بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

in Articles, Tahaffuz, August-September 2011, د ر خشا ں ستا ر ے

آخر وہ کونسی دولت ہے؟‘‘ برہمنوں کا لہجہ تحقیر آمیز تھا۔ ’’

وہ ایک سجدہ جو میں نے اﷲ کی ذات کو کیا‘‘ جوگی سرشاری کے عالم میں بول رہاتھا ’’ساری زندگی اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے بے جان بتوں کو پوجتا رہا۔ افسوس! کیسی گمراہی اور کیسی ہلاکت تھی‘ بس’’

اس کے کرم نے بچالیا‘‘ یہ کہہ کر جوگی چلا گیا اور برہمن پیچ و تاب کھاتے رہے۔

پھر وہ جوگی ایک بھکاری کی طرح حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے آستانہ عالیہ پر پڑا رہا۔ یہاں تک کہ اسے نجات حاصل ہوگئی اور وہ واصلان حق میں شامل ہوا۔

٭…٭…٭

اسلام میں دل آزاری گناہ عظیم ہے۔ یہ بات ہر مسلمان جانتا ہے مگر اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی۔ درویش اسے اپنا فرض اولین سمجھتا ہے اور اسی مروت وتواضع کے سبب اسے حق تعالیٰ کی قربت حاصل ہوجاتی ہے۔

ایک بار ایک بوڑھا شخص اپنے بیٹے کے ساتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ گفتگو کے دوران لڑکے نے مداخلت کی اور اونچی آواز میں بحث کرنے لگا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ بات ناگوار گزری مگر آپ رسم میزبانی ادا کررہے تھے۔ اس لئے خاموش رہے۔ زبان دراز لڑکے کی گستاخیاں بڑھتی گئیں اور وہ پورے زوروشور سے بحث کرتا رہا۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ حجرۂ  مبارک کے دروازے پر بیٹھے تھے‘ شور کی آواز سنی تو حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اپنی جگہ سے اٹھے اور حجرے میں داخل ہوگئے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ بھی شیخ زادے کے پیچھے پیچھے تھے۔

حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے اندر داخل ہوکر دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکا چیخ چیخ کر نہایت گستاخانہ لہجے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے گفتگو کررہا ہے۔ شیخ زادے سے برداشت نہ ہوسکا۔ آپ تیزی کے ساتھ آگے بڑھے اور لڑکے کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔

بے ادب! تجھے نہیں معلوم کہ تو کس سے ہم کلام ہے؟‘‘’’

لڑکا بھی مقابلے کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس نے حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مارنا چاہا مگر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

دونوں باہم صفائی کرو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے فرزند شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اور اس لڑکے کو مخاطب کرکے فرمایا۔’’

آخر شیخ زادے کو اس گستاخ لڑکے سے معافی مانگنی پڑی۔ مزید یہ کہ شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کچھ رقم بھی دی پھر وہ باپ بیٹے ہنسی خوشی چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے فرزند سے پوچھا۔

شہاب الدین! تم اتنے طیش میں کیوں آگئے تھے کہ آداب میزبانی بھی فراموش کر بیٹھے‘‘’’

بابا! مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ کوئی آپ کی شان میں گستاخی کرے‘‘ شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے سر جھکالیا۔’’

’’اس نے زبان کا جائز استعمال نہیں کیا کہ وہ بے خبر تھا مگر تم نے ہاتھ کا غلط استعمال کیوں کیا کہ تم تو باخبر تھے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’فرزند! راہ سلوک میں تو اس سے کہیں زیادہ نازک اور اذیت ناک مقام آتے ہیں۔ اس وقت تم کیا کروگے؟‘‘

حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ سرجھکائے کھڑے رہے۔ آپ کے چہرۂ مبارک پر ندامت کے آثار نمایاں تھے۔

پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے مخاطب ہوئے ’’اور مولانا نظام الدین! تم نے اس لڑکے کا ہاتھ کیوں پکڑا؟‘‘

سیدی! یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شیخ زادے پر ہاتھ اٹھائے اور یہ غلام خاموش کھڑا دیکھتے رہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔’’

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مسکرائے اور فرمایا ’’نیک نے نیک کام کیا‘‘

٭…٭…٭

سلطان ناصر الدین محمود کے زمانے میں ایک دانشمند فصیح الدین دہلی آیا۔ اس کے علم و فضل کا یہ حال تھا کہ دہلی کے بڑے بڑے علماء اس کے سوالات کا جواب دینے سے عاجز رہتے تھے۔ پھر فصیح الدین کی شہرت دور دور پھیل گئی۔ ایک بار اس کی مجلس میں بیک وقت پانچ عالم موجود تھے اور فصیح الدین سے بحث کررہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں پانچوں عالم لاجواب ہوگئے۔

کیا دہلی اور اس کے نواح میں ایسا کوئی عالم موجود ہے جس نے مجھ سے بحث نہ کی ہو؟‘‘ فصیح الدین نے فخریہ لہجے میں کہا۔ اسے اپنی علمی فتوحات پر بڑا غرور تھا۔’’

ہاں! ایک بزرگ فرید الدین مسعود ہیں جو اجودھن میں رہتے ہیں‘‘ علماء نے جواب دیا۔’’

میں ان سے بھی ملاقات کروں گا‘‘ فصیح الدین نے اس طرح کہا جیسے وہ اس مرد درویش کو بھی عاجز کردے گا۔’’

پھر کچھ دن بعد فصیح الدین اجودھن پہنچ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویش بھی موجود تھے۔

فصیح الدین نے بظاہر عاجزی کا مظاہرہ کیا مگر در پردہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی علمیت کا امتحان لے رہا تھا ’’شیخ! میرے ذہن میں کچھ مسائل الجھ کر رہ گئے ہیں۔ میں اس سلسلے میں بہت دن سے حیران و پریشان پھر رہا ہوں۔ دہلی کے کچھ علماء کا خیال ہے کہ آپ ان مسائل کی گرہ کشائی کرسکتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر فصیح الدین نے وہ سوالات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے پیش کردیئے جنہیں وہ راستے بھر تراشتا رہا تھا۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فصیح الدین کے مسائل سنے مگر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کے چہرۂ مبارک سے ایسا ظاہر ہورہا تھا جیسے غوروفکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

سکوت اور خاموشی کا یہ منظر دیکھ کر فصیح الدین کو محسوس ہوا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی اس کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔ اس احساس کے ساتھ ہی اس کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا… مگر فصیح الدین کی یہ خوشی بہت عارضی تھی۔

’’تمہارے سوالات تو بہت آسان ہیں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے بجائے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فصیح الدین سے مخاطب ہوئے پھر آپ نے اس طرح سارے مسائل حل کردیئے کہ حاضرین مجلس حیران رہ گئے۔

فصیح الدین کا چہرہ اتر گیا اور وہ دل میں سوچنے لگا کہ جب شاگرد کا یہ حال ہے تو پھر استاد کا کیا عالم ہوگا؟ فصیح الدین کچھ دیر تک نادم و شرمسار بیٹھا رہا پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا شکریہ ادا کرکے مجلس سے اٹھ گیا۔

اس کے جاتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ پر سخت ناراض ہوئے ’’تم درمیان میں کیوں بول اٹھے؟‘‘

پیرومرشد کے چہرۂ مبارک کا بگڑا ہوا رنگ دیکھ کر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ آپ نے فورا ندامت سے سرجھکالیا۔

’’کیا میں فصیح الدین کے مسائل کا حل نہیں جانتا تھا؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے غضب ناک لہجے میں فرمایا ’’میں نے تو اس لئے خاموشی اختیار کی تھی کہ اس کا دل نہ ٹوٹے۔ تونے نہیں دیکھا کہ وہ بھری محفل میں کیسا نادم و شرمسار بیٹھا تھا اور جب اٹھا تو اس کی حالت کیسی شکستہ تھی۔ میں تجھ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک فصیح الدین خوش نہیں ہوگا‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فورا اٹھے اور فصیح الدین کی تلاش میں نکلے۔ پھر پتا پوچھتے پوچھتے اس سرائے پر پہنچے جہاں وہ دانشمند ٹھہرا ہوا تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھ کر فصیح الدین کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے اور پھر وہ بہت دیر تک آپ کے علم و فضل کی تعریف کرتا رہا۔

’’تمہاری وجہ سے حضرت شیخ مجھ پر بہت ناراض ہوئے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

’’اس میں تمہاری کیا غلطی تھی؟‘‘ فصیح الدین حیران ہوا۔

 ‘‘پیرومرشد اس لئے ناراض ہوئے کہ میں نے تمہارے سوالوں کے جوابات کیوں دیئے؟ اگر میں خاموش رہتا تو تم خوش ہوجاتے اور اہل مجلس جان لیتے کہ تم بڑے عالم ہو’’

یہ سن کر کچھ دیر کے لئے فصیح الدین کو سکتہ سا ہوگیا پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگا۔ ’’سبحان اﷲ! ایسا علم اور ایسا تحمل کہ کسی کا دل توڑنا گوارا نہیں‘ چاہے اپنی ذات پر حرف آجائے

میرے بھائی مجھے معاف کردو تاکہ پیرومرشد کا غصہ دور ہو اور میری زندگی برباد ہونے سے بچ جائے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے درخواست کی۔۔’’

میں تم سے خوش ہوں تمہاری طرف سے میری دل میں ذرہ برابر بھی کدورت نہیں‘‘ فصیح الدین نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔’’

‘‘تم یہی بات حضرت شیخ کے سامنے کہہ دو‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے التجا کی۔ ’’میری خاطر یہ زحمت گوارا کرلو’’

چلو! میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں‘‘ فصیح الدین نے عجیب سے لہجے میں کہا ’’اب مجھے اور کہاں جانا ہے؟ ‘‘’’

پھر ہندوستان کا سب سے بڑا دانشمند حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ خانقاہ میں داخل اور مودبانہ بولا ’’شیخ مجھے بھی غلامی کا شرف عطا کیجئے ‘‘

میں تمہیں کس طرح بیعت کروں کہ تم علم ظاہری میں بہت مبالغہ کرتے ہو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا’’

 میں اس علم سے تائب ہوتا ہوں جس نے مجھے حیرت و پریشانی کے سوا کچھ نہیں دیا ‘‘’’

اس اعتراف کے بعد فصیح الدین حلقہ ارادت میں شامل ہوئے اور ساری زندگی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں گزار دی۔

٭…٭…٭

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا مشہور قول ہے۔ ’’حق تعالیٰ سے اپنی بندگی کے رشتے کو مضبوط کر کہ سب اس سے لیتے ہیں اور وہ سب کو دیتا ہے جب وہ کسی کو دیتا ہے تو پھر کوئی اس سے چھیننے والا نہیں‘‘

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں