عاشقِ رسول ، خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

in Tahaffuz, July 2011, ایم اے شاہ قادری, شخصیات

کشادہ پیشانی ، ماہ تابی چہرہ ، سرخ و سپید رنگ اور اس میں نورانیت ، آواز شیریں ، دل کش لہجہ ، پُر کشش انداز ، علوم و معارف کا بحر بے کراں … انہیں دیکھنا یا سُننا ، ہر کس کو متاثر کرتا تھا اور کچھ اتنا کہ دیکھنے سننے والا ان کے لئے عقیدت و محبت کا سمندر خود میں موج زن پاتا – ان سے پہلے اور ان کے بعد اس شہر کراچی میں ایسا کوئی خطیب و عالم دیکھنے سننے میں نہیں آیا ، فکر و نظر کے زاویے بدل دینے والا خطیب ، انقلاب آفریں عالم ربّانی کوئی کوئی ہوتا ہے اور صدیوں بعد ظاہر ہوتا ہے جسے نسلیں بھلا نہیں پاتیں – اب سے چالیس پینتالیس برس پہلے کاغذی بازار ، کھارادر کے قریب مَیں نے پہلی مرتبہ عاشقِ رسول ، مجدد مسلک ِ اہلِ سنّت ، خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ کو دیکھا اور سُنا تھا ، میری نگاہوں میں ان کی نورانی صورت اور میرے کانوں میں ان کی من موہنی آواز آج بھی محفوظ ہے – ماہ محرم الحرام کی دہ روزہ مجالس ہر سال اہلِ تشیع تو کرواتے تھے مگر یہ مجالس اہلِ سنّت و جماعت نے کروائی تھیں اور پورے شہر میں ان مجلسوں کا چرچا تھا – مجھے رات دیر تک جاگنے کی عادت نہیں تھی کیوں کہ صبح سویرے مجھے ایئرپورٹ پر ڈیوٹی کرنے جانا ہوتا تھا اور نیند پوری نہ ہو تی کام میں دل جمعی ہوتی ہے نہ طبیعت میں بشاشت ، بس کُسل بندی رہتی ہے لیکن عشرہ محرم کی چوتھی مجلس سننے کے بعد سات راتیں میں بلا ناغہ ہر مجلس میں شریک ہوتا رہا اور روزانہ رات کو ساڑھے تین چار گھنٹے کا خطاب سُن کر بھی دن بھر چاق چوبند رہتا – مجھے اس دل نشین خطاب سے محرومی گوارا نہیں تھی ، نہ ہی حضرت خطیب ِ پاکستان کے دیدار سے محروم رہنا میرے اختیار میں تھا ، میں ان کے جمال کا بھی دل دادہ تھا اور ان کی آواز کا بھی گرویدہ تھا ، میرے اس شوق نے مجھے ایک ہفتے میں اتنی معلومات بھی کروادیں کہ میں اسلامی تاریخ اور صحاب و اہلِ بیت ِ رسول ( ﷺ ) کے بارے میں بہت کچھ جان گیا تھا ، مَیں نے دورانِ خطاب یہ کمال بھی دیکھا کہ کوئی بات سُن کر اگر ذہن میں کوئی سوال یا اشکال ابھرا تو اس کا جواب بھی فوراً ملا اور کچھ ایسا کہ دل مطمئن ہُوا – تین راتیں مسلسل واقعہ کربلا بیان ہُوا ، مَیں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ حضرت خطیب ِ پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے سِوا اُردو میں کسی نے اس واقعے کو اتنی تفصیل اور عمدگی سے بیان نہیں کیا اور شاید ہی کوئی کرے گا کیوں کہ تمام خوبیاں کسی ایک شخصیت میں جمع ہوں ، ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آیا ہے – یزیدی لشکر کے مظالم اور قافلہ حسینی کے افراد کے صبر و  رضا کے تذکرے بہت نے لکھے اور بیان کئے ہیں مگر آداب و احترام کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے ، روایات کی تفصیل و تحقیق یاد رکھتے ہوئے بہ تمام و کمال پورے واقعے کو جس طرح مولانا اکاڑوی نے بیان فرمایا ، اسے سُن کر ہر سُننے والے نے دل و جان سے مانا کہ یہ صرف انہی کا خاصہ اور حصہ ہے ، و ہ کچھ اتنے درد و سوز سے بیان کرتے کہ سامعین ہی نہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا کہ در و دیوار بھی اشک بار ہیں اور مَیں یہ بھی بلا خوف تردید کہوں گا کہ ان تین راتوں میں جو اجتماع میں نے دیکھا ، ویسا منظر کسی مذہبی جلسے کا کہیں اور نہیںدیکھا ، کچھ یوں لگتا تھا جیسے سارا شہر وہاں جمع ہوگیا ہے – حضرت مولانا تو علم و عرفان کا سمندر تھے ، اتنا علم اور ایسا حافظہ ! بلا شبہ یہ خداداد نعمت تھی ، وہ صرف واقعات ہی بیان نہیں کرتے تھے بلکہ علی نکات ، عقائد و مسائل اور اعتراضات و شبہات کے جواب بھی ساتھ ساتھ واضح کرتے ، یعنی ہر موضوع کی جزئیات پر بھی روشنی ڈالتے، مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سینکڑوں کتابوں کے مطالعے سے مجھے وہ کچھ نہ ملتا جو اس ایک ہفتے میں مجھے مل گیا- حضرت مولانا صاحب کا یہ بھی کمال تھا کہ جو بات کرتے اس کے دلائل کی تفصیل بھی بتاتے ، قرآن کی آیات کی ہر تفسیر کا حوالہ ، احادیث اور اس کے شارحین ( شرح کرنے والے ) افراد کی کتابوں اور ہر دلیل کے ساتھ اس کا ماخذ بھی پورا بیان کرتے ، عقلی طور پر مثالیں بیان کرکے بات اس طرح سمجھانا کہ بات دل میں نقش ہوجائے اور کوئی شک و تردد باقی نہ رہے ، یہ ان کی شانِ خطابت تھی یعنی وہ اپنے ہر سننے والے کو بھی عالم بنادیتے تھے اور خشک موضوع کو بھی اتنا دل چسپ بنادیتے کہ سننے والے پر کسی اکتاہٹ کی بجائے مزید جستجو اور شوق کی کیفیت بڑھتی اور صرف جذبے ہی نہیں ، یقین بھی پختہ ہوتا- حضرت خطیب ِ اعظم پاکستان علیہ الرحمۃ والرضوان کی خطابت میں ایک خصوصیت یہ بھی نمایاں تھی کہ وہ اپنے مخالفین کی مستند تحریروں سے بھی اپنے موقف کی تائید نہایت شائستگی اور متانت سے پیش کرتے اور اپنے خطاب کو اشتعال آمیز یا فتنہ انگیز نہ بناتے بلکہ مخالف کو بھی طلب حق کی دعوت دیتے اور اختلافات کے حقائق واضح کرکے ان کا حل آسان بنادیتے اور بلا شبہ انہوں نے کتنے ہی اختلافات کو مٹاکر ماحول کی کشیدگیاں ختم کیں ، مجھے ان مجالس میں شرکت کے بعد حضرت مولانا اوکاڑوی سے ایسا قلبی لگاؤ ہوگیا تھا کہ مَیں ان کے بارے میں اپنے وابستگان اور ہر ملاقاتی سے ان کا ذکر کرتا اور ان کے تاثرات سنتا ، اپنی واردات انہیں سناتا ، مجھے خوشی ہوتی کہ ہر کوئی ان کی تعریف کرتا اور ان کی خطابت کے حوالے سے ہر کوئی انہیں بے مثال کہتا – مجھے حضرت خطیب ِ پاکستان سے ابھی تک بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن اشتیاق بہت تھا ، مَیں روز ہی سوچتا کہ ان کے مکان پر جاؤں مگر فوری طور پر اس ارادے پر عمل نہ کرسکا ان کے بارے میں معلوم ہُوا کہ وہ نیو میمن مسجد کے بعد اب جامع مسجد عید گاہ میدان ( بندر  روڈ ) ایم اے جناح روڈ میں ہر جمعہ کے دن قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہیں اور نمازِ جمعہ پڑھاتے ہیں – مَیں لازمی سروس کے حوالے سے یہ اختیار نہیں رکھتا تھا کہ اپنی مرضی سے چھٹی کرسکوں اور ڈیوٹی کے اوقات کی پابندی بہت ضروری تھی ، ادھر حضرت مولانا سے ملاقات اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا شوق بھی بڑھتا جارہا تھا ، اتنے میں عید میلاد النبی  ﷺ کا مہینا شروع ہوگیا – مجھے یاد ہے کہ یومِ میلاد اس سال اتوار کے دن تھا ، شب ِ میلاد میں حضرت مولانا کے بارے میں معلوم کیا کہ کہاں خطاب فرمائیں گے ؟ مَیں اپنے دو قرابت داروں اور اہلِ خانہ سمیت جلسہ گاہ پہنچا – ساڑھے چار پانچ گھنٹے تک آسمانِ خطابت کے آفتاب ِ جہاں تاب نے خلقت ِ نورِ محمدی سے ولادت ِ رسول ( ﷺ ) تک تمام تفصیل کچھ اتنی خوبی و عمدگی سے بیان کی کہ ہر کوئی حضرت خطیب ِ اعظم کو درازیٔ عمر اور شان کی بلندی کی دعائیں دے رہا تھا اور سبھی اس بے مثال عالم و فاضل کے دیوانے ہورہے تھے – اس ایک تقریر میں کیا کچھ نہیں تھا ، سیرت کی کتنی کتابیں کھولنے سے وہ تفصیل یوں یک جا نہیں ہوسکتی جو اس ایک تقریر میں جمع ہوگئی تھی ، حضرت کے تکلم میں ترنم اور تبسم کی آمیزش گویا سونے پر سہاگا تھا کہ رُوح وجد میں معلوم ہوتی تھی ، اس تقریر کو سن کر عشقِ رسول  ﷺ سے ہر سامع سرشار تھا ، اللہ تعالی کی شانِ خالقیت اور نبی پاک  ﷺ سے اللہ تعالی کی محبوبیت کا ایسا بیان اس طرح اور اتنا پہلے کبھی نہیں سنا تھا اور کسی عالم و خطیب کا یہ تذکرہ بھی نہیں سنا تھا کہ اس نے اس طرح اور اتنا بیان کبھی کیا تھا ، یوں یہ کہنا بجا ہے کہ حضرت خطیب ِ اعظم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی اس دھرتی پر اللہ تعالی کی خاص عطا اور نعمت تھے اور بے مثل و بے بدل شخصیت تھے – حضرت مولانا نے نبی  پاک  ﷺ کی ولادت کے واقعات کچھ اتنے پیارے انداز سے بیان کیے کہ میرے برادر نسبتی جو پروفیسر اور معلم تھے ،کہنے لگے کہ ” مولانا اوکاڑوی نے اس قدر پاکیزہ انداز میں یہ واقعات بیان کیے ہیں کہ انسانی ذہن کو کسی طرح بہکنے بھٹکنے نہیں دیا ،اور رسول اللہ ﷺ کے بیان میں اتنی احتیاط اور ادب کسی صرف مقرر سے ممکن نہیں یہ شان ایسے اعلی خطیب کی ہی ہوسکتی ہے جو علم و تحقیق کے کمال کے ساتھ ساتھ نبی اکرم ﷺ کی ذات سے بھی شدیدعشق رکھتا ہو ،مولانا اوکاڑوی صرف بہترین جید عالم ہی نہیں سچے پکے عاشق رسول ﷺ بھی ہیں ” – اپنے پروفیسر بھائی کے تاثرات سن کر مجھے یوں بھی خوشی ہوئی کہ وہ بہت کم کسی سے متاثر ہوئے تھے اور مولانا کے بارے میں میرے تاثرات کو وہ صرف میری عقیدت پر محمول کرتے تھے اور آج ایک ہی خطاب سن کر خود ان کے اپنے تاثرات مجھ سے بڑھ کر تھے ،میری والدہ محترمہ کے سامنے انہوں نے اس سے زیادہ بہتر الفاظ میں اپنے تاثرات بیان کیے میں نے اس شب پہلی مرتبہ حضرت مولانا سے ” نبی جی کی لوری ” بھی سنی ،سچ کہوں کہ میں اپنے قلب کو لفظوں میں ترجمان نہیں کرسکتا ،سامعین ہی نہیں ہوائیں بھی وجد و کیف میں تھیں ،اس لوری سے میں یوں واقف تھا یہ حیدرآباد دکن کے مشہورشاعر سید احمد حسین امجد حیدرآباد ی کی کہی ہوئی تھی اور مجھے اپنے گھر کی عورتوں کے میلاد میں اسے سننے کا اتفاق ہوا تھا لیکن حضرت مولانا نے اس میں بہت سے شعر وہ بھی سنائے جو امجد حیدرآبادی کے نہیں تھے،بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت خطیب اعظم نے خود کہے تھے اور خوب کہے تھے اور اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ یہ لوری مولانا اوکاڑوی نے جس پیاری آواز میں پڑھی تھی ایسی کسی نے نہیں پڑھی – مجھے حضرت خطیب اعظم سے عقیدت کے ساتھ عشق ہو گیا تھا-  اگلے دن انکی قیادت میں عید میلاد النبی  ﷺ کے جلوس میں شمولیت کا شرف بھی حاصل ہوا ،میں نے اپنے آپ سے وعدہ کرلیا کہ مَیں ہر ہفتے حضرت مولانا کا ایک خطاب ضرور سنا کروں گا ، میری والدہ محترمہ جو رات کو دیر تک گھر سے باہر رہنے کی اجازت کسی کو نہیں دیا کرتی تھیں ، خود بخوشی مجھے فرماتیں کہ جاؤ اور تقریر سُن کر آؤ اور پھر جب حضرت سے میری ملاقات ہوئی تو ہر بار انہیں سلام کہنے کی تاکید فرماتیں تھیں – حضرت خطیب ِ پاکستان سے ملاقات بھی خوب ہوئی ، وہ راول پنڈی کا سفر ہوائی جہاز سے کرنے کے لئے ایئر پورٹ پہنچے ، اسی طیارے سے ایک اہم سرکاری شخصیت نے سفر کرنا تھا – مَیں اپنی ڈیوٹی پر تھا ، کراچی کے ہوائی اڈے پر میری نظروں نے حضرت مولانا کو اپنے سامنے دیکھا تو اپنی بصارت پر مجھے یقین نہ آیا ، خوشی کی شدت میں آنکھیں نم ہوگئیں – اتنی مشہور اتنی عظیم ہستی اور ایسی پیاری شخصیت اور کمال یہ کہ نہایت سادہ ، ہنس مکھ اور منکسر مزاج ، یعنی صورت خوب تھی تو سیرت خوب تر تھی ، مَیں نے حضرت سے مصافحہ کیا ، ان کی دست بوسی کی سعادت حاصل کی ، اپنا نام بتایا اور محرم کی مجالس اور شب ِ میلاد کے جلسے میں شرکت اور اپنی عقیدت کا تذکرہ ایک سانس میں کرگیا، اس وقت مَیں سب کچھ یوں کہہ رہا تھا کہ جیسے مجھے پھر کہنے کا موقع نہیں ملے گا ، میری وارفتگی یا جذباتی کیفیت تھی یا میرے بیان کی سچائی کہ حضرت مولانا نے مجھے گلے لگالیا ، مَیں اپنی اس خوش بختی پر اپنے آنسو نہیں روک سکا ، میری مسرت کی عید ہوگئی تھی ، حضرت نے مجھے اتنی شفقت سے نوازا کہ مجھ سے کچھ کہا نہیں گیا ، کہاں تو میں اتنا بول رہا تھا اور اب لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے ، اپنے عہد و منصب اور ارد وگرد سے مَیں گویا بے خبر تھا ، بار بار میں ان کی دست بوسی کررہا تھا – جہاز کی روانگی میں وقت زیادہ نہیں تھا – مَیں طیارے میں ان کی نشست پر انہیں بٹھاکر آیا ، ان سے واپسی کی تاریخ پوچھی – اپنے گھر والوں کو حضرت سے ملاقات کے بارے میں جب میں نے بتایا تو سب یوں خوش ہورہے تھے کہ ان سب کو جیسے یہ اعزاز ملا ہو ، ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ کیا بات ہوئی ؟ و ہ کیسے پیش آئے ؟ لوگ میرے اس بیان کو جانے کیا سمجھیں ، عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کسی ایسی ہستی سے ملنا یقینا بہت بڑا اعزاز ہے جو ہستی اللہ تعالی اور اس کے پیارے رسول  ﷺ کی بارگاہ میں مقبول و محبوب اور برگزیدہ ہو – لوگ دنیا میں دنیاوی منصبوں مرتبہ رکھنے والوں سے ملنے کے سو جتن کرتے ہیں اور جھوٹی خوشامد ، چاپلوسی کرکے ان کی نظروں میں خود کو ان کا مداح اور خادم ثابت کرتے ہیں اور گناہ کماتے ہیں یعنی خود بھی خراب ہوتے ہیں اور ان دنیا داروں کو مزید تباہ کرتے ہیں – جب کہ اللہ تعالی کے پیاروں کی تعظیم و تکریم ، ان کی محبت و عقیدت ، ان کی خدمت و اعانت سے ہم اپنے لئے بھی ثواب و سعادت اور برکت و رحمت جمع کرتے ہیں اور دِین کے ان سچے پاس بانوں اور اللہ تعالی کے ایسے پیاروں کو خوش کرکے ہم اللہ کو خوش کرتے ہیں کیوں کہ ان سے ہماری عقیدت و محبت اللہ تعالی سے ان کے قرب اور کامل وابستگی اور اللہ تعالی ہی کی نسبت کی وجہ سے ہے – ہمارے ماں باپ ہمارے جسمانی ماں باپ ہیں ، ان کی رضا میں اللہ کی رضا ہے تو اللہ والے ہمارے رُوحانی باپ ہیں ، ان کی رضا میں اللہ تعالی کی کس قدر رضا و خوش نودی ہوگی – حضرت خطیب ِ اعظم سے اس ملاقات کے بعد میری دنیا میں ایمانی بہار اور میری زندگی میں رُوحانی انقلاب آیا ، مجھے دِین کی برکت سے دنیاوی اعزاز بھی حاصل ہوئے اور مَیں ہر میدان میں ترقی ہی کرتا رہا ، کچھ برس مجھے کراچی سے باہر ملک اور بیرونِ ملک اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے رہنا پڑا لیکن حضرت مولانا قبلہ سے میرا رابطہ رہا اور ہمارے گھرانے کے ہر خورد و کلاں کو ان کی وجہ سے نیکی اور سعادت کی توفیق ملی – حضرت خطیب ِ پاکستان کے کم از کم دو سو خطاب مَیں نے سُنے اور ان سے متعدد مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہُوا –  انہیں ہر مرتبہ سُن کر اور ان سے ہر بار مل کر عقیدت و محبت میں اضافہ ہُوا اور رُوحانی ترقی ہوئی – ان کے محاسن و کمالات خداداد تھے ، وہ عالم باعمل اور کامل ولی اللہ تھے – مَیں ان کی نیکیاں اور ثواب سوچتا ہوں تو مجھے ان کی قسمت پر رشک ہوتا ہے – اپنے شعبے کے اعلی منصب پر فائز ہوکر مَیں اس کی مدت میں توسیع کا مرحلہ بھی پورا کرچکا ، جب ڈیوٹی سے فراغت ہوئی تو حضرت قبلہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے – میرے آنسو اس دن بھی نہیں رکے تھے جب ان سے پہلی مرتبہ ملا تھا مگر وہ خوشی کے آنسو کے تھے اور اب بھی ہر روز ان کی تقریر کی ریکارڈنگ سنتا ہوں تو آنسو ؤں کا سیلاب بہتا ہے ، یہ آنسو ان سے محرومی کے ہیں ، ہائے ہم کیسی عظیم ہستی سے محروم ہوگئے ! اللہ تعالی ان کے کوکب کو ، ان کی یادوں اور یادگاروں کو مخلوق کے لئے نافع و مفید بنائے ، آمین…… !

 ٭ ٭ ٭