رشوت: تعریف و اقسام اور احکام

in Tahaffuz, October 2011, فہم ا لحد یث

رشوت کی لغوی و اصطلاحی تعریف

لغۃ: رشوۃ جمع رشی: رشوۃ

رشا یعنی ڈول کی رسی بقول بعض ’’رشا‘‘ رسی کو بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں ’’ارشت الدلو‘‘ ڈول میں رسی لگایا۔ چونکہ رشوت ڈول اور رسی کی طرح ہوتی ہے۔ جو راشی اور مرتشی کے مابین ایک جوڑ کا کام دیتی ہے۔ جیسے رسی اور ڈول جوڑ کا کام دیتے ہیں۔

اصطلاحی تعریف

بقول بعض رشوت وہ ہے جو حق کو باطل اور باطل کو حق یعنی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے دیا جائے (۱) جبکہ ابن عابدین کا کہنا ہے کہ ’’رشوت وہ چیز ہے جو آدمی کسی حاکم یا غیر حاکم کو اس مقصد کے تحت دیتا ہے کہ فیصلہ اس کے حق میں ہو یا اس کے من پسند منصب پر اسے فائز کیا جائے (۲) ان دونوں میں سے ابن عابدین کی تعریف زیادہ جامع معلوم ہوتی ہے، کیونکہ پہلی تعریف رشوت کے تمام اقسام کو اپنے اندر نہیںسمیٹ سکتی مثلا وہ رشوت جو ایسا کام کرانے کے لئے نہ دی جائے جس میں کوئی باطل نہ ہو۔

رشوت کا دوسرے جرائم سے موازنہ

ہر اس چیز کے لئے رقم خرچ کرنا جو مخالف شریعت ہو، ایک بدترین فعل ہے۔ کیونکہ یہ روپیہ ایسی راہ میں صرف کیا جارہا ہے جس کی طرف رخ کرنے سے بھی اﷲ اور اس کے رسولﷺ نے منع فرمایا ہے اور اس راہ پر چلنے والے کے لئے دراصل یہی وہ رشوت ہے جس کی وجہ سے اﷲ کے وضع کردہ قانون کی پامالی ہوتی ہے۔ حق کی فضا زہر آلود ہو ہوکر باطل کو فروغ ملتا ہے اور اس کے مرتکب کا ایمان متزلزل ہوجاتا ہے۔ اس پر شیطان لعین اپنا تسلط جمالیتا ہے۔ اس کو ہمیشہ وطغیان اور برے کاموں پر برانگیختہ کرتا ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرواتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دھیرے دھیرے دین الٰہی سے بیزار اور جھوٹی زندگی کی رعنائیوں اور رنگ ریلیوں میں غرق ہوکر کفر سے قریب ہوجاتا ہے۔

رشوت کا حکم قرآن و حدیث کے آئینے میں

بے شک رشوت حرام ہے۔ جج ہو یا قاضی، وزیر ہو یا گورنر، حاکم ہو یا ملازم، پولیس ہو یا ڈی ایم، سیکریٹری ہو یا رئیس الجامعہ، مولوی ہو یا عالم، مفتی ہو یا شیخ الحدیث غرض کہ اعلیٰ سے ادنیٰ تک تمام محکموں یعنی ڈپارٹمنٹ کے ہر صاحب منصب پر اپنے فرض منصبی کی ادائیگی بغیر کسی دنیاوی غرض و غایت اور مقاصد و منفعت کے (خواہ وہ جانی ہو یا مالی) واجب ہے اور رشوت ستانی کی حرمت کے سلسلے میں علمائے کرام اور محدثین عظام کی دو رائے نہیں ہیں۔ جس طرح اﷲ نے رشوت قبول کرنے کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح رشوت دینے اور واسطہ بننے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ البتہ رشوت دینے کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن کو کچھ علمائے کرام نے جائز قرار دیا ہے جسے بیان کرنے سے قبل رشوت کی حرمت کے دلائل کتاب وسنت اور اجماع امت سے صفحہ قرطاس کے سپرد کردینا مناسب سمجھتا ہوں۔

کتاب اﷲ سے دلائل

ارشاد ربانی ہے:

ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا الی الحکام لتأکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون (۴)

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ سے نہ کھائو اور نہ مال کو حاکموں کے پاس رشوت کے طور پر اس غرض سے پہنچائو کہ لوگوں کے مال میں سے تھوڑا بہت (جو کچھ ہاتھ لگے) اس کو جان بوجھ کر جائز طور پر کھائو۔ اس آیت کریمہ میں باطل طریقہ سے لوگوں کے مال کھانے کی صورت میں ایک انتہائی بدترین صورت ہے جس کے ذریعہ حکام اور کار پرداز اسخاص کو عدل و انصاف کی ڈگر سے منحرف کردیا جاتا ہے اور صاحب حق کے خلاف راشی کے حسب منشاء فیصلہ کیا جاتا ہے یا کم از کم جس کا کام بعد میں ہونا چاہئے، اس کا پہلے اور جس کا پہلے ہونا چائے اس کا بعد میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر اﷲ تعالیٰ نے سرے سے اس کی جڑ کاٹ ڈالی اور ہمیشہ کے لئے اس پر قدغن لگادی۔ اس حرام خوری اور رشوت ستانی کی بنیاد پر اﷲ تعالیٰ نے یہودیوں کی مذمت فرمائی اور انہیں سبب سے بڑا مجرم قرار دیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

سماعون للکذب اکالون للسحت (۵)

 (اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹے سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں۔

نیز دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا

وتری کثیر من ہم لیدعون فی الاثم والعدوان واکلہم السحت لبئس ماکانو یعملون، لولا ینفہم الربینو والاحبار عن قوالہم الاثم واکلم السحت لئبس ماکانو یصنعون (۶)

اور تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں تگ و دو کرتے پھرتے ہیں اور مال حرام کھانے میں تیزگام ہیں۔ (افسوس ان کے ایمانی دعویٰ پر) کیا ہی برے کام ہیں جو شب و روز کررہے ہیں کیونکہ وہ علماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور مال حرام کھانے سے روکتے یقینا بہت ہی برا کارنامۂ زندگی ہے جو وہ کررہے ہیں۔

سنت سے دلائل

بیشتر احادیث مبارکہ میں رشوت خور حکام پر لعنت کی گئی ہے اور ان کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ نیز اس کے بھیانک نتائج سے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا

انہ الا یرجو اللحم نبت من سحت الاکانت النار اولیٰ بہ (۷)

کہ جو بھی گوشت پوست مال سحت (مال رشوت سے بڑھتا اور پروان چڑھاتا ہے) تو اس کے لئے دوزخ کی آگ ہی زیادہ موزوں ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ کا ارشاد گرامی ہے

انہ لن یدخل الجنۃ لحم نبت من سحت (۸)

کہ گوشت کا جو پارہ سحت سے پروان چڑھے وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا۔

حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول خداﷺ نے فرمایا

انما انا بشرو انکم تختصمون الی ولعل بعضکم ان یکون الحن رجحتہ من بعض فاقضی لہ نحوما اسمع منہ فان قضیت لہ من ح اخیہ شیئاً فلا یاخذفانہا اقضی لہ قطعۃ من النار

یعنی میں بہرحال ایک آدمی ہی تو ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لائو اور تم میں سے ایک کاذب فریق دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شیریں کلام اور چرب زبان ہو اور اس کے دلائل سنکر میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں مگر یہ سمجھ لو کہ اگر اس طرح اپنے کسی بھائی کے حق میں سے کوئی چیز تم نے میرے فیصلہ کے ذریعے سے حاصل کی تو دراصل تم دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کروگے (متفق علیہ)

امام ترمذی، احمد اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور امام ابو دائود نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ’’فیصلہ کرنے کے سلسلے میں رشوت لینے اور دینے والے پر اﷲ نے لعنت فرمائی‘‘ (۱۱)

نیز ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ’’لعن اﷲ الراشی و المرتشی فی الحکم‘‘ (۱۲)

اﷲ تعالیٰ نے فیصلہ کے سلسلے میں رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ مذکورہ بالا تمام حدیثیں رشوت کی حرمت پر صریحاً دال ہیں۔ کیونکہ لعنت یعنی اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کسی عظیم گناہ کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رشوت کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔

اجماع سے دلیل

صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رشوت لینا دینا اور اس کے درمیان تگ و دو کرنا سب حرام ہے۔ البتہ اختلاف ان امور میں ہے جس میں مجبوری کے تحت رشوت کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔اس سلسلے میں علماء کی دو رائے ہیں (۱) حق حاصل کرنے یا ضرر کو دفع کرنے کے لئے رشوت دینا جائز ہے بشرط یہ کہ انسان اپنا حق حاصل کرنے یا ظلم و ضرر کو دفع کرنے سے قطعی طور پر عاجز ہو اور حق کے ضیاع کا ڈر لاحق ہو۔ نیز اسے اپنے حق کی تحصیل میں کسی قسم کی تائید اور نصرت و حمایت حاصل نہ ہو۔ یعنی اس کی حمایت میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جو اس پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اسے انصاف دلاسکے۔ اباگر وہ رشوت دیتا ہے تو اس کا حق اس کو دستیاب ہے ورنہ نہیں تو ایسی صورت میں بہتر تو یہ ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لے، ممکن ہے اﷲ اس کے لئے کوئی سبیل نکال دے۔ اگر صبر کاپیمانہ چھلک جائے تو ایسے وقت کے بارے میں اﷲ کے پیارے رسولﷺ نے سخت وعید سنائی ہے۔

چنانچہ ارشاد فرمایا:

الراشی والمرتشی کلاہما فی النار

جو مال اﷲ تعالیٰ کے حرام کردہ راستوں میں صرف اور خرچ کیاجائے، بسا اوقات اس کے نتائج اتنے مہلک اور جان لیوا ہوگئے ہیں ،جن کا تصور کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ رشوت کے ذریعہ عدل و انصاف کا جنازہ نکالا جاتا ہے اور بے انصافی و بے مروتی اور بے ایمانی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مظلوم شخص کی فریاد رسی اور گریہ وزاری اور آہ و بکا پر کوئی کان دھرنے والا نہیں ہوتا اور الٹے اسی کو ظالم و جابر گردانا جاتا ہی۔ رہی زنا کاری میں خرچ کی گئی رقم تو وہ محض ایک حرام فعل کا ذریعہ اور وسیلہ بنتی ہے اور زناکار مرد و عورت دونوں کو اس فعل شنیع سے لطف اور لذت ملتی ہے۔ لیکن یہ ایسا گناہ ہے کہ اگر بندہ اس فعل شنیع پر اظہار مذمت کرے اور توبہ کرے۔ اگر حق تلفی ہوئی ہے اور بندوں پر سنگین ظلم ہوتا ہے جس کی مغفرت اس وقت تک نہیں ہوسکتی تا آنکہ بندۂ مظلوم معاف نہ کردے۔ اس لحاظ سے زنا کاری اور رشوت ستانی میں نمایاں فرق ہوجاتا ہے اور رشوت ستانی کی خرابی زنا کاری سے بڑھ جاتی ہے۔

قارئین کرام

رشوت انسانی سوسائٹی کے لئے ایک ایسا رستہ ہوا ناسور اور مہلک مرض ہے جو کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ بایں طور کہ جو شخص اس کا شکار ہوتا ہے اس کو لقمہ جہنم بنادیتی ہے۔ جب کہ کینسر کا مرض ایسا نہیں ہے، جب کسی معاشرہ میں رشوت کی بیماری عام ہوتی ہے تو وہ پہلی فرصت میں عدل وانصاف کا گلا گھونٹ کر حق کا خون کردیتی ہے جس کے نتیجے میںوہ معاشرہ جو امن وسکون کا گہوارہ تھا، اختلاف و افتراق اور انتشار و خلفشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسانی افراد میں اخوت و محبت، ہمدردی و بھائی چارگی کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ بغض و عناد، نفرت، عداوت و شقاوت کا شعلہ بھڑک اٹھتا ہے۔ ہر شخص ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہوجاتا ہے۔ رشوت، خیانات امن و شانتی، صلح و آشتی کا خرمن جل کر پیوند خاک ہوجاتا ہے۔ معاملات میں دھوکہ دہی، جھوٹی گواہی، ظلم و تشدد اور اس طرح دیگر افعال شنعیہ کی وجہ سے جب ایک دوسرے کی حق تلفی ہوتی ہے تو سماج کا ہر فرد و بشر ایک دوسرے پر جبر و استبداد کو اپنا شعار بنالیتا ہے۔ یہ سب ایسے مبغوض اور بدترین قسم کے جرائم ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی اور مسلمانوں میں بغض و عداوت اور عام فتنوں کا سبب بنتے ہیں۔

اﷲ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ جب لوگ برائی دیکھیں اور اسے نہ مٹائیں تو ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لیں (۲) اس حدیث کو امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے۔

رشوت کے اخلاقی نقصانات

یہ تھی رشوت کے اجتماعی نقصانات کی مختصر سی جھلک۔ اب اس کے اخلاقی و دینی نقصانات مختصراً ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویسے تو رشوت کے بے شمار اخلاقی نقصانات ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مہلک اور خطرناک یہ ہے کہ اس کا اخلاق کے بگاڑنے اور سماج سے مبنی برکتاب و سنت خصائل حمیدہ کو سبوتاژ کرنے میں اہم رول رہا ہے۔ انسانی سماج کی وہ زبان جس سے قال اﷲ و قال الرسولﷺ کی دلنواز صدائیں بلند ہوتی تھیں، اس سے رذیل اور دلسوز باتوں کا غلغلہ بلند ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رشوت خور وزرائ، حکام، قضاۃ اور دیگر سرکاری ملازمین وغیرہ کے اخلاق خراب ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر اچھے برے کی تمیز ختم ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنی خواہشات نفسانی کے پجاری بن جاتے ہیں۔ اس سے حق و باطل، حلال و حرام، جائز و ناجائز کی تمیز مٹنے لگتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رشوت ستانی ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔ رشوت دے کر کام نکالنے کی کیا ایسی صورت میں اجاز ہوگی؟ (۳) اور دیکھو نیکی اور پرہیزگاری کے کام میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی دنیاوی حرص و طمع، معاوضے اور لین دین کے حقدار کو اس کا حق دلانا اور اس سے ظلم کو دفع کرنا واجب ہے کیونکہ یہ تعاون ہی کی ایک قسم ہے۔ اب اگر کوئی شخص اپنی فرضیت کی ادائیگی کے لئے اس تعاون کے صلہ میں رشوت لیتا ہے تو وہ تنہا اس آیت کے پیش نظر گنہ گار ہوگا۔ نیز نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا (احمل مالک دون نفسک ونفسک دون دینک) یعنی اپنے مال کو اپنی جان سے کم مرتبہ سمجھو اور اپنی جان کو اپنے دین سے کم مرتبہ خیال کرو۔ اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے اپنے مال کو اپنی جان کی ڈھال بنانے کی اجازت دی ہے اور اس طرح کے معاملہ میں رشوت دینا ایک قسم کی حفاظتی تدبیر ہے۔ لہذا اسے درست ہوگا۔

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے منقول ہے کہ جس وقت آپ حبشہ میں تھے۔ آپ نے جان چھڑانے کے لئے بطور رشوت دو دینار دیئے۔ تب آپ کو رہائی ملی۔ اس وقت آپ نے فرمایا تھا ( ان الاثم علی القابض دون الدافع) (۱۵) یعنی لینے والا گنہ گار ہوگا دینے والا نہیں۔

عبدالرزاق نے حضرت جابر بن زید اور شعبی سے نقل کیا ہے۔ وہ دونوں کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی جان یا مال پر ظلم و زیادتی کے ازالہ کے لئے رشوت دے تو اس کے اندر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حضرت عطا اور ابراہیم نخعی سے بھی یہی منقول ہے (۴) یہ جمہور تابعین سے منقول آثار اور روایتیں ہیں۔ اس کے علاوہ بہت ساری روایتیں ہیں جن سے اس حال میں رشوت دینے کی اجازت ملتی ہے اور کسی سے ان کے خلاف منقول نہیں۔ لہذا اس سے جواز ثابت ہوتا ہے۔

رشوت کی مختلف قسمیں ہیں مثلا (۱)حق کو باطل کرنے یا باطل کو حق ثابت کرنے کے لئے رشوت کا لین دین (۲) کسی حق کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا (۳) ظلم و جور کو دفع کرنے کے لئے رشوت دینا (۴) کسی منصب پر فائز ہونے کے لئے رشوت دینا وغیرہ۔

اور یہ صورت حال کے مطابق مختلف شکل و صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ کبھی نقد کی صورت میں، کبھی سفارش اور ہدیہ و تحفہ کی شکل میں، کبھی کسی کو منصب و ملازمت دے کر، کبھی جنسی لذت حاصل کرکے اور کبھی دعوتوں کے ذریعہ۔

علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہدیہ کا لین دین ایک مستحب امر ہے تو پھر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہدیہ کب رشوت میں ہوتا ہے۔ ہدیہ کا لین دین اس شخص کے لئے جائز ہوگا جو مسلمانوں کے کسی کام کا نگراں ذمہ دارانہ رہا ہو۔ وہ شخص جو کسی ایسے منصب پر فائز ہے کہ اگر وہ اس پر نہ ہوتا تو وہ اس کو ہدیہ نہ ملتا تو ایسی صورت میں اس کا ہدیہ قبول کرنا رشوت لینے کے مترادف ہوگا اور یہ حرام ہے جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ امام کو تحفہ دینا خیانت ہے۔

نیز ابن تین کہتے ہیں۔ گورنروں کو تحفہ دینا رشوت ہے، اس کو تحفہ اور ہدیہ کہا بھی جاسکتا ہے اس لئے کہ اگر وہ شخص گورنر نہ ہوتا تو کون اسے تحفہ دیتا؟ ایسے ہی قاضی کو ہدیہ دینا سخت قبیح فعل اور حرام فعل ہے۔ وہ اس کا مالک بھی نہ ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ کہ اسلام میں رشوت کا لینا دینا قطعاً ناجائز ہے۔ البتہ حالت اضطراری میں ظلم و ضرر کو دفع کرنے اور نفس کو ہلاکت سے بچانے کی خاطر بعض علمائے اسلام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔