نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

in Tahaffuz, August-September 2011, متفرقا ت

شہیدوں کا لہو وہ خون ہے جس کی تجلی سے

یقین افراد کے قوموں کے مستقل سنورتے ہیں

اسی کی تابشوں سے آسمان فکر و دانش پر

نئی صبحیں بکھرتی ہیں‘ نئے سورج نکلتے ہیں

اسلام ایک مکمل دین ہے اور ایک جامع نظریہ اورفطری نظام پیش کرتا ہے اس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا اور تکمیل سید الانبیاء حضرت محمدﷺ پر ہوئی۔ تمام انبیاء علیہم السلام نے زندگی گزارنے کے سنہرے اصول اور بہتری اخلاقیات پیش کئے۔ اسلام کے پیش کردہ احکام اتنے واضح ہیں کہ ان میں کسی قسم کی کوئی ترمیم کی ضرورت ہے‘ نہ اضافے کی۔ کیونکہ دین اسلام کامل اور مکمل ہے۔ لیکن روز اول سے دشمن دین اس کی عمارت میں دراڑیں ڈالنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود دین کا وجود خطرے میں پڑجاتا ہے اور کبھی کبھار فرعون خصال‘ نمرود و شداد‘ اور یزید زمانہ اور چنگیز صفت لوگوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف علم احتجاج و بغاوت بلند کرتا ہوتا ہی۔ اسلام اس موقع پر مسلمانوں کو جذبہ جوش‘ ولولہ‘ استقامت پیدا کرنے کے لئے جہاد کا فلسفہ دیتا ہے۔

زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے

عہد کم ظرف کی ہر بات گوارا کرلیں

حضور نبی اکرمﷺ نے مجاہدین کی زندگی گزاری ہے نہ کہ مجاور بن کر خلاف راشدہ کے دوران خلفاء کرام سیدنا ابوبکر صدیق‘ سیدنا عمر فاروق‘ سیدنا عثمان غنی‘ سیدنا علی المرتضیٰ‘ سیدنا امام حسن مجبتی رضی اﷲ عنہم تک خلافت کا دور 40 سال مکمل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے اسوۂ رسولﷺ کی پیروی میں مجاہدانہ زندگی بسر کی لیکن خلافت راشدہ کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب انسانیت تڑپنے لگی‘ ظلم و ستم حد سے بڑھ گیا۔دشمن تمام انسانی قدروں کو پامال کرتا چلا گیا۔ تو پھر جگر گوشہ بتول نواسہ رسولﷺ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے عصمت و عفت کا آبگینہ یزید کے کھلے کفر کے خلاف سراپا احتجاج ہوگیا۔ زمانے کا کوئی ظلم‘ کوئی رکاوٹ انہیں اپنے مقصد سے نہ ہٹا سکی اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے یزیدیت کو کھلا اعلان سنادیا۔

ستم گر ادھر ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ نے ایسے محبوبانہ انداز میں تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دیا کہ سامعین انداز تکلم پر مرمٹنے کو تیار تھے۔ انداز تبسم پر فریفتہ تھے۔ نام مصطفیﷺ پر سر کٹانے کو تیار تھے۔

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں

سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردان عرب

اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی سپاہ مصطفیﷺ کے سپاہی جہاں بھی گئے فتح و کامرانی ان کامقدر بنی۔ حضرت خالد بن ولید ہوں یا موسیٰ بن نصیر ہوں‘ وہ طارق بن زیاد ہوں یا محمد بن قاسم ہوں‘ وہ محمود غزنوی ہوں یا ٹیپو سلطان ہوں۔ جذبہ جہاد اور محبت رسولﷺ سے لبریز تھے۔ یہ سپاہی جہاں بھی جاتے دشمن کو راستہ چھوڑ کے بھاگنا پڑتا۔ حق کے ڈنکے بجنے لگتے پھر ایک وقت آیا جب ابلیسی قوتوں نے دلوں سے عشق رسولﷺ کی شمع بجھادی۔

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات

اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

جب تک دلوں میں عشق سولﷺ کا ٹمٹماتا ہوا دیا بھی جلتا رہا‘ مسلمان دنیا پر بادشاہی کرتے رہے‘ مسلمانوں کاڈنکا بجتا رہا۔ اب ہماری کیا حالت ہے؟ دنیا میں ہر جگہ مسلمان ذلت کا شکار ہے۔ کشمیر‘ بوسنیا‘ فلسطین یا پھر عراق کے علاوہ دنیا کے ہر خطہ میں مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہے۔ آخر کیوں؟ وجہ یہی ہے۔ عشق رسولﷺ گیا‘ جذبہ جہاد گیا۔ ہمارے آستانوں پر بیٹھنے والے پیر گدی نشین فقط مجاور بن کے رہ گئے۔

علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے ان کے متعلق کہاتھا:

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

نام نہاد پیران کرام کو تعلیمات محمدیہ سے آشنائی نہیں‘ شریعت اور طریقت کی پہچان نہیں۔ وہ اپنے اسلاف کی تعلیمات کو بھول چکے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں کہ جس کی گدی پر وہ جلوۂ افروز ہیں‘ وہ کبھی ان گدیوں پر نہیں بیٹھتے تھے۔ ان کی رات اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے ہوئے گزرتی تھی‘ وہ تو دن کو جہاد کرتے‘ راتوں کو تسکین دل کے لئے خدا کے حضور سربسجود ہوا کرتے تھے۔ وہ مکاشفتہ القلوب اور کشف المحجوب کے تحفے دے کر جاتے تھے۔ مگر آج کی گدیوں پرشریعت رسول کے تارک اور طریقت سے بے بہرہ پیسہ بٹورنے میں مشغول پیری مریدی کے جال میں کچھ آستانوں پر بیٹھنے والے نام نہاد پیر ایسے ایسے کام کرنے پر مریدین کو آمادہ کررہے ہیں‘ جو شریعت محمدی کے خلاف ہے۔

مرید سادہ تو رو رو کے ہوگیا تائب

خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

بڑا طبقہ ہمارے واعظین‘ مقررین اور علمائے کرام کا ہے۔ ہمارے واعظین نے صرف اور صرف مادی فائدے کے لئے تبلیغ کا کام جاری کیا ہواہے۔ قول و فعل میں تضاد ہے۔ ان کی اکثریت کی زندگیاں عمل سے خالی ہیں۔ عشق رسول سینوں میں نہیں ہے۔

تیرے امام بے حضور‘ تیری نماز بے سرور

ایسے امام سے گزر‘ ایسی نماز سے گزر

فقط تقریریں کرنے سے دین کی حفاظت نہیں ہوتی‘ قال رسول اﷲ ﷺ کی ندیاں بہا دینے والوں سے کوئی پوچھے کبھی خدا کے حضور پھر کھڑا ہونا بھی ملا‘ اس قال رسول اﷲ ﷺ کا کیا فائدہ جس میں حال نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم معاشرے میں اپنا مقام گنوا بیٹھے۔

واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

مسجد مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے

اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی مملکت خداداد میں اسلام مظلوم بن کے در در پر دستک دے رہا ہے‘ اس کو سینے سے لگانے والا کوئی نہیں ہے۔ سیاست اور دین کو الگ الگ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ سیاست مجاہد پیدا نہیں کرسکتی بلکہ یہ بستروں پر پڑے عیاش‘ لٹیرے اور ظالم پیدا کررہی ہے۔

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان کا وجود

ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا

اب سوال یہ ذہن میں ابھرتا ہے تو پھر مجاہد اچھے ہیں‘ جو اس حکومت کو غیر اسلامی سمجھ کر دشمن اور امریکہ کے خلاف لڑرہے ہیں۔ پاکستانی طالبان اور دہشت گرد اس زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں‘ اسلام تو دوران جنگ چڑیا جیسے پرندے کو بھی امان دیتا ہے۔ مسلمان جب بھی اٹھا تو اﷲ کا نام لے کر اٹھا۔ اور جس طرف بھی گیا‘ سکون و آشتی کا پیغام بن گیا۔ وہ دشمن سے مردانہ وار ٹکراتا رہا‘ مگر عورتوں‘ معذوروں‘ مکانوں‘ فصلوں اور جانوروں کی حفاظت کرتا رہا۔ مجاہد کے نزدیک ہر قوم کی بیٹیاں صدق و صفا کے پھول ہیں۔ مجاہد رشد و ہدایت کے چراغ جلاتا اور امن و سکون کے موتی بکھیر جاتا ہے۔

رزم میں وہ جہاں ایک برہنہ تلوار کشیدہ خنجر ہوتا ہے۔ وہاں بزم میں وہ ضعیفوں کا سہارا‘ عورتوں کا محافظ بچوں کا سرپرست اور مظلوموں کا داد رس بھی ہے۔ عفوودرگزر اس کے ہم رکاب اور صلح و آشتی اس کے جلو میں سفر کرتی۔

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہے وہ شبنم

دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان