حضرت مولانا شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

in Tahaffuz, July 2011, شخصیات, ہاشم یوسف منصور

نامور عالمِ دین اور پاکستان کے عظیم خطیب

حضرت مولانا شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

                وہ بھی کیا آواز تھی !جسے سنتے ہوئے ایک سحر طاری ہوجاتاتھا ۔کوئی موضوع ہوتا ،یوں محسوس ہوتا کہ بیان کرنے والے کے دما غ میں علوم وفنون کا دریا بہہ رہاہے۔یہ مختصر سی جھلک ہے اس شخصیت کی شعلہ نوائی کی جس نے تقریبا چالیس برس تک مسلسل شب وروز نگری نگری قریہ قریہ اپنے آقائے نامدار ،اپنے حبیب مختار ،مدنی تاجدار محبوب پر وردگار حضور نبی کریم  ﷺ کی محبت و عظمت ان کے دین کی حقیقت اور راہ نجات کی ہدایت کے چراغ لوگوں کے سینوں میں روشن کئے اور حق سے وابستگی کو پختہ کیا ۔مختصر مدت میں انہوں نے وہ مثالی کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ مجدد ِمسلک اہل سنت کا خطاب ملا۔وہ خطیب اعظم پاکستان کہلائے۔ ذکر رسول  ﷺ اور مدحت نبی  ﷺ ہی سے انہیں شغف تھا ،وہ اپنے محبوب  ﷺ آقاکی تعریف و توصیف ہی کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے تھے،یہی ان کا اعزاز اور یہی ان کا امتیاز تھا۔اقلیمِ خطابت کے تاجدار ،عاشقِ رسول ،محبِ صحابہ آلِ بتول حضرت مولانا شفیع اوکاڑوی قدس سرہ الباری ربع صدی پہلے رجب کی 21 تاریخ(1404 ھ)کو اذانِ فجر کے بعدراہی ٔ جناں ہوئے،اپنے پیچھے وہ اپنی نیک نامی ،بیش بہا خدمات،صدقۂ جاریہ کی مثالی یادگاریں ،گراں قدر تصانیف،سینکڑوں موضوعات پر اپنی سحربیانیاں ،نیک اولادیں ،قابل تلامذہ اور لاکھوں مریدو عقیدت مند اور اپنی شخصیت و عظمت کے گہرے نقش اور اچھی نیک یادیں چھوڑ گئے جو انہیں ہر دم اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ کئے ہوئے ہیں ۔

                مولانا شفیع اوکاڑوی عرب شیوخ کے اس یمنی خاندان کے فرد تھے جو امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی کو ششو ں سے حلقۂ بگوشِ اسلام ہوا تھا ،ان خاندان کے لوگوں کا ذریعۂ معاش تجارت تھا اور تجارت کیلئے سفر کرتے ہوئے اس خاندان کے کچھ افراد سر زمین ہند آبسے تھے۔غیر منقسم ہندوستان کے قلعہ نما شہر کھیم کرن میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے آباؤ اجداد نے سکونت اختیار کی اور اپنی نیک نفسی اور درویشی کے سبب اس علاقے میں اس خاندان کوعزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اس خاندان کے ایک بزرگ شیخ اللّٰہ دتا کا قلب ایسا جاری تھا کہ قریب بیٹھا ہو اشخص بھی اسمِ الہٰی کی آواز سنتا تھا ،کہا جاتا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی ان کے قلب کا ذکر جاری رہتا تھا ۔حضرت مولانا اوکاڑوی کے والد ماجد شیخ میا ں کرم الہٰی سلسلہ ٔعالیہ نقش بندیہ کے مشہور و ممتاز بزرگ شیرربانی حضرت میاں شیر محمد شرق پوری رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے وابستہ تھے ۔حضرت شیر ربانی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی ولادت سے ایک برس پہلے ہی ان کے والد کو مولانااوکاڑوی کی ولادت اور علوِ مرتبت کی بشارت دے دی تھی ۔میاں کرم الہٰی صاحب نے اپنے فرزند کی ولادت سے قبل خوا ب دیکھا کہ آسمان سے چمکتا ہوا چاند ان کی آغوش میں آیا اور ہر سمت اس کی روشنی پھیلی ۔کھیم کرن شہر میں حافظ کرم الہٰی صاحب نامی ایک نابینا بزرگ تھے ۔علاقے کے تمام مسلمان گھرانوں کے بچے اور بڑے ان سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ وہ بصارت سے تومحروم تھے مگر بصیر ت کا یہ حال تھا کہ مکتب میں موجود ہر بچے پر ان کی نظر ہوتی تھی یہاں تک کہ کوئی بچہ پڑھتے ہوئے خاموش ہوجاتا تو اسی کانام لے کر پکارتے اور کہتے کہ تمہاری آوازنہیں آرہی ۔کھیم کرن کی جس مسجد میں حافظ کرم الہٰی صاحب کا مکتب تھا ۔اس میں نمازیوں کے استعمال کے لئے پانی کا کنواں تھا ،وہ آدھی رات اس کنویں سے ڈول (بالٹیاں )نکال کر ٹینکی بھر دیتے تاکہ فجر میں آنے والے نمازیوں کو سہولت رہے۔ نمازی حیران ہوتے کہ یہ کام کون کرتا ہے۔حافظ کرم الہٰی صاحب میاں کرم الہٰی کے استاد بھی تھے اور دوست بھی میاں کرم الہٰی نے ان سے اپنے خواب بیان کئے تو حافظ کرم الہٰی صاحب نے تعبیر یہ بتائی کہ اللّٰہ تعالیٰ ایسا بیٹا دے گا جس سے دین کی روشنی ہر طرف پھلیے گی اور خلق کو ہدایت و فائدہ پہنے گا ۔2 رمضا ن المبارک 1348ھ کو عصر کے بعد وہ مبارک بیٹا تولد ہوا جس کی حضرت شیر ربانی نے بشارت دی تھی ۔

                میاںکرم الہٰی نے اپنے بزرگوں کی ترغیب پراپنے پہلے فرزند کانام محمدشفیع رکھا ۔مولانا اوکاڑوی کی والد ہ کاکہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک مرتبہ سفر میں تھیں تو سواری میں دہ پہلوان بھی سوارتھے جن کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا اور کبھی میدان سے قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔میاں کرم الہٰی نے ان پہلوانوں سے پوچھا کہ اس کام یابی کی کوئی خا ص وجہ ہے ؟ ان پہلوانوں نے کہا کہ ہماری والدہ نے ہمیں کبھی پشت نہیں کی اورکبھی کسی برے یا نامناسب لفظ سے نہیں پکارا ،ہمیشہ دعائیہ جملوں سے پکارو ۔ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی والدہ پر اس بات نے اثر کیا ،ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے شیر خوار بیٹے کو کبھی پشت نہیں کی اور کبھی عام عورتوں کی طرح کسی نامناسب الفاظ سے نہیں پکارا ۔سنت نبی  ﷺ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام رسمیں ادا ہوئیں اور اپنے فرزند کی چار سال چار مہینے چار دن کی عمر میں میاں کرم الہٰی نے جناب حافظ کرم الہٰی سے بسم اللّٰہ پڑھوائی اور حفظ قرآن کریم کی تکمیل کیلئے مکتب میں بٹھا یا ۔قدرت نے حضرت مولانا اوکاڑوی کو ہر حسن سے خوب نوازا تھا،آواز میں بلا کی کشش اور سوز تھا۔حضرت شیر ربانی اس دنیا سے پردہ کرگئے تھے ۔ان کے جانشین حضرت ثانی صاحب شرقپوری الحاج میاںغلام اللّٰہ سے حضرت مولانااوکاڑوی سلسلۂ عالیہ نقش بندیہ میںبیعت ہوگئے ۔حفظِ قرآن کے دوران ہی نعت خوانی کی تربیت بھی حاصل کی۔ابتدائی تعلیم بھی کھیم کرن ہی میںحاصل کی۔ان دنوں تحریک پاکستان اور ہندؤں انگریزوں کی غلامی سے آزادی کی کوششیں ہر سطح پر ہورہی تھیں۔مولانااوکاڑوی اپنے پیر ومرشد کے ساتھ جلسوں میں بھی شریک ہوتے اوراپنی خوش الحان اور ولولہ انگیز آواز میں سامعین کے دلوں کو گریاتے ۔میاں کرم الہٰی نے بڑی عسرت میں زندگی بسر کی تھی وہ کھیم کرن میں کمبل بانی کا کام کرتے تھے۔مولانا اوکاڑوی نے اپنے والد ماجد کے ساتھ محنت کرکے تجارت کو بھی فروغ دیا ۔قیامِ پاکستان سے تجارت ہی کی غرض سے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ دور وقریب کے شہروں میں بھی جاتے تھے پھر دینی محافل میں شرکت کیلئے بھی انہیں مختلف علاقوں جانا پڑتاتھا۔اوکاڑا شہر انہیں پسند آگیا اور جب قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کرکے براستہ قصور اوکاڑا آگئے ۔کسے خبر تھی کہ اسی اوکاڑاشہر کی نسبت سے ــــــــــ’’اوکاڑوی ‘‘کا لفظ حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کے نام سے وابستہ ہو کر عالم میں مشہور و مقبول ہوجائے گا۔مولانا اوکاڑوی ابھی تک دینی علوم کی تکمیل نہیں کرسکے تھے ۔انہیں شیخ الاسلام حضرت مولانا غلام علی اشرفی قادری جیسا قابل استاد میسر آگیا ،انہوں نے اوکاڑا میں جامعہ حنفیہ اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اور مولاناغلام علی سے دینی علوم کی تکمیل کی۔اسی دوران غزالی ٔزماں حضرت علامہ سید احمد سیعد کاظمی اوکاڑا آئے  اور کچھ عرصہ اوکاڑا میںقیام کیا ۔علامہ کاظمی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے بعد میں ملتان جاکر انوارالعلوم کی بنیاد رکھی ،مولانا اوکاڑوی نے علامہ کاظمی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حدیث شریف کی محدثین کے طریق پرسند واجازت حاصل کی ۔تحریک پاکستان نے حضرت مولانا اوکاڑوی کی خطیبانہ صلاحیتوں کو اجاگر کردیا۔۱۹۴۹ء سے حضرت مولانا اوکاڑوی کی با قاعدہ شب وروز خطابت کا آغاز ہوا اور ۱۹۸۴ء تک یہ عالمی اعزاز صرف حضرت مولانا اوکاڑوی ہی کاحصہ ہے کہ انہوں نے اٹھارہ ہزار سے زائد تقاریر کیں جن سے کروڑوں افراد کے عقائد و اعمال کی اصلاح اورنہ جانے افراد حضرت مولانااوکاڑوی کے دستِ حق پرست پر مسلمان ہوئے۔ حضرت مولانااوکاڑوی اوکاڑا شہر میں برلا ہائی اسکول میں شعبہ ٔ اسلامیا ت کے انچارج بھی رہے۔اور اوکاڑا شہر کے دس برس قیام میں سا ہی وال (منٹگمری )کی مسجد مہاجرین کے خطیب رہے ۔مولانا اوکاڑوی گزرمعاش کیلئے اوکاڑا شہر میں کپڑے کا کا روبار کرتے تھے۔اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے بھی وہ مطالعہ و تحقیق میں مشغول رہتے ۔مطالعے کی یہ عادت ان کی زندگی میںتادم آخر رہی ۔یہ کہا جاتا ہے کہ مولانا اوکاڑوی خطابت کے شہنشاہ تھے اور اپنے اندازکے موجدوامام تھے۔قیامِ پاکستان کے ڈیڑھ برس بعد حضرت مولانا اوکاڑوی نے چشتیاں شہر ضلع بہاول نگر میں جناب شیخ نواب دین مرحوم کی منجھلی بیٹی سے شادی کی۔ان کے سسر نہایت سادہ اور نیک تھے اور انکی ساس اپنے علاقے میں اپنی شرم وحیا اور دین داری کے سبب نہایت محترم سمجھی جاتی تھیں۔وہ اپنی بینا ئی سے محروم ہوگئی تھیں مگر اس کے باوجود پردے کی سخت پابند تھیں یہاں تک کہ ملازم خواتین نے بھی شاید ہی ان کا چہرہ دیکھا ہو۔

                حضرت مولانا اوکاڑوی کے پیر ومرشد حضرت ثانی صاحب شرق پوری رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو اپنے اس مریدِ صادق سے بہت محبت تھی ،وہ بصارت وبصیر ت سے وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ جو اللّٰہ والے ہی دیکھا کرتے ہیں اور ہر کسی کو وہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔حضرت ثانی صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ قبلہ خود بڑے شوق سے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا خطاب ِ دل نواز سنتے اور بہت خوش ہوتے۔شیرِ ربانی حضر ت میاں شرق پوری علیہ الرحمۃ القوی کے سالانہ عرس پر ۲ ربیع الاول کی شب آخری خطاب کے لئے حضرت ثانی صاحب قبلہ نے مولانااوکاڑوی رحمۃاللّٰہ تعالیٰ علیہ کو مامور کیا ۔یہ خطاب ڈھائی بجے شب شروع ہوتا اور فجر کی آذانوں پر ختم ہوتا ۔قریباچالیس برس مسلسل حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا یہ معمول رہا وہ ہر سال باقاعدہ گی سے اپنے پیر ومرشد کے آستانے پر جاتے رہے اور ان کے خطاب کو سننے کیلئے دنیا جمع ہوتی رہی ۔حضرت ثانی صاحب قبلہ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو اپنے ساتھ اپنے مشائخ کے اعراس میں بھی لے جاتے ۔انہیں اپنے محبوب ومطلوب رحمۃ اللعالمین آقا  ﷺ سے والہا نہ عشق اور خاص نسبت و تعلق تھا۔اور وہ حدیث و ارشادات صرف سامعین کو متاثر کرنے کیلئے نہیں سنتے تھے بلکہ خود ان کا اپنا احوال یہ تھا کہ وہ ہر طرح اس سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے جوکسی ایمان والے کو اللّٰہ کا مقرب اور بارگاہِ محمدی  ﷺ کا محبوب بناتا ہے۔ان کی وضع قطع گفتارو کردار اور اخلاق وعادات اور صورت و سیرت میں عشق نبوی  ﷺ کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی ۔دیکھنے والوں نے انہیں دیکھا کہ وہ جب کبھی دیارِ حبیب  ﷺ مدینہ منورہ جاتے تو حرمِ نبوی  ﷺشریف میں ان کی آ نکھیں نم ہوتیں وہ حضور  ﷺ کے قدموں میں ہچکیاں بھرتے ثنا خوانی اور درود وسلام میں مشغول نظرآتے۔عشاء کی نماز کے بعد جب مسجد ِ نبوی  ﷺ صفائی کیلئے بند کردی جاتی تو حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ حجرہ ٔرسول  ﷺ کے اطراف جھاڑودینے والوں میںشامل ہوجاتے اور اس بہانے رات بھی حرم کے اندر گزارلیتے ۔وہ آدھی رات کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں لمبے لمبے سانس لیتے۔نعتیں پڑھتے پھراکرتے ،احباب وساکنین مدینہ سے ان کا تواضع دیدنی تھا ۔یہ عشقِ رسول  ﷺ میںان کی شیفتگی اور وارفتگی کی واضح نشانیاں ہیں ۔نعت شریف سنتے ہوئے ان پر رقت و گریہ طاری ہونے کو ہزاروں گواہ ہیں۔اپنے خطبات و تقاریر میں وہ اہلُ اللّٰہ کا تذکرہ جس عقیدت و احترام اور محبت سے کرتے وہ ان کے سننے والے ہر شخص کو خوب یاد ہوگا ۔آل واولاد رسول  ﷺ کی محبت ان کاسرمایہ تھا۔انہوں نے اس سلسلے میں قابلِ تقلید مثالیں قائم کیں اہلِ سنت کی طر ف سے ماہِ محرم میں دس روزہ مجالس انہی کی یادگارہیں ۔شب عاشورہ میں وہ واقعات ِ کربلابیان کرتے ۔کراچی کے باشندے یہ حقیقت ہر گز فراموش نہیں کرسکتے کہ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے خطاب کی اس مجلس میںلاکھوں کا اجتماع ہوتا اور اب تک صرف کسی خطیب کے لئے اتنا بڑا اجتماع دیکھنے میں نہیں آیا ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی خطیب کیلئے ایسی والہانہ عقیدت و محبت کی بھی مثال نہیں ملتی ۔شبِ عاشورہ کا وہ بیان بھی ہر سال محرم میں ہر سمت گونجتا ہے۔انہوں چار کتابیں اہلِ بیت ِ رسول  ﷺ کی عظمت و شان و احوال میںلکھیں ۔ان سے پہلے محرم کے دس روزصرف اہلِ تشیع ’’محافلِ محرم ‘‘کے عنوان سے جلسے کرتے تھے۔ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ’’مجالسِ محرم ‘‘کے عنوان سے اہلِ سنت کی طرف سے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ،اب ہر سمت انہی کا عطا کیا ہوا ۔عنوان استعمال ہوتا ہے۔وہ با لترتیب توحید ورسالت ،فضائلِ صحابہ ،چہار خلفائے نبوی  ﷺ ،فضائلِ اہلِ بیت اور واقعات کربلا بیان کرتے ،یہی ترتیب اب بھی ہر سمت برقرار ہے۔

                ۱۹۵۵ء میں وہ پہلی مرتبہ کراچی آئے۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جامع مسجد آرام باغ میں شب قدر کے مرکزی اجتماع ہوتے تھے۔اہلِ کراچی نے انہیں پہلی مرتبہ وہاںسنا ۔ان کے پہلے خطاب ہی نے لوگوں کو ان کا دیوانہ کردیا ۔ہر شبِ قدر میں اجتماع بڑھتا گیا اور اہلِ ایمان کی ان سے محبت و عقیدت روز افزوں ہوتی گئی۔اس سال کی آخری شب میں خطاب کے بعد حضرت مولانا اوکاڑوی واپس اوکاڑا روانہ ہوگئے ۔ ضلع اوکاڑا میں حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرق پوری کے خلیفہ ٔاعظم غوث ِزماں حضرت گنج پیر سید محمد اسمٰعیل شاہ بخاری المعروف حضرت کرماں والے رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے آباد بستی ہے ۔پیر صاحب کرماں والے سے حضرت مولانا اوکاڑوی کی عقیدت و محبت یادگارہے۔پیر صاحب کرماں والے اپنے مرتبہ ومقام اور کشف و کرامات کے لحاظ سے یکتاروزگارروحانی بزرگ تھے۔اوکاڑا کے دس سالہ قیام میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر و بیشتر پیر صاحب کرماں والے کی خدمت میں حاضری دیتے۔پیر صاحب کرماں والے جید عالم اور عارف باللہ تھے۔انہوںنے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بہت تربیت کی اور روحانی منازل بھی طے کروائیں ۔۵۲- ۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختمِ نبوت کے سلسلے میں مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کردار تاریخ کے صفحات پر زرِّ یں نقش ہے۔انہیں پورے ضلع منٹگمری کا ڈکٹیٹر (امیر )مقرر کیا گیا ۔تحریک کے مطالبات یہ تھے کہ رسول کریم حضرت محمد  ﷺ آخری نبی ہیں ،ان کے بعد کسی ظلّی و بروزی نبی کا تصور بھی ممکن نہیں ،مرزا غلام احمد قادیانی بلاشبہ مرتد و کافر ہے اس کے ماننے والے اور پیروکار سب پاکستان کے قانون میں غیر مسلم اقلیت قرار یئے جائیں اور قادیانی وزیرِ خارجہ ظفر اللہ کو وزارت سے سبکدوش کیا جائے۔اس تحریک کے مرکزی صدر مولانا سیدابوالحسنات قادری تھے، تحریک کا مرکز لاہور تھا۔خواجہ ناظم الدین کادور تھا۔میاں ممتاز دولتانہ صوبائی حکمران تھے۔تحریک ِ پاکستان کے بعد یہ پہلی اور بڑی تحریک تھی ،حکامِ بالااہلِ ایمان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر تیارنہ ہوئے اور مارشل لا لگاکر جنرل اعظم کو اختیارات دے دئے گئے۔فوجی حکام نے تحریک کے قا ئدین کو گرفتار کرنا شروع کردیا کیوں کہ قائدین کے پسِ منظر میں چلے جانے سے تحریک کے کمزورہوجانے کاامکان پیدا ہو جاتا ہے۔ حضرت مولانااوکاڑوی کی گرفتاری کے احکام جاری ہوگئے۔ حضرت مولانا اوکاڑوی نے اپنی ولولہ انگیز تقاریر سے ایسا جوش و جذبہ لوگوں میں پیدا کردیا تھا کہ ناموسِ نبوت کیلئے ہر کوئی جان کا نذرانہ پیش کرنے کو تیارتھا مگر حضرت مولانا اوکاڑوی نے خونریزی کی نوبت نہ آنے دی۔ انہوں نے برملا اپنے خطابات میں کہا کہ ہم مطالبے منوانے کیلئے ماؤ ں کے کوکھ اجاڑنا اور بچوں کو یتیم کرنا نہیں چاہتے ۔ہماری غیرتِ ایمانی کی یہ للکار صرف ایوانِ ہائے جاہ و حشم میں بیٹھنے والے غافلوں کا جگانے اور جھنجھوڑنے کے لئے ہے،ہم کسی شہرت و دولت کیلئے نہیں محض رضائے الہٰی کے لئے ناموسِ نبی  ﷺکے تحفظ کیلئے صدائے حق بلند کررہے ہیں ۔ضلعی مجسٹریٹ میاں اصغر علی نے حضرت مولانا اوکاڑوی کی کارکردگی کو سراہااور رپورٹ میں لکھا کہ حضرت مولانا اوکاڑوی نے لوگوں میں جوش و جذبہ پیداکرتے ہوئے اشتعال اور خونریزی نہیں ہونے دی۔جمعہ کے بعد پولیس کواپنی گرفتاری پیش کردی ۔قریباً بیس افراد نے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ خودکو گرفتاری کیلئے پیش کیا۔حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو منٹگمری جیل میں بندکردیاگیا۔تمام مرکزی قائدین گرفتارہوچکے تھے، مارشل لاء کی سختیوںنے عوام کے جوش وخروش کو کچلنے کیلئے تمام حربے استعمال کئے تھے۔تحریک کے قید کئے جانے والے رہنماؤں اور کارکنوں پر جیل ہی میں مقدمات چلائے گئے ۔انتظامیہ نے ان لوگوں کو رہا کردیا جنہوں نے معافی نامے پر دستخط کئے اور یہ وعدہ کیا کہ وہ لوگ آئندہ تحریک میں کسی طر ح حصہ نہیں لیں گے۔کتنے ہی علماء وعوام معافی نامے پر دستخط کرکے رہائی حاصل کرنے لگے۔ حضرت مولانا اوکاڑوی کو قید ہوئے تین ماہ گزر چکے تھے حکومت کی طرف سے حضرت مولانا اوکاڑوی کی سخت آزمائش ہورہی تھی ،سچ ہے کہ جن کے رتبے ہیں سوا،ان کو سوامشکل ہے۔حضرت مولانااوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دونوں فرزندایک ہفتے کی مدت میں قضائے الہٰی سے وفات پاگئے۔اس وقت تک حضرت مولانا اوکاڑوی کے یہ دونوں فرزند ہی حضرت مولانااوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد یں تھے۔ڈپٹی کمشنر لوگوں کے اصرار پر جیل میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملنے آیا اور کم سن فرزندوں کی وفات پر تعزیت کے بعد کہنے لگا کہ آپ کی رہائی کیلئے شدید تقاضا ہورہا ہے،اگر آپ وعدہ کریں کہ رہائی کے بعد حصہ نہیں لیں گے اور اس سلسلے میں اپنی کاروائی جاری نہیں رکھیں گے تو میں معافی نامے پر آپ پر دستخط کرواکر آپ کو رہا کرسکتا ہوں ۔مگر حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انکار کردیا ۔حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دس ماہ قید رہے۔اس دوران تحریک کے تمام افراد رہاہوچکے تھے۔سب سے آخر میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو رہا کیا گیا۔ جس دن حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رہا ہوئے اوکاڑا شہر میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ  علیہ کو عقیدت مند اپنے کاندھوں پر اٹھائے جلوس کی شکل میںلائے ۔کراچی شہر کی سب سے بڑی مسجد میمن مسجد کی خطابت وا مامت کی پیش کش پر اصرار بڑھا تو حضرت مولانااوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پیر صاحب کرماں والے کے پاس پہنچے ۔انہوں نے فرمایا’’مولانا آپ ضرور کراچی جائیں اللہ کریم نے آپ سے وہاں بہت کام لینا ہے۔‘‘کراچی آنے کے بعد بڑے شہرکے وسائل اور ذرائع کو حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دین ِ مصطفی  ﷺ کی خدمت کے لئے بھر پور طریقے سے استعمال کیا ۔1956 ء میں انہوں نے جماعت ِ اہلِ سنت پاکستان کی بنیادرکھی وہی اس کے بانی اور امیرِ اول تھے ۔اس وقت تک حضرت مولانا اوکاڑوی کی تین تصا نیف شائع ہوچکی تھیں۔(1)ذکرِ جمیل (2)راہِ حق (3)ذکرِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد میں گیارہ روزہ مجالس کا بھی آغاز ہوا ۔حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میمن مسجد میںروزانہ درسِ قرآن وحدیث کا سلسلہ بھی شروع کیا ۔کچھ عرصے بعد میمن مسجد کی انتظامیہ کے نامناسب رویے کو دیکھ کر حضرت مولانااوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میمن مسجد کی امامت وخطابت چھوڑدی اور عیدگاہ میدان ایم اے جناح روڈ پر خطابت کے فرائض انجام دیئے ۔میمن مسجد سے علیحدگی کے بعد حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تین برس عیدگاہ ،ڈھائی برس مسجد آرام باغ اور بارہ برس نور مسجدنزد جوبلی سنیما میں نمازِ جمعہ پڑھائی ۔1972 ء میں حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سولجر بازار کے علاقے میںایک سو بیس برس سے مسجد کے لئے وقف قطعہ زمین پر جامع مسجد گل زارِ حبیب  ﷺ کی خشتِ اول سے تعمیر شروع کی اور نمازِ جمعہ وہاں پڑھانے لگے۔

                حضرت خطیبِ اعظم پاکستان مولانااوکاڑوی ہر گز ان لوگوں میں سے نہیں تھے جنہیںاپنی کارکردگی کے لئے ہموار فضاو میدان تیار ملاتھا۔وہ کسی ایسی جماعت کے پروردہ بھی نہیں تھے جس کے وسائل اور افرادی قوت کے تخمینے شائع ہوتے ہوں ۔ انہوں نے اس کٹھن سفر کاجب آغاز کیاتھا اس وقت ان کے پاس جاں نثار ہم نواؤں اور سپاس گزاروں کی فوج ظفرموج نہیںتھی ۔ زرو جواہر کے ڈھیر نہیں تھے ۔وسائل اور سہولتوں کی فراونی نہیں تھی۔وہ توایک ایسے باپ کے بیٹے تھے جسے فاقے بھی کرنے پڑجاتے تھے،سادگی وسفید پوشی میںکسبِ معاش کے لئے سخت ومحنت ومشقت بھی کی تھی ۔ان کے عزیزو اقارب میںکوئی ان کے لئے تمام ذمہ داریاں قبول کرکے انہیں صرف جستجو ئے علم ِ دین میں مگن رکھنے والا نہیں تھا ۔خطیبِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک ایک تنکا جمع کرکے اپنا آشیاں خود بنایا تھا۔تائید ِ ایزدی اور فیض ِنبوی  ﷺ نے ان کی مدد کی اور وہ ہر مرحلہ طے کرکے اس مقام پر پہنچے جہان پہنچنے کی ہر مسلمان کو آرزو ہوسکتی ہے۔انہوں نے اپنے پیچھے آنے والوں کووہ سب کچھ فراہم کیا جس کے لئے ادارے اور تنظیمیں مل کر کام کریں تو ناکافی ہو۔وہ بلاشبہ ملت کے محسن تھے وہ اپنی ذات میں ایک جہاں تھے۔قدرت نے انہیں بہت نوازا تھااور انہوں نے قدرت کی نوازشات کی قدر کی اور خود ہر طرح ان کااہل ثابت کیا۔انہیں کسی تنظیم یا جماعت نے پروان نہیں چڑھایا بلکہ انہوں نے اپنی ذات اور خدمات سے کتنے ادارے اور تنظیمیں تشکیل دیں ۔1662 ء میں کراچی شہر کے علاقہ کھڈہ میں ایک فرقے کے انتہا پسند وں نے حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہوکر انہیں قتل کرنے کی مذموم کوشش کی ۔دورانِ تقریر پانچ خنجر بدست افراد ان پر حملہ آور ہوئے ۔تین گہرے زخموں کے باوجود خطاب جاری رہا اور حضرت مولانااوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خنجر پیوست ہوجانے کی خبر تک نہ ہوئی وہ اپنے خطاب میں محوتھے ۔ان کے کندھے پشت اور شہ رگ کے قریب تین گہرے زخم لگائے گئے کہ دل کی رگیں کٹ جائیں اورشہ رگ منقطع ہوجائے ۔ان دوران بجلی بھی کاٹ دی گئی اور حملہ آوروں نے حضرت مولانا اوکاڑوی کے سر پر تین شدید ضربیں لگا کا انہیں اسٹیج سے نیچے گرادیا ۔ڈھائی گھنٹے تک ان کا خون بہتارہا بڑی تگ ودو کے بعد گھوڑاگاڑی میں انہیں گھر سے جلسہ گاہ پہنچنے والے افراد نے سول اسپتال پہنچایا ۔حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شدید نقاہت کے باوجود ہوش میں تھے اور ڈاکٹر سخت حیران تھا کہ ایسے مہلک زخموں کے باوجود حضرت مولانااوکاڑوی کی زبان پر درودسلام جاری تھا۔حضرت مولانااوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے چھوٹے بھائی محمد اکرام کا آپریشن تھیٹر جاتے ہوئے تلقین کی کہ اگر میری وفات ہوجائے تو میرے بیٹے کو عالمِ دین بنایا جائے تاکہ وہ اسی نصب العین کو جاری رکھے اور میرے گھرانے میںیہ نعمت باقی رہے ۔ فیضانِ نبوی کا اعجاز تھا کہ حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دن بہ دن روبہ صحت ہونے لگے اور ڈھائی ماہ اسپتال رہ کر جب گھر آئے تو پہلاجلسہ اسی مقام پر کیا جہا ں حملہ ہواتھا۔مشرقی پاکستان میں بھی ان کی مقبولیت کا وہی عالم تھا جو مغربی پاکستان میں تھا۔وہ مصر وعرب ،شرق اوسط اور خلیجی ممالک ،فلسطین،ماریشس ،بھارت کینیا،جنوبی افریقہ اور یورپ میںاپنی منفرد اور بے مثال خطابت کے سبب بہت مقبول ہوئے وہ جہاں بھی لوگوں کو اپنے نبی کا دیوانہ بناتے رہے اور اپنی یادگار یں قائم کرتے رہے۔

                1965ء میں پاک بھا رت جنگ کاموقع آیا لاکھوں روپے نقد اور سازوسامان فوجی مجاہدین اورجنگ کے متاثرین میں مولانا عبد الحامد بدایوانی اور دیگر علماء کے وفد کے ساتھ جاکر مختلف علاقوں میں تقسیم کیا ،اگلے مورچوں پر جاکر پاک افواج میں جہاد کے موضوع پر ولولہ انگیز خطاب کئے ۔آزاد کشمیر میںوہ ان مقامات پر بھی گئے جہاں بغیر سواری کے کٹھن سفر پا پیادہ کرنا پڑا ۔وہ تھر کے رگستانوں میں بھی گئے اور تبلیغی خدمات انجام دیں ۔ریڈیو پاکستان سے 28 برس تک مسلسل انہوں نے سینکڑوں موضوعات پر تقریریں کیں ۔1970ء میں کراچی شہر کے سب سے بڑے حلقہ سے قومی اسمبلی کے نظامِ مصطفی  ﷺ کے نفاذ کے لئے رکن منتخب ہوئے ۔ وفاقی مجلسِ شورٰی کے معززرکن نامزد ہوئے ۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن پاکستان اور وزارتِ مذہبی امور کی قائمہ کمیٹیوں کے رکن رہے۔قومی سیر ت کمیٹی کے بنیادی رکن رہے۔اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مرکزی محکمۂ اوقاف پاکستان کے نگراںمقرر ہوئے۔سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنی تحریر و تقریر میں بارہا حضرت خطیب ِ اعظم پاکستان کی نفاذِ اسلام اور اتحادملت کے لئے گراں قدر خدمات کا اعتراف اور تذکرہ کیا۔مولانا اوکاڑوی ہر گز پیشہ ور مولوی قسم کی شخصیت نہیں تھے۔وہ اپنے نصب العین اور عزائم میں نہایت مخلص اورسچے تھے۔انہوں نے قومی اسمبلی و مجلسِ شوریٰ کی رکنیت کے دورانیے میںیا ا س کے علاوہ حکومت سے کسی قسم کی مراعات حاصل نہیں کیں ۔حسنِ معاملہ میں ہر لمحے احتیاط ان کے دامن گیر رہتی ۔وہ اپنے پاس آنے والے ہر ضرور ت مند کی داد رسی کرتے ۔غرباء و مساکین کی امداد ان کاتمام عمرو تیرہ رہا ۔1974 ء میں انھیں ’’انجائنا ‘‘نامی عارضہ قلب ہو گیا ۔1962 ء کے قاتلانہ حملے سے جانبرہونے کے بعد انہوں نے کبھی خود کو آرام نہیں پہنچایا تھا ۔معالجوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ خود کو پابند بنالیں اور اپنے اوقات کا نظام ترتیب دے لیں مگر وہ اپنے نصب العین کی راہ میں جسمانی عارضے یا نقاہت کو کیا اہمیت دیتے وہ سر بکف مجاہد وغازی تھے۔خلقِ خدا نے دیکھا کہ 1974 ء سے 1984 ء تک مسلسل دس برس حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ زیادہ سرگرم رہے۔انہیں آرام اورنیند سے زیادہ کام کی دھن رہتی تھی ۔اس عرصے میں انہوں نے کتنے ہی مثالی بڑے بڑے کارہا ئے نمایاں انجام دئیے ۔مسجدگل زارِ حبیب  ﷺ کی تعمیر دارالعلوم حنفیہ غوثیہ ،جامعہ گل زارِ حبیب  ﷺ ،جماعت ِ اہلِ سنت پاکستان ،جماعتِ اہلِ سنت جنوبی افریقا ،انجمنِ محبانِ صحابہ و اہلِ بیت ،وفاقی مجلسِ شوریٰ میں قانون سازی ،اتحاد بین المسلمین کے لئے جد جہد تمام تنظیمی تعلیمی تبلیغی تدریسی امور ،سنی تبلیغی مشن سب بیک وقت جاری رکھے ۔وہ کام کے دھنی تھے۔1983ء میں انہیں حضرت خواجہ غریبِ نواز کی زیارت و بشارت کی سعادت حاصل ہوئی وہ اجمیر شریف عرس کی تقریب میں گئے ان کی شخصیت اور کارناموںکی تفصیل وغیرہ ’’خطیبِ پاکستان اپنے معاصرین کی نظر میں ‘‘کے عنوان سے سات سو صفحات کی کتاب میں کسی حد تک جمع کئے گئے ہیں ۔انہوں نے اپنی ظاہری زندگی میں ہر طرح کام یابی پائی ۔وہ نقیب الاشراف سیدنا ابراہیم سیف الدین گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور متعد د مشائخ سے سلاسل طریقت میں مجاز تھے۔ان کے مریدین اور ارادت مند کی کثیر تعداد ہر سمت ان کے لئے سراپا سپاس رہی۔۱۹۸۴ء میں رجب کا مہینہ شروع ہوا،خطیبِ اعظم پاکستان سخت بیمارتھے۔معالجین آرام کی تاکید کررہے تھے مگر حضرت مولانا اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمہ جاں اپنے کام میں مشغول تھے۔۲۰ رجب کو وہ جامع مسجد گل زارِ حبیب  ﷺ میں اپنی زندگی کا آخری جمعہ پڑھا رہے تھے۔وہ اپنی زندگی کا اعلان کرچکے تھے مگر کسی نے نہ جانا ،ان کی روانگی کا کوئی بھی منتظر نہیں تھا۔اسی شام انہیں تیسری مرتبہ دل کا دورہ پڑا وہ اسپتال لے جائے گے۔تین دن اسپتال میں وہ انتہا ئی نگہداشت کے کمرے میں رہے ۔۲۰ رجب ۱۴۰۴ھ کو انہوں نے اپنی امانتیں اپنے بیٹے کے سپر د کردی تھیں۲۱رجب ۱۴۰۴ھ کی صبح فجر کی اذان سن کر انہوں نے درودوسلام کے الفاظ کہتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش کردیا ( اِنَّا لِلَّہ وَ اِنَّا اِلَیْہِ راجِعُوْن )اسی سہ پہر انہیں گل زارِ حبیب  ﷺ کے احاطے میں لحد میں رکھا گیا ۔

٭٭٭