مفتی جمیل احمد نعیمی سے گفتگو

in Tahaffuz, August-September 2011, انٹرویوز

علامہ جمیل احمد نعیمی 1936ء میں انبالہ مشرقی پنجاب ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان ہجرت فرمائی۔ کچھ عرصہ لاہور میں قیام کے بعد کراچی کو مسکن بنایا۔ یہاں 1960ء میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی کے دارالعلوم مخزن عربیہ بحرالعلوم سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ دارالعلوم مظہریہ آرام باغ میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ 1956ء میں سبز مسجد صرافہ بازار میٹھادر میں امامت و خطابت کا سلسلہ شروع کیا اور 1974ء تک امامت و خطابت دونوں فرمائی۔ تاہم خطابت کا سلسلہ ابھی تک اسی مسجد میں قائم ہے۔ اس کے ساتھ دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں ناظم تعلیمات کی ذمہ داری پر فائز ہیں۔ انجمن محبان اسلام، انجمن طلباء اسلام، جماعت اہلسنت، جمعیت علماء پاکستان اور بہت سی تنظیموں، اداروں اور تحریکوں کے آغاز اور فروغ میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ مختلف موضوعات پر مضامین و کتابچے تحریر فرمائے۔ آپ کی حیات و خدمات پر ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔ ان کا ایک مختصر سا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے ادارہ

سوال: آپ اپنی پیدائش اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں؟

جواب: میری پیدائش 12 فروری 1936ء کو سائیں توکل شاہ نقشبندی صاحب کی سرزمین انبالہ (بھارت) میں ہوئی۔ ہمارے خاندان میں گوکہ کوئی باقاعدہ عالم دین نہ تھا تاہم دینی جذبہ موجود تھا۔ الحمدﷲ فرائض دین کی سب کی پابندی کرتے تھے۔ جب میری عمر چار پانچ سال کی ہوئی تو پانی پت کے معروف عالم دین علامہ قاری محمد اسماعیل صاحب کے مدرسے میں مجھے داخل کرادیا گیا۔ تقریبا دس سال کی عمر میں، میں نے باقاعدہ قرآن مجید ناظرہ مکمل کرلیا۔ اس کے علاوہ قرآن مجید متفرق مقامات سے حفظ بھی کرلیا۔ ساتھ ساتھ ابتدائی اردو حساب بھی پڑھا تھا۔ انگلش اس وقت نہیں ہوتی تھی۔ یہ بعد میں شروع ہوئی۔ اسی بنیادی تعلیم کی وجہ سے میں اس وقت اردو اخبار اتپڑھ لیا کرتا تھا۔ ویسے تو اس وقت بہت سے اردو اخبارات نکلا کرتے تھے لیکن ان دنوں ایک اخبار ’’الامان‘‘ کے نام سے نکلتا تھا جس کو مسلم لیگ کا آرگن سمجھ لیں اور اس کے چیف ایڈیٹر مولانا مظہر الدین تھے۔ اسی اخبار کی بناء پر کانگریسیوں نے مولانا مظہرالدین کو شہید بھی کردیا تھا۔

سوال: آپ پاکستان کب تشریف لائے؟

جواب: تقریبا گیارہ سال کی عمر میں ہم نے دہلی سے ہجرت کی کیونکہ دہلی میں قتل عام ہورہا تھا۔ خاص طور پر تین مقامات ایسے تھے جن میں بہت زیادہ قتل عام ہورہا تھا۔ ان میں پہاڑ گنج، سبزی منڈی، اور کرول باغ شامل ہیں۔ جب ہم پہاڑ گنج سے نکلے تو ہمارے قافلے کے آگے ایک بزرگ تھے جن کا نام قاضی زین العابدین تھا اور یہ جامع مسجد کے امام و خطیب بھی تھے اور میرے استاد بھی تھے۔ اس وقت ہم سے قبل جتنے بھی نکلے تھے، سب کو شہید کردیا گیا تھا۔ وہ خونی منظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سکھ اور انتہا پسند ہندو، مسلمان بچوں کو نیزوں پر اٹھا اٹھا کر دکھا رہے تھے۔ شہیدوں میں میرے ایک عزیز کا نام بھی جمیل تھا۔ ویسے اس وقت میرے بہت سے عزیز شہید ہوئے۔ دہلی سے لاہور کا جو سفر ہوا، اسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ ہم نے ٹرین کی کھڑکیوں اور دروازوں کو بند رکھاہوا تھا اور ہم کھڑکیوں کی جھریوں سے باہر کا منظر دیکھ رہے تھے۔ لاشوں کے انبار لگے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسے مشکل ترین حالات میں ہم بخیروعافیت دہلی سے لاہور پہنچ گئے۔ لاہور میں ہماری خالہ زاد بہن رہتی تھیں۔ مغل پورہ میں ان کا گھر تھا۔ ہمارے عزیزواقارب ہمیں لینے کے لئے مغل پورہ اسٹیشن پر آگئے تھے۔ ہم نے 1947ء سے 1950ء تک لاہور میں قیام کیا۔ اس وقت حالات ناہموار ہونے کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رہا۔ وسائل نہیں تھے۔ حالات ہی ایسے تھے کہ کبھی دکان پر لگ گئے، کبھی کچھ کرلیا اور کبھی کچھ۔ 1951ء میں ہم لاہور سے کراچی آگئے۔

سوال: کراچی آنے کے بعد آپ کی کیا مصروفیات رہیں؟

جواب: کراچی آنے کے بعد شروع میں رنچھوڑ لائن کے علاقے ٹمبر مارکیٹ میں قیام کیا۔ یہاں قریب میں مسلم ہائی اسکول تھا۔ اس میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ ابھی میٹرک نہیں کی تھی کہ میرے والد گرامی کا انتقال ہوگیا، حالات پھر ناسازگار ہوگئے۔ میں نے حالات کے پیش نظر وہاں پر مدرسہ تعلیم القرآن میں پڑھانا شروع کردیا۔ یہاں پر مسجد کے خطیب اور ممتاز عالم علامہ محمد مسعود احمد چشتی صابری علیہ الرحمہ نے مجھے دین کا علم حاصل کرنے کی تلقین کی۔ چنانچہ خود ہی انہوں نے بہار شریعت کے پہلے حصے سے سبق پڑھانا شروع کیا۔ اس دوران تاج العلماء حضرت علامہ مفتی عمر نعیمی اشرفی صاحب سے بھی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ 1960ء میں باقاعدہ ہماری دستار بندی آرام باغ مسجد کے احاطے میں ہوئی۔ دستار فضیلت کی اس مجلس میں ممتاز علماء کرام میںغزالیٔ زماں رازِیٔ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب علیہ الرحمہ، مشہور و معروف مصنف و مترجم حضرت علامہ سید غلام معین الدین نعیمی، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی اور مشہور شاعر علامہ عبدالسلام باندوی، حضرت قبلہ پیر فاروق رحمانی، حضرت مولانا مسعود احمد صاحب اور تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی صاحب کے علاوہ اس وقت پاکستان میں عراق کے سفیر خانوادہ غوث الاعظم پیر عبدالقادر علیہ الرحمہ نے بھی شرکت کی۔ پیرعبدالقادر تاحیات پاکستان میں عراق کے سفیر رہے۔ انہوں نے دوسرے کسی ملک میں جانے سے انکار کردیاتھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان میںمیرے قدردان ہیں۔ انہوں نے یہاں پر ہی وفات پائی اور یہاں ہی مدفون ہوئے۔ آپ کا مزار گلشن اقبال مرکز اسلامی میں واقع ہے۔

سوال: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے شرف بیعت کہاں سے حاصل کیا؟

جواب: 1963ء میں فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ میں نے مدینہ منورہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے نامور خلیفہ قطب مدینہ حضرت ضیاء الدین احمد مدنی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت کی۔

سوال: آپ جمعیت علماء پاکستان سے کب وابستہ ہوئے؟

جواب: دوران تعلیم، حضرت مجاہد ملت فاتح سرحد علامہ عبدالحامد بدایونی قادری سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم میں سیاسی جراثیم معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ 1960ء میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں نے جمعیت علماء پاکستان میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کرلی۔

سوال: آپ نے قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کے ساتھ کتنا عرصہ گزارا اور ان کو کیسا پایا؟

جواب: میری اور قائد اہلسنت کی رفاقت کا عرصہ تقریبا 50 سال پر محیط ہے۔ یوں تو جلوت میں، خلوت میں حضرت کے ساتھ رہا۔ مگر دو سفر خاص طور پر میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ ایک تو 1963ء میں جب میں نے حرمین شریفین کا سفر حضرت کے ساتھ کیا۔ اس وقت سعودی حکومت نے غلاف کعبہ کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا۔ غلاف کعبہ کو تیار کرنے کے بعد ٹرین میں سجایا گیا اور مسلمانان پاکستان کو اس کا دیدار کرایا گیا۔ غلاف کعبہ کا یہ قافلہ مجاہد ملت مولانا عبدالحامد بدایونی کی قیادت میں بذریعہ ٹرین کراچی سے پشاور تک گیا۔ آپ کے رفقاء میں میرے سسر محترم مولانا مسعود احمد چشتی صاحب، مفتی صاحب داد خان، مولانا سید خلیل احمد اور مولاناغلام قادری کشمیری، اور یہ فقیر بھی شامل تھا۔ اس کے بعد کراچی سے حرمین طیبین کی طرف رخت سفر باندھا۔ دوسرا یادگار سفر حضرت قائد اہلسنت کے ساتھ 1987ء میں بغداد شریف کا سفر کیا۔ اس سفر میں ہمارے ساتھ مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی اور پروفیسر شاہ فرید الحق کی بھی رفاقت رہی۔ میں نے اس وقت نوٹ کیا کہ قائد اہلسنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی کے پاس سفر میں ایک چادر اور ایک جائے نماز ہوتی تھی۔ عبادت و ریاضت کے بعد جہاں آرام کا موقع ملتا، وہیں چادر سرہانے رکھ کر آرام کرلیا کرتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے قائد اہلسنت کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ اﷲ کے ولی تھے۔ انہوں نے اپنی ولایت پر سیاست کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔

سوال: جے یو پی نے سیاست میں کب حصہ لیا، اور اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

جواب: جمعیت علماء پاکستان نے باقاعدہ طور پر 1970ء میں سیاست میں حصہ لیا اس سے قبل ہم صحیح العقیدہ ہم خیال افراد کی حمایت کرتے تھے۔ ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ ہم سنیت کی آواز کو آگے تک نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ کیوں نہ سیاسی طورپر میدان میں اترا جائے جو تمام مسائل کا حل ہے۔

سوال: اس وقت سیاست میں عملی طور پر حصہ لینے پر آپ کو کون سی بڑی کامیابی حاصل ہوئی؟

جواب: قائد اہلسنت علامہ شاہ احمد نورانی کی کاوشوں کی وجہ سے 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور آئین میں مسلمان کی تعریف شامل کی گئی جو آج تک موجود ہے ۔ اس سفر میں قائد اہلسنت کے ساتھ علامہ عبدالمصطفی ازہری اور پروفیسر شاہ فریدالحق بھی پیش پیش رہے۔

سوال: غالبا 1973ء میں آپ کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ ہم اس گرفتاری کی وجہ جان سکتے ہیں؟

جواب: اکتوبر 1973ء میں، میں نے ایک جمعتہ المبارک کے خطبہ کے دوران ملکی حالات کے پیش نظر ذوالفقار علی بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جب تم وزیر خارجہ تھے اور اس وقت بھارتی وزیر خارجہ سورن سنگھ کراچی آیا تھا اور رمضان کا مہینہ تھا تو آپ نے اسے شراب پیش کی تھی تو بھارتی وزیر خارجہ نے شراب پینے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے مقدس مہینے کا احترام کرتا ہوں۔ یہ ایک ہندو کا کردار ہے۔ مسلمان اور ہندوئوں کے کردار میں فرق ہونا چاہئے۔ چنانچہ حکومت کی مخالفت میں تقریر کرنے اور نعرے لگوانے کے الزام میں مجھے گرفتار کرلیا گیا تھا اور میں 41 دن جیل میں رہا۔

سوال: انجمن طلباء اسلام کے قیام کے وقت آپ کے ابتدائی ساتھی کون کون تھے؟

جواب: جب انجمن محبان اسلام کو انجمن طلباء اسلام میں تبدیل کیا گیا تو اس وقت ساتھیوں میں خادم جمیل احمد نعیمی کے علاوہ حاجی عبدالمجید، فاروق مصطفائی، محمدشاکر، حاجی حنیف طیب، یعقوب قادری ایڈووکیٹ اور انور کمال راجپوت شامل تھے۔ ان کے علاوہ اور بھی ساتھی تھے مگر یہ احباب زیادہ متحرک تھے۔

سوال: آپ کو 1987ء میں انجمن طلبہ اسلام کو توڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب: میں اپنی صفائی میں کیا عرض کروں۔ جو لوگ حقائق سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں اس وقت کے اخبارات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ حکومت وقت خائف تھی۔ اگر اس وقت تنظیم توڑ کر الیکشن کراتا تو عوام اہلسنت ایک خانہ جنگی کا شکار ہوجاتے اور کارکن ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوجاتے۔ جس کے نتائج بہت بھیانک ہوتے۔ اے ٹی آئی پر شب خون مارنے والوں نے میرے گھر پر حملہ کیا۔ کئی مواقع پر میرے اوپر فائرنگ کی گئی اور طرح طرح سے مجھے پریشان کیا گیا۔

سوال: اہلسنت میں اتحاد کے لئے آپ نے کیا کوششیں کیں؟

جواب: میں نے تو بہت کوشش کی اب بھی جاری ہے۔ میں سب سے کہتا ہوں، سب مانتے ہیں۔ لیکن پھر اپنی بات کرنے لگتے ہیں۔ اہل سنت کے نام میرا یہی پیغام ہے کہ ہماری زندگی کی بقاء اور نشوونما اتحاد میں مضمر ہے جو شاخ جڑ سے وابستہ رہتی ہے تو ہری بھری رہتی ہے اور جب جڑ سے تعلق ختم ہوجائے تو شاخ مرجھا جاتی ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اہل سنت متحد ہوجائیں۔ اگر ہم اپنی انا کی خاطر متحد نہیں ہوسکتے تو کم سے کم ایک دوسرے کی مخالفت کرنا چھوڑ دیں۔ جو جس جگہ مسلک کا کام کررہا ہے اس کی ٹانگ نہ کھینچی جائے۔

سوال: وطن عزیز کی صورتحال پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

جواب: ہم بنیادی طور پر چاہتے ہیں کہ جن کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، دونوں پارٹیاں اس کا احترام کریں۔ کچھ عرصہ قبل جو معاملہ وجہ نزع بنا ہوا تھا وہ چیف جسٹس کی بحالی کا مسئلہ تھا۔ الحمدﷲ یہ مسئلہ بھی حل ہوچکا ہے۔ اب بڑی قوتوں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز شریف) کو چھوٹے موٹے مسائل بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں۔ اب بڑے مسائل عوام کے ہیں۔ پاکستان مسائلستان بن چکا ہے۔ ایک مسئلہ سے نجات نہیں ملتی دوسرا مسئلہ سر پر آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ لوگ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ آٹا، چینی، دودھ اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ جو غریب آدمی ہے میری مراد جس کی ماہانہ آمدنی پانچ سے دس ہزار روپے ہو، کرائے کا مکان ہو، اس کے دو چار بچے بھی ہوں۔ وہ غریب بے چارہ کیا کرے گا۔ اب تو عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب میں بھی مبتلا ہوچکی ہے۔ عوام نے تو پیپلز پارٹی کو روٹی کپڑا اور مکان کے لئے ووٹ دیئے تھے اور پی پی کا نعرہ بھی یہی ہے اور جیسا کے زرداری صاحب نے خود بھی کہا تھا کہ ہم نے عوام سے چیف جسٹس کی بحالی کے لئے ووٹ نہیں لئے بلکہ روٹی، کپڑا اور مکان کے لئے، لئے ہیں۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام کو سر چھپانے کے لئے مکان میسر نہیں، پیٹ بھرنے کے لئے روٹی اور تن ڈھکنے کے لئے کپڑا میسر نہیں۔ یہ تو بنیادی چیزیں ہیں۔ کسی بھی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بنیادی ضروریات کے علاوہ تعلیم اور صحت کی سہولت بھی میسر ہوں۔

سوال: موجودہ صورتحال میں جے یو پی کا کیا کردار ہے؟

جواب: جے یو پی کا جو معاملہ ہے بظاہر تو امکانات نہیں کہ ہم اتنی طاقت میں آئیں اور ملک کی تقدیر بدل سکیں۔ لیکن جے یو پی نے ماضی میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جیسے 1972ء میں کامیابی حاصل کی اور 1988ء میں بھی کچھ نہ کچھ کامیابی حاصل کی۔ 2008ء کے انتخابات کو چھوڑ کر ہمارے نمائندے منتخب ہوتے رہے۔ سندھ میں خصوصا کچھ لسانی و علاقائی پارٹیوں نے اپنی جو مہم چلائی اس کے باوجود جے یو پی نے سندھ اور پنجاب میں کامیابی حاصل کی۔ چونکہ قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی کا نعرہ یہ تھاکہ ہم اس ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ چاہتے ہیں اور ہم اقتدار میں ہوں یا باہر، اس نعرے اور عزم پر قائم رہیں گے۔ ہم دیانت داری کے تقاضوں کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس نعرے پر غور کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تو ہمیں ہر مرحلے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

سوال: آپ کے خیال میں کون سی شخصیت اہل سنت کی لیڈر شپ کی کمی کو پورا کرسکتی ہے؟

جواب: میری ناقص رائے کے مطابق کوئی ایک فرد واحد ایسی شخصیت نہیں ہے جو اس کمی کو پورا کرسکے البتہ کچھ لوگ بیٹھ کر اگر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیں تو یہ کمی پوری ہوسکتی ہے۔ ورنہ ایک میں صالحت ہوگی تو ایک میں صلاحیت ہوگی۔ لیکن اگر دو چار آدمی بیٹھیں تو کسی بات پر متفق ہوسکتے ہیں۔

سوال: کیا اب مذہبی جماعتوں سے خیر کی توقع ہے؟

جواب: اب مولانا فضل الرحمن جیسے لوگوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جو انہیں اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے بڑا نامناسب طریقہ اختیار کررکھا ہے۔

سوال: علماء اہل سنت نے تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا کیا اب ایسا نہیں ہوسکتا؟

جواب: ہوسکتا ہے مگر کچھ شرائط ہیں۔ کیونکہ پی پی اور اے این پی کے مقابلے میںنواز شریف اور شہباز شریف سے اتحاد ہوسکتا ہے کیونکہ ان کا میلان دین کی طرف ہے انہوں نے اپنے آپ کو کبھی سیکولر نہیں کہا۔

سوال: کیا اہلسنت کی جو سیاسی جماعتیں ہیں وہ اپنے علیحدہ تشخص کے ساتھ ان کے ساتھ ملیں یا مختلف جماعتوں میں شامل ہوکر ان میں اپنا اثرورسوخ بڑھائیں جیسے کہ ایک پی پی میں اور دوسرا مسلم لیگ میں چلا جائے؟

جواب: اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسی صورت میں جو بھی جائے گا اس کی آواز نہیں ہوگی۔ اپنے علیحدہ تشخص کو قائم رکھتے ہوئے اتحاد کیا جائے۔ اپنی طاقت اور قوت کو مجتمع کرکے کسی کے ساتھ جائو تو کامیابی ہوگی۔ میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک ہماری اپنی طاقت اور قوت نہیں ہے تو ہماری شنوائی نہیں ہوگی۔ لیکن جب مجتمع ہوں گے تو طاقت بھی ہوگی، ہم موثر بھی ہوں گے اور شنوائی بھی ہوگی۔

٭٭٭