شیخ الاسلام مولانا شاہ انواراللہ فاروقی حیدرآبادی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, October 2011, د ر خشا ں ستا ر ے, علامہ فصیح الدین نظامی

امیرِ جماعت اہلسنت حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری الجیلانی کے والد ماجد کا نام حضرت سید شاہ حسین قادری علیہ الرحمہ بن سید شاہ محی الدین قادری بن سید شاہ عبداﷲ قادری بن سید شاہ مہراں قادری ہے اور والدہ ماجدہ کا سلسلہ نسب فاروقی ہے۔ اپنے وقت کے جید عالم دین، مفتی نکتہ رس، مفسر بلند نظر، محدث متبحر، مجدد وقت، مصلح امت حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ انوار اﷲ فاروقی حیدرآبادی علیہ الرحمہ سے حضرت شاہ صاحب کا ننھیال ہے۔ جن کے تبحر علمی کا اندازہ ان کی کتابوں اور خدمات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

اس ماہنامہ میں ہم قارئین کی خدمت میں حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری صاحب کے ننھیال کے بزرگ کا تفصیلی تعارف و خدمات پیش کررہے ہیں۔ جسے پڑھ کر آپ اندازہ لگائیں کہ حضرت شاہ صاحب قبلہ کے ننھیال میں کیسی عظیم شخصیت گزری ہے۔

شیخ الاسلام مولانا انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ جامعہ نظامیہ (۱۲۶۴ھ/۱۳۳۶ھ) کا شمار سابق ریاست آصفیہ کی ایسی ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم و فضل، اخلاص واختصاص سے جنوبی ہند کے علاقے کو تاریخ عالم میں جادواں بنادیا۔ آپ کابل (افغانستان) کی معزز ترین ہستی حضرت شیخ شہاب الدین علی المعروف بہ فرخ شاہ کابلی الفاروقی علیہ الرحمہ کے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ تجدید و احیائے دین کا آفتاب جہاں نصف النہار پر تھا اور مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ (۱۵۶۴/۱۶۲۴) شیخ کبیر بابا فرید الدین شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ (۱۲۶۵ئ) جیسے اکابرین اس گھرانے نے دنیا کو عطا کئے تھے جن کے فیوضات علمی و عملی و خاندانی کا سرچشمہ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ذات گرامی تھی۔ حضرت شیخ الاسلام نے ۴ ربیع الثانی ۱۲۶۴ھ کو حضرت ابو محمد شجاع الدین فاروقی علیہ الرحمہ کے خانوادے میں بمقام ناندیڑ آنکھیں کھولیں۔ حضرت یتیم شاہ مجذوب علیہ الرحمہ کی بشارت اور مادر مہربان کے قبل ولادت خواب میں رویت النبی الخاتمﷺ بصورت تلاوت کلام مبین کی تعبیر جمیل، جلیل القدر اساتذہ فضل و کمال اور شیوخ سلوک و تصوف کی صحبت با فیض کے اثر سے ایک صاحب بصیرت عالم، باخبر مصلح اور وسیع النظر مصنف میں ڈھل گئی۔ ایک طرف علم و معرفت کا حسین سنگم (جامعہ نظامیہ) آپ کی اشاعت علوم نبوت کا علمی نشان بن گیا تو دوسری ’’کتب خانہ آصفیہ‘‘ (موجودہ اسٹیٹ سینٹرل لائبریری) کے قیام میں کلیدی و بنیادی رول اور تیسری طرف بین الاقوام والملل تحقیقی و ثقافتی مذاق کو فروغ دینے والی اکیڈمی ’’دائرۃ المعارف العثمانیہ‘‘ کی تاسیس آپ کے کتابی ذوق کی پہچان اور تحقیقی کردار کو اجاگر کرتا ہے تو چوتھی طرف مروجہ بے جا رسومات و خرافات کا انسداد، اصلاح نفس و اصلاح معاشرہ اور دینی تعلیم کو عام کرنے میں مصلحانہ جدوجہد اور داعیانہ کوشش وسعی نے آپ کو مصلحین امت کی صف میں شامل کرکے صاحب کار نہیں بلکہ صاحب کارنامہ بنادیاہے۔

حضرت شیخ الاسلام نے علوم و فنون کے جوہر علامہ عبداﷲ یمینی، علامہ فیاض الدین اورنگ آبادی، حضرت عبدالحلیم فرنگی محلی، حضرت عبدالحئی فرنگی محلی، شیخ العرب والعجم حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی، حضرت قاضی ابو محمد شجاع الدین الفاروقی علیہم الرحمہ جیسے ارباب علم و فضل سے حاصل کئے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت و علمیت میں ایسے کامل اور ان کی حیات کا ہر جز اس درجہ وسیع و بسیط ہے کہ دیکھنے والے کی فکر ونظر اس کی وسعتوں میں گم ہوکر رہ جاتی ہے۔ وہ جید عالم دین، مفتی نکتہ رس، مفسر بلند نظر، محدث متبحر، مجدد وقت اور مصلح امت ھے۔

حضرت شیخ الاسلام، علم و فضل، حکم و انکساری، فراست و تدبر جیسے جواہر حیات سے مزین ہونے کی وجہ سے عوام اور سلطنت آصفیہ کے آخری تاجدار نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع دونوں کے ہاں مقبول اور ممتاز مقام کے حامل تھے۔ چنانچہ آصف سادس اور آصف سابع بوجہ رشتہ تلمذ کے نہ صرف قدرداں و مداح تھے بلکہ اصول سلطنت تدبیر مملکت، نظم و نسق عامہ، اصلاح معاشرہ کی تدابیر، محکمہ امور مذہبی کی تنظیم جدید، شرعی قوانین و احکام کے نفاذ ہر موقع پر آپ سے مشاورت اوراس پر عمل آوری کے لئے دل و جان سے سعی کرتے۔ چنانچہ آصف سابع فارسی کلام میں اپنے اساتذ کے بارے میں فرماتے ہیں:

با ادب سر راگوں کردہ بہ پیش عالمے

از علوم دیں نگر ما استفادہ کردہ ایم

امام محمد انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ کے اکابرین نے پچھلی صدیوں میں اعلیٰ مذہبی و دینی خدمات کے تسلسل کو اپنے خاندانی روایات کے امتیاز کے ساتھ باقی و قائم رکھا۔ مورخین نے ان تمام شخصیات کی خدمات وخطابات کو تاریخ میں اس طرح درج کیا ہے جس سے ان کے اعلیٰ علمی مراتب کا پتہ چلتا ہے۔

قاضی الملک حضرت الشیخ قاضی محمد عبدالملک فاروقی اول ’’شمس الاسلام،‘ حضرت قاضی محمد سلیمان فاروقی علیہ الرحمہ ’’برہان الاسلام‘‘ حضرت قاضی عبدالملک فاروقی ثانیہ علیہ الرحمہ ’’حسام الاسلام‘‘ حضرت قاضی محمد عبدالصمد فاروقی علیہ الرحمہ ’’مدارالاسلام‘‘ حضرت قاضی محمد مسیح الدین فاروقی رحمتہ اﷲ علیہ ’’عماد الاسلام‘‘ برہان الشریعہ حضرت قاضی محمد بدیع الدین فاروقی اول ’’فخر الاسلام‘‘ حضرت قاضی محمد مسیح الدین فاروقی ثانی علیہ الرحمہ ’’تاج الشریعہ‘‘ حضرت قاضی ابو محمد شجاع الدین فاروقی علیہ الرحمہ ’’میر عدل‘‘ حضرت ابو البرکات محمد انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ ’’شیخ الاسلام‘‘

(از شجرۂ قدیم مخزونہ جناب محمد صفی الدین فاروقی)

برصغیر کے عظیم مصلح و مجدد

پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان کی سرزمین پر مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لئے رشد وہدایت اور تصنیف و تالیف کی شمعیں فروزاں کرنے میں امام الہند حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ ممتاز مقام کے حامل ہیں۔ انہوں نے گرچہ کبھی بھی مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں فرمایا، لیکن تجدید و اصلاح کا پورا سامان مہیا فرمادیا تھا۔ قوم کی اخلاقی، معاشرتی، ملی، سماجی، روحانی قباحتوں کو انہوں نے بے نقاب کرنے میں کتابیں تصنیف کیں اور ملک میں قرآن فہمی و درس حدیث نبوی کے شیریں چشمے جاری فرمادیئے۔ پھر ان کے جانشین حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اس کاروان کو آگے بڑھایا۔ ان دونوں شخصیتوں کے بعد جس جامعیت سے اسلامی تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون کے پیش قیمت سرمایہ کا تحفظ و فروغ ور زندگی کے ہر شعبہ میں قوم و ملت کی رہنمائی کے لئے جو شخصیت ہمارے سامنے آتی ہے وہ حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوار اﷲ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کی عبقری شخصیت ہے جس نے اپنی ساری زندگی قومی خدمات کے لئے وقف کردی۔ ایسے دور میں مجددانہ اور مجاہدانہ کردار پیش کرنے اور مسلمانوں کی دینی و ملی رہنمائی کے لئے مذہبی دانشور اور مفکر علماء و مشائخ سامنے آئے جن میں بطور خاص مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نامور ہوئے لیکن سرزمین دکن پر جہاں قطب شاہی، عادل شاہی سلطنتوں کے تعیشات کو جاگیردارانہ نظام میں پروان چڑھنے کا موقع ملا تھا۔ حضرت شیخ الاسلام کے تجدیدی و اصلاحی کارناموں سے قوم و ملت کو سہارا ملا۔ آپ کی رہنمائی میں آصف سابع نے علم دوستی، علم پروری، رعایا کی فلاح و بہبودی کے وہ رفاہی کارنامے انجام دیئے جس کی وجہ سے دکن کے علاقے کو پورے برصغیر میں ایک اعلیٰ اور نمایاں مقام حاصل ہوا۔ حضرت شیخ الاسلام، معاشرہ اور ملک و ملت کو اسلامی نصب العین، انسانیت، اخلاص و مروت و رواداری، دل بستگی و پاسداری اور اسلام کے فلسفہ امن و سلامتی، بقائے باہم جیسے نکات پر عمل آوری کے لئے زندگی کی آخری سانس تک مسلسل جدوجہد میں مصروف رہے جس کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے۔ چنانچہ تاریخ کے اس مشاہدے کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ آج ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی دکن کی فضائوں میں اس کے اثرات کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی مزاج، اخلاق و کردار، اخلاص فی المذہب کے جو نظارے دکن کی درسگاہوں، خانقاہوں اور علماء و مشائخ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ شیخ الاسلام کی پرخلوص کوششوں کا نتیجہ ہے‘‘

مراکز علم و ادب کا قیام و امداد

مراکز علوم دینیہ کے فروغ و اشاعت کے لئے شیخ الاسلام کی پوری زندگی وقف تھی جن میں سے بعض کو شیخ الاسلام نے قائم فرمایا اور بعض کے نام امداد منظور کروائی۔ حضرت علامہ مفتی محمد رکن الدین علیہ الرحمہ نے ان مدارس و اداروں کی فہرست ’’مطلع الانوار‘‘ میں درج فرمائی ہے وہ یہاں پیش کی جاتی ہے۔

1:قیام مدرسہ معینہ عثمانیہ اجمیرشریف بہ ابرائی امداد ایک ہزار ماہانہ

2:اضافہ امداد مدرسہ دارالعلوم چھ سو ماہانہ

3:امداد مدرسہ کولہا پور دو سو ماہانہ

4:قیام مدرسہ حفاظ خلد آباد شریف بہ اجرائی ماہوار ایک سو پچیس

5:قیام مدرسہ حفاظ مکہ مسجد بہ اجرائی ماہوار ایک سو پچیس ماہانہ

6:امداد مرسہ بدایوں ماہانہ ایک سو پچیس

7:امداد مدرسہ سبحانیہ الہ آباد سو ماہوار

8:امداد مدرسہ فتح پوری دہلی ماہانہ پچاس

9:امداد انجمن ہدایت الاسلام اورنگ آباد ماہانہ پچاس

10:امداد مدرسہ میواڑ اودے پور ایک سو پچیس

11:امداد مدرسہ برار ماہوار یکمشت برائے تعمیر مدرسہ

12:قیام مدرسہ دینیہ مسجد چوک حیدرآباد

13:قیام مدرسہ مسجد میاں مشک مرحوم حیدرآباد

14:قیام مدرسہ دینیہ افضل گنج حیدرآباد

15:قیام مدرسہ صوفیہ محمد آباد بیدر شریف کرناٹک

نوٹ: جن مدارس کے ساتھ قیمتیں درج نہیں ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔

اعزاز علماء و مشائخ

16:مولوی عبداللطیف خان صاحب بھوپالی نے مختلف صنعتوں سے قرآن مجید کتابت کرائی تھی اور اس کو طبع کرانا چاہتے تھے۔ جب مولانا نے اس کو دیکھا تو اس جدت کی داد دی اور خزانہ شاہی سے پچاس ماہوار تا حیات کا وظیفہ جاری کرایا اور تین ہزار کامدار برائے طباعت دلائے۔

17:حکیم یعقوب خان صاحب ساکن ممبئی نے ان علاقوں میں اشاعت اسلام کے خیال سے جہاں عموماً مرہٹی بولی جاتی ہے کلام مجید کو مرہٹی زبان میں ترجمہ کرکے پیش کیا۔ مولانا نے اس کے صلے میں پچاس ماہوار کا وظیفہ تاحیات منظور کرایا اور پندرہ ہزار کلدار نقد طباعت کے لئے دلوائے۔

18:متولی صاحب اجمیر شریف کے نام تین سو ماہانہ اور ایک ہزار نقد خصتانہ

19:خطیب صاحب جامع مسجد دہلی ماہانہ تین سو

20:شیخ حمزہ خادم روضہ اطہر مدینہ طیبہ ماہانہ تین سو روپیہ

21:ڈاکٹر سیدمحمد قاسم صاحب معالج خصوصی سمیات کے نام صرف خاص مبارک سے تین سو اور علاقہ دیوانی سے دو سو ساٹھ ماہانہ (صاحب موصوف ہر جانور اور ہر قسم کے زہر کا علاج کرتے تھے، سابق میں ایسے مریض دوسرے مقامات پر جانے کے مصارف و مصائب برداشت کرتے تھے)

22:حضرت مفتی اعظم علی صاحب شائق کے انتقال کے بعد ان کی ماہوار سرکار سی بند ہوگئی تھی۔ مولانا نے دوبارہ جاری فرما کر ان کے کمسن صاحبزادوں کی تعلیم کا انتظام کروادیا اور حیدرآباد کے دارالافتاء کو مٹنے سے بچالیا۔

23:منتظم صاحب نقار خانہ اجمیر شریف ماہانہ پچھتر

24:تفسیر روح الایمان کی طباعت کے لئے مولوی فتح الدین صاحب پنجابی کو دو ہزار کلدار

25:مولوی محمد شاہ صاحب قمیصی کو حضرت رکن الدین تولہ گلبرگہ شریف کی درگاہ کا متولی مقرر کرکے معاش اجرا فرمایا۔ سابق میں درگاہ مذکور کا متولی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ملک کے تقریباچا سو علماء و مشائخ وغیرہ کو خزانہ شاہی سے ماہانہ وظائف مقرر کرائے، حرمین شریفین و دیگر ممالک کے لوگ اس کے سوا ہیں۔

تحفظ مساجد و مزارات

26:امداد برائے تعمیر مسجد آسٹریلیا چالیس ہزار

27:امددا برائے تعمیر مسجد بصرہ، عراق

28:نل اندازی بہ مساجد

29:انتظامی برقی روشنی بہ مساجد

30:انتظام فرش سنگ سیلو، شامیانہ برائے عیدگاہ اورنگ آباد

31:تعمیر مسجد مٹھواڑہ، اس مسجدکی بناء میں مسلمانوں اور ہندوئوں میں کچھ نزاع تھی۔ آپ نی اپنے تدبر سے رفع نزاع کرکے اخراجات سرکاری سے مسجد کی تعمیر کروادی۔

32:تعمیر مسجد مخدوم پورہ گلبرگہ شریف اس مسجد کی بناء میں اہل سنت و جماعت اور اہل حدیث کا اختلاف تھا۔ آپ نے نہایت دانائی سے آپس میں صلح کرواکے اخراجات سرکاری سے مسجد بنوادی۔

33:تعمیر نقارہ خانہ اجمیر شریف (راجستھان)

34:تعمیر شاہ راہ قندھار (مہاراشٹر)

35:برائے خریدی جا نماز دو ہزار سالانہ، ان مساجد میں جہاں مصلے نہ ہوں یا بوسیدہ ہوگئے ہوں جاء نمازوں کی خریداری کے لئے یہ رقم منظور کروائی، سابق میں ایسا کوئی انتظام من جانب سرکار نہیں تھا۔

36:جھالرہ اجمیر شریف کی صفائی، جھالرہ درگاہ شریف کے متصل ایک بائولی ہے جس سے تمام آبادی سیراب ہوتی تھی، سوتے بند ہوجانے سے قلب آب کی تکلیف ہوگئی تھی۔ آپ نے بہ مصارف سرکاری صفائی کروادیا جس کی وجہ سے اجمیرشریف کی آبادی کو پانی کا بہت آرام ہوگیا۔

37:تعمیر سرائے متصل درگاہ حضرت سعید الدین عرف حاجی سیاح سرور مخدوم واقع قندھار شریف (مہاراشٹرا)

38:تقریبا چالیس سال سے مساجد کے لئے جدید ماہواروں کی اجرائی موقوف ہوگئی تھی اور یہ مدموازنہ سے خارج ہوگیا تھا۔ آپ نے بڑی کوششوں سے دس سال کے لئے سالانہ دو ہزار چار سو کی منظوری حاصل فرمائی۔

39:پہلے مصارف سرکاری سے تین سو آدمی حج و زیارت جایا کرتے تھے۔ آپ نے اور دو سو آدمی کا اضافہ کروادیا اور ان کے مصارف کے لئے جیب خاص شاہی سے دس ہزار سالانہ منظور کروائے۔

40:سڑکوں پرروشنی عموماً رات میں ساڑھے گیارہ بجے کے بعد گل ہوجاتی تھی۔ آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ ایام متبرکہ میں روشنی تمام رات رہا کرے تاکہ ان لوگوں کوجو مجالس و عظ وغیرہ میں سے لوٹتے ہیں، تکلیف نہ ہو۔

41:سابق میں میلاد النبیﷺ اور معراج مبارک کی تعطیل ایک ایک روز کی ہوتی تھی۔ آپ نے بلحاظ تقدس و عظمتان تقاریب کے علاوہ ایک ایک یوم کی تعطیل کا اضافہ منظور کروادیا۔ آج بھی تعطیلیں ہوتی ہیں مگر مسلمانوں کو اس کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ تعطیلیں کیوں دی گئی ہیں اور ہم اس کو کس طرح سے صرف کریں۔

42:حیدرآباد میں خلفائے راشدین رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی صحیح تاریخ وفات بھی معلوم نہیں تھی۔ آپ نے ان کے ایام وصال میں انعقاد مجالس کی بنیاد ڈالی جو مکہ مسجد میں سررشتہ مذہبی کی جانب سے ہوتی ہیں بعد میں اعلیٰ حضرت نے ایک ایک یوم کی تعطیل بھی منظور فرمائی (مفتی محمد رکن الدین / مطلع الانوار ص ۲۸ تا ۵۲، رجب ۵، ۱۴۰۰ھ)

ممتاز محقق ڈاکٹر دائود اشرف تحریر کرتے ہیں:

آصف سابع نے مولوی انوار اﷲ خان فضیلت جنگ بہادر کو محکمہ امور مذہبی میں کلیدی اور اعلیٰ ترین عہدوں پر مامور کیا تھا جنہوں نے ریاست حیدرآباد میں متعدد اہم مذہبی اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے ریاست کے مسلمانوں خاص کر دیہات کے مسلمانوں کی مذہبی اصلاح اور سدھار کی جانب خصوصی توجہ دی۔ ان کے پیش کردہ ایک معروضے کی سفارشات منظور کرتے ہوئے آصف سابع نے بذریعہ حکم ریاست کے دیہاتوں کے مسلمانوں کی دینی اور مذہبی اصلاح کے لئے واعظین کے تقرر کے بارے میں یہ احکام جاری کئے ’’اس بارے میں معین المہام (وزیر) امور مذہبی کی رائے منظور کی جاتی ہے۔ حسبہ، ہر ضلع کے لئے سردست ایک واعظ کا تقرر کیا جائے۔ ان کو پچاس روپے ماہوار اور بھتہ بیس روپے ماہانہ دیا جائے۔ ہر واعظ کے پاس ایک ایک چپراسی آٹھ روپے ماہوار پر متعین کیا جائے لیکن واعظین کو اچھے طور پر ہدایت دی جائے کہ وہ اپنا وعظ اور دینیات کی تعلیم کو دورہ کرکے صرف مسلمانوں کی جماعت تک محدود رکھیں اور دیگر مذاہب والوں کی ہدایات یا مناظرے سے متعلق کچھ سروکار نہ رکھیں‘‘

(ڈاکٹر دائود اشرف، گنجینہ دکن، ص ۱۴۲، شگوفہ پبلی کیشنز، حیدرآباد ، نومبر ۲۰۰۷)

اصلاحی کارنامے

ملک میں جہالت کا دور دورہ تھا۔ عیش و نشاط گانے بجانے عام تھے، فسق و فجور کا بازار گرم تھا۔ حضرت مولانا علیہ الرحمہ نے نہایت خاموشی سے ان کی اصلاح کی جانب توجہ فرمائی اور بہ تدریج ان کی اصلاح کا کام شروع کیا گیا۔ چونکہ مولانا سے امور مذہبی و صدارت العالیہ متعلق تھے اس لئے اولا اسی جانب توجہ کی گئی، یہ دفاتر غیر منظم اور برائے نام تھے۔

1:ان کی تنظیم کروائی گئی۔ اہل خدمات شرعیہ کے لئے انعامات وغیرہ مقرر تھے مگر شرعی خدمات کی انجام دہی کا نام نہ تھا۔

2:ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست فرمایا۔

3:تعلیم یافتہ اہل خدمات سے اہل دیہات کے تعلیم و اخلاق کی درستگی کا کام متعلق کیا گیا۔

4:واعظین مقرر کئے گئے، نکاح و ازدواج کے سلسلہ میں جب کبھی زوجین میں تفریق ہوجاتی تو مہر وغیرہ منضبط نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑے کھڑے ہوجاتے، عدالت تک نوبت آتی، اس خرابی کو دور کرنے کے لئے سیاہہ جات مرتب کروائے گئے، جن میں ایجاب و قبول، شہادت، مقدار مہر وغیرہ کا اندراج ہوتا۔

5:عدالت العالیہ کو پابند کیا گیا کہ مقدمہ طلاق وغیرہ پیش ہو تو صدارت العالیہ کو تاریخ طلاق سے آگاہ کیا جائے کہ انقضاء عدت پر بموجب احکام شرع شریف نکاح ثانی عمل میں آئے۔

6:مساجد میں باجماعت بہ پابندی ادائے نماز کے لئے تقرر امام و موذن کی خاطر موازنہ حکومت میں سالانہ معتدبہ رقم شریک کرائی گئی اور بتوسط امور مذہبی ، ائمہ و موذنین کا تقرر عمل میں لایا گیا۔

7:مسائخ میں ذبیحہ جانور ان مسائل ذبح سے واقف ملائوں کا تقرر لازمی قرار دیا گیا۔

8:شراب و سیندھی مسکرات کی دکانیں اندرون بلدہ تھیں، ان کو حدود بلدہ سے برخواست کردیا گیا۔

9:رمضان المبارک کے احترام کے مدنظر ہوٹلوں پر پردہ ڈالنے کے احکام جاری کروائے گئے اور علانیہ کھانے پینے سے ممانعتی احکام کا اجراء کرایا گیا۔

10:بزم عرس میں مینا بازار قائم کئے جاتے تھے ار مزارات اولیاء و صلحاء پر طوائف مجرا ادا کیا کرتے تھے ، ان تمام کو بند کروادیا گیا۔

11:پست اقوام کی غیر مسلم عورتوں میں مرلی بننے کی رسم تھی جس کے عبد وہ جس سے چاہے ناجائز تعلق کرنے میں آزاد تھیں۔ اسی طرح مرد مخنث بنتے تھے اور زنانی لباس پہنا کرتے تھے۔ اس کو جرم قرار دیا گیا اور آئندہ سے اس رسم کو مسدود کرادیا گیااور حضرت مولانا کی تحریک پر مذہبی کمیٹی مقرر کی گئیجس کے صدر حضرت ممدوح ہی مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی نے بہت سے اصلاحی کام انجام دیئے۔

امور مندرجہ بالا نہایت اختصار کے ساتھ ضبط تحریر کئے گئے جن کے دیکھنے سے واضح ہے کہ مولانا ملک میں ایک مجاہد اعظم اور مصلح کبیر تھے۔ اخلاص اور رضائے الٰہی کا نتیجہ ہے کہ اس کی کوئی شہرت اور ان عظیم امور کی مولانا کی جانب نسبت عام نہیں ورنہ عام طور سے کام کم اور شہرت زیادہ ہوتی ہے۔

قلمی خدمات

حضرت شیخ الاسلام نے اپنی تجدید فکر و نظر کے فروغ کا ایک ذریعہ قلم کو بھی بنایا۔ چنانچہ جب چاہے آپ اپنے اشہب قلم کو جنبش دیتے اور لکھنے میں مصروف ہوجاتے۔ آپ کا دماغ معلومات کا ایک مخزن تھا۔ جہاں سے لفظ و بیان کا کارواں رواں دواں نظر آتا ہے۔ یہ اردو زبان و ادب کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو امام محمد انوار اﷲ فاروقی جیسے قلم کار حاصل ہوئے جنہوں نے اس زبان کو اعلیٰ درجے کے افکار کی ترجمانی کا وسیلہ بنایا۔ کتنے ایسے اچھے خیالات ہیں جو انسانی دماغوں کے صندوق میں مقفل ہیں اور صرف اس لئے دنیا ان کی افادیت سے محروم رہی کہ سوچنے والوں ی پست ہمتی نے ان کو اظہار سے باز رکھا۔ لیکن یہ حضرت شیخ الاسلام کی شخصیت تھی جس نے بہت سوچ سمجھ کر بڑی جرأت و بے باکی سے اپنے خیالات کو صفحات قرطاس پر منتقل فرمایا۔ رئیس القلم علامہ ارشد القادری، حضرت شیخ الاسلام کے اسلوب تحریر کو خراج فکر و نظر پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’انوار احمدی کا مطالعہ کرکے میں حضرت فاضل مصنف کے تبحر علمی، وسعت مطالعہ، ذہنی استخصار، قوت تحقیق، ذہانت و نکتہ رسی اور بالخصوص ان کے جذبۂ حب رسول اور حمایت مذہب اہل سنت کی قابل قدر خصوصیات سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ جی چاہتا ہے کہ نوک قلم کو آنکھوں سے لگالیں۔ ہونٹوں سے چومیں، دل میں اتار لیں۔ حضرت مصنف کے قلم کی روانی چشمہ کوثر کی لہراتی ہوئی موج بن گئی ہے۔ علم و حکمت، عشق و عرفان کے ایسے قیمتی جواہرات بکھیرے ہیں کہ ان کی جگمگاہٹ سے آنکھیں خیرہ ہونے لگتی ہیں‘‘ (انوار احمدی، تلخیص و تسہیل، مولانا ارشد القادری، ناشر مکتبہ جام نور، دہلی ۱۹۸۹ئ)

انوار احمدی، مقاصد الاسلام، حقیقتہ الفقہ، انوار اﷲ الودود، اونار التمجید، مسئلۃ الربوا، خدا کی قدرت، شمیم الانوار، انوار الحق، افادۃ الافہام، منتخبہ من الصحاح (قلمی) تلخیص فتوحات مکیہ (قلمی) کتاب العقل، الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع جیسے شاہکار آپ کے قلم فیض رقم کا نتیجہ ہیں جن کے سینکڑوں صفحات بلاشبہ اسلامی انسائیکلو پیڈیا کہے جاسکتے ہیں۔ جن میں تہذیب و تمدن، عقائد و اعمال، تقدیر و تدبیر، نبوت و ولایت، سلوک وتصوف، جزا و سزا، جنت ودوزخ، جبر وقدر، وحدۃ الوجود، وحدت الشہود، معجزہ کرامت، تذکرہ تاریخ،شخصیات و فردیات، فصاحت و بلاغت، زبان و ادب، شعر و سخن، اتباع صحابہ، تقلید و اجتہاد، استنباط و استخراج، اجماع و قیاس، سائنس و ٹیکنالوجی، فلسفہ و ہئیت، حکمت و طباعت، منطق و کلام، عشق و محبت، بدعت و تدوین و تحقیق، علماء وصوفیہ ذکر و فکر، علم و حلم، دارالاسلام و دارالحرب، سود وربوا، امن و سلامتی، اخوت ورواداری جیسے سینکڑوں موضوعات پر علم و فن کی ایک کہکشاں بکھیر دی ہے اور اسلام کے نام پر لکھی جانے والی غیر اسلامی کتب کا نہ صرف تعاقب و رد کیا بلکہ بحیثیت ایک مصلح و مجدد امت ان کے مسموم اثرات سے امت کو بھی آگاہ کیا ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ تجدید و احیائے دین کی تاریخ میں آپ کو مجدد الدعوۃ الاسلامیہ کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہی۔

حضرت شیخ الاسلام نے اپنی اردو، عربی اور فارسی شاعری کو توحید و رسالت، عظمت صحابہ واولیائ، عظمت اور اصلاح قوم و ملت جیسے نکات کے لئے وقف کررکھا تھا۔ الشعراء تلامیذ الرحمن کے مصداق آپ کی شاعری میں ضمیر کی آواز، روح کی بیداری، عشق کی سرمستی، فک ونظر کا فروغ، والہانہ طرز، کلام کی برجستگی، محاورات کی دل آویزی، تصوف کی چاشنی اور اخلاق و اخلاص سبھی کچھ ملتا ہے جو سمع و بصر کے ذریعہ دلوں کی دنیا میں اتر جاتا ہے۔ آپ کی ساری گفتگو کا محور عشق محمدیﷺ ہے۔ ڈاکٹر کے محمد عبدالحمید اکبر نے اپنے تحقیقی مقالہ ’’حضرت شیخ الاسلام شخصیت علمی و ادبی خدمات‘‘ میں اس موضوع پر بڑی جامع اور تفصیلی گفتگو کی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

انوار احمدی

اس کتاب میں رسالت مآبﷺ کے فضائل حضور پر درود بھیجنے کے فوائد، صحابہ کرام اولیاء عظام کے آداب اور دیگر ضروری مسائل کی تحقیقات ہیں۔ کتاب ہر مسلمان کے مطالعے کے لائق ہے۔

انگریزوں نے سرزمین ہند پر اپنے تہذیبی نقوش چھوڑنے کا منصوبہ بنایا اور فکر و عمل کو کھوکھلا کرنے کی سازش تیار کی تو بانی جامعہ نظامیہ نے ان کے خلاف قلمی جہاد کے طور پر ضرورت کے لحاظ سے تحقیقی مضامین کے ایک سلسلہ کا آغاز فرمایا۔ جن میں اہم اسلامی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے جس کے سینکڑوں صفحات پر مشتمل گیارہ حصے علم و عمل کا ایک بیش بہا خزانہ ہیں۔

مقاصد الاسلام حصہ اول: اس حصہ میں تمدن، اخلاق، فقہ، کلام پر تحقیقی مباحث ہیں۔

حصہ دوم: اس میں معجزات، کرامات اور مرزا صاحب قادیانی کا معقول رد ہے۔

حصہ سوم: تخلیق آدم، معرفت الٰہی، نفس ناطقہ، تصور وغیرہ مفید امور پر محققانہ بحث کی گئی ہے۔

حصہ چہارم: علم، اہل علم کی فضیلت، اسلام پر معترضین کے اعتراضات کے معقول جوابات دیئے گئے ہیں۔

حصہ پنجم: ضرورت عبادت، جزا و سزا، جنت و دوزخ، اہل بیت کرام، خلافت، خلفائے اربعہ پر مباحث قابل دید ہیں۔

حصہ ششم: اسلام میں فتنہ و بغاوت کی تاریخ، حصول ولایت، تقویٰ، مسئلہ جبر و قدر پر عالمانہ مباحث ہیں

حصہ ہفتم: عجائب جسمانی، تجدد امثال، اقسام وحی، ارادت مریدی، عذاب قبر، مختلف مضامین کی تحقیق ہے۔

حصہ ہشتم: اصلاح تمدن، سلطنت اسماء حسنیٰ، ایمان و اسلام، وسوسہ شیطانی، سماع موتٰی پر مدلل مباحث ہیں۔

حصہ نہم: معجزات آنحضرتﷺ کی تفصیل، فطرت شناخت محبت و مخالفت، دنیا و بت پرستی وغیرہ عام معلومات پر عالمانہ بحث بحوالہ کتب معتبرہ۔

حصہ دہم: کمال ایمان حضرت صدیق اکبر، عدل فاروقی، صبر و استقلال حضرت خالد، مسئلہ بیعت، ندائے یا محمدﷺ و دیگر مہمات مسائل پر مشتمل ہے۔

حضرت یازدہم: وہابیہ کے خیالات، اﷲ نور السمٰوٰت والارض کی تفسیر، ضرورت اتباع اصحاب، مختلف علوم کی تحقیق

حقیقۃ الفقہ (حصہ اول و دوم) حدیث، فقہ، اجتہاد کی ضرورت پر شرح و بسط کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔

کتاب العقل: عقل کی اہمیت و فضیلت، امور دینیہ میں عقل کا کس حد تک دخل ہے۔ حکمت قدیمیہ و فلسفہ جدیدہ کے مخالف مذہب کے اعتراضات کا شافی جواب۔

افادۃ الافہام حصہ اول و دوم۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ازالۃ الاوہام کا معقول جواب اور مذہب قادیانی کا آئینہ ہے جس میں اس کے خدوخال نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اکثر حضرات نے مذہب قادیانی کی تردید میں اس کتاب کو پیش نظر رکھا ہے۔

انوار الحق: اس کتاب میں بھی غلام احمد قادیانی کی تردید۔ نیز وہابیت کا ابطال، ابہام اور اس کی اقسام پر نہایت شرح و بسط سے بحث کی گئی ہے۔ ان کتب کے علاوہ حضرت مولانا علیہ الرحمہ کی دیگر مفید کتب بھی ہیں۔

جامعہ نظامیہ: ۱۲۹۲ھ میں مدرسہ نظامیہ کا قیام اس مقصد سے کیا گیا کہ ہمیشہ اہل علم کی ایک جماعت پیدا ہوتی رہے اور علم دین و عربی کی حفاظت و اشاعت کا فریضہ انجام پاتے رہے۔ اس کے ساتھ دارالاقامہ بھی قائم کیا گیا جس میںطلبہ کے قیام، طعام، لباس، کتب درسیہ اور دیگر ضروریات کا منجانب مدرسہ انتظام بھی رکھا گیا۔ یہ دینی علمی ادارہ ابتداً بہ شکل مکتب تھا۔ مولانا علیہ الرحمہ نے ہندو بیرون و ہند کے جید علماء کومقرر فرما کر درس نظامی جاری فرمایا جس کے فیوض و برکات سے صدہا نامی گرامی علماء نکلے جوشہرہ آفاق ہیں۔ اس کی وجہ سے مدرسہ کی بھی شہرت دور دور تک پہنچ گئی اور اقطاء عالم افغانستان، بلوچستان، بخارا، پنجاب، بنگال وغیرہ سے طالبان علوم اس مدرسہ میں شریک ہوئے اور فارغ ہوکر اپنے وطن کو واپس ہوئے اور علم دین کی خدمت میں مصروف رہے۔

دائرۂ المعارف العثمانیہ کی بنیاد

دائرۃ المعارف العثمانیہ ی بنیاد دراصل تین مشہورشخصیتوں کی مرہون منت ہے جنہیں اس زمانہ میں ’’سرکردہ تکون‘‘ کا نام دیا جاتا تھا اور وہ ہیں مولانا محمد انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ، نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی اور ملا عبدالقیوم جو جمال الدین افغانی کے اسلامی فلسفہ سے متاثر تھے۔ اس باب میں خاص بات یہ ہے کہ دائرہ کی تاسیس کے لئے اس وقت کے نظام دکن نے ایک خاص شاہی فرمان جاری کیا تھا جو آج بھی اسٹیٹ آرکائیوز میں موجود ہے۔

حضرت شیخ الاسلام اور تصوف

حضرت شیخ الاسلام ایک عالم ربانی ہونے کے ساتھ ساتھ، صوفی باصفا بھی تھے۔ آپ کی صوفیانہ زندگی، صلحائے متقدمین کے سلسلہ کی تابناک کڑی تھی جس میں ظاہر و باطن کا ایک حسین امتزاج اور درسگاہ و خانقاہ کا ایک خوبصوت سنگم تھا۔ آپ فرماتے ہیں ’’تصوف کچھ اور ہی چیز ہے جس کو قرآن و حدیث اورشریعت کا لب لباب کہنا چاہئے، اس کو نہ فلسفہ قدیمہ سے کوئی تعلق ہے نہ فلسفہ جدیدہ سے کوئی مناسبت‘‘ شیخ الاسلام کا سلسلہ بیعت صرف ایک واسطہ سے یعنی ان کے والد حضرت ابو محمد شجاع الدین قندہاری علیہ الرحمہ کے ذریعہ حضرت شاہ رفیع الدین قندہار علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام کا نور باطن اسی مرد درویش کے فیضان علمی و عملی سے روشن ہے۔ اس کے علاوہ شیخ العرب و العجم حضرت احمد حسین امداد اﷲ مہاجر مکی علیہ الرحمہ سے تمام سلاسل میں بیعت کرکے منازل سلوک کی تکمیل فرمائی۔ بلاطلب خرقہ خلافت عطا کرنے کے علاوہ دکن کے مریدوں کو حضرت شیخ الاسلام سے مدد لینے کی ہدایت فرمائی۔

درس فتوحات مکیۃ

درس و تدریس کے علاوہ مغرب سے نصف شب تک آپ پانچویں صدی کے مشہور صوفی بزرگ حصرت شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی کتاب ’’فتوحات مکیۃ‘‘ کا درس دیا کرتے تھے جس میں منتخب علماء و صوفیہ ہی شریک رہتے۔ اس درس کی مجلس پر حضور سرور کائناتﷺ کی خاص توجہ تھی جس سے مسائل حل ہوجاتے اور حضور تاجدار بغداد غوث الثقلین علیہ الرحمہ کی تشریف آوری بھی ہوا کرتی تھی۔

شیخ الاسلام کے تلامذہ

شیخ الاسلام مولانا انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ نے ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف کے علاوہ عبادت و ریاضت میں گزاری۔ حصول تعلیم کے بعد کوئی ڈیڑھ سال ملازمت کرکے ۱۲۸۷ھ میں استعفیٰ دے دیا جبکہ آپ کی عمر اس وقت ۲۳ سال تھی۔ ملازمت سے استعفی دینے کے بعد درس و تدریس ہی آپ کا مشغلہ رہا۔ ۱۲۸۷ھ سے ۱۳۳۶ھ تک تقریبا پچاس سالوں میںآپ کے سینکڑوں تلامذہ ہوئے۔ جن میںشاہان دکن سے لے کر علماء صوفیہ فقہاء، ادبا، شعراء محدث، متکلم، مورخ، پروفیسر، سرکاری عہدیدار، اطباء حکما، قانون داں، گویا ہر فن میں سینکڑوں تشنگان علم و فن آپ کے چشمہ علم و عرفان سے فیض یاب ہوئے۔

معاصرین

حضرت شیخ الاسلام کے علمی معاصرین میں علامہ یوسف بن سماعیل نبہانی(فلسطین) علامہ حسین بن محمد (طرابلس) شیخ احمد عرب (صاحب نفحۃ الیمن) بحر العلوم ملا عبدالعلی فرنگی محلی، مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی، مولانا حسن الزماں الفاطمی (روضۃ الحدیث) الشیخ محمد عبداﷲ (مصر) محمد علی جوہر، عبدالحلیم شرر، اقبال یار جنگ، احمد عبدالعزیز جنگ ولا، حضرت سید عمر حسینی خلیق، عماد الملک، بلگرامی، ملا عبدالقیوم، حضرت پیر بغدادی، حضرت بیدل رامپوری وغیرہ شامل ہیں۔ حضرت امداد اﷲ مہاجر مکی علیہ الرحمہ نے خلافت و نیابت کے بعد دکن کے اہل سلسلہ کو آپ سے رجوع ہونے کی ہدایت کی تھی۔ فضیلت الشیخ یحییٰ بن محمد الیافعی نے اپنے ایک عربی قصیدے میں حضرت شیخ الاسلام کو ’’مجدد وقت‘‘ کہا ہے۔ بلاشبہ آپ مجدد اسلام ہیں۔