علم اصول ‘ حدیث شریف اور اس کے علمی و فنی معارف

in Tahaffuz, August-September 2011, فہم ا لحد یث

ہم انشاء اﷲ العزیز! ’’حدیث شریف اور اس کے علمی و فنی معارف‘‘ سے متعلق دو اقساط پر مبنی اپنا بیان مکمل کریں گے۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اﷲ رب العزت اپنے پیارے حبیبﷺ کے وسیلہ اور طفیل ہمیں دین اسلام کو صحیح معانی میں سمجھنے اور اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کی قوت عطاء فرمائے۔ ہمارے سابقہ گناہوں کو اپنی خاص رحمتوں اور نیکیوں میں بدل دے اور آئندہ ہمیں اپنے مقبولین میں شامل فرمائے۔ آمین

علوم الحدیث

اس میں روایت اور درایت کے اعتبار سے جملہ علوم حدیث شریف کے علاوہ وہ مباحث بھی شامل ہیں‘ جو حدیث شریف کی حجیت اور ضرورت اور حدیث شریف پر اعتراضات کے ردعمل پر مشتمل ہیں۔ یہ آخری فن اس لئے پیدا ہوا کہ کچھ لوگ خصوصا آج کل حدیث شریف کی صحت پر شک کرتے ہیں‘جس کے جواب میں علمائے حدیث شریف اپنے دلائل سے حدیث شریف کی صحت اور حجیت کا اثبات کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ صحاح‘ سنن‘ مسانید‘ مختصرات اور اربعین پر جو شروح لکھی گئی ہیں‘ وہ بھی علوم الحدیث میں شامل ہیں۔ اسی طرح قدما کی کتب الاطراف اور عصر حاضر میں مرتب کئے گئے۔ حدیث شریف کے اشاریئے‘ مثلا ’’المعجم المفہرس‘ ونسک‘‘ اس کے علاوہ دوسرے متفرق مباحث مثلا قرآن مجید اور حدیث شریف کا ربط اور فقہ و حدیث شریف کا تعلق بھی علوم حدیث شریف میں شامل ہیں (الرسالۃ المستطرفہ‘ مصنف: محمد بن جعفر الکتانی‘ سیرت اسماء الرجال

حدیث شریف کو سمجھنے کی کوششیں

وہ تمام کوششیں جو حدیث شریف کو سمجھنے اور اس کا مقام متعین کرنے‘ نیز مجموعہ ہائے احادیث مبارکہ کو مرتب و مدون کرنے کے اصول متعین کرنے‘ اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے پڑھانے اور پھر ان کی ارتقائی سرگزشت اور نقد و جرح کے اصولوں کو جاننے یا حدیث شریف کے خلاف کئے گئے اعتراضات کے جوابات دینے کے سلسلے میں کی گئیں‘ وہ بھی علوم حدیث میں ہی شمار ہوتی ہیں۔

حدیث شریف کی تاریخ‘ متن‘ اسناد کے پرکھنے کے اصول اور طریقے یعنی علم ناسخ الحدیث و منسوخہ‘ علم غریب الحدیث‘ علم اختلاف الحدیث‘ علم مصطلحات حدیث شریف وغیرہ بھی سب علوم حدیث میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ اور باضابطہ طور سے یوں کہنا چاہئے کہ علم الحدیث شریف کی دو بڑی اقسام ہیں جوکہ درج ذیل ہیں۔

علم روایت                                    علم درایت

حدیث شریف کو جانچنا اور پرکھنا

جب حضور اقدسﷺ کے اقوال شریف اور افعال مبارکہ کے متعلق روایات کی تعداد بڑھی تو ان کی روایات کی صحت کو جانچنے اور پرکھنے نیز مختلف فیہ مسائل کو سمجھنے کے لئے اصول بندی لازمی ہوگئی‘ پھر اس کے لئے دو طریقے اختیار کئے گئے جوکہ درج ذیل ہیں

اسناد کاناقدانہ مطالعہ

اس ضمن میں اسناد کے ناقدانہ مطالعے کی طرف توجہ ہوئی‘ اور پھر اسناد کے لحاظ سے قابل اعتبار حدیث شریف وہ سمجھی گئی کہ جس کی روایت میں راویوں کا ایک غیر منقطع سلسلہ موجود ہو‘ یعنی راویوں کے سلسلے کا علم اسناد کہلایا۔

راویوں کے ثقہ ہونے کے اصول

اس کے بعد راویوں کے ثقہ ہونے کے اصول مقرر کئے گئے۔ یوں فن الرجال پیدا ہوا‘ جس میں یہ امور مدنظر رکھے گئے کہ راویوں یعنی رجال کے جملہ حالات اور کوائف معلوم کئے جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کوئی راوی کس زمانے میں تھا؟ کہاں رہتا تھا؟اور اپنے ماسبق سے کس حد تک ذاتی واقفیت رکھتا تھا؟ اس طرح اس کی قوت حافظہ‘ اس کی ثقاہت‘ اس کے عام انداز حیات‘ اس کا علم اور اس کے مشاغل وغیرہ سے متعلق معلومات جمع کی گئیں لہذا رجال کی یہ تنقید ’’علم الجرح والتعدیل‘‘ یا علم المعرفۃ الرجال کہلائی۔

فن الرجال اور علم جرح و تعدیل کی جزئیات

اس ضمن میں ابن الصلاح کے مقدمہ ’’الموسوم بہ علوم الحدیث‘‘ پر سرسری نظر ڈالنے سے فن الرجال اور علم جرح و تعدیل کی جزئیات کا علم ہوسکتا ہے۔ مثلا:

معرفۃ الصحابۃ‘ معرفۃ التابعین‘ معرفۃ الاکابر الرواۃ عن الاصاغر‘ معرفۃ الاخوۃ والاخوات من العلماء والرواۃ‘ معرفۃ روایۃ الآباء عن الابناء وبالعکس‘ معرفۃ الاسماء والکنیٰ‘ معرفۃ تواریخ الرواۃ فی الوفیات وغیرہا‘ معرفۃ طبقات الرواۃ والعلمائ‘ معرفۃ اوطان الرواۃ وبلدانہم وغیرہ

معرفتہ الرجال

مقدمۂ ابن الصلاح کے مندرجات میں سے یہ چند عنوانات ہیں‘ جن کا تعلق معرفۃ الرجال سے ہے۔ حدیث شریف کے مختلف مجموعوں کی شروح میں اسناد‘ یعنی رواۃ کے بارے میں تفصیلات ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ رجال پر بعض کتب طبقات کے انداز پر بھی ہیں‘ان میں سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔

۔ طبقات الکبیر از ابن سعد رحمتہ اﷲ علیہ

۔ التاریخ الکبیر از امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ

۔ کتاب الکنیٰ از امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ

 ۔طبقات الحفاظ از الذہبی رحمتہ اﷲ علیہ

اس کے علاوہ ضعیف راویوں پر اور تدلیس کرنے والوں پر بھی کتب موجود ہیں‘ پھر موضوع احادیث کو الگ مجموعوں میں جمع کردیا گیا۔ اور راویوں کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے پر اکثر کتابوں میں بحثیں بھی موجود ہیں اور ان کے ضمن میں زمانے کے اہل علم‘ صلحائ‘ زہاد اور دوسرے ہزار ہا اشخاص کی سوانح عمریوں کا بھی مواد جمع ہوگیا ہے۔

ان کے ناموں‘ کنتیوں‘ انساب اور اوطان سے پوری بحث اور تحقیق کی گئی ہے‘ یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ انسانی تاریخ میں شخصیتوں کے بارے میں اتنی منظم‘ سنجیدہ اور نتیجہ خیز بحث آج تک دنیا میں کبھی اور کہیں بھی نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کے لئے قارئین حضرات ’’محمد بن جعفر الکتانی کی مشہور کتاب الرسالۃ المستطرفۃ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

بے مثال ذوق و شوق

ان درج بالا باتوں سے نہ صرف واقعاتی صداقت تک پہنچنے کے بے مثال ذوق و شوق کا پتہ چلتا ہے۔ بلکہ ارادے اور نیت کی اس پاکیزگی کا حال بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کے تحت صدہا اہل علم ایک بامقصد اور نتیجہ خیز جستجو میں سالہا سال مصروف نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ایک راوی کے حالات کے تفحص کے لئے دور دراز کا سفر بھی اختیار کرتے ہیں۔ اور دیانت روایت کی ساکھ قائم کرنے کے لئے ایسے ایسے مجاہدات میں سے گزرتے ہیں کہ جن کی تفصیل پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

روایت حدیث شریف کے سلسلے میں اصول بندی

وہ شرائط جو اس جستجو کو معیاری بناتی ہے وہ ’’مقدمۂ ابن الصلاح‘‘ اور دوسری کتب اصول میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ روایت حدیث شریف کے مسئلے میں اصول بندی کے بڑے ہی واضح عقلی معیار قائم ہوئے‘ جو آگے چل کر شخصی شناسی‘ علم نفسیات بذریعہ قیافہ اور حلیۂ ظاہری‘ اسرار نفس انسانی اور عجائبات طبع انسانی کے محیر العقول انکشافات کی صورت میں ظاہر ہوئے۔

روایت کی اصول بندی کے تحت احادیث مبارکہ کی اقسام

روایت کی اصول بندی کے حدیث شریف کی متعدد اقسام مقرر کی گئی ہیں جوکہ درج ذیل ہیں۔

۔صحیح            حسن                  ضعیف             مسند

۔متصل           مرفوع                موقوف            مقطوع

مرسل          منقطع               معضل وغیرہ

راویوں کے مختلف سلاسل کے اعتبار سے احادیث مبارکہ کی تقسیم

اس کے علاوہ راویوں کے مختلف سلسلوں کے اعتبار سے بھی احادیث مبارکہ کی مختلف اقسام مقرر ہوئیں‘ جوکہ درج ذیل ہیں۔۔ متواتر‘ ۔ مشہور‘ ۔ عزیز‘۔ احاد‘۔ غریب وغیرہ

ان موضوعات پر درج ذیل کتب زیادہ مشہور ہیں

معرفۃ علوم الحدیث از الحاکم رحمتہ اﷲعلیہ

مقدمہ از ابن الصلاح رحمتہ اﷲ علیہ

التقریب از امام النووی رحمتہ اﷲ علیہ

اور اسی کی شرح

تدریب الراوی از سیوطی رحمتہ اﷲ علیہ

نخبۃ الفکر از ابن حجر رحمتہ اﷲ علیہ

الباعث الحثیث از احمد محمد شاکر

وغیرہ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہوئے ہیں

علم حدیث شریف کی روایت کے سلسلے میں 8 انواع طریق

علم حدیث شریف کے سلسلے میں ان 8 انواع طریق کا ذکر بھی نہایت ہی ضروری ہے جو علم اصول حدیث شریف کے مصنفین نے بیان کئے ہیں۔

سماع

اس سلسلے میں شاگرد یا سامع اپنے شیخ کی مرویات اس کی زبان سے سنے‘ خواہ شیخ زبانی سنا رہا ہو‘ یا اپنی کتاب سے پڑھ رہا ہو‘ پھر ’’سمعت عن‘‘ یا ’’حدثنی‘‘ یا ’’حدثنا‘‘ یا ’’اخبرنا‘‘ کہہ کر حدیث شریف روایت کرے۔

قراء ت

شاگرد اپنے شیخ کو کتاب سے پڑھ کر یا زبانی کوئی حدیث شریف سنائے اور شیخ اس حدیث شریف کو بغور سنتا جائے اور پھر اپنے نسخۂ کتاب سے یا اپنے حافظے کی مدد سے اس حدیث شریف کا مقابلہ کرتا جائے اور ایسی روایت کو بیان کرنے سے پہلے ان الفاظ کا دہرانا نہایت ضروری ہے‘ جوکہ درج ذیل ہیں۔

قراء ت علی فلان وہو یسمع یا ’’اخبرنی‘‘ یا حدثنی فلان قراء ۃ علیہ‘‘

اجازۃ

اس کی صورت یہ ہے کہ شیخ یا راوی کسی شاگرد یا شخص کو کسی ایک حدیث شریف کے متن یا کسی کتاب میں مندرج احادیث مبارکہ کی روایت کی اجازت دے دے‘ اور اجازت حاصل کرنے کے بعد ایسے راوی کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ ’’اخبرنی‘‘ یا ’’اجازنی‘‘ کے الفاظ کہہ کر حدیث شریف روایت کرے اور اجازت حاصل کرنے والا راوی ’’حدثنی‘‘ یا ’’حدثنا‘‘ کالفظ قطعاً استعمال نہیں کرسکتا‘ جس طرح قراء ت کے ذریعے روایت کرنے والے کے لئے یہ بالکل جائز نہیں ہے کہ وہ ’’سمعت‘‘ کا لفظ کہہ کر حدیث شریف بیان کرے۔

اس کے علاوہ ’’اجازۃ‘‘ کی کئی اقسام ہیں کہ جن پر علمائے حدیث شریف نے بڑی مفید ترین بحثیں بھی کی ہیں‘ جبکہ ظاہری علمائے حدیث شریف تو ’’اجازہ‘‘ کے سراسر خلاف ہیں۔

البتہ محدثین نے معین شخص کے لئے معین کتاب یا معین مرویات کی روایت کو جائز قرار دیا ہے اور غیر معین اشخاص کے لئے غیر معین مرویات کی روایت کی اجازت کو ناپسند کیا گیا ہے۔

مناولہ

اس کی صورت یہ ہے کہ شیخ اپنے شاگرد کو اصل کتاب جس میں وہ حدیث شریف روایت کرتا ہے‘ دے دے‘ یا اس کا مقابلہ شدہ نسخہ دے دے اور کہے کہ یہ میری کتاب ہے‘ یہ میری ہدایت ہے‘ میں تمہیں اس کی روایت کی اجازت دیتا ہوں

اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی کتاب شاگرد کو نقل کرنے کے لئے دے اور شاگرد نقل کرکے اصل کتاب شیخ کو لوٹادے‘ ایسی روایت کے بیان کرنے سے پہلے ’’اخبرنی‘‘ کہنا ضروری ہے۔

مکاتبۃ

اس میںشیخ اپنی مرویات یا مجموعہ حدیث شریف لکھ کر یا لکھوا کر کسی شخص کو دے دے یا بھجواد ے‘ اب یہ شخص روایت کرتے وقت ’’حدثنی‘‘ یا ’’اخبرنی‘‘ کہہ سکتا ہے‘ لیکن محتاط طریقہ یہی ہے کہ وہ کہے ’’کتب الی فلان‘‘ یعنی فلاں شیخ نے مجھے بذریعہ مکاتبۃ اطلاع دی۔

 اعلام

اس میں کوئی شخص یا شیخ اپنی کتاب یا روایت اس اعلان کے ساتھ دوسرے کو دے کہ اس کتاب یا روایت کو فلاں شیخ سے سماع کیا‘ اور دوسروں کو ایسی کتاب یا مرویات کی رویات کرنے کے حق کے بارے میں اختلاف ہے‘ غالباً ایسی روایت کو ’’اخبرنی‘‘ یا ’’عن‘‘ کہہ کر شروع کرتے ہیں۔

وصیۃ

شیخ اپنے وصال یا کوچ کرجانے سے پہلے اپنی کتاب کی روایت کا حق کسی شخص کو بذریعہ وصیت عطا کردے‘ ایسی رویات کو ’’وصانی‘‘ یا ’’اخبرنی وصیۃ عن‘‘ کے الفاظ کہہ کر شروع کیا جاتا ہے۔

وجادۃ

اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی راوی کی حدیث مبارکہ کو اس کے اپنے خط میں یا احادیث مبارکہ کو مشہور مؤلفین حدیث مبارکہ کے کتابوں میں موجود پاتا ہے‘ اور ان احادیث مبارکہ کو بیان کرتا ہے‘ محدثین نے متن حدیث شریف کی روایت باللفاظ پر بڑا زور دیا ہے اور جہاں کسی لفظ میں ذرا بھی شک ہوا تو فورا

او کما قال صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

کہہ دیا‘ اور خاص حالات میں مخصوص شرائط کے تحت روایت بالمعنی بھی قبول کرلی جاتی تھی۔

راویوں کی پہچان کے مختلف طبقات

محدثین نے راویوں کی پہچان کے لئے ان کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا ہے‘ ان میں پہلا طبقہ صحابہ کرام رضوان اﷲ عنہم کا‘ دوسرا طبقہ تابعین کرام رحمہم اﷲ عنہم کا اور تیسرا طبقہ تبع تابعین حضرات رحمہم اﷲ عنہم کا مقرر کیا۔

اس کے علاوہ پھر صحابہ کرام رضوان اﷲ عنہم کے بھی کئی طبقات بنا دیئے گئے۔ اسی طرح تابعین اور تبع تابعین رحمتہ اﷲ عنہم بھی مختلف طبقات میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔ یوں ’’علم طبقات الرواۃ‘‘ معرض وجود میں آیا۔

تدوین حدیث شریف بجائے خود ایک علم ہے

اسی طرح تدوین حدیث شریف بجائے خود ایک علم ہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ احادیث مبارکہ کے مجموعوں کو مرتب و مدون کرنے کے لئے کیا کیا طریقے اختیار کئے گئے۔ اس سلسلے میں جو طریق کار اختیار کیا گیا‘ وہ کئی ضرورتوں اور تقاضوں کے تحت تھا اور ان سب کا مقصد یا تو صحیح حفاظت روایت یا پھر تسہیل حوالہ تھا‘ ابتداء میں احادیث مبارکہ کو مضمون کے اعتبار سے نہیں بلکہ راویوں کے لحاظ سے مرتب کیا جاتا تھا‘ پھر تسہیل و تفہیم کی ضرورتوں کے تحت دوسرے طریقے رائج ہوئے اور مضامین و مطالیب کے مطابق تدوین ہوئی‘ اس کے علاوہ احادیث مبارکہ کے مجموعوں کی تفصیلات کے لئے درج ذیل کتب کا مطالعہ نہایت فائدہ مند رہے گا۔

 الرسالۃ المستطرفۃ از محمد بن جعفر الکتانی

 تاریخ التراث العربی از فؤاد سنرگین

فن اسماء الرجال ایک عظیم الشان علم ہے

بہرحال فن اسماء الرجال ایک عظیم الشان علم ہے‘ کیونکہ مسلمانوں کے اس فخر کا قیامت تک کوئی بھی حریف نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے حضور اقدسﷺ کے حالات و واقعات کا ایک ایک حرف اس استقصاء کے ساتھ محفوظ رکھا کہ کسی بھی شخص کے حالات آج تک اس جامعیت اور احتیاط کے ساتھ قلم بند نہیں ہوسکے‘ اور نہ ہی آئندہ توقع کی جاسکتی ہے۔

احادیث مبارکہ کی روایت‘ تحریر اورتدفین کرنے والے حضرات

جن لوگوں نے حدیث شریف کی روایت‘ تحریر اور تدوین کا کام سرانجام دیا‘ ان میں صحابہ کرام رضوان اﷲ عنہم‘ تابعین اور تبع تابعین رحمہ اﷲ عنہم سب شامل تھے۔ ان کی تعداد ’’بقول شپرنگر‘‘ کے اندازے کے مطابق پانچ لاکھ ہے۔

(الاصابہ مصنف ابن حجر العسقلانی‘ طبع شپرنگر‘ انگریزی دیباچہ)

اور اس کے علاوہ حضور اقدسﷺ سے ملنے والوں کی تعداد کم و بیش بارہ ہزار بتائی جاتی ہے کہ جن کے حالات بھی قلمبند ہوچکے ہیں۔

درج بالا پیراگراف کے بارے میں ’’باسورتھ سمتھ‘‘ کا قول

بقول ’’باسورتھ سمتھ‘‘ یہاں پورے دن کی روشنی ہے‘ جوہر چیز پر پڑھ رہی ہے اورجو ہر شخص تک پہنچ سکتی ہے۔

(Mohammad and Mohammadenism 1885, P:15)

علم الحدیث کے ساتھ مجاہدانہ اور عاشقانہ ذوق و شوق

ایک ایسے زمانے میں جبکہ رسل و رسائل اور آمدورفت کے وسائل نہ ہونے کے برابر تھے اور موجودہ علمی طریقوں کی بنیادیں تک بھی موجود نہ تھیں‘ ایسا مجاہدانہ اور عاشقانہ ذوق و شوق بجانے خود ایک محیر العقول امر ہے۔ اس سلسلے میں چھان بین‘ موازنہ و قیاس اور استنتاج و استقراء کے ایسے اصولوں کی دریافت کو جنہیںموجودہ عقلی و تجربی دور بھی بعض صورتوں میں نہیں پاسکا۔ ایک عظیم اجتہاد عملی و عقلی ہی سمجھا جاسکتا ہے‘ اور اسی سے اس تاریخی طریق کار کی بنیاد پڑی‘ اور پھر یہ اپنے کمال تک بھی پہنچی کہ جس کا مقابلہ آج کا سائنسی دور بھی نہیں کرسکتا۔ اگر آپ اسماء الرجال کا مطالعہ کریں کہ جس میں اس فن کی تالیفات کا مفصل ذکر موجود ہے۔

علوم حدیث میں درایت کا علم

یہاں تک کہ ہم علوم حدیث شریف میں روایت کے فن‘ یعنی علم روایت کا مختصر سا تذکرہ بیان کررہے تھے۔ اب ان علوم کی دوسری اہم ترین شاخ علم درایت زیر بحث لائیں گے اور اسے ہی علم اصول حدیث شریف بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے مکمل علم روایت و درایت کو علم مصطلح الحدیث شریف بھی کہا جاتا ہے۔

علم درایت ایسے قوانین و مباحث اور مسائل کا مجموعہ ہے کہ جس سے راویٔ حدیث شریف کے صحیح یا کمزور ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ علم درایت کے معنی ہیں کہ وہ علم جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ راوی مقبول ہے یا کہ مردود۔

اس میں راوی کے مقبول ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی روایت قبول کی جاتی ہے اور اس کے مردود ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کی روایت ناقابل قبول ہے۔

اسی طرح روایت یا حدیث شریف کے مقبول ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ثابت اور صحیح ہے اور مردود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مشکوک اور غیر صحیح ہے۔

کسی مضمون یا روایت کی عقلی تنقید

درایت کا علم دراصل کسی روایت کے مطلب اور مضمون کی عقلی تنقید کا نام ہے‘ چنانچہ اس ضمن میں ہم دیکھتے ہیں کہ علمائے درایت کا یہ مسلم اصول ہے کہ جو حدیث شریف عقل و قیاس کے منافی و معارض ہو‘ وہ قابل اعتبار نہیں۔ اسی طرح محسوسات و مشاہدات سے تعارض اور قرآن مجید سے اختلاف بھی ضعف روایت کا باعث ہوتا ہے اور ایسی احادیث مبارکہ قابل اعتبار نہیں سمجھی گئیں کہ جن میں معمولی فروگزاشتوں پر ابدی اور سخت عذاب کی تہدید پائی جاتی ہے‘ یا جو رکیک المعنی ہیں اور منصب رسالتﷺ کے شایان شان نہیں یا جن میں آئندہ کے واقعات کی بقید تاریخ پیش گوئی ہے۔

٭٭٭