تحریر  :  میر علاؤالدین نقش بندی ، کراچی

                 کشادہ جبین ، نورانی چہرہ ، بڑی بڑی چمکتی آنکھیں ، گھنی داڑھی ، قدرے فربہ مگر بارُعب پیکر جمال و کمال ، ہنس مکھ ، خوش خلق ، نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو ، پُرکشش آواز ، سحر انگیز انداز ، منکسرالمزاج ، ، دوست و دل نواز ، مجسمہ عزم و ثبات ، یہ تھے لسان الامت خطیب ِ عصر حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمۃ والرضوان ، جن کا وجود مسعود اب ہمارے درمیان نہیں رہا ، مگر ان کی شخصیت ، ان کے افکار اور عظیم خدمات کے لافانی نقوش لوحِ دل پر ہنوز اسی طرح لَو دے رہے ہیں ، جس قدر کہ پہلی مرتبہ زیارت و ملاقات کے وقت تھے – حضرت مولانا اپنی نشست گاہ کی وسعت میں علوم و معارف کے جواہر پاروں اور اپنے جاں سپاروں ، جاں نثاروں میں یوں گھرے بیٹھے تھے جیسے چاند چمکتا تاروں میں … سب میں شامل لیکن سب سے نمایاں … انہیں دیکھا ، انہیں سُنا ، انہیں پڑھا تو ان کو ان کی مثالی شہرت سے بھی سِوا پایا – یہ المیہ کئی مرتبہ گزرا کہ بڑے بڑے نام اور کام سُن کر شخصیت سے ملاقات پر ملنے کا افسوس ہُوا لیکن یہ اظہار ِ عقیدت ہی نہیں ، اقرارِ حقیقت بھی ہے کہ دِینی و رُوحانی شخصیات میں مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ سے مل کر ہر بار دل و دماغ کو جو تسکین و طمانینت پہنچی وہ کہیں اور نہ مل سکی – مجھے یقین ہے کہ ہزاروں ہی میرے گواہ اور موید و مصدق ہوں گے –

                حضرت مولانا کو خطابت کے میدان میں جو مرتبت حاصل تھی وہ خداداد عطیہ تھا – کراچی شہر میں انہیں لوگ روز سنتے تھے اور ہر بار ہی لطف اندوز ہوتے تھے – مذہبی شخصیات سے لوگوں کو جذباتی وابستگی بھی ہوتی ہے – مولانا اوکاڑوی کو قوت تسخیر عطا ہوئی تھی ، وہ دلوں کو فتح کرتے تھے – یہ مقبولیت اور محبوبیت انہیں ہر سمت حاصل تھی – وہ جہاں بھی گئے اپنا نقش اور سکہ جماتے رہے – حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ عالی مقام خطیب اور محقق تھے – انہیں ہر لمحہ مشغول اور ان کی ہر خدمت کو قابلِ قدر پایا – تحریر و تقریر میں ان کی مقبولیت اور انفرادیت مسلمہ رہی – انہوں نے جو کہا اور لکھا پورے وثوق اور اعتماد سے لکھا اور کہا – ان کا حافظہ بَلا کا تھا – حوالہ جات اور دلائل سے اپنی گفتگو کو ایسا دقیغ بناتے کہ کوئی تشنگی نہ رہتی – انہیں دقیق اور مشکل ترین مسائل کو بھی آسانی سے سمجھانے کا فن آتا تھا – وہ جانتے تھے کہ اپنے سامع اور قاری تک نہ صرف صدائے حق پہنچانی ہے بلکہ اس کے دل پر نقش کرنی ہے – بلاشبہ اس سلسلے میں انہیں مہارت تام حاصل تھی اور اثر آفرینی ایسی کہ جب تک وہ کہتے رہتے ہر کوئی ہمہ جاں ہوکر سنتا رہتا – یہ نعمت کسبی نہیں تھی ، اسے خداداد ہی کہا جاسکتا ہے –

                ممدوحِ مکرم حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا جہان خود بنایا تھا – انہوں نے حافظ محمد شفیع سے خطیب ِ اعظم پاکستان اور مجدّد ِ مسلک ِ اہلِ سنّت کا رُتبہ پانے تک مسلسل اور مستقل کٹھن جدوجہد کی تھی – اپنوں اور بیگانوں کے جگر سوز وار سہے تھے – ان پر سنگ باری ہوئی ، تیز نشتروں سے انہیں چھلنی کیا گیا ، طرح طرح سے انہیں ستایا گیا تھا – انہیں اپنی محنتوں پر کوئی تفاخر نہیں تھا – طبیعت نہایت سادہ تھی اور تواضع ان کا خاصہ تھا جو شہرت کے عروج پر پہنچنے کے بعد بھی بدستور رہا – بہت سی عادات معصومانہ تھیں اور اخلاق کریمانہ تھے – انہیں ’’ تخلقوا باخلاق اللّٰہ‘‘ کا سچا عامل کہا جاسکتا ہے – وہ عالم باعمل تھے اور اپنے منصبی فرائض کی بجا آوری میں جنون کی حد تک مخلص تھے – انہیں صرف دِین سے شُغف تھا – تعریف و توصیف ِ رسول ( ﷺ ) ہی ان کا شیوہ و شعار تھا – ان کے ذاتی کتب خانے میں ہزاروں کتابیں تھیں اور مطالعے سے ان کی دل چسپی کا احوال ان کے احباب سے پوشیدہ نہیں ، ہر کتاب کے ابتدائی سادہ اوراق ان حوالہ جات اور اشاریوں سے پُر تھے جو کتاب کے مطالعے کے دوران حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے رہتے تھے – مسائل کا حل وہ کئی طریق سے پیش کرتے تھے –

                قرآنی آیات ، ارشادات ِ نبوی ( ﷺ )اور اکابر ِ دِین کے اقوال سے استنباط و استدلال میں ان کی ذہانت و ذکارت پر حضرت مولانا کے اساتذہ و اکابر بھی ان کے معترف اور مداح تھے – تحقیقی اور اہم موضوعات پر اکابر و اصاغر سے مشاورت حضرت مولانا کا معمول تھا – ہر جستجو بھی حد کمال پر تھی – حضرت مولانا ہر گز اپنے بیان میں الفاظ کی تراش خراش یا تراکیب پر توجہ نہیں دیتے تھے بلکہ ان کے حافظے اور ذخیرے میں وہی الفاظ تھے جو معنی و مفہوم کو آسان کرتے تھے اور سُننے والے پر اثر کرتے تھے بلکہ دل میں اُتر جاتے تھے – ان کی آواز میں جو کشش تھی وہ انسانوں ہی پر نہیں ، فضاؤں پر وجد و کیف طاری کردیتی تھی – ان کی محفلوں میں کیف و سرور پایا جاتا تھا – ترنم ، نغمگی اور بیان کی ادائی کا ہر حسن انہیں وافر ملا تھا ، وہ قدرت کی حسین و جمیل عطاؤں کا انمول خزینہ تھے –

                حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی 55 سالہ مختصر سی زندگی میں بہت سے کام کیے – وہ تنہا بھی ہزاروں اداروں سے بڑھ کر تھے – کتنی تحریکوں میں وہ قافلہ سالار تھے اور کتنے مرحلوں پر صرف وہی مردِ میدان تھے – تند و تیز ہواؤں سے انہوں نے مصلحت نہیں ، جاں فشانی سیکھی ، حسد و رقابت سے انہیں کوئی واسطہ ہی نہ تھا – اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے انہیں جیسا فراخ دل اور کشادہ پایا ، اس کی مثال کم ہی کسی دِینی شخصیت میں دیکھی جاسکتی ہے – سینکڑوں نے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے انداز کی پَیروی ہی میں اپنے لئے مقام پیدا کیا اور حضرت مولانا کی محنت ہی ان لوگوں کا روزگار ثابت ہوئی – وہ ایسے کام یاب تھے کہ وسائل و ذرائع محدود ہونے کے باوجود جہاں جہاں گئے ، بچہ بچہ ان سے واقف ہُوا ، اور اپنی یادوں کا نقش ہر ایمان والے کے دل میں انہوں نے قائم کیا – سو سے زیادہ مساجد اور اتنے ہی مدارس کی بنیاد انہوں نے رکھی ، جماعت ِ اہلِ سنّت کی مرکزی عالمی تنظیم انہی کی مرہونِ منت ہے – کتنے مذہبی و سماجی اور تعلیمی و تدریسی ادارے صرف ان کی نسبت و تعاون سے اپنی شناخت کرواسکے اور جانے کتنے علماء و مشائخ کا تعارف بھی حضرت مولانا کی خدمات کی وجہ سے ہُوا – محتاط اندازے کے مطابق انہوں نے اٹھارہ ہزار مرتبہ اجتماعات سے خطاب کِیا – یہ اعزاز و امتیاز تاحال کسی اور خطیب کا حصہ نہیں – قریباً تیس تصانیف ان کی یادگاریں ہیں اور ہر کتاب کو قبولیت عامہ ملی ، ہر کتاب ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوئی – ان کے تمام خطابات کو محفوظ کرلیا جاتا تو بعد میں آنے والوں کو وہ سب کچھ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ ہی سے مل جاتا جس کے لئے قریہ قریہ برسوں کی ان تھک محنت و ریاضت کرنی پڑتی ہے –

                حضرت مولانا اوکاڑوی کے مزاج میں عشقِ رسول  ﷺ کی سرشاری اور وارفتگی نمایاں تھی – جن دنوں حضرت مولانا نمازِ  جمعہ جامع مسجد نور (نزد جوبلی سینما ) میں ادا کرتے تھے وہاں جو مثالی اجتماع ہوتا تھا وہ کہیں اور دیکھنے میں نہیں آیا – دُرود  و سلام کے بعد لوگوں کا ہجوم ہوتا جو حضرت مولانا سے مصافحہ اور دست بوسی کا شائق ہوتا ، اہلِ محبت کی عقیدت بھی قابلِ دید ہوتی – ایک مرتبہ جمعہ کے بعد مصافحہ کرنے والوں میں ایک شخص آگے بڑھا اور دست بوسی کرکے کہنے لگا کہ ’’ مَیں مدینہ منورہ سے آیا ہوں اور وہاں حرمِ نبوی میں جھاڑو دیتا ہوں – ‘‘ ہجوم نے دیکھا کہ حضرت مولانا اوکاڑوی نے اس شخص کے ہاتھوں کو چوما اور اس سے کہا کہ ’’ میرے چہرے پر اپنے ہاتھ پھیردیں – ‘‘ وہ شخص ہچکچا رہا تھا ، اس کی آنکھیں بھر آئیں – مولانا نے اصرار کیا اور اس نے اپنے ہاتھ مولانا کے چہرے سے لگالیے اور کہا کہ مجھے یہ سعادت بھی حاصل ہوگئی –

                حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ میں عاجزی و انکساری تھی – 1970ء میں حضرت مولانا اوکاڑوی کی خدمات ہی سے اہلِ سنّت کو سیاسی اُفق پر نمایاں مقام حاصل کرنے میں کام یابی ہوئی تھی – وہ لوگ جو حضرت مولانا کی وجہ سے متعارف ہوئے تھے وہ خود اگلی صفوں میں رہتے اور حضرت مولانا کو قصداً پچھلی صفوں میں رکھا جاتا – کون نہیں جانتا کہ اس کے باوجود ہر اجتماع سے صرف مولانا کے لئے عوام کے نعرے اور غلغلے بلند ہوتے – حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ ہی وہ شخصیت تھے کہ عوام سے کوئی اپیل کرتے تو لوگ سب کچھ نچھاور کرتے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے – حضرت مولانا نے کبھی سودے بازی اور مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا ، وہ بلا شُبہ اپنے عقائد و نظریات میں ایسے راسخ تھے کہ ان کے عزم و ثبات کے سب ہی معترف اور مداح تھے – علماء بہت سے ہوئے اور ہیں مگر حضرت علامہ اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت ان سب میں نمایاں رہی ہے ، وہ یقینا بارگاہِ الہی میں مقبول اور بارگاہِ رسالت ( ﷺ ) میں محبوب تھے – انہیں دو مرتبہ خواب میں اپنے محبوب کملی والی آقا  ﷺ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہُوا – وہ 16 مرتبہ حرمین شریف حاضر ہوئے – متعدد مشائخ سے سلاسل طریقت میں وہ مجاز تھے – بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیچھے اپنے مداحوں ، عقیدت مندوں اور مریدوں کی جس قدر تعداد چھوڑ گئے ہیں اور جس قدر یادیں اور یادگاریں قائم کرگئے ہیں ایسی کسی اور عالم ربّانی کے بارے میں اس دَور میں مثال نہیں ملتی – اواخر عمر میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ بیمار  رہتے تھے مگر اس درویش کامل نے آخری سانس تک ذکر ِ حبیب (ﷺ ) جاری رکھا – زندگی کی ایسی کام یابی انہی لوگوں کا حصہ ہوتی ہے جن کے نام کاتب ِ تقدیر نے ازل ہی میں اس لوح پر درج کردیئے تھے جو اَبد الا باد تک رہے گی – یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ِ والا صفات تو خلق سے اوجھل ہوگئی مگر اہلِ ایمان کی لوح دل پر ان کا نام آج بھی اپنی تابانی کے ساتھ موجود ہے اور اِن شاء اللہ رہتی دنیا تک رہے گا – حضرت مولانا اپنے فرزند کی صورت میں اپنی آواز میں ، اپنے افکار میں اپنے کردار اور خدمات میں آج بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے – دل آج بھی یہ کہتا ہے اے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ تیرا ثانی نہیں ، جواب نہیں –