انبیاء کرام پربننے والی فلموں کا شرعی جائزہ

in Tahaffuz, August-September 2011, متفرقا ت

انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی تصاویر بنانا بالتفاق حرام ہے۔ اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کی کمپنی ’’الشرکۃ العربیۃ للانتاج السینمائی العالمی‘‘ نے ’’محمد رسول اﷲ‘‘ کے عنوان سے ایک فلم بنانے کا معاہدہ کیا‘ جس کے بعد سعودی عرب کے علماء سے اس کے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کی گئی اور ’’ہیئۃ کبار العلماء‘‘ نے حضرت محمدﷺ پر فلم بنانے کی حرمت کا فتویٰ جاری کیا۔ اس سے پہلے سعودی لجنۃ دائمہ کے فتاویٰ جاتمیں بھی انبیاء اور صحابہ کرام کی تصویر کشی کی حرمت و بطلان پر کبار علماء کا فتویٰ شائع ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں مکہ کی تنظیم ’’رابطۃ العالم الاسلامی‘‘ کے ذیلی ادارے مجمع الفقہ الاسلامی نے بھی اپنی فقہی رائے سے امت کو آگاہ کیا تھا کہ انبیاء کی تصاویر اور ویڈیو بنانا مطلقاً حرام اور سنگین جرم ہے۔

اس مسئلہ کی تنقیح و توضیح کی ضرورت اس لئے سمجھی گئی کہ حال ہی میں ایک ایرانی چینل پر حضرت یوسف علیہ السلام پر بنائی گئی فلم کو قسط وار پیش کیا گیا ہے۔ اہل ایران نے اس کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اصحاب میں سے سیدنا حسین رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر بنائی گئی فلمیں بھی جاری کی ہیں۔ یہ طوفان بداطواری محض اس مقام پر تھم نہیں گیا ہے‘ بلکہ اسے غالباً الحاد و کفر کے جس منتہٰیتک لے جانے کی کوشش و سعی کی گئی تھی‘ وہ اب ظلم و عدو کی ان منزل تک پہنچا ہوا دکھائی دے رہا ہے‘ اس لئے کہ ابن سبا کی قوم نے خدا کے  آخری پیغمبر سیدنا محمدﷺ کی تصویر بھی شائع کردی ہے اور جن قارئین کو یہ تصویر دیکھنے کا حادثہ پیش آیا ہے‘ انہیں اب اس حقیقت کو بھانپ لینے میں بھی کوئی دشواری نہ ہوگی کہ زنادقہ کا یہ گروہ پیغمبر اسلامﷺ سے کس درجہ بغض و عداوت رکھتا ہے۔ یہ لوگ ان تصاویر کے ذریعے غیر محسوس انداز سے پیغمبر اسلامﷺ کی سیرت و شخصیت کا اصل روپ مسخ کردینا چاہتے ہیں۔ یہ اپنے ظنون و اوہام کا پرچار اسلام کے نام پر صرف اسی لئے کرتے ہیں کہ خود میں اسلام سے علانیہ مقابلہ کی ہمت نہیں پاتے‘ لہذا اہل اسلام کی صفوں میں داخل ہوکرایک غدار کی حیثیت سے ملت اسلام کی کامل شکست اور یہود کی فتح و کامرانی کے منتظر ہیں اور اپنی سازشوں کا جال بچھانے میں مصروف عمل ہیں۔ اسی لئے انبیاء و رسل علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم پر فلمیں بنانے کا یہودی ایجنڈا بھی انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اول اول تو یہ فلمیں یہود ونصاریٰ کی طرف سے بنائی جاتی رہیں‘ جن کی کہانی زیادہ تر سیدنا مسیح علیہ السلام کی حیات کے گرد گھومتی ہے۔ اور کچھ ایسی ہیں جن میں صحابہ کرام کے  فرضی کرداروں کو بھی فلمایا گیا ہے۔ اب یہ سلسلہ چونکہ بہت پھیل گیا ہے اور جیسا کہ عرض کیاگیا کہ زنادقہ نے اسلام کے لبادے میں یہ حرام عمل بڑے پیمانے پر دینی تعلیم و تبلیغ کے نام پر باقاعدہ جاری کردیا ہے لہذا ضروری ہے کہ قرآن و سنت کے مہکم دلائل کی روشنی میں اس کا تحلیل و تجزیہ پیش کردیا جائے اور اس کے مفاسد اور مضرتوں سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا جائے۔

مفاسد و نقصانات

1: اس طرح کی فلموں اور تصاویر سے انبیاء کرام علیہم السلام کی تنقیص ہوتی ہے۔ ان کا مقام زوال پذیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب فرستادگان الٰہی کے تذکروں کو مجالس لہو ولعب اور غیر سنجیدہ مباحثوں میں گھسیٹا جائے گا تو یہ ان عالی قدر شخصیات سے استہزاء و ٹھٹھا کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ تصاویر اور ویڈیوز کا تعلق ہی ہنسی مذاق اور تماشا (انٹرٹینمنٹ) سے ہے اور یہ بات پوری قطعیت سے ثابت ہے کہ یہ ان اعمال میں سے ہے جو انسان کو ملت اسلام سے خارج کردیتے ہیں۔ پیغمبروں کے بارے میں اس نوع کا رویہ اختیار کرنا کھلا کفر ہے‘ خواہ اس فعل کا مرتکب قولاً یہ اقرار بھی کرتا ہو کہ وہ انبیاء پر ایمان رکھنے والا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔

لاتعتذرواقدکفرتم بعدایمانکم ان نعف عن طائفۃ منکم نعذب طائفۃ بانہم کانوامجرمین۔ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایۃ ورسولہ کنتم تستہزء ون۔

  (التوبہ: 66-65)

’’اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کررہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ ان سے کہو! کیا تمہاری ہنسی دل لگی اﷲ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟ اب عذرات نہ تراشو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے‘‘

2: تمام پیغمبروں کو خد انے معصوم رکھا ہے۔ عصمت انبیاء کا تقاضا ہے کہ ان خدا رسیدہ ہستیوں سے کوئی ایسا فعل صادر نہ ہو جسے اﷲ نے محرمات کی فہرست میں شامل کیا ہے اور کوئی ایسا عمل ترک نہ ہوجائے جس کو شریعت اسلام میں واجب کا درجہ حاصل ہے۔

مگر ان فلموں میں فرضی پیغمبر ایسے خلاف شریعت کام بھی کرتا ہے‘ جن کا تصور ایک نبی سے تو کجا‘ زہد و ورع کے بنیادی اوصاف رکھنے والے مسلمان سے بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ان فلموں میں دکھایا گیا ہے کہ فرضی نبی غیر محرم عورتوں کے ساتھ بے پردہ گھومتا ہے۔

اسی طرح عصمتِ انبیاء کا یہ بھی تقاضا ہے کہ وہ خلعتِ نبوت و رسالت جس کے ذریعے سے اﷲ نے ان کو زینت بخشی ہے‘ وہ کسی غیر نبی کو نہ پہنایا جائے‘ نہ حقیقتاً اور نہ ڈرامائی اسلوب میں۔ اس معاملے میں بھی ان فلموں سے سخت بگاڑ پیدا ہوگیاہے۔ وہ لوگ جو انبیاء اور صحابہ کرام کا کردار پیش کررہے ہوتے ہیں‘ یعنی جن کو فرضی نبی یا فرضی صحابی بنایاگیا ہوتا ہے‘ وہ اپنی تمام حرکات و سکنات ایک نبی کے فرضی قالب میں سامنے لاتے ہیں اور فلم کے دوسرے کردار ان کو نبی کے نام مثلا یوسف یا موسیٰ سے ہی پکارتے ہیں اور ظاہر ہے کہ فلم بینوں کی باہمی گفتگو میں بھی اس فرضی کردار کو نبی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل عصمت انبیاء کو پامال کرنے والا ہے۔

3: تاریخ نے جن حضرات کے تذکروں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے‘ ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی پوری زندگی ایک مربوط کہانی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ انبیاء کی صورت حال بہت کچھ مختلف ہے‘ ان کے ٹھیک ٹھیک حالات بس اسی قدر ہمارے سامنے ہیں‘ جن کو خد اکی آخری کتاب نے بیان کردیا ہے۔ اور قرآن مجید کا ایک عام ناظر بخوبی جان لیتا ہے کہ یہ بیانات قصہ گوئی کی قبیل سے نہیں ہیں‘ بلکہ حالات کے پیش نظر مخاطبین کی اصلاح و درستی اور سبق آموزی کے لئے گزشتہ انبیاء اور ان کی اقوام کا اتنا ہی تذکرہ کیا جاتا ہے جسے مخاطبین کی موجود صورتحال پر منطبق کرنا حکمت بالغہ کا تقاضا قرار پاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ تاریخی شہادات میں ہے‘ وہ سخت اختلافی اور کم مایہ ہے۔

جہاں تک آخری نبی اور رسول حضرت سیدنا محمد مصطفیﷺ کی سیرت کا تعلق ہے‘ اس کا ہر گوشہ اور پہلو سیرت و حدیث کی کتابوں میں کشادہ ہے۔ مگر وہ بھی اس طرح نہیں ہے کہ ایک مکمل کہانی تیار کی جاسکے۔ کہانی اور قصوں کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ان میں واقعات کا تسلسل اور ربط برقرار رہے تاکہ قاری اس قسم کی تحریر سے ذوق ادب کی تسکین کا سامان مہیا کرسکے۔ اسی لئے کہانی کی کتابوں‘ ناولوں‘ ادبی شہ پاروں اور تاریخی روایات اور سیرت و سوانح کا بنیادی اسلوب نگارش ہی بہت مختلف ہوتا ہے۔ کہانی لکھتے ہوئے مصنف بہت سے واقعات اور بیانات خود سے فرض کرتے ہوئے احاطۂ تحریر میں لے آتا ہے‘ جن کو بربنائے حقیقت جانچا جائے تو وہ محض جھوٹی داستان قرار پائیں گے۔ مثال کے طور پر اردو میں لکھے گئے تاریخی ناول اور تاریخی شخصیات پر مرتب کی گئی کہانیاں جو التمش اور نسیم حجازی وغیرہ کی کتابوں میں ہمیں ملتی ہیں۔ ان میں بیسیوں واقعات مصنفوں کے مخترعات ہیں‘ حقیقت سے انہیں کوئی علاقہ نہیں۔ جبکہ دوسری طرف تاریخ و سیر کی کتابوں میں‘ چونکہ روایات و واقعات کی تحقیق و تفحص کے بعد ہی انہیں درج کیا جاتا ہے‘ لہذا غیر ثابت شدہ بیانات قطعی طور پر مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ اس لئے یہ سب کچھ ایسی کہانی کی صورت اختیار نہیں کرتا جس کے تمام واقعات بالترتیب ایک دوسرے سے پیوست ہوں۔

ان فلموں میں چونکہ انبیاء و صحابہ کرام کی پوری کہانی فلمائی جاتی ہے‘ لہذا بہت سے واقعات خود سے گھڑ لئے جاتے ہیں۔ حالانکہ انبیاء کے حق میں اس طرح کا جھوٹ وضع کرنا غیر معمولی جرم ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے۔

من کذب علی متعمداً فلیتوا مقعدہ من النار

(صحیح البخاری‘ کتاب الجنائز 1291)

جس نے میرے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹ باندھا‘ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کرلے۔

ان فلموں میں جو لوگ پیغمبر کے مخالفین اور حق کے منکرین کا کردار ادا کریں گے‘ اور یہ جو کہانی کی ضرورت ہے‘ وہ ظاہر ہے کہ لات‘ منات کی قسمیں اٹھائیں گے‘ نبی اور رسول کو دیوانہ اور مجنون کہیں گے‘ ناروا الفاظ کا استعمال ہوگا اور ائمہ سنت کے حسب تصریح یہ سب وہ اعمال ہیں جن کا محض تلفظ بھی کفر ہے‘ چنانچہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم کیا ہوگا!!

5: ان فلموں کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ ان میں ایسے مرد اور خواتین انبیائ‘ صحابہ اور صحابیات کا کردار پیش کرتے ہیں جن کو شاید پوری طرح مسلمان بھی نہ سمجھا جاسکے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کی علامت ہیں۔ ان کا کردار یہ ہے کہ یہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ اختلاط ہی نہیں‘ ملامست کے جرائم میں بھی مبتلا رہتے ہیں۔ ان کی خواتین وہ ہیں جو بالکل بے پردہ رہنے والی اور بے حیائی کا مظہر ہوتی ہیں۔ وہ محافل رقص و سرور کی زینت بنتی اور پوری دنیا کے سامنے اپنے اعضائے جسم کی عریاں نمائش کرتی ہیں۔ کس قدر لغو اور بے ہودہ حرکت ہے کہ اس قماش کے لوگوں کو عزت مآب انبیاء اور عفت مآب صحابیات اور عائلات انبیاء کے روپ میں پردۂ سیمیں پر دکھایا جائے۔ یہ انبیاء کی کھلی توہین ہے‘ جس پر ایک ایماندار کسی طور خاموش نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ارشاد ہے

لتؤمنوا باﷲ ورسولہ وتعزروہ توقروہ‘ و تسبحوہ بکرۃ واصیلاً

الفتح 9

’’تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اﷲ کی تسبیح کرتے رہو‘‘

6: اس طرح کی فلموں سے لگائو کا یقینی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن مجید جو مخزن العلوم ہے‘ سے تعلق اور تألف ختم ہوجاتا ہے۔ ایک شخص بجائے اس کے کہ انبیاء علیہم السلام کے واقعات قرآن مجید میں پڑھے اور ان سے درس و نصیحت حاصل کرے‘ وہ کتاب اﷲ کو چھوڑ کر سی ڈیز‘ ٹیلی ویژن اور سنیما کی طرف متوجہ رہے گا۔ جبکہ اسلام جس نفسیات کو پیدا کرنا چاہتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ مسلمان تمام تر رہنمائی قرآن و سنت سے اخذ کرے اور اس کا دل مسجد میں ہی قرار پائے۔

7: وہ فلمیں جنہیں عیسائیوں یا یہودیوں نے تیار کیا ہے‘ انہوں نے ان میں اپنے عقائد کی پوری طرح آمیزش کردی ہے۔ حالانکہ قرآن مجید ان عقائد کا رد کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سیدنا عیسٰی علیہ السلام کا سولی کے نتیجے میں فوت ہوجانا۔ یہ عقیدہ اسلام کی نگاہ میں بالکل باطل ہے۔ قرآن صراحت سے کہتا ہے۔

وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لہم

(النساء 157)

’’حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا‘ نہ صلیب پر چڑھایا‘ بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کردیا‘‘

8: انبیاء کی فلمیں تیار کرناحکمت بالغہ کے خلاف ہے۔ حکمت متقاضی ہے کہ کوئی بھی غیر نبی‘ نبی کی صورت میں پیش نہ ہو۔ جنات ایسی مخلوق ہے کہ اسے انسانی شکل دھارنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مگر انبیاء کے حق میں جنوں سے یہ صلاحیت و اختیار سلب کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:

من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطٰن لا یتخیل بی

(بخاری)

’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا‘ اس نے حقیقتاً مجھے ہی دیکھا ہے‘ کیونکہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا‘‘

جنّوں سے اختیار سلب کرنے کی حکمت یہ ہے کہ پیغمبر کی شخصیت کو بے کار محل سے محفوظ رکھا جائے۔ ان فلموں میں اسی حکمت کے خلاف تکلفاً پیغمبر کے روپ میں غیر نبی کو دکھایا جاتا ہے۔

بعض لوگ ان فلموں کے حق میں یہ دلیل رکھتے ہیں کہ ان سے دعوتی مصلحت حاصل کی جاتی ہے۔ یہ فلمیں انبیاء اور قرآن کی دعوت کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ دلیل نہ صرف یہ کہ شرعی لحاظ سے غیر معتبر‘ بلکہ صورت واقعہ کے خلاف بھی ہے۔ تجربات سے ثابت ہے کہ اس نوعیت کی فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر نہ کوئی پابند صوم و صلوٰۃ ہوا ہے اور نہ اخروی کامیابی کی کوئی امنگ اس کے قلب و ذہن میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ نعمتیں صرف پیغمبرﷺ کی اسوۂ حسنہ کی کامل پیروی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم نے جن مفاسد کی نشاندہی کی ہے‘ ان کی موجودگی میں ان فلموں کی تھوڑی بہت مصلحت کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ کیونکہ فقہاء کے ہاں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ

درء المفاسد مقدم علیٰ جلب المنافع والمصالح

یعنی منفعت کو قبول کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ مضرتوں سے بچائو حاصل کرلیا جائے۔

جب یہ طے ہے کہ اس طرح کی فلموں کے مزعومہ فوائد کے بالمقابل ان کے منفی پہلو کہیں زیادہ سنگین اور تباہ کن ہیں تو انہیں مسلم معاشروں میں کسی طور گوارا نہیں کیا جاسکتا‘ بلکہ اس طرح کی لغویت کا سختی سے بائیکاٹ ہی تعلیمات اسلام اور مقاصد شریعت کا حقیقی تقاضا ہے