھڑے ہوکر عمامہ باندھتے‘‘ (تذکرۃ الخلیل ص ۳۶۲ طبع کراچی)

حسین احمد مدنی کی سبز عمامہ سے دستار بندی

دیوبندی مذہب کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی خود اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ مجھ کو ایک عمامہ سبز حسب اصول مدرسہ (دیوبند) از دست حضرت شیخ الہند بندھوایا گیا (نقش حیات جلد ۱، ص ۱۴۷، طبع کراچی)

دیوبندی سوانح نگار فرید الوحیدی اپنے دیوبندی شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کے حلیہ میں رقم طراز ہیں کہ ’’سر پر سبز رنگ کا عربی انداز کا اونی رومال جسم پر کتھئی رنگ کا عربی مصلح (عبائ)‘‘ (شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ایک تاریخی و سوانحی مطالعہ ص ۷۹۵)

عبدالستار تونسوی کی سبز عمامہ سے دستار بندی

مولانا محمد حسین صاحب نے مناظر اعظم تنظیم اہل سنت علامہ (عبدالستار) تونسوی کے سر پر سبز رنگ کی دستار بندھوائی (بے نظیر و لاجواب مناظرہ ص ۲۲۰)

سلیم اﷲ خان

دیوبندی شیخ الحدیث سلیم اﷲ خان لکھتے ہیں:

’’رسول اﷲﷺ کو سبز رنگ سب سے زیادہ پسند تھا لہذا سبز رنگ کی پگڑی کو دوسرے رنگوں پر ترجیح دیئے بغیر اگر کوئی استعمال کرتا ہے تو جائز ہے‘‘ (کشف الباری جلد ۱، ص ۱۷۳، کتاب اللباس)

سبز عمامے والے کے پیچھے نماز جائز ہے، دیوبند کا فتویٰ

سوال: اماموں کو سبز یا نارنجی عمامہ باندھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: سبز یا نارنجی رنگ کی شرعاً ممانعت نہیں ہے لہذا اس (سبز عمامے والے امام) کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۳ ص ۷۔۱۹۶)

دیوبندی محقق و شارح ترمذی محمد سعید پالن پوری کے افادات پر مرتب کتاب تحفۃ الائمعی شرح سنن ترمذی میں مرقوم ہے :

’’پگڑی کسی بھی رنگ کی باندھنا جائز ہے نبیﷺ نے سیاہ پگڑی بھی باندھی ہے۔ ہری (سبز) بھی اور سفید بھی، پس لال پگڑی تو مناسب نہیں، باقی جس رنگ کی چاہے باندھ سکتا ہے‘‘ (تحفہ الالحمعی شرح سنن ترمذی جلد ۵، ص ۷۰، طبع کراچی)

دیوبندی مذہب کے شیخ الاسلام جسٹس مفتی تقی عثمانی صاحب رقم طراز ہیں کہ حضور اقدسﷺ سے سفید عمامہ پہننا بھی ثابت ہے اور سیاہ عمامہ پہننا بھی ثابت ہے اور بعض روایات میں سبز عمامہ پہننا بھی ثابت ہے (اصلاحی جماعت جلد ۵، ص ۳۰۷ طبع کراچی)

اصلاحی خطبات کے جدید ایڈیشن میں سبز عمامہ کے اثبات کی عبارت کو دیوبندیوں نے نکال کر تحریف وبددیانتی کا ثبوت دیا ہے۔

ہوشیار اے سنی مسلمان ہوشیار

دیوبندی مبلغ طارق جمیل کہتے ہیں

آپﷺ کا رنگ سفید تھا، جس میں سرخی ملی ہوئی تھی ، پگڑی کون سی باندھتے تھے؟ سفید، سیاہ اور سبز تینوں پگڑیاں باندھتے تھے (خطبات جمیل جلد ۲ ص ۱۰۳، طبع گوجرانوالہ)