حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کی آگ

in Tahaffuz, October 2011, متفرقا ت

مجنوں کو خبر ملی کہ لیلیٰ آرہی ہے۔ خوشی و مسرت کے جذبات سے لبریز وہ استقبال کی تیاریاں کرنے لگا۔ تیاریوں کی تکمیل کے بعد اونٹنی پر سوار ہوا۔ اور استقبال کو چل دیا۔ اونٹنی کا بچہ گھر میں تھا۔ مجنون تو لیلیٰ کی طرف جلد پہنچنے کی فکر میں تھا۔ جبکہ اونٹنی کا دل گھر میں بندھے ہوئے اپنے بچے کی طرف تھا۔ مجنون جتنا زیادہ اسے تیز چلانے کی کوشش کرتا اونٹنی اتنا ہی موقع پاکر پیچھے کی طرف دوڑ لگا دیتی۔

مجنون سمجھ گیا دو مختلف عاشقوں کا محبوب اگر ایک نہ ہو تو وہ دونوں مل کر ایک طرف کو نہیں چل سکتے۔ اس نے اونٹنی کو چھوڑا کہ تو جا اپنی منزل اپنے بچے کی طرف اور میں چلتا ہوں اپنی منزل اپنی محبوبہ اپنی لیلیٰ کی طرف۔ ہذا فراق بینی و بینک

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا قبلہ ایک نہ تھا۔ دونوں کی منزل مختلف تھی، وہ کبھی ایک منزل کی طرف اکھٹے سفر نہیں کرسکتے تھے۔ پیٹ کے بندے کا قبلہ دسترخوان ہوتا ہی۔ اس کا ہر قدم ادھر ہی ہوگا وہ ’’دو اور دو‘‘ کو بھی چار روٹیاں ہی کہے گا۔ وہ کعبۃ اﷲ شریف اور بیت اﷲ شریف کی طرف سفر نہیں کرسکتا۔

جسم کی منزل پستی ہے۔ اور جان و روح کی منزل بلندی کی طرف پرواز ہے۔ دونوں ایک بس میں سفر نہیں کرسکتے۔ جان کو جسم کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اگر اکھٹے چل بھی پڑیں تو دونوں اپنی اپنی منزل پر رکتے جائیں گے۔ ان کو ایک دوسرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔

ایک کبوتر کسی جوہری کا موتی لے کر اڑ گیا۔ کبوتر باز بھی کبوتر کے پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا۔ اور جوہری بھی، دونوں کی منزل بظاہر کبوتر ہی تھی۔ لیکن مقصد ایک نہیں تھا۔ کبوتر اڑتا اڑتا ایک بلند اور خوبصورت مینار پر جا بیٹھا۔ وہاں ہزاروں لوگ اس مینار کو دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ ان کی نظر بھی مینار پر تھی۔ کبوتر باز کی نظر بھی مینار پر تھی اور جوہری کی نظر بھی مینار پر تھی۔ لیکن کسی کو کسی دوسرے سے کوئی دلچسپی نہ تھی کہ منزل ایک نہیں تھی، محبوب ایک نہیں تھا۔ بڑی کوشش سے کبوتر مینارسے اڑانے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن تھوڑی دور جاکر کبوتر کی چونچ سے وہ موتی گر پڑا۔ جوہری وہیں ٹھہر گیا۔ اب اکیلا کبوتر باز ہی کبوتر کے پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس کی منزل موتی نہیں کبوتر تھا۔ اور جوہری کی منزل موتی تھا، کبوتر نہیں تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اور نمرود دونوں ایک ہی بستی، ایک ہی شہر، ایک ہی ماحول اور ایک ہی خاندان کے افراد تھے۔ لیکن مرکز مختلف تھا۔ نقطہ نظر بھی مختلف تھا۔ مقصود ایک نہ تھا۔ ان کی منزل مختلف تھی۔ محبوب جدا جدا تھے۔ کوئی بہت قریب تک دیکھنے والا تھا۔ اور کوئی بہت دور تک دیکھنے والا تھا۔ کوئی کوتاہ نظر تھا۔ اور دوسرا دور اندیش اور وسیع النظر۔ ایک صرف ستاروں، چاند اور سورج تک نظر رکھتا تھا۔ اس کی نظر صرف ان کی چمک دمک پر تھی۔ ان کے ظاہر حسن پر تھی۔ اور اس کے سارے ماننے والے۔ اس کے ماحول میں پلنے والے سب اسی طرح تھے اور وہ صدیوں سے اس کے سوا اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایک دیکھنے والا آیا۔ اس نے ستارہ دیکھا اس کی چمک دمک دیکھی۔ اس کی اہمیت کا شان کا معترف ہوا۔ اس نے چاند دیکھا۔ اس کے حسن میں ڈوبا، اس کی میٹھی میٹھی پھوار پھینکنے والی چاندنی بھی دیکھی۔ اور اس کی پاکیزگی اس کی عظمت اور لطانت و حسن کا اعتراف کیا۔ اس نے سورج بھی دیکھا، اس کی رفتار دیکھی، اس کی کرنوں کے تیکھے تیر بھی دیکھے۔ سارے عالم کو منور کرنا بھی دیکھا۔ سارے ستاروں سارے چاندوں سے اس کے بڑے ہونے کا اعتراف بھی کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیکھنے والے نے۔ ایک ایسی بات بھی دیکھ لی جو صدیوں سے دیکھنے والوں میں سے کوئی نہ دیکھ سکا۔ وہ لاکھوں ہزاروں میں صرف ایک تھا۔ اور وہ ابراہیم تھا علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام

ابراہیم علیہ السلام نے ان کی شان رعنائی کے ساتھ ساتھ ان کے اندر چھپی ہوئی بے بسی اور بے چارگی بھی دیکھ لی۔ ان کا گھٹنا ان کا بڑھنا ان کا غروب ہونا، ان کا ڈوب جانا، نہ اپنی مرضی سے چڑھ سکتا نہ اپنی مرضی سے ڈوب سکتا، اپنے طلوع و غروب میں بھی کسی کے محتاج گھٹنے بڑھنے میں بھی کسی کے محتاج یہ سب دیکھ لیا۔

پھر ابراہیم نے ان تمام مجبوروں اور مقہوروں کو مجبور کرنے والا ان کو بے بس کرنے والا ان کو طلوع کرنے والا ان کو غروب کرنے والا بھی دیکھ لیا۔ جو پہلے ان میں سے کوئی بھی نہ دیکھ سکا۔ پھر آپ مکمل طور پر اسی کی طرف متوجہ ہوگئے۔

چمن میں ایک خوبصورت تتلی تھی۔ رنگوں کی نزاکت کی کہکشاں ادھر ادھر پھدکتی پھرتی تھی۔ بچوں کے لئے دلچسپی اور کھیل کا سامان، چمن میں پھول بھی تھے۔ چنبیلی، موتیا، گلاب، نرگس، مروا، رات کی رانی، دن کا راجا، نہ جانے کیا کیا تھا۔ کوئی ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ حسین و جمیل بناوٹ میں گم ہوگیا۔ کوئی ان کے مختلف رنگ اور ان کے رنگوں کے اپنے اپنے انوکھے پن میں کھو گیا۔ ان میں سے ایک صاحب جدھر دیکھتے سبحان اﷲ، سبحان اﷲ پکار اٹھتے۔

ہم نے ان سے پوچھا آپ نے کیا دیکھ لیا ہے۔ جو ہر جگہ ہر مقام پر سبحان اﷲ سبحان اﷲ پکار اٹھتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ تم نے اس بھرے چمن میںکیا دیکھا۔ ایک نے کہا میں نے ان پھولوں کی مہک دیکھی۔ دوسرے نے کہا میں نے ان کی بناوٹ دیکھی۔ ایک صاحب بولے میں نے ان کی لطافت دیکھی۔ میں نے عرض کیا میں نے ان کے رنگ دیکھے۔ اس نے کہا میں نے ان میں رنگ بھرنے والا بھی دیکھ لیا ہے۔ میں نے پوچھا کہا ہے؟ کہنے لگے یہیں کہیں چھپا بیٹھا ہے۔ ہم نے عرض کیا، جناب ہمیں تو نظر نہیں آتا۔ کہنے لگے اس کا نظر نہ آنا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ چیز موجود ہو، اور نظر نہ آئے تو لگتا ہے نظر کمزور ہی۔ اگر کوئی نظر کی کمزوری دور کرنے والا دانشور، حکیم، طبیب مل جائے وہ نظر چیک کرکے بتا سکتا ہے تمہاری قریب کی نظر کمزور ہے یا دور کی۔ اور کون سے نمبر کاشیشہ درکار ہے۔ اگر صحیح نمبر کی عینک مل جائے پھر اس سے دیکھو۔ تو حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ کہ ایک پھول ہی نہیں۔ ایک چاند ستارہ اور سورج ہی نہیں بلکہ ایتما تولوا فئم وجہ اﷲ۔ تم جدھر دیکھو گے یار کا جلوہ نظر آئے گا۔

ابراہیم کی نظر درست تھی۔ کوتاہ اندیشوں اور اندھوںکے شہر اور بستی میں صرف ایک ابراہیم ہی تو تھا۔ جسے ستاروں چاندوں میں سورجوں میں، بلکہ ہر چیز میں سب میں وہ نظر آرہا تھا۔ اس کی نظر کا عدسہ صحیح کام کررہا تھا۔ ان پر کروڑوں سلام۔

ابراہیم نے برملا اظہار کردیا علی الاعلان کہہ دیا۔ لوگوں میں ان میں سے کس کو نہیں مانتا۔ یہ سب بے بس ہیں، بے چارے ہیں، مجبور ہیں، ہاں اگر مانتا ہوں تو اس کو مانتا ہوں جس کے ہاتھ میں ان سب کی باگ ڈور ہے۔ جو جب چاہے ان کو طلوع کردے اور جب چاہے ان کو غروب کردے۔ مجھے بس اس کی قدرت پر ایمان ہے۔ اس کے اتنے بڑے طقتور ہونے پر بھی ایمان ہے۔

کنویں کا مینڈک سمندروں کی وسعتوںکا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ محسوسات کی دنیا کا خوگر ان دیکھے خدا کو کیسے پاسکتا ہے۔ انہوں نے برملا کہہ دیا۔ ابراہیم ایسا نہیں ہوسکتا۔ پیکر محسوس کی بات کرو۔ ان دیکھے معبود کی بات مت کرو۔ بس یہیں سے دونوں کے راستے مختلف ہوگئے۔ دونوں میں ٹھن گئی اور خوب ٹھن گئی، کفر کو اپنی طاقت، اپنی حکومت، اپنی ثروت اور اپنی کثرت کا بڑا گھمنڈ تھا۔ ہم یہ کردیں گے، ہم وہ کردیں گے، ہمارے اتنے سارے معبودوں کی توہین ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ہمارے معبود بھی اس کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ شاید انہیں ابھی اس کی خبر نہیں، انہیں پتہ چل گیا تو وہ تیرا تیا پانچہ کردیں گے۔ لیکن پہلے ہم تجھ سے نپٹ لیں۔ صلاح و مشورے شروع وہگئے۔ گلی گلی، کوچہ کوچہ، بحث و تمحیص شروع ہوگئی۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔

حضرت ابراہیم بھی کب خاموش رہنے والے تھے۔ بے شک وہ بظاہر تنہا تھے۔ لیکن ان کو یقین کامل تھا اور ہونا بھی چاہئے تھا کہ ان ﷲ علی کل شئی قدیر بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ آپ نے بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دیا انی لااخاف ماتشرکون تم نے جو کرنا ہے کرلو۔ تم جس جس کو بھی اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔ میں ان میں سے کسی سے بھی نہیں ڈرتا۔

دونوں طرف مخاصمت عروج پر پہنچی۔ طاقت و غرور کی پتنگ جتنی اونچی اڑتی ہے، اتنی ہی جلدی کٹ بھی جاتی ہے۔ درمیان میں سیانے پڑے۔ ایک دو بار باہمی گفتگو بھی ہوئی۔ مذاکرات بھی ہوئے۔ نمرود نے پوچھا اچھا ابراہیم اپنے رب کا تعارف کرائو۔ وہ کیا کرسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ میرا رب وہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے۔ مارتا بھی ہے، کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ ایک بے گناہ شخص کو اٹھایا اور پھانسی پر چڑھادیا اور پھانسی چڑھنے والے کو اتار لیا۔ اور کہا دیکھو۔ زندگی اور موت تو میرے ہاتھ میں بھی ہے۔ کوئی اور بات کرو۔ آپ نے فرمایا میرا رب وہ ہے جو مشرق سے سورج کو طلوع کرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے۔ اگر تمہیں بھی دعویٰ خدائی ہے تو تو بھی ایک دن صرف ایک دن سورج مغرب سے طلوع کرکے دکھا دو۔

اب اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ مبہوت الحواس ہوگیا۔ ہوش کے طوطے اڑ گئے۔ غصے سے لال پیلا ہوگیا۔ غصے کی آگ میں جلنے لگا اور اس نے اعلان کردیا۔ ایسے شخص کے لئے آگ کا الائو روشن کرو… اور اس میں اس کو جلاکر بھسم کردو۔

آگ کا الائو روشن کرنا کون سا مشکل تھا۔ کام شروع ہوگیا۔ ایک اور مشرک نے بھی آگ جلائی تھی اور بنی اسرائیل کو جمع کرکے کہا تھا۔ یا تو مجھے سجدہ کرو نہیں تو تمہیں اس آگ میں پھینک دوں گا۔

ایک عورت لائی گئی، کہ عورت کمزور دل ہوتی ہے۔ سوچا جلدی پسیج جائے گی۔ اسے کہا مجھے سجدہ کرو۔ نہیںتو تمہارا بچہ تم سے چھین کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ عورت کے انکار پر بچہ چھین لیا گیا اور آگ میں پھینک دیا گیا۔ ماں تڑپ کر رہ گئی۔ تلملا اٹھی۔ شاید قدم ڈگمگا جتے، لڑکھڑاتی اور تذبذب کا شکار ہوجاتی کہ بچے نے آگ میں پکار کر کہا۔ اماں دل چھوٹا نہ کر۔ میں بظاہر معدوم ہوں، حقیقت میںموجود ہوں، ڈرو نہیں۔

بعض لوگوں نے بچے کے رونے اور چیخنے کی آواز سنی تو سمجھے بچہ آگ کی جلن کی وجہ سے رو رہا ہے۔ حالانکہ وہ اس لئے رو رہا تھا کہ ابھی تک میری ماں اس آگ کے گلزار میںکیوں نہیں کودی۔ بچے نے آواز دے کر کہا۔ اماں جلدی سے آگ میں چھلانگ لگادو۔ تو نے دنیا کے کتے کی طاقت دیکھ لی۔ اب اندر آ۔ اور ابراہیم کے رب کی طاقت کا بھی مشاہدہ کر۔ اس آگ کے اندر جو گلاب اور چنبیلی کے پھول کھلے ہیں، انہیں بھی دیکھ آنکھوں کو ٹھنڈا کر اور ذہن کو معطر کر۔

میری ماں سن میں پیدا ہوتے وقت تیرے پیٹ سے باہر نکلنے سے ڈر رہا تھا۔ جب پیدا ہوا تو تیرے رحم کی بند کوٹھڑی سے نجات مل گئی۔ اب اس آگ میں آکر اس دنیا کو ماں کے رحم کی بند کوٹھڑی کی صورت دیکھ رہا ہوں۔ میں تو تجھے ایک ماں کی محبت کی بناء پر بلا رہا ہوں۔ ورنہ مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ ماں جلدی کر، اندر آجا۔ اور دوسرے لوگوں کو بھی بلالے۔ وہ بھی آگ کے اندر شہنشاہ کا بچھا ہوا دستر خوان دیکھ لیں، اس نے پکار کر کہا… لوگو! اندر آجائو۔ دین کے میٹھے پانی کے سوا سب پانی عذاب ہیں، ان سب میں شہنشاہ سے دوری پیدا کرنے والا زہر بھرا ہوا ہے۔ لوگوں اندر آجائو۔ چھلانگ لگادو۔ تاکہ روح صاف اور لطیف ہوجائے اور حضرت ابراہیم کے رب کی قدرت دیکھ لو اور اس کے رازکو پائو۔

بچے کی آواز سن کر ماں نے بھی آگ میں چھلانگ لگادی۔ پھر اس نے اسی طرح کہنا شروع کردیا۔ بچے اور عورت کی کیفیت دیکھ کر لوگوں نے بھی آگ میں چھلانگیں لگانا شروع کردیں۔ حتی کہ پہلے جو سپاہی لوگوں کو بتوں اور حاکم کو سجدہ نہ کرنے والوں کو آگ میں پھینکنے کے لئے کھینچ کھینچ کر لا رہے تھے آگ کے دہکتے الائو سے ڈرا رہے تھے۔ اب لوگوں کو آگ میں چھلانگیں لگانے سے روکنے لگے۔ وہ حیران ہورہے تھے کہ اب لوگ آگ کے ذریعے اپنے جسموں کو فنا کرنے کے لئے زیادہ عاشق کیوں ہوگئے ہیں۔

بادشاہ چیخ اٹھا۔ اور آگ سے مخاطب ہوکر غصے سے چلانے لگا۔ اے آگ تجھے کیا ہوگیا ہے تو ان کو جلاتی کیوں نہیں؟ تو تو اپنے پوجنے والوں کو معاف نہیں کرتی۔ آگ نے جواب دیا میں تیرے لئے تو اب بھی آگ ہی ہوں۔ ذرا تو میرے اندر آ۔ پھر دیکھ تو میری جلن کی جلند ابد الاآباد تک نہیں بھلا کے گا۔ی

نمرود کی جلائی ہوئی آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ آگ کے انگارے دہک رہے ہیں۔ ابراہیم کو اس آگ میں پھینکنے کے تمام انتظامات پورے ہوگئے۔ سب سے بڑے شاہ کے قریبی مصاحبوں میں کھلبلی مچ گئی اور مچنی بھی چاہئے تھی کہ ان کے شاہ کا ایک بہت ہی چاہنے والا غیروں کے ہاتھوں مقتل کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ اچھا مال تو ہمیشہ سنبھال سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ ساری دنیا اس وقت ہر طرف کھوٹا مال ہی بھرا ہوا تھا۔ صرف ابراہیم ہی ایک کھرا مال تھا۔

ایک بہت ہی قریبی مصاحب بھاگا بھاگا آیا۔ حضور کوئی حکم؟ آگ کو بجھا دوں۔ اس آگ میں ہی سب ان کو جھلسا کر عبرت کا نشان بنادوں۔ ان سب کی بستیاں الٹ دوں۔ ہر حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں۔ پھر نہ کہنا ،آڑے وقت میں کوئی مدد کو نہیں پہنچا۔

ابراہیم نے کہا۔ جبرائیل آپ کا شکریہ، یہ میرا اور میرے شاہ کا معاملہ ہے۔ آپ مہربانی فرمائیں۔ درمیان میں نہ آئیں۔

جے سوہنا میرے دکھ وچ راضی

تے میں سکھ نوں چوہلے ڈانواں

نمرود اور سارے نمرودیئے غصے سے لال پیلے ہورہے تھے۔ اپنی یقینی کامیابی کی موہوم خوشی سے سرشار ہورہے تھے۔ وہ چشم زدن میں اپنے معبودوں کے دشمن ابراہیم کو آگ میں جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ وقت مقرر پہنچا۔ منادی سن کر ساری مخلوق وقت مقرر سے پہلے اسٹیڈیم میں پہنچ چکی تھی۔ نمرود نے آگ میں پھینکنے والوں کو حکم دیا۔ ایک دو، تین… پھر کیا ہوا؟ پھر

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

دریا کے پانی کو خشک ہوجانے کا حکم دینے والا۔ سارے بنی اسرائیلیوں میں ہر ایک کا تعارف کرادینے والا۔ کہ موسیٰ علیہ السلام کے ان … لاکھ انسانوں میں سے کسی کا پائوں بھی گیلا نہ ہونے پائے اور سارے فرعونیوں سے متعارف کرادینے والا۔ کہ اے دریا۔ ان میں کوئی بچ کر نہ جائے۔ زمین کو قارون کے لئے اژدھا بن کر نگل جانے کا حکم دینے والا۔ آج آگ کو حکم دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے قلنا یا نارکونی برداً و سلاماً علی ابراہیم کہ ہم نے حکم دیا اے آگ ہمارے ابراہیم کے لئے ٹھنڈی و سلامتی والی ہوجا۔

اے آگ کے دہکتے ہوئے انگارو۔ گلاب کے پھول بن جائو۔ اے آگ کی تپش، مہک اور خوشبو کا لبادہ اوڑھ لے۔ عرش بریں سے تحت الثریٰ تک کی مخلوق نے رو زاول سے آج تک یہ نظارہ کبھی نہ دیکھا ہوگا، عقلیں گم ہیں، تجربے ناکام ہیں، آگ تو آخر آگ ہی ہوتی ہے، یہ نسیم بہار کیسے بن گئی۔ نمرود اور سارے نمرودیئے اس کی ساری ناپاک ذریت جل بھن کے رہ گئے۔ وہ اپنی بے بسی، بے کسی اور بے چارگی و ذلت آمیز رسوائی وشکست کی آگ میں جھلس کے رہ گئے۔ نفس کی آگ، ضمیر کی آواز، تو جہنم کے شعلوں کو بھی شرماتی ہے اور جس آگ میں نمرود اور سارے نمرودیئے جلنے لگے تھے۔ وہ تو شاید جہنم کے کسی سب سے گہرے پاتال سے نکال کر دلائی گئی ہوگئی۔

ادھر ابراہیم حیرت زدہ بھی تھے اور امتحان میں سرخرو اور کامیاب ہونے پر شکر گزار بھی تھے اور پاس کرانے والے کے سپاس گزار بھی تھے۔ ادھر سے سرٹیفکیٹ بھی مل گیا۔ واذا تتلیٰ ابراہیم بہ بکلمٰت فاتمہن کہ ابراہیم تو ایسا ہے اسے جب بھی کسی آزمائش میں ڈالا وہ کندن بن کر نکلا۔

ساری کائنات کا بادشاہ اپنے بندے اور اپنی پارٹی کی کامیابی پر ابراہیم کے لئے انعامات بانٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ہی چلمن سے لگے پردے کی اوٹ میں۔ نمرودیوں کو اس آگ میں جلتا دیکھ کر مسکرا بھی رہا تھا اور بار بار کہہ رہا تھا۔ وکذلک نجزی المحسنین کہ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ ہم صابروں کو،عزم و ہمت کے پیکروں کواجر عظیم سے یونہی نوازاکرتے ہیں۔

اے چاند ستاروں، سورجوں اور کہکشائوں کی اوٹ میں بیٹھنے والے، اے پھولوں اور تتلیوں کے حسن میں چھپ کر دعوت نظارہ دینے والے، اے کانٹوں کی چھبن اور ان کی چھبن سے اٹھنے والی ٹیسوں میں درد بن کر حرز جان بننے والے، اے میری ہر سانس کے آنے جانے کی ڈور، صرف اپنے ہاتھ میں سنبھالنے والے۔ اے میری چاہتوں، امنگوں، دھڑکنوں میں بسنے والے، تجھے جاننے والے جان گئے۔ پہچاننے والے پہچان گئے، تجھے پانے والے پاگئے۔ تیرا شکر کہ تو نے ہمیں ان سے پیار کرنے والوں میں شامل فرمایا۔ اب ایک درخواست ہے۔ لاتزع قلوبنا بعد اذ ہدیتنا اس ہدایت کی برکھا کی برسات ہمارے آنگن میں بھر دینے والے، اس نعمت سے محروم نہ رکھنا۔

اللھم اہدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم، اللہم صلی علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ ابراہیم انک حمید مجید