پیغام امن ومحبت

in Tahaffuz, October 2011, متفرقا ت

صوفی ازم کے حوالے سے جون 2011ء میں میڈیا کے مختلف ٹی وی چینلز پر بے حیائی پر مشتمل ’’کیٹ واک‘‘ دکھائی گئی۔ جس میں نعوذ باﷲ یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ نت نئے فیشن ، دیدہ زیب ملبوسات پہن کربے حیائی کا مظاہرہ کرنا ’’صوفی ازم‘‘ میں شامل ہے۔ استغفر اﷲ

اس کے علاوہ بھی کئی دیگر غیر شرعی امور جن کا تعلق کسی طور پر بھی صوفیاء کرام سے نہیں ہے، انہیں بھی اولیاء اﷲ سے منسوب کرنے کے لئے بعض متجدّد دین ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں۔ یقیناً ان صوفیاء، اتقیاء اور اولیاء سے منسوب وہ امور جوکہ غیر شرعی ہوں، قابل مذمت ہیں لیکن توبہ توبہ، غضب خدا کا، ایسی بے شرمی اور بے حیائی پر مبنی کیٹ واک اور اس کی نسبت اﷲ کے برگزیدہ، محبوب، متقی و پرہیزگار، اولیاء کی جانب کرنا ان صوفیائے کرام کی توہین کے مترادف ہے۔

محترم قارئین! کیا صوفیائے کرام کی یہی تعلیمات ہیں؟

کیا صوفی ازم بے حیائی کو فروغ دینے کا نام ہے؟

کیا مزارات اولیاء پر موجودہ دور میں ہونے والی غیر شرعی حرکات، میوزک، دھمال، عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماعات، نشہ آور چیزوں کا استعمال، جاہلوں کے سجدے، جعلی عامل، گیر شرعی منتیں، جعلی آستانے، بے عمل پیرومرشد اس ڈھونگ کا کوئی تعلق بھی ان صوفیائے کرام سے بنتا ہے؟

یقیناً اولیاء اﷲ اور تصوف کا مطالعہ کرنے والا ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اولیائے کرام (رحمہم اﷲ) فاذ کرونی اذکرکم کی عملی تفسیر ہیں۔ تقویٰ و طہارت کا پیکر ہیں، انبیاء، صدیقین، شہداء کے بعد اﷲ تبارک و تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں کی فہرست میں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ یہی وہ محبوب بارگاہ الٰہی اولیاء کرام ہیں جن کے لئے فضائل و مناقب پر مشتمل بے شمار آیات قرآنی میں ہیں جن کے بارے میں فرمایا ’’انہیں دنیا و آخرت میں نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ وہ قیامت کے دن غمگین ہوں گے‘‘

جہاد اکبر کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوکر اپنے رب عزوجل کی رضا پر، اپنے نفس کی خواہشات کو قربان فرما دینے والے ان اولیاء اﷲ نے ’’پیغام محبت‘‘ کو فروغ دینے کا فریضہ انجام دیا۔ ان اولیاء اﷲ اور صوفیاء کرام کا مقصد حیات انسانیت سے ’’پیار‘‘ ہے۔ ایک انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے کیلئے حقیقی معبود برحق کی غلامی عطا کرنا ان صوفیاء کا فرض منصبی ہے۔ اسی لئے رب العالمین نے ان صوفیاء کو وہ کامیابیاں عطا کیں جو انسانی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جاچکی ہیں۔ آج ظاہراً یہ صوفیاء ہم میں موجود نہیں لیکن الحمدﷲ اپنی تعلیمات، خدا خوفی، بے غرضی، للہیت، عشق رسولﷺ کے ساتھ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں زندہ و تابندہ ہیں۔

آج پندرہویں صدی ہجری میں پوری روئے زمین پر کوئی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت داتا علی ہجویری، حضرت خواجہ بہائو الدین نقشبند، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رحمہم اﷲ اجمعین) جیسا کہیں نظر آتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ پاک ہستیاں جنہوں نے تن تنہا وہ امور انجام دیئے جو بظاہر ایک ارب مسلمان ادا کرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ جوکہ تمام اولیاء کے سردار ہیں، لاکھوں عراقی کردوں کو مسلمان بنا ڈالتے ہیں۔ خواجہ غریب نواز کی شخصیت کو دیکھیں تو لاکھوں ہندوئوں کو حلقہ اسلام میں نہ صرف داخل فرمایا بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت فرما کر ایک اسلامی معاشرے میں امن و سکون سے رہنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ تاریخ شاہد و عادل ہے ایسا کوئی اور ہو تو ہمیں بتایا جائے۔ موجودہ پرفتن دور میں نہ تو صوفیاء کی تعلیمات سے مذہبی طبقہ رہنمائی حاصل کررہا ہے اور نہ ہی غیر مذہبی۔ ہرطبقہ صوفی ازم سے اپنے اپنے مطلب کی باتیں اخذ کرکے لوگوں کے سامنے بطور دلیل لارہا ہے۔ بقول اقبال علیہ الرحمہ

ورثے میں ملی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن

محترم قارئین! ایک سوال ذہن میں آرہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح ان اولیائ، صوفیاء و اتقیاء نے تن تنہا لاکھوں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھایا، کیا موجودہ دور میں ایسا کوئی اﷲ کا ولی آپ نے دیکھا ہے جس نے لاکھوں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر حلقہ بگوش اسلام کیا ہو؟

اس سوال پر اگر غور و فکر کیاجائے تو اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اولیاء کرام کے انداز تبلیغ کو دیکھیں تو اس میں آفاقیت، عالمگیریت، جامعیت نظر آتی ہے۔ یہ اولیاء کرام ایک انسان سے محبت کرتے تھے۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب کا حامل ہو۔ اسی لئے ان کے دامن کرم و رحمت سے آج بھی اپنے ہوں یا پرائے، سب کے سب سکون و ٹھنڈک حاصل کرنے ان کے مزار پرانوار پر جوق در جوق کھچے چلے آتے ہیں۔ یہی ’’پیغام امن و محبت‘‘ غیروں کے لئے اپنائیت کا محور بنا اور لوگ جوق در جوق ان صوفیاء کے واسطے اور وسیلے سے اﷲ عزوجل کی بندگی میں آتے چلے گئے۔ اس کے برخلاف اگر موجودہ دور کے مذہبی رہنمائوں کو دیکھیں۔ ان کی نشست و برخاست کو دیکھیں، ان کے انداز تبلیغ کو دیکھیں تو الا ماشاء اﷲ غیر مسلم تو کیا اسلام قبول کریں گے، یہ اپنے اردگرد بسنے والے مسلمانوں کو ہی بدظن اور اسلام سے متنفر کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ موجودہ دور کے مذہبی رہنمائوں کے انداز تبلیغ میں انفرادیت، تنگ نظری اور وسعت فکر کا نہ ہونا اس کا بڑا سبب ہے جو نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بزرگان دین قرآن مجید کے فکر و فلسفہ کو بڑی گہرائی سے سمجھتے تھے اور اپنوں کے علاوہ ان کی پہلی ترجیح ایک غیر مسلم ہوتا، خواہ وہ عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ، پارسی یا بدھ مت کا پیروکار ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس سے نفرت نہیں فرماتے بلکہ اس کے عقیدہ باطلہ کو پیش نظر رکھ کر اپنے حسن اخلاق و کردار سے اسے رب عزوجل سے ملادیتے۔ یہی وہ سب سے بڑی خوبی ہے جو ادعوا الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ کا حقیقی مظہر ہے جبکہ بظاہر ایسا نظر آرہا ہے کہ موجودہ دور کے مذہبی رہنما الا ماشاء اﷲ جذباتیت، شدت پسندی، تنگ نظری، شمشیر زنی، اور حکمت سے خالی الموعظۃ الحسنۃ پر عمل پیرا ہیں صوفیاء کے انداز تدبر و تفکر کے برخلاف ان رہنمائوں کا انداز تبلیغ سطحی اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف نظر آتا ہے۔ یہودیت، عیسائیت، ہندو مت، سکھ، بدھ مت اور دیگر کفار و مشرکین پر محنت و مشقت تو بہت دور اور ان کے فہم و فکر سے بالکل خالی ہے جبکہ اپنے ہی مسلمانوں کو یہ رہنما مزارات پر جانے، ان سے استعانت کرنے، ان صوفیاء کرام کے وسیلے سے دعا کرنے اوران مزارات پر پھول ڈالنے کو شرک اور بدعت قرار دے دیتے ہیں۔ مزارات صوفیاء سے عقیدت و محبت رکھنے والے مسلمانوں کو امریکیوں سے بڑا کافر گردانتے ہیں (استغفر اﷲ) اور اس پر انتہا یہ کہ صوفیاء کرام کے مزارات پر خودکش حملوں کا فتویٰ دیکر ناحق مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں اور اپنے ناپاک نظریات کو طاقت کے ذریعے معاشرے میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

نفرت انگیزی کی جتنی صورتیں ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہیں جن کو اﷲ عزوجل کے پیارے محبوبﷺ نے اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر روند ڈالا ہے۔ صوفیاء کے انداز تبلیغ کو سامنے رکھ کر اپنے لئے رول ماڈل بنایا جاسکتا ہے۔ خواہ وہ نفرت لسانیت و صوبائیت کی صورت میں ہو یا قوم، قبیلہ یا وطن کی صورت میں، مذہبی انتہاپسندی کی صورت میں ہویا فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف بغض و حسد کی صورت میں۔

مذکورہ تمام صورتیں ہی قابل مذمت ہیں جن کی بیخ کنی محبوب دوجہاںﷺ نے اپنے درج ذیل ارشاد میں واضح طور پر کردی ہے کہ کسی کالے کو کسی گورے پر، کسی گورے کو کسی کالے پر، کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں

قرآن مجید میں اسی سلسلہ میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا:

انا جعلنٰکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ۔ ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم

ترجمہ: بے شک ہم نے تمہیں قوم و قبیلہ میں اس لئے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اﷲ عزوجل کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہے۔

یقینا پاکستان کے سب سے بڑے معاشی و صنعتی شہر کراچی میں جو حالات ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں جو آگ روشنیوں کے اس شہر میں بھڑک رہی ہے اور روزانہ بیسیوں افراد ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ میں قتل کئے جارہے ہیں۔ وہ بھی اسی ’’نفرت و حسد‘‘ کے سبب ہے۔ ہر ایک قرآن و سنت کے فکر و فلسفہ اور صوفیاء کے پیغام امن و محبت کو فراموش کر بیٹھا ہے۔ لسانیت کے نام پر کہیں ’’مہاجر‘‘ قتل ہورہاہے تو کہیں ’’بلوچ‘‘ کہیں ’’پٹھان‘‘ قتل ہورہا ہے تو کہیں ’’سندھی‘‘ اسی طرح شہر کوئٹہ میں چن چن کر پنجابی بھائیوں کو قتل کروایا جارہا ہے۔ ابھی حال ہی میں صوبہ سرحد کی مسجد میں خودکش حملے میں 60 افراد کو شہید کردیا گیا۔ بہت حیرت کا مقام ہے کہ مذہب تو انسانیت سے پیار کرنا سکھاتا ہے۔ ایک آدمی کو انسان بناتا ہے۔ کیا آج آدمیت پر دور جاہلیت سے بھی برا وقت آگیا کہ وہ انسان کہلانے کا رودار بھی نظر نہیں آتا۔ وحشی پن، درندگی کا منہ بولتا ثبوت، یہ خودکش حملے اور مذہب کا لیبل، توبہ توبہ، مدارس سے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے، مساجد کے منبروں سے نفرت پر مبنی وعظ، عام نشست و برخاست میں ایک دوسرے پر شرک و بدعت کی تکرار…؟

یہ کیا مصیبت ہمارے گلے لگ گئی ہے؟

قرآن مجید تو پیغام الفت سنا رہا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا

ترجمہ: پس جوڑ دیا اﷲ نے تمہارے دلوں کو تو تم اس نعمت کے ذریعہ بھائی بھائی بن گئے۔

اسی بغض و نفرت کے سبب تم تو جہنم کے گڑھے میں گرنے والے تھے تو اﷲ نے تمہیں اس میں گرنے سے بچالیا۔ لیکن آج قوم مسلم کو کیا ہوگیا…؟

اقبال علیہ الرحمہ نے فرمایا:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر

آج امت کی یہ ترکیب اور اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے۔ اسلام اور صوفیاء کی تعلیمات امن و محبت ریزہ ریزہ ہوچکی ہیں۔ امت کی اجتماعیت کا اختتام انفرادیت کی صورت میں تباہ و برباد ہوچکا ہے اور مستزاد یہ کہ ہماری بداعمالیوں کے سبب اﷲ عزوجل کی طرف سے ہم پر بدترین حکمرانوں کو مسلط کردیا گیا ہے۔ جوکہ ’’مفاہمت کی سیاست‘‘ کے نام پر منافقوں اور بدکرداروں کا ایسا ٹولہ ہے جو ہیبت ناک عفریت کی شکل میں پاکستانی عوام سے چمٹ گیاہے جوکہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ یقیناً یہ اﷲ عزوجل کی طرف سے عذاب ہی کی ایک صورت ہے کہ بدترین لوگ موجودہ حکمران ہیں اور ایسے لوگوں کی جانب سے ’’صوفی کانفرنسز‘‘ کا انعقاد بڑے شرم کی بات ہے۔ جن لوگوں کو صوفیاء اور اولیاء کے کردار کے حوالے سے پہلی بنیادی بات معلوم نہ ہو جوکہ سچ اور اخلاص کی صورت میں ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کا صوفی کانفرنس کروانا اور اس میں عورتوں کا ڈانس کروانا، کیٹ واک کروانا اولیاء کرام اور صوفیاء کرام سے ان بے ہودگیوں کو منسوب کرنا یقینا قابل مذمت ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کہ جس طبقہ کو صوفی ازم کے حوالے سے دین متین کی خدمت انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنی توجہ محض بغض و حسد اور نفرت پر کی ہوئی ہے۔ آج موجودہ بدترین حالات میں خواجہ معین الدین چشتی، داتا علی ہجویری، نظام الدین اولیائ، عبداﷲ شاہ غازی اور دیگر اولیاء اﷲ و صوفیاء کے پیغام امن و محبت کو فروغ دے کر معاشرے سے قتل و غارت گری، فتنہ و فساد اور نفرت و حسد کو ختم کیا جاسکتا ہے اور صوفیاء کے انداز تبلیغ کو اپنا کر محبتوں کو خوب فروغ دیا جاسکتا ہے۔

اﷲ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو آپس میں محبت و اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین