ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت سورۂ فاتحہ ہے۔ یہ قرآن مجید کا خطبہ ہے۔ اس کا نزول مکہ معظمہ میں ہوا۔ اس میں سات آیتیں‘ ستائیس کلمات اور ایک سو ستائیس حروف ہیں۔ اس کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں۔ اس کے مختلف نام ہیں۔

فاتحہ        فاتحۃ الکتاب       ام القرآن           سورۂ کنز     سورۂ کافیہ

سورۂ شافیہ           سورۂ وافیہ        سورۂ شفاء    سورۂ نو ر     سورۂ رقیہ

 سبع مثانی                      سورۂ حمد                     سورۂ دعا      سورۂ تعلیم المسئلہ

سورۂ مناجات                  سورۂ تفویض      سورۂ سوال

ام الکتاب        فاتحۃ القرآن                                              سورۂ صلوۃ

اﷲ تعالیٰ نے بندوں کو اس میں اپنی حمدوثناء اور دعا تعلیم فرمائی ہے اور اس میں جمیع مقاصد قرآن مجید کو جمع فرمادیا‘ کتابیں اتارنا‘ رسولوں کو بھیجنا دونوں باتیں تصحیح ایمان اور اخلاص اعمال کے لئے جس میں مدار ایمان اﷲ تعالیٰ کی توحید اور محبوبوں سے محبت اور اخلاق اعمال خاص اسی کی عبادت۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر فتح العزیز میں ایاک نعبدو ایاک نستعین کے تحت فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کو اﷲ تعالیٰ کی ذات کا مظہر جان کر ان سے مدد مانگنا درحقیقت اﷲ تعالیٰ ہی سے مدد مانگنا ہے

سورت کا اختتام ان دعائیہ کلمات کے ساتھ ہے کہ اے اﷲ!ہمیں سیدھا راستہ چلا‘ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا یعنی انبیاء کرام علیہم السلام‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین کا نہ کہ ان کا جن پر تونے غضب فرمایا۔

افادہ

اس سورت میں مقاصد قرآن کو شامل کیا گیا ہے (1) اﷲ تعالیٰ کی ثناء جمیع محامد و اوصاف کو جامع ہے (2) جمیع نقائص و عیوب سے اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کی گئی ہے اور عبادت کے لائق صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ اور بعث و جزاء کا اثبات اسی سورۃ سے ہوتا ہے (3) ایاک نعبد میں اﷲ تعالیٰ کے احکامات و نواہی کا ثبوت ہے (4) وعدووعید صراط الذین سے آخر تک ثبوت ہے کہ خوف ورجاء کا تعلق انہی کے ساتھ ہے اور غیر المغضوب علیہم میں قصص القرآن کی طرف اشارہ ہے۔

یہ سورت چار انواع علوم پر مشتمل ہے۔

 علم الاصول اور اﷲ تعالیٰ کی معرفتہ اس کی صفات کی معرفت: نبوت کی معرفت انعمت علیہم میں اس کا اشارہ ہے اور معاذ (آخرت کی معرفت) مالک یوم الدین میں اس کا اشارہ ہے۔

 علم الفروع: اس سے مراد عبادات کا علم ہے‘ چاہے وہ بدنی ہوں مالی ہوں امور معاش ہوں یا نکاح وغیرہ معاملات ہوں۔

علم الاخلاق: جس سے کمال حاصل ہوتا ہے اور اعظم کمال وصول الی حضرۃ صمدانیہ اور استقامت کی راہ پر چلنا جس پر ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم میں اشارہ ہے اور صراط مستقیم میں تو شریعت کو جمع کردیا گیا۔

 علم القصص اور پچھلی نیک و بدامتوں کی خبریں: اس کی طرف انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم والاالضالین اشارہ ہے اور وعد ووعید ان کے ساتھ متصل ہے گویا اس کا تذکرہ بھی فرمادیا گیا۔

سورۂ بقرہ

سورۂ بقرہ ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی دوسری سورت ہے اور یہ سورت قرآن مجید کی سب سے طویل سورت ہے۔ اس سورت میں 287 آیات‘ 6080 کلمات اور 25500 حروف ہیں۔

نام رکھنے کی وجہ

اس سورت کا نام ’’البقرہ‘‘ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے آٹھویں رکوع میں بنی اسرائیل کے ذکر کے تحت میں ایک گائے (بقرہ) ذبح کرنے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بقرہ کے ایک اور معنی ’’شق کرنا‘‘ اور ’’کھولنا‘‘ کے بھی آتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس میں چونکہ وسعت شرح پائی جاتی ہے اس کا نام سورۂ بقرہ رکھا گیا۔

اس میں وہ آیت جو قرآن مجید کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت تھی موجود ہے یعنی واتقوا یوما ترجعون فیہ (الخ) امام قرطبی علیہ الرحمہ کے مطابق حجۃ الوداع میں یوم نحر کو منیٰ میں نازل ہوئی۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ آیت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری پردہ فرمانے سے تقریبا نو دن قبل نازل ہوئی۔ بعض علماء کرام نے لکھا کہ یہ سورت ایک ہزار اوامر اور ایک ہزار نواہی پر مشتمل ہے۔

حدیث شریف

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے  روایت ہے کہ سرکار اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو‘ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے(بحوالہ: نسائی شریف)

مدنی سورتوں کی خصوصیات میں یہ ہے کہ مسلمانوں کے انفرادی‘ اجتماعی‘ نظام حیات‘ عبادات‘ سیاسیات‘ معاشیات‘ اقتصادیات اور عمرانیات کے اصول اور احکام بیان کئے جاتے ہیں کیونکہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی اپنی ریاست قائم تھی اور نظام مملکت کو چلانے کے لئے جن اصول و قواعد کی ضرورت ہوتی ہے اور مسلمانوں کی تمدنی زندگی کی کامیابی اور عبادت کے اجتماعی نظام کے لئے جن ہدایات کی ضرورت ہوسکتی ہے‘ وہ سب ان (مدنی سورتوں) میں موجود ہے۔

عقائد اسلامیہ کی اساس ایمان بالغیب  پر ہے اور بغیر دیکھے اﷲ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک ماننا اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا اور آسمانی کتابوں کو ماننا اور جزا اور سزا کا اقرار کرنا ہے اور اعمال صالحہ میں بہترین عبادت نماز کو قائم کرنا ہے اور طبقاتی نفرتوںکو توڑنے کے لئے اہم عبادت زکوٰۃ کو ادا کرنا ہے۔ سورۂ بقرہ کے پہلے رکوع میں ایمان بالغیب‘ اقامۃ الصلوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ماہ رمضان کے روزوں‘ بیت اﷲ کا حج‘ جہاد فی سبیل اﷲ‘ انفاق فی سبیل اﷲ‘ والدین اور قرابت داروں کے حقوق‘ عائلی زندگی کے اصول‘ زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف‘ یتیموں کی کفالت‘ نکاح‘ طلاق‘ رضاع‘ عدت اور ایلاء کو بیان کیا گیا ہے۔ قسم کھانے کا شرعی حکم‘ جادو کا حرام ہونا‘ قتل ناحق کی ممانعت‘ قاتل پر قصاص کو واجب کرنا‘ ناجائز طریقے سے لوگوں کو مال کھانے کی ممانعت‘ شراب‘ جوا اور سود کی حرمت‘ ایام حیض میں عورتوں سے حمل ازدواج کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح آیت الکرسی میں اﷲ تعالیٰ کی ذات میں اس کی وحدت اور اس کی اہم صفات کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح تحویل قبلہ کا تذکرہ (یعنی اے محبوبﷺ اپنا چہرہ ادھر کرلیجئے‘ جہاں آپﷺ کی رضا ہے) اس کے علاوہ قرآن دینے‘ قرض کو لکھنے اور کاروباری معاملات میں مردوں اور عورتوں کو گواہ بنانے اور رہن رکھنے امانت ادا کرنے اور گواہی چھپانے کی ممانعت جیسے مضامین اس سورت میں ملتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ اسلام ملتہ حنفیہ کی اساس پر قائم ہے یعنی توحید پر۔ اور بقیہ شرائع کو منسوخ کرنے والا ہے۔

انصار کی مدد سے مدینہ منورہ میں جہاں مسلمانوں کی ریاست قائم ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے قانون‘ سیاست‘ معیشت‘ تمدن اور ثقافت کے متعلق اصول و ہدایات نازل فرمائے۔

مدینہ منورہ میں یہود کے علاوہ منافقین بھی تھے اور ان کی منافقت بھی کئی قسم کی تھیں۔ سورۂ بقرہ میں کفار اور مشرکین‘ یہودونصاریٰ اور منافقین سب کے متعلق آیات نازل کی گئیں۔ نیز پچھلی امتوں کی خبریں اور رسولوں کا ایک دوسرے پرفضیلت رکھنا اور شریعتوں کا مختلف ہونے کا بیان وغیرہ موجود ہے۔ الغرض پوری سورت حکمت و معانی و امثال نادرہ سے بھرپور ہے۔

اس سورت کی آیت دو سو اڑتالیس کی تفیسر میں تفسیر روح البیان‘ تفسیر مدارک اور جلالین وغیرہ میں لکھا ہے کہ تابوت میں ایک شمشاد کی لکڑی کا صندوق تھا۔ جس میں انبیاء کرام علیہم السلام کے تبرکات اور ان کے مکانات شریفہ کے نقشے‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا‘ ان کے کپڑے‘ ان کی نعلین‘ حضرت ہارون علیہ السلام کا عصا اور ان کا عمامہ سامنے رکھتے تھے اور جب خدا تعالیٰ سے دعا کرتے تو اس صندوق کو سامنے رکھ کر دعا کرتے تھے

(تفسیر خزائن العرفان)

لہذا بزرگان دین کے تبرکات سے فیض حاصل کرنا‘ ان کی تعظیم کرنا اور ان کے وسیلے سے دعا کرنا اسلامی طریقہ ہے۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا اور اس سے پہلے وہ اس نبیﷺ کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے۔

تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت ہے کہ یہود حضورﷺ کے دنیا میں آنے سے قبل برکت اور آپ کے وسیلہ سے کفار یعنی مشرکین عرب پر فتح و نصرت مانگتے تھے‘ جب انہیں مشکل پیش آتی تو یہ دعا کرتے یارب جل جلالہ ہماری مدد فرما۔ اس نبیﷺ کا صدقہ جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے جن کی صفات ہم تورات میں پاتے ہیں یہ دعا مانگتے تھے اور کامیاب ہوتے تھے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ تفسیر فتح العزیزمیں فرماتے ہیں کہ یہودی قرآن مجید کے نازل ہونے سے پہلے حضورﷺ کی نبوت اور تمام انبیاء کرام پر آپﷺ کی فضیلت کے معترف و مقر تھے اس لئے جنگ اور اپنی شکست کے خوف کے وقت اﷲ تعالیٰ سے حضورﷺ کے نام کے ساتھ فتح و نصرت طلب کرتے تھے اور جانتے تھے اور آپﷺ کا نام پاک اس قدر برکت رکھتا ہے کہ اس کے ذکر و توسل سے فتح ونصرت حاصل ہوتی ہے۔

اس سورت کا اختتام اﷲ تعالیٰ سے اس دعا پر ہے کہ وہ مشکل اور دشوار احکام ہم سے اٹھالے اور کفار کے مقابلے میں ہم کو فتح و نصرت عطا فرمائے اور اپنے فضل اور احسان سے ہم کو ایمان اور اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ آمین

مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے تفسیر خازن‘ فتح العزیز‘ خزائن العرفان‘ قرطبی المنیر‘ مدارک‘ جلالین‘ روح البیان‘ ابن عاشور