تحفظ ناموس سید عالمﷺ ایمان کا بنیادی تقاضا

in Tahaffuz, August-September 2011, ا سلا می عقا ئد, محمد سرفرازکراچی

رسالت مآب سید عالمﷺ سے عقیدت اور محبت کے لافانی سفر کا آغاز عہد رسالتﷺ سے ہوا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے شروع ہونے والا یہ عظمت والا بابرکت مبارک و مقدس سفر تاحال جاری ہے اور عقیدت و محبت بھرا یہ سفر انشاء اﷲ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملنے والی یہ میراث اتباع اور اطاعت رسول عربیﷺ پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی وہ پرعقیدت لافانی محبت ہے جو ادب محمد الرسول اﷲ سکھاتی ہے۔ متعدد عاشقان ناموس سید عالمﷺ پر اپنی جوانیاں رضاکارانہ طور پر توہین رسالت کے مرتکبین کو جہنم واصل کرکے حرمتِ ناموس شافع محشر کے قدموں پر نچھاور کرگئے۔ غازی علم دین شہید‘ غازی عامر چیمہ شہید‘ غازی عبدالقیوم شہید‘ غازی مرید حسین شہید‘ غازی محمد صدیق شہید و دیگر قابل فخر و احترام یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں‘ اپنی زندگی تحفظ ناموس رسالت پر قربان کردیں اور ہمیں یہ درس دے گئے کہ ناموس محمد عربی ﷺایمان کالازمی اور بنیادی تقاضا ہے۔ اس درس کی زندہ مثال آج بھی ایک سچے عاشق رسول ﷺ غازی ملک محمد ممتاز قادری کے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔

سرکار دوعالمﷺ سے عقیدت ومحبت کی یہ قابل افتخار میراث آج بھی مسلم امہ کا سرمایۂ ایمان ہے۔ فخر امت محمدیہ‘ غازی ممتاز نے یہ ثابت کردکھایا کہ عقیدت و محبت کے یہ جذبات امت کے دلوں کی دھڑکن ہیں اور جانثاری کا یہ سفر انشاء اﷲ ابد کی آخری ساعتوں تک جاری رہے گا۔ ناموس مکی مدنی سلطانﷺ پر پروانہ وار جان نثاری کا یہ جذبہ اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکن بن کر تاقیامت سلامت رہے گا۔ یہ بات یہود ونصاریٰ پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ خدا وحدہ لاشریک کی قسم! جب‘ جب کوئی شاتم رسولﷺ اس دھرتی پر جنم لے گا‘ تب‘ تب غازی علم دین‘ غازی عبدالقیوم‘ غازی عامر چیمہ اور غازی ممتاز کے جانشین اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس شاتم کو نشان عبرت بنادیں گے۔ یاد رکھو! اہل یہود ونصاریٰ‘ غازیان ناموس رسالت کے پیروکار آج بھی اس بات پر کاربند ہیں کہ نماز اچھی‘ حج اچھا‘ روزہ اور زکوٰۃ اچھی‘ مگر میں باجود اس کے مسلمان ہو نہیں سکتا۔ نہ جب تک کٹ مروں سید عالمﷺ کی حرمت پر‘ خدا کی قسم‘ خدا کی قسم میرا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔

تحفظ ناموس رسالتﷺ زندہ باد‘ زندہ باد