خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ 27 ویں سالانہ عرس مبارک پر خصوصی تحریر

in Tahaffuz, July 2011, سید ثاقب علی, شخصیات

دو رمضان المبارک تیرہ سو اڑتالیس ہجری کو مشرقی پنجاب کے علاقے کھیم کرن کی سرزمین پر عصر کی اذان کے بعد الحاج شیخ کرم الہی نقش بندی کے ہاں جس فرزند کی ولادت ہوئی وہ ملت اسلامیہ کے محبوب و محترم علمی ، ایمانی اور روحانی رہ نما ، مسلک حق اہلِ سنّت و جماعت کے مجدد اور اقلیم خطابت کے تاج دار کا رتبہ پاکر اکیس رجب چودہ سو چار ہجری کی صبح فجر کی اذان کے بعد اس جہانِ فانی سے رخصت ہوے ۔ انہیں خطیب ِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ( رحمۃ اللہ علیہ ) کے نام سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کا عرصہ حیات پچپن برس شمار ہوا ، اس مختصر سی زندگی میں وسائل کی کم یابی کے باوجود اتنے بہت سے کام اور اتنی عزت و شہرت اور مقبولیت ان پر بلاشبہ اللہ تعالی جل شانہ کی خاص عطا اور کرم ہی ہے ۔

                اٹھارہ ہزار سے زائد خطبات ، تیس علمی تحقیقی تصانیف ، سیکڑوں فتاوے ، مضامین اور مقالے ، مباحثے ، مکالمے ، رے ڈیو پاکستان کے لیے سیکڑوں تقاریر ، چھتیس برس خطابت و امامت ، تدریس و تعلیم ، ملک اور بیرون ملک لاکھوں میل کا بار بار سفر ، سو سے زائد مساجد و مدارس کا قیام ، ان کی تعمیر اور نگرانی ، روزانہ سیکڑوں زائرین و مریدین سے ملاقات اور ان کی دل جوئی و داد رسی ، قومی اسمبلی اور مجلس شوری اور قائمہ کمیٹیوں میں قانون سازی ، جماعت ِ اہلِ سنّت کا قیام اور اس کی ملک بھر میں تنظیم سازی ، تحریک قیام پاکستان ، تحریک تحفظ ختم نبوت ، تحریک دفاع پاکستان ، تحریک نفاذ مصطفی ( ﷺ ) اور تحریک اتحاد بین المسلمین کے لیے ول ولہ انگیز خدمات ، دینی و ملی ، ملکی و قومی ، سیاسی و سماجی اور فلاحی مثالی مساعی کے اس پرعزم سفر میں تین مرتبہ قاتلانہ حملے ، قید و بند کی صعوبتیں ، دس روز کے دوران یکے بعد دیگرے دو کم سن بیٹوں کی وفات کے صدمے اور جسمانی عارضے کچھ بھی تو ان کی استقامت اور محنت میں رکاوٹ نہیں ہوا ، وہ ان تھک مجاہد ثابت ہوے ۔ انہیں ان کے اساتذہ و مشائخ ، زعما و حکمرانوں اور ان کے لاکھوں شیدائیوں نے تعظیم و تکریم اور محبت و عقیدت کے القاب سے یاد کیا ، وہ سبھی کے لیے محبوب و محترم رہے ۔ ان کے قلب و لسان کی ہم آہنگی ، صدق و اخلاص اور علم کے ساتھ اس پر عمل نے انہیں ہر لمحے اور ہر مرحلے پر مقبول اور کامران رکھا ۔ حق و صداقت کے باب میں وہ مفاہمت و مصالحت کے نہیں جرأت و ہمت کے ناقابل تسخیر پیکر تھے، وہ ہمیشہ مرد میداں رہے ۔

                ان کی وجہ شہرت ان کی منفرد اور مثالی شانِ خطابت تھی جسے سمتوں میں مقبولیت ملی ۔ وہ اپنی طرز خطابت کے موجد ہی نہیں ، اس حوالے سے شہنشاہِ خطابت بھی تھے اور برسوں لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے رہے ۔ ان کے انداز کو اتنی پذیرائی ملی کہ سیکڑوں نے اسے اپنایا ۔ وہ خواص و عوام میں اس طرح مقبول ہوے جیسے ان کی زندگی کا حصہ ہوں ۔ یہ بات ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی محنت سے اپنی ایسی پہچان کروائی کہ مغربی اور مشرقی پاکستان میں انہیں ہر کوئی جانتا پہچانتا تھا حالاں کہ اس وقت الیکٹرانک میڈیا کی فراوانی نہیں تھی ، ان کی شہرت و مقبولیت ضرب المثل کی طرح تھی۔ راتوں کے پچھلے پہر بھی ان کو سننے کے لیے لوگ یوں جمع ہوجاتے کہ ہر طرف سروں کا سمندر نظر آتا ۔ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ مقبول اور معقول خطیب وہ ہوتا ہے جو حُسن و جاہت ، آواز و انداز ، ذہانت و فقاہت ، ترنم و تکلم ، علم کی فراوانی اور لوگوں کو بات سمجھانے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہو ۔ یہ تمام خوبیاں کسی ایک شخصیت میں کم ہی جمع ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالی نے حضرت خطیب ِ اعظم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کو ان تمام خوبیوں سے بہت نوازا تھا ۔ وہ مشکل اور خشک موضوعات پر بھی گھنٹوں بیان کرتے اور اتنے آسان اور دل چسپ پیراے میں گفتگو کرتے کہ عام آدمی نہ صرف سمجھتا بلکہ اسے بات یاد ہوجاتی بلکہ دل میں نقش ہوجاتی ۔ ہر تقریر میں اصلاح عقائد اور اصلاح اعمال و احوال پر بہت مؤثر انداز میں زور دیتے اور یہ مشاہدہ ہے کہ انہوں نے ایسی ذہن سازی کی کہ لاکھوں لوگوں کی دنیا میں ایمانی روحانی انقلاب آیا ۔ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ کوئی شخصیت کسی ایک ہی شعبے میں مہارت رکھتی ہے لیکن حضرت مولانا اوکاڑوی بے مثل خطیب تھے تو صاحب طرز ادیب بھی تھے ۔ ان کی تحریروں کو بھی خوب پذیرائی ملی ان کی لکھی ہوئی ہر کتاب لاکھوں کی تعداد میں طبع ہوچکی ہے اور سلسلہ جاری ہے ۔

                ان کی شخصیت ، حیات اور خدمات کا محور و مرکز صرف اور صرف عشقِ رسول ( ﷺ ) تھا ، انہیں کشتۂ عشق رسول کہا جاے تو زیادہ موزوں ہوگا ، عشق رسول ہی ان کا سرمایہ ، یہی ان کا اثاثہ اور یہی ان کی زندگی تھا ، وہ زندگی بھر اسی عشقِ رسول سے جہان کو مہکاتے رہے ۔ دل کی تاریکیوں میں محبت رسول کے سورج اگاتے اور صفحہ زیست پر نیکیوں کی کہکشاں سجاتے رہے اور سچ اور سچائی سے لوگوں کا رشتہ جوڑتے رہے ۔ چالیس برس تک انہوں نے دین کی کون سی بات بیان نہیں کی مگر تعلّی ، گھمنڈ ، خود نمائی یا تفاخر سے انہیں کوئی علاقہ ہی نہ تھا ۔ وہ خندہ رُو ، منکسر المزاج اور بہت سادہ تھے ۔ اکابر کی تواضع اور اصاغر پر شفقت کے حوالے سے ان کی مثال دی جاتی ۔ مطالعہ و تحقیق سے گہرا شغف ان کا طبعی خاصہ تھا ۔ ایک ہی موضوع پر وہ گھنٹوں بے تکان خطاب کرتے اور اس کا حق ادا کرتے ۔ ان کے صدق و اخلاص کی برکت تھی کہ اللہ تعالی نے ان کی زبان میں اثر آفرینی عطا کی تھی ، ان کی باتیں دل میں نقش ہوجاتی تھیں ۔ ان سے شدید فکری اعتقادی اختلاف رکھنے والے ایک عالم کا یہ اعتراف حضرت مولانا اوکاڑوی کی عظمت اور مرتبت کی واضح گواہی ہے کہ حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی اگر ہمارے مکتب فکر سے وابستہ ہوتے تو سب لوگوں کو ہمارا بنادیتے ۔ حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کے ایک استاد محترم کا یہ بیان بھی مولانا اوکاڑوی کی فضیلت کو واضح کرتا ہے کہ مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ جو خوبیاں خود میں رکھتے تھے ان کی وجہ سے وہ محسود الاقران تھے ۔ کچھوچھا شریف کے سلسلہ اشرفیہ کے امیر کا یہ بیان بھی اہم ہے کہ حضرت مولانا اوکاڑوی ہی وہ عالم ربّانی تھے کہ ہر درس گاہ اور ہر خانقاہ میں محبوب و محترم تھے ۔

                حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ قیام پاکستان کے بعد کھیم کرن سے ہجرت کرکے اوکاڑا آگئے تھے ، اسی شہر کی نسبت کو اپنے نام کا حصہ بناکر انہوں نے اس شہر کی عزت و شہرت بڑھائی ۔ 1956ء سے وہ کراچی میں آبسے ، اس شہر میں انہوں نے مثالی خدمات انجام دیں ، کراچی کے شہریوں نے عقیدت و احترام سے ان سے جس طرح محبت کی وہ اس طرح کسی اور کے لیے تاحال دیکھنے میں نہیں آئی ۔ یہاں لوگ انہیں روزانہ سننے کے لیے میلوں پیدل بھی سفر کرتے ۔ سلسلہ عالیہ نقش بندیہ مجددیہ کی مشہور خانقاہ شرق پور شریف کے تاج دار حضرت میاں شیر محمد شرق پوری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولا دت سے قبل ہی ان کے والد گرامی کو یہ بشارت دی تھی کہ ’’ نور کی نہریں رواں ہوں گی ‘‘ حضرت شیر ربّانی کی اس بشارت کا جلوہ دنیا نے دیکھا ۔ حضرت خطیب اعظم بلاد اسلامیہ اور متعدد ممالک میں حق کا عنوان اور اہلِ حق کی پہچان ثابت ہوے ۔ کلمۂ حق کہنے میں ان کی بے باکی اور حق و صداقت کے لیے ان کی غیر متزلزل استقامت کا اعتراف ان کے مخالف بھی کرتے ہیں ۔ ان کے ایمانی افکار اور نورانی کردار نے ایک جہان کو متاثر کیا ۔

                جمعیت علماے پاکستان کو 1970ء میں ہونے والے انتخابات میں نمایاں کام یابی بھی حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی بدولت ہوئی ۔ اہلِ سنّت کے زیر اہتمام عید میلاد النبی  ﷺ کے مرکزی جلوس اور بارہ روزہ محافل اور عشرۂ محرم کی مجالس کا سالانہ انعقاد بھی حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے شروع کیا اور شب عاشور صرف ان کے خطاب کو سننے کے لیے جمع ہونے والا لاکھوں افراد کا ہجوم ان کے بعد کسی ایک شخص کے خطاب کے لیے کہیں دیکھنے میں نہیں آیا ۔

                انہیں عرب و عجم کے متعدد مشائخ سے سلاسل طریقت میں اجازت و خلافت حاصل تھی ۔ بلاشبہ وہ بارگاہِ رسولِ کریم  ﷺ میں مقبول و محبوب تھے ۔ حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ سولہ مرتبہ حرمین شریفین حج و زیارت کے لیے تشریف لے گئے ۔ انہیں تین مرتبہ رسول اللہ  ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی ۔ آخری بیرون ملک سفر انہوں نے بھارت کے لیے کیا ۔ جنوبی افریکا وہ دو مرتبہ گئے اور مختصر عرصے میں وہاں مسلکِ حق اہلِ سنّت کے لیے کارہاے نمایاں انجام دیئے ۔ اس سرزمین پر پہلا سنّی دارالعلوم قائم کیا ۔ صرف تین ماہ کے عرصے میں ان کی تقاریر کی ایک لاکھ آڈیو کیسٹس وہاں فروخت ہوئیں ۔ ماری شس میں وہ 1980ء میں یوم النبی ( عید میلاد النبی  ﷺ ) کی مرکزی تقریب میں شریک ہوے ، وہاں کے ہندو وزیر اعظم کی موجودگی میں انہوں نے نہایت عمدگی سے بت پرستی کے خلاف اسلام کا موقف پیش کیا اور کلمۂ حق کہا ۔ سوازی لینڈ کے بادشاہ کو دعوت اسلام دی ۔ بتایا گیا ہے کہ حضرت خطیب ِ اعظم ہی وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے اس جرأت کا عملی مظاہرہ کیا ۔ تین ہزار سے زائد افراد ان کے دست ِ مبارک پر مشرف با اسلام ہوے ۔

                صدقات جاریہ کے انہوں نے اتنے کام کیے کہ ان کی طویل فہرست ہے ۔ وہ کثیر الجہات ، کثیر الصفات اور کثیر الخدمات شخصیت تھے ۔ ان کی زندگی مسلسل جدوجہد اور محنت سے عبارت ہے ۔ کراچی شہر میں انہوں نے دو مساجد کی خشت اول سے مکمل تعمیر کی ۔ جامع مسجد غوثیہ ( پی ای سی ایچ سوسائٹی) اور جامع مسجد گُل زارِ حبیب (سولجر بازار ) اسی مسجد کے پہلو میں ان کا مزار مبارک ہے ۔ ان کے فرزندان ، خلفاء ، تلامذہ اور مریدین و معتقدین دنیا بھر میں ہر سال ماہ رجب کے تیسرے جمعہ کو سالانہ یوم خطیب ِ اعظم مناکر انہیں خراج عقیدت و محبت پیش کرتے ہوے ان کی یاد تازہ کرتے ہیںا ور ہر سال ہزاروں ختمات قرآن کی تلاوت کا انہیں ایصال ثواب کرتے ہیں ۔

                حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کو اللہ تعالی کے کرم سے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی ولادت کے بعد ان کی سماعت میں پہلی آواز دُرود شریف کی پہنچی اور ان کی وفات سے قبل ان کی آخری آواز جو سُنی گئی وہ بھی دُرود شریف کے وِرد کی تھی ۔ ان کی کام یاب شخصیت کا یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ ان کے تینوں فرزند اپنے باکمال والد گرامی کے نصب العین کو جاری رکھے ہوے سمتوں میں دین و ملت کی خدمت کررہے ہیں ۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

٭٭٭