ننگے سر نماز پڑھنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ

in Tahaffuz, August-September 2011, ا سلا می عقا ئد

آج کل ننگے سر پھرتے رہنا اس قدر عام ہوچکا ہے کہ اکثریت اس وباء میں مبتلا نظر آتی ہے۔ اس کی ایک وجہ مغربی تہذیب کے اثرات ہیں۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں‘ کچھ لوگ مسجد میں نماز کے لئے آتے ہیں اور ٹوپی ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں۔ گویا مسجد نہ ہوئی ٹوپیوںکی دکان ہوئی اور پھر جب ٹوپی نہیں ملتی تو ننگے سر ہی نماز پڑھناشروع کردیتے ہیں۔ خصوصا غیر مقلدین وہابی حضرات تو اس میں اس قدر تفریط کے شکار ہیں کہ ننگے سر نماز پڑھنا گویا ان کی امتیازی علامت بن چکی ہے اور یہ لوگ ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا شاید اپنے لئے کسر شان سمجھتے ہیں۔ اس کا نظارہ آپ وہابیوں کی مسجد میں جاکر دیکھ لیں۔ غیر مقلد وہابی مولوی حافظ ابو محمد عبدالستار الحماد سے اس مسئلہ کے بارے میں ایک شخص نے سوال پوچھا اور اس کا جو جواب مولوی صاحب نے دیا‘ وہ وہابیوں کے ہفت روزہ ’’اہلحدیث‘‘ میں ’’احکام و مسائل‘‘ کے عنوان سے چھپا۔ سوال بمع جواب حاضر خدمت ہے۔

سوال: ضلع گجرات سے لال خان لکھتے ہیں رسول اﷲﷺ ننگے سر نماز پڑھتے تھے یا سر ڈھانپ کر۔ ان دونوں میں سے کون سا عمل آپ کی دائمی سنت کے قریب اور زیادہ اجرو ثواب کا باعث ہے؟

جواب: دوران نماز سر ڈھانپنے یا ننگا رکھنے کے متعلق ہم افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ کچھ حضرات اس سلسلہ میں اس قدر افراط کرتے ہیں کہ سر ڈھانپے بغیر نماز کو مکروہ خیال کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف تفریط یہ ہے کہ کپڑا ہوتے ہوئے بھی ننگے سر نماز پڑھنے کو اپنی شناختی علامت باور کراتے ہیں۔ مسئلہ کی نوعیت یہ ہے کہ دوران نماز عورتوںکے لئے سر کا ڈھانپنا ضروری ہے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ بالغہ عورت کی نماز اوڑھنی یعنی دوپٹے بغیر قبول نہیں فرماتے

(ابو دائود‘ الصلوٰۃ 641)

مرد حضرات کے لئے یہ پابندی نہیں ہے۔ وہ ننگے سر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ایسا کرنا صرف جواز کی حد تک ہے‘ ضروری نہیں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ دوران نماز اپنے سر کو پگڑی‘ رومال یا ٹوپی وغیرہ سے ڈھانپا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے اولاد آدم! تم نماز کے وقت اچھا لباس زیب تن کیا کرو (الاعراف 31) ضروری نوٹ ہفت روزہ ’’الحدیث‘‘ میںاس آیت کا جو حوالہ درج ہے وہ آل عمران 31 ہے جوکہ شایدغلطی سے ایسا ہوگیاہے۔

آیت کریمہ میں زینت سے مراد اعلیٰ قسم کا لباس نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس حصہ جسم کو ڈھانپ کر آئو‘ جس کا کھلا رکھنا معیوب ہے۔ چونکہ لباس والا جسم ننگے جسم کا مقابلہ میں مزین نظر آتا ہے‘ اس لئے لباس کو زینت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں ننگے سر گھومتے پھرنا انتہائی معیوب ہے۔ سر ڈھانپ کر چلنا انسان کے پروقار اور معزز ہونے کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اﷲﷺ عام حالات میں اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھتے تھے‘ صرف حج کے مواقع پر اسے کھلا رکھنے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ضروری ہے۔ ایسا کرنا حج کے شعائر سے ہے۔ اس پر قیاس کرکے ننگے سر نماز پڑھنے کی عادت بنالینا اچھا نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ ابن تیمیہ اپنے ایک رسالہ میں یہ روایت لائے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے ایک غلام کو دیکھا کہ وہ ننگے سر نماز پڑھ رہا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ اگر تمہیں لوگوں کے پاس جانا ہو تو اسی حالت میں چلے جائو گے؟ غلام نے جواب دیا‘ نہیں تب آپ نے فرمایا کہ پھر تو اﷲ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کے سامنے آنے کے لئے خوبصورتی اور آرائش اختیار کی جائے

(حجاب المرآۃ لباسہا فی الصلوٰۃ)

علامہ البانی اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ جن الفاظ کے ساتھ مصنف نے اس حدیث کو نقل کیا ہے وہ جملے کسی کتاب میں نہیں مل سکے۔ ممکن ہے کہ ننگے سر کا ذکر جو مصنف نے اس حدیث میں کیا ہے اس کا وجود کسی ایسی کتاب میں ہو‘ جو مجھے نہیں مل سکا

(حاشیہ حجاب المرآۃ)

علامہ البانی مزید لکھتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق بلاوجہ ننگے سر نماز پڑھنا ناپسندیدہ حرکت ہے کیونکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ایک مسلمان کو نماز کی ادائیگی کے لئے اسلامی شکل و صورت اختیار کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کے لئے زینت اختیار کی جائے

(سنن بیہقی ص 236‘ جلد 2)

ہمارے اسلاف کی نظر میں ننگے سر رہنا‘ اسی حالت میں بازاروں‘ گلی کوچوں میں گھومتے پھرنا پھر اسی طرح عبادت کے مقامات میں چلے آنا کوئی اچھی عادت نہیں بلکہ درحقیقت یہ مغربی تہذیب وثقافت کے برگ وبار ہیں جو ہمارے متعدد اسلامی ممالک میں گھس آئے ہیں۔ جب مغربی تہذیب کے علمبردار اسلامی ممالک میں آئے تو اپنی عادات و خصائل بھی ساتھ لائے‘ ان کی دیکھا دیکھی ناپختہ کار مسلمان بھی آنکھیں بند کرکے ان کی تقلید کرنے لگے۔ اس طرح مسلمانوں نے اپنے اسلامی تشخص کو مجروح کر ڈالا ہے

(تمام المنہ‘ ص162 )

رسول اﷲﷺ سے قطعی طور پر یہ ثابت نہیں کہ آپ نے حالت احرام کے علاوہ ننگے سر نماز ادا کی ہو۔ اس سلسلہ میں جو احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ اپنے مفہوم میں صریح نہیںہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کتب حدیث و سیرت میں اس کا ضرور تذکرہ ہوتا۔ جوشخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حج و عمرہ کے علاوہ ننگے سر نماز ادا کی ہے‘ وہ دلیل پیش کرے۔

الغرض ننگے سر نماز ادا کرنا صرف جائز ہے واجب یا مستحب نہیں ہے‘ اسی طرح سر ڈھانپ کر نماز ادا کرنا مستحب تو ہے لیکن ضروری نہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے کپڑے میںاس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔

(صحیح بخاری‘ الصلوٰۃ359 )

اس سے معلوم ہوا کہ مرد کے لئے دوران نماز سر ڈھانپنا واجب نہیں بصورت دیگر رسول اﷲﷺ کندھوں کے ساتھ سر کا بھی ذکر کردیتے‘ البتہ یہ عمل مستحب ضرور ہے۔ لوگوں کو اس کی ترغیب بھی دینا چاہئے۔ ان دلائل و حقائق کے پیش نظر حدیث مسٔولہ میں پگڑی‘ رومال یا ٹوپی سے سر ڈھانپ کر نماز ادا کرنا سنت نبوی کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے۔ نیز اس طرح اسلامی شکل و صورت میں نماز کی ادائیگی اﷲ کے ہاں زیادہ اجروثواب کا باعث ہوسکتی ہے

(واﷲ اعلم)

ہفت روزہ الحدیث لاہور‘ جلد 37‘ 15 جولائی تا 23 جولائی 2006‘ بمطابق 18 جمادی الثانی تا 26 جمادی الثانی 1427ھ جمعۃ المبارک

یہاں وہابی مولوی کی عبارت ختم ہوئی اس فتویٰ کی روشنی میں درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔

1: اﷲ کا حکم ہے کہ ’’اے اولاد آدم! تم ہر نماز کے وقت اچھا لباس زیب تن کیا کرو‘‘

یہاں اچھے لباس سے مراد یہ ہے کہ جسم کے جن حصوں کو کھلا رکھنا معیوب ہے ان کو ڈھانپنا‘ اور اسلامی معاشرہ میں ننگے سر گھومتے پھرنا انتہائی معیوب ہے۔

2: بلاوجہ ننگے سر نماز پڑھنا ناپسندیدہ حرکت ہے۔ وہابی صاحب ننگے سر نماز پڑھنے کو معیوب اور ناپسندیدہ حرکت بھی کہہ رہے ہیں اور پھر اسے مکروہ خیال کرنے کو افراط بھی کہہ رہے ہیں۔ معلوم نہیں وہابیوں کے نزدیک مکروہ اور کس بلا کا نام ہے۔

3: ننگے سر گھومتے پھرنا اور اسی حالت میں نماز پڑھنا دراصل یہود ونصاریٰ کی تقلید ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سزا ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ائمہ مجتہدین کی تقلید سے انکار کیا ہے۔ کیونکہ جب انہوں نے صراط الذین انعمت علیہم سے انکار کیاہے تو ان کے حصے میں ان لوگوںکی تقلید لکھ دی ہے جن کے بارے میں ہم مقلدین روزانہ پانچ وقت نماز میں پڑھتے ہیں۔ غیر المغضوب علیہم والالضالین

4: وہابی صاحب ایک طرف تو لکھتے ہیں کہ ’’رسول اﷲﷺ سے قطعی طور پر یہ ثابت نہیں کہ آپ نے حالت احرام کے علاوہ ننگے سر نماز ادا کی ہو۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حج و عمرہ کے علاوہ ننگے سر نماز ادا کی ہے وہ دلیل پیش کرے‘‘ اور دوسری طرف لکھتے ہیں کہ ’’ننگے سر نماز پڑھنا صرف جائز ہے واجب یا مستحب نہیں‘‘

ملاجی! عرض یہ ہے کہ جو کام حضورﷺ نے نہیں کیا وہ جائز نہیں ہے بلکہ بدعت ہے اور یہ کلیہ آپ لوگ عموما بھلائی کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی یہی کلیہ استعمال کریں نا!

عبدالستار حماد کا یہ فتویٰ ننگے سر نمازپڑھنے والے وہابیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔