آپ کے مسائل کاشرعی اورآسان حل

in Tahaffuz, August-September 2011, آپ کے مسا ئل کا شر عی حل

سوال: ہاف آستین والی شرٹ سے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اگر مکمل آستین والی قمیض کی آستین کو مروڑ کر ہاف کرلیا اور ایسی حالت میں نماز ادا کی تو کیا حکم ہے؟

غلام علی عطاری‘ میرواہ گورچانی

جواب: ہاف آستین والی شرٹ پہن کر نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی کیونکہ وہ اسی ہیئت پر سلی ہوئی ہے‘ البتہ مکمل آستین والی قمیض کو فولڈ کرنا کف ثوب کے حکم میں ہے لہذا فولڈ کرکے نماز پڑھنے سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی جوکہ واجب الاعادہ یعنی نماز کو دوبارہ لوٹانا ضروری ہے۔

سوال: ہم نے سنا ہے کہ حالت نماز میں داہنے پائوں کا انگوٹھا کسی بھی صورت میں اپنی جگہ سے نہ اٹھے‘ اگر انگوٹھا اٹھ گیا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ یا پھر دونوں ایک ساتھ حالت نماز میں اپنی جگہ سے اٹھ جائیں تو کیا نماز فاسد ہوجائے گی؟

جواب: یہ بات محض عوام میں مشہور ہے اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی‘ ہاں البتہ حالت نماز میں پائوں کی انگلیوں کو قبلہ رو ہونا چاہئے۔

سوال: اگر کسی کے پاس نصاب کے مقرر کردہ وزن سے کم مقدار میں سونا یا چاندی ہو تو وہ زکوٰۃ کیوں ادا کرے اگر کوئی یہ کہے کہ سونے کو چاندی کے نصاب میں بدل دو‘ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: شریعت کا قانون یہ ہے کہ جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی رقم موجود ہو اور سال گزر گیا ہو تو زکوٰۃ دینی ہوگی۔

شریعت نے جو قانون بنایا ہے اس میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی ہے۔ دونوں میں سے کسی کے پاس ایک بھی چیز ہو یا اتنی رقم ہو تو زکوٰۃ دینی ہوگی مثلا ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم 63000 روپے بنتی ہے‘ اگر کسی کے پاس 63000 روپے کی مالیت سے زیادہ سونا‘ چاندی اور رقم ہو تو اس کو زکوٰۃ دینی ہوگی۔ اس خیال کودل سے نکال دیا جائے کہ ساڑھے سات تولہ سونا ہونا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ صرف ایک تولے سونے کی قیمت 63000روپے بنتی ہے۔ اگر کسی کے پاس ایک تولہ سونا بھی ہے تو وہ صاحب نصاب ہے اس کو زکوٰۃ دینی ہوگی۔

سوال: دکان یا دیگر کاروبار کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے گی۔ سال مکمل ہونے پر آمدنی پر یا مال تجارت پریا دکان کے تمام خرچے نکال کرادا کی جائے ؟ تفصیل سے جواب دیں؟

جواب: سال مکمل ہونے پر دکاندار دیکھے کہ اس کے پاس دکان میں کتنا مال موجود ہے جس کا وہ مالک ہے جو مال ادھار پر لیا ہے اس پر نہیں۔ اس کے علاوہ دوسروں کو ادھار کتنا مال دیا ہے اور اس کے پاس حاجت اصلیہ (اپنی ضرورت کے علاوہ) کتنی رقم موجود ہے یعنی تمام اخراجات نکال کر جو بچے اس پر دکاندار کو زکوٰۃ دینی ہوگی۔

سوال: دکاندار نقد چیز کم ریٹ میں اور ادھار اضافی ریٹ پر فروخت کرتا ہے یا پھر نقد میں بھی مختلف ریٹ پر اپنی چیز فروخت کرتا ہے‘ کیا یہ عمل صحیح ہے؟

جواب: نقد خریدنے والے چونکہ کیش رقم دے کر چیزیں خریدتے ہیں جبکہ ادھار والے وقت گزار کر پیسے ادا کرتے ہیں لہذا دکاندار نقد چیز کم ریٹ اور ادھار اضافی ریٹ پر فروخت کرسکتا ہے۔

دکاندار اپنی چیز کا مالک ہے‘ مالک اپنی چیز کسی بھی ریٹ میں فروخت کرے‘ اس کو اس کا اختیار ہے ہاں البتہ وہ مسلمانوں پر ظلم و زیادتی نہ کرے۔

سوال: شریعت کے مطابق مہر کی رقم آج کے دور میں زیادہ سے زیادہ کتنی ہے اور کم سے کم کتنی ہے؟

جواب: مہر شرعی وہی ہے جس پر فریقین نکاح کا آپس میں اتفاق ہوجائے شریعت نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی بلکہ اسے فریقین کی رضامندی پر چھوڑا ہے اور اس میں مختلف مالی حیثیتوں کے افراد کے لئے کم یا زیادہ کی گنجائش رکھی ہے۔ البتہ حدیث پاک میں مہر کی رقم کم از کم دس درہم (یعنی تقریبا618-30گرام) چاندی یا اس کی قیمت مقرر کی گئی ہے (618-30) گرام کی قیمت کم سے کم چار ہزار روپے بنتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ جتنی رقم مہر کی دی جائے‘ جائز ہے۔30-618

سوال: ایک شخص نے فجر کی نماز سورج نکلنے کے بعد پڑھی اس کی نماز قضا ہوئی یا ادا؟

جواب: ہر نماز کا اس کے وقت پر ادا کرنا فرض ہے۔ اگر وقت گزار کر پڑھے گا تو وہ قضا نماز کہلائے گی۔ ادا نہیں کہلائے گی۔ لہذا نماز فجر کا وقت سورج طلوع ہونے سے پہلے تک ہے۔ سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھے گا تو وہ نماز قضا کہلائے گی۔

سوال: سنت موکدہ اور غیر موکدہ پڑھنے کا طریقۂ کار تحریر فرمادیجئے؟

جواب: چار رکعت سنت موکدہ ادا کرنے کا طریقہ: پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پھر تعوذ‘ تسمیہ پھر سورۂ فاتحہ پھر ایک سورت‘ دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور اس کے بعد ایک سورت‘ قعدۂ اولیٰ کے لئے بیٹھیں تو تشہد مکمل کرکے کھڑے ہوجائیں۔ تیسری رکعت میں سورۂٔ فاتحہ اور ایک سورت‘ چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ایک سورت پھر قعدۂ آخرہ کے لئے بیٹھیں تو التحیات پھر درود ابراہیم اور پھر دعا پڑھ کر سلام پھیر دیں۔

چار رکعت سنت غیر موکدہ ادا کرنے کا طریقہ: چار رکعت سنت غیر موکدہ بھی  سنت موکدہ کی طرح ہی ادا کریں گے۔ صرف دو مقامات پر فرق ہے۔ سنت غیر موکدہ کے قعدۂ اولیٰ میں تشہد مکمل کرنے کے بعد درود ابراہیم پڑھیں گے اور تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہوکر سورۂ فاتحہ سے پہلے ثناء پڑھیں گے‘ بقیہ نماز اسی طرح ہے۔