سزائے موت کا فیصلہ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے

in Tahaffuz, October 2011, تحفظ نا مو س ر سا لت

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 راولپنڈی کے جج سید پرویز علی شاہ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کے ملزم ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور دو لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ ممتاز قادری کو 7 یوم کے دوران سزائے موت کے خلاف اپیل کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ گستاخ رسولﷺ کی سزا موت ہے، لیکن اس کے لئے ناموس رسالت کا قانون موجود ہے۔ فیصلے کے اعلان ہوتے ہی ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے کئی مقامات پر لاٹھی چارج کرکے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین کی جانب سے جمعہ کو سارے ملک میں احتجاج اور مظاہروں کو اعلان کیا گیاہے۔ پاکستان کے حکمرانوں، سیاست دانوں، سماجی رہنمائوں اور آزادی فکر و عمل کے نام نہاد علم برداروں کے درمیان ہر موضوع پر اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہے، لیکن ان سب پر یہ نکتہ پوری طرح واضح ہوجانا چاہئے کہ مسلمانان عالم ناموس رسالتﷺ کے بارے میں جذباتی ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریمﷺ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہر مسلم و غیر مسلم کو انتہائی محتاط ہونا چاہئے کہ رسول آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی شان میں معمولی سی گستاخی بھی اہل ایمان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ایسا کوئی بھی شخص مرتد کی حد سے بھی آگے ہوتا ہے، اسی لئے عدالت نے بھی تسلیم کیا ہے کہ گستاخ رسولﷺ کی سزا موت ہے۔ البتہ عدالت کا یہ کہنا ہے کہ جب ملک میں ناموس رسالت کا قانون موجود ہے تو کسی بھی گستاخ رسول کو اس قانون کے تحت سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ہر فرد کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو معاشرہ افراتفری کاشکار ہوجائے گا۔ خصوصی عدالت کی جانب سے صادر کئے جانے والے فیصلے کے حسن و قبیح سے قطع نظر ممتاز قادری اور ان کے وکلاء کے پاس بھی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیلوں کے کئی حق اور مراحل باقی ہیں۔ اس کے بعد بھی ملک کی مقتدر ترین شخصیت کو عدالت عظمیٰ کی سزا معاف کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان تمام مراحل کو قانونی طریقے سے طے کرنے تک عوام کو بھی ناموس رسالتﷺ کی خاطر تحریک چلانے کا حق تو ہے، لیکن یہ تحریک اتنی پرامن اور مہذب ہونی چاہئے کہ اس سے نبی کریمﷺ کی شان مبارک اور آپﷺ کی تعلیمات مزید اجاگر ہوں، نہ کہ سرکار و نجی طور پر کسی کو نقصان پہنچے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے اپنے جرم یعنی سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔ لیکن ممتاز قادری کی یہ حرکت دہشت گردی کے ذیل میں نہیں آتی۔ البتہ مقتول سلمان تاثیر نے گورنر پنجاب ہونے کے باوجود ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دے کر نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی غیر مسلم عورت آسیہ بی بی کو سزا سے بچانے اور معاف کرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے وقت یہ قانونی نکتہ ضرور اہم قرار پائے گا کہ شاتم رسولﷺ کی حمایت اور اسے سزا سے معافی دلانے کا جرم زیادہ سنگین ہے یا اپنے نبی پاکﷺ کی حرمت کی خاطر اشتعال میں آکر قتل جیسی واردات کا ارتکاب اتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی عدالت اپنے فیصلے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت کا حکم سنادے۔ اسی بناء پر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ کسی کی ایماء پر امریکا کو خوش کرنے کے لئے ہوا ہے۔ اس سزا کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایک امریکی باشندہ پاکستان کے تین بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث ہوا تو حکومت نے مقتولین کے لئے دیت کا انتظام کرکے قاتل کو فوری طور پر رہا کراکے بیرون ملک بھیج دیا۔ ممتاز قادری زندہ رہے یا شہادت پا جائے، اس نے عشق رسولﷺ کا مظاہرہ کرکے دنیا و آخرت دونوں جگہ سرخروئی حاصل کرلی ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا حکومت اور عوام کا کام ہے کہ وہ اﷲ اور اس کے نبیﷺ کے نام پر قائم ہونے والے ملک پاکستان میں آندہ کسی گستاخ رسولﷺ کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بالفرض ممتاز قادری اپنا مقدمہ سپریم کورٹ میں بھی ہار جائیں تو حکمرانوں کے لئے یہ سنہری موقع ہوگا کہ وہ ان کی جانب سے رحم کی اپیل کا مثبت جواب دے کر اپنی دنیوی مقبولیت کا سامان کرلیں۔ ان کے اس عمل سے یہ توقع بھی کی جاسکتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کی خطائوں سے درگزر کرکے اسے ان کی بخشش کا ذریعہ بھی بنادے۔ جس ملک میں سینکڑوں بے گناہ انسانوں کے قتل کا اعتراف کرنے والے سزائوں سے بچے ہوئے ہیں، وہاں ناموس رسالت کی خاطر اشتعال میں آکر اس حرکت کا مرتکب سزائے موت پائے تو اسے المیہ ہی قرار دیا جائے گا۔