’’اظہارِ عقیدت ومحبت‘‘

in Tahaffuz, July 2011, علا مہ سید سعادت علی قادری, متفرقا ت

بسم اللہ الرحمن الرحیم والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

از مبلغِ اسلام علا مہ سید سعادت علی قادری

’’اظہارِ عقیدت ومحبت‘‘

پُر کشش ،حسین وجمیل ،دلوں کولُبہانے،اپنے مخصوص اندازِ بیان سے دلوں کوگرمانے والی

عظیم شخصیت خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ

                علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ سے میرا تعارف ان کے کراچی آمد کے بعد ہوا،اِس سے قبل مدرسہ انوارالعلوم ملتان میں وہ آتے رہتے تھے،کبھی ملاقات تو نہ ہوسکی لیکن والد ماجد حضرت مفتی سید مسعود علی قادری علیہ الرحمۃ سے اُن کی ہونہاری اور خوش الحانی کاذکر سناکرتاتھا ،اُن کی کراچی آمدکے بعد تادمِ آخر اُن سے تعلق رہا،تنظیمی وسیاسی اور مذہبی جلسوں میں مسلسل ملاقاتوں کے باعث دونوں ایک دوسرے سے قریب ہوتے رہے اور رسمی تعلق دوستی میں تبدیل ہوگیا۔  1964ئمیں جماعتِ اہل سُنّت ( کی تشکیل نو )کا آغازہوا، راقم الحروف، علامہ عبدالمصطفی ازہری ،مفتی شجاعت علی قادری،علامہ محمد حسن حقانی ،مولانا جمیل احمد نعیمی اور علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ بانی ممبران میں شامل تھے،مجھے جماعتِ اہل سُنّت پاکستان کا ناظم اعلیٰ مقررکیا گیا،جب کہ علامہ اوکاڑوی صدر منتخب ہوئے ،موصوف چوں کہ تقریروں اور مطالعہ کے سبب ساری رات جاگتے تھے لہٰذا انہوں نے بایں شرط یہ عہدہ قبول کیاکہ ظہر سے قبل جماعت کانہ تو کوئی اجلاس ہوگااور نہ ہی دوسری مصروفیت ہوگی ۔ وقتی طور پر تو یہ شرط قبول کرلی گئی لیکن اس کی پابندی ممکن نہ تھی ،جوں جوں جماعت کا دائرہ کار بڑھتا گیاشرط کی پابندی ختم ہوتی گئی ، کبھی صبح کبھی شام اور کبھی رات ،ہمیں اپنے صدر کی ضرورت پیش آتی رہی ،جو علامہ مرحوم کے لیے بے حد پریشانی کا باعث بنی،مجبورا انہوں نے مجلسِ عاملہ کے ایک اجلاس میں مناسب معذرت کے ساتھ استعفیٰ پیش کردیا ،جس کے بعد حضرت علامہ عبد المصطفیٰ الازہری کوصدارت کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

                حضرت علامہ اوکاڑوی مرحوم نے اپنے دورِ صدارت میں اپنی ذاتی مصروفیت کو جماعتی کام پر کبھی متاثر نہ ہونے دیا ،چوں کہ انہیں مجھ پرپوری طرح اعتمادتھا لہٰذا وہ مجھ سے بار بار کہا کرتے تھے کہ ’’میری طرف سے آپ کو کلّی اختیار ہے ،کہ جماعتی مفاد میں جو کام بھی ہو آپ اُسے پوری اطمینان کے ساتھ انجام دیں ،میری تائید حاصل رہے گی ‘‘تاہم مَیں بذریعہ فون ان کی تائید حاصل کرلیتا تھا ،پھر بھی بوجہ عجلت بعض امور بالخصوص اخباری بیانات ،ان کی اطلاع کے بغیر مجھے انجام دینے پڑتے تھے ،اور وہ کبھی اعتراض نہ کرتے تھے ،بلکہ تحسین وتائید فرماتے تھے ،اسی لیے کام میں بڑی سہولت اور طمانیت رہتی تھی ،کہ باہمی اعتماد بڑے بڑے امور کی انجام دہی کو سہل آسان بنادیتا ہے۔چوں کہ باہمی اعتماد نہ رہا لہٰذا کام بھی نہ رہا ،تنظیم بھی نہ رہی،انتشار ہے ،افتراق ہے،عہدوں کے حصول کے لیے کاغذی تنظیموں کا وجود ہے ۔آج کوئی نہیں جو علامہ اوکاڑوی مرحوم کی طرح صر ف اپنی مصروفیات کے سبب صدارت جیسے اعزاز کوچھوڑدے اور مجلس عاملہ کے ایک ممبر کی حیثیت سے تنظیم میں شامل رہے ،اور ہرممکن تعاون کرتا رہے۔ اللہ مولانا کی قبر کو نورِ محبت سے منوّر کرے ۔

                جماعتِ اہل سُنّت کاتبلیغی ماہ نامہ ‘‘ترجمانِ اہل سُنّت’’  شائع ہوتا تھا ،حضرت علامہ سے میں نے ترجمان کے لیے مضمون مانگا ،فرمانے لگے،مضمون لکھنے کا وقت میرے پاس نہیںیہ کام تم کرو،ہاں جو کام تم سے نہیں ہوسکتا وہ میںکردوں گا ،یعنی اپنے جلسوں میں ترجمان کی اشاعت اور ممبر سازی میں کروں گا،لہٰذا وہ خود ،دفتر سے ،ترجمان منگاتے ،جلسوں میں ترجمان کامکمل تعارف کراتے ،خریداری اور ممبر سازی کی اپیل کرتے تھے ،جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ چند ہی ماہ میں  ‘‘ترجمانِ اہل سُنّت’’  کی اشاعت دیگر ملکی ماہ ناموں میں سب سے زیادہ نظر آنے لگی ،شاید یہ پہلا ،جماعتی رسالہ تھا ،جو اپنے اخراجات خود پورے کرتا تھا،جماعت پر بوجھ نہ تھا ،افسوس اب ‘‘ترجمانِ اہل سُنّت’’ نہ رہا،کیوں کہ اوکاڑوی مرحوم جیسا سُنّیوں کاکوئی مخلص ‘‘ترجمان’’ نہ رہا۔

                ’’سُنّی کانفرنس’’ کراچی کے انعقاد میں سب سے بڑی دشواری ،مالی وسائل کی کمی تھی ، اُس وقت جماعت کے فنڈ میں صرف بارہ ہزار روپے تھے ،جب کہ مَیں نے مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں تقریبا ستر ہزار کاتخمینہ پیش کرڈالا ۔ظاہر ہے ،جو ردّعمل ہونا تھا وہی ہوا،کہ سب نے اس تخمینہ کو میری حماقت کا شاہ کار قرار دیا ،میری تنظیمی صلاحیت پر تیر برسائے اور جوچاہا کیااور میں نے نہایت تحمل سے سب سُنا ،علامہ مرحوم خاموش بیٹھے مسکراتے رہے، پورے اجلاس کے دوران ایک لفظ بھی نہ بولے ،مجھے ان کے اس رویہ پر حیرت بھی تھی اور تعجب بھی ،اجلاس ختم ہوا تومیرے کمرے میں تشریف لائے،مَیں ٹیبل پر سر رکھے،خاصا افسردہ تھا ،تقریبا رونے کے قریب تھا میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا ،مَیں چونک گیا،فرمانے لگے ، ‘‘اگر اتنے ہی کم ہمت ہوتو، استعفیٰ دے کر آزادی سے کام کرو’’۔ مَیں خاموش رہا،پھر تسلی دیتے ہوئے فرمایا ‘‘مرد مجاہد بنو،ہمت کرو،اپنے پروگرام کے مطابق کام شروع کرو، اللہ مدد فرمائے گا،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین کی خدمت کے لیے وسائل کبھی کم نہیں ہوتے  ’’،ان کے یہ الفاظ سن کر مجھے یوں احساس ہوا جیسے میرے مردہ جسم میں جان پڑگئی ہو اور واقعی ایسا ہی ہواتھا،پھر فرمایا مَیں پوری طرح تمہارے ساتھ تعاون کروں گا اپنے آقا  ﷺ کے نام پر بھیک مانگوں گا،ان شاء اللہ تعالیٰ کوئی کام نہ رکے گا۔بس اب چائے منگالو،اورکام کا آغاز کردو۔مَیں نے اپنے مخلص دوست کے مشورے پر عمل شروع کردیا ،تیاریاں ہوتی رہیں ،اسٹیج تیار ہوگیا، کراچی کے گوشہ گوشہ سے جلوس برآمد ہوئے اور آغازِ کانفرنس سے کافی پہلے نشترپارک بھر گیا، مولانا اوکاڑوی پہنچے جب انہوں نے مجھے نہایت محبت سے گلے لگایا تو مَیں رونے لگا،فرمانے لگے،  ‘‘رونے کا نہیں خوشی کا وقت ہے ،شمع رسالت کے ان پروانوں پر نظر ڈالو یہ سب ہمارے ساتھ ہیں ان کی یہاں موجودگی ہماری کام یابی کا اعلان ہے ’’۔

                مَیں نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا،جس کے بعد حضرت علامہ کی تقریر کا اعلان ہوا ،اٹھتے ہوئے فرمانے لگے : دیکھو اب کیا ہوتا ہے۔اللہ اکبر ڈائس کی طرف ان کا بڑھنا تھا ،کہ نعروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ اسٹیج پر موجود تمام علماومشائخ متحیر تھے اور متفق تھے ،کہ ایسے فلک شگاف جذباتی نعرے کبھی نہ سنے گئے ۔صدر جلسہ مولانا قمرالدین سیالوی علیہ الرحمہ فرمانے لگے: ‘‘ قادری صاحب !یہ قوم ضرور کچھ کردکھائے گی ،بس اسے مخلص قائدین کی ضرورت ہے’’ خطیب پاکستان علیہ الرحمہ نے اپنے مخصوص انداز میں جونہی خطبہ کا آغاز کیا ،ایسا سناٹاطاری ہوا، گویانشترپارک میں کوئی ہے ہی نہیں۔ آپ نے دورانِ تقریردس منٹ بعد ہی چندے کی اپیل کردی ،جس کے لیے نہ کوئی لمبی تمہید تھی نہ ہی ضرورت کی کوئی تفصیل تھی،بس فرمایا: سُنّیو! جیبوں میں ہاتھ ڈالواور جوکچھ ہے ،اپنے آقا ﷺ کے نام پر پیش کردو ۔بس اتنا کہنا تھا کہ ایک طوفان ساامڈ آیا ،مجمع میں رضا کار چندہ جمع کرنے والے بکثرت موجود تھے ،لیکن عاشقوں کی توجہ اسٹیج کی طرف تھی ،کہ وہ اپنے ہدایا بذات خود مولانا کی خدمت میں پیش کرنے کے خواہاں تھے ،علامہ ازہری ،مولانا جمیل احمد نعیمی اور میں ردی کے پرزوں کی طرح نوٹوں کوسمیٹ رہے تھے ،لیکن نوٹ قابو نہ آتے تھے ،خود مولانا بھی بیٹھ گئے اور ہماری مدد کرنے لگے ،لوگوں نے شور برپا کردیا ،کہ اہل محبت عاشقِ رسول  ﷺکی زیارت سے آج سیرہونا چاہتے ہیں ،مَیں نے حضرت سے گزارش کی آپ کھڑے ہوجائیں ورنہ چندہ رک جائے گا،مولانا کھڑے ہوئے ،تو نعروں کی گونج سے ایک مرتبہ پھر جلسہ گاہ گونج اٹھی ،غرضیکہ پیسہ آتا رہا اور ہم جھولیاں بھرتے رہے ،معلوم ہوتا تھا کہ نوٹ برس رہے ہیں ۔

                اس موقع سے فائدہ اٹھا کر علماء ومشائخ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے رہے ،جس کا تعلق مولانا کی اثر انگیز اپیل اور پیسے کی آمد سے تھا ۔ مَیں نے سنا کہ ،مولانا عارف اللہ شاہ قادری علیہ الرحمہ نے فرمایا: اس شخص کی سادہ اپیل نے قوم کو بیدار کردیا ۔لوں کو گرمادیا ،مولانا محمود احمد رضوی علیہ الرحمہ کہنے لگے : ‘‘ جس جماعت میں اوکاڑوی جیسا مخلص عالم موجود ہو،اس کوکس چیز کی کمی’’ ۔ مولانا غلام علی اوکاڑوی نے کہا : ‘‘سوائے میرے شاگرد کے یہ کس کے بس کی بات ہے’’۔ غزالیٔ دوراں نے فرمایا : اللہ جزائے خیر دے ،مولانا آپ نے جماعت کومالامال کردیا۔ مفتی سید مسعود علی قادری علیہ الرحمہ نے فرمایا: علامہ اوکاڑوی کی یہ ادائیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔ اسی طرح دیگر علما ومشائخ اپنے تأثرات کا اظہا ر کرتے رہے ، کاش میں اس وقت ان سب کو نوٹ کرلیتا،تو آج ایک طویل فہرست ،تاریخ کا حصہ ہوتی ۔یادرہے اس وقت خطیب پاکستان ،جماعت کی صدارت سے مستعفی ہوچکے تھے۔محض خلوص اور خدمت دین کے جذبہ سے کام کررہے تھے ۔ یہ اُن کی ناقابل فراموش خوبی ہے ،میں نے چندہ جمع کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ : آج ثابت ہوگیا ،کہ اگر خلوص سے کام کیا جائے ،تو قوم قدر کرتی ہے او رہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے کمی وسائل کی نہیں ،خلوص واعتماد کی ہوتی ہے ۔جب کہ آج نہ خلوص نہ رہا نہ اعتماد ۔کاش علامہ اوکاڑوی جیسی عظیم شخصیت پھر سے آجائے تو خلوص بھی ہوگا ، اعتماد بھی ہوگا،وسائل بھی ہوں گے ،قوم کے جذبات دوبارہ بیدار ہوجائیں گے اور پھر ایک ایثار وقربانی کے مناظر دیکھے جاسکیں گے ۔ اللہ اپنے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل دوبارہ ایسا وقت دکھائے ۔

                خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کی ایک اہم خصوصیت ان کا اندازِ بیان تھی اوریہی ان کی عزت وشہرت کاسبب بنی۔انہیں فنِ تقریر پرپورا پورا عبور حاصل تھا نہایت مثبت، مدلل اورپرکشش انداز میں وہ عقائد بیان کرتے تھے ۔سامعین ان کی گفتگو سے اس قدرمسحور ہوجاتے کہ انہیں نہ تو وقت گزرنے کااحساس رہتا تھا اور نہ ہی انہیں خیال آتا تھا کہ انہیںصبح اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں ۔ مولانا کی تقریری اکثر ۲ بجے شروع ہوتی تھی ،کبھی تین بجتے تو کبھی چار ،مجال نہیں کہ کوئی اُٹھ کر چلا جائے ، یوں محسوس ہوتا تھا کہ لوگ اپنی جگہ چِپکے بیٹھے ہیں ۔حضرت علامہ کا اندازِ بیان ،کسی کی نقل نہ تھا بلکہ ان کی اپنی تخلیق تھا جس کے لیے موزوں ترین جملہ ‘‘لحن فی النثر’’ ہوگا،کہ وہ نثر کو خوش الحانی سے بیان کرتے تھے جو بہت مشکل کام ہے جب کہ نظم میں لحن عام اور آسان ہے جب کہ موصوف گھنٹوں،نثر میں لحن جاری رکھتے تھے ،مزید برآں یہ کہ ان کے پاس الفاظ کاذخیرہ تھا جن کی گھنٹوں بارش برستی رہتی تھی،اور صرف لفاظی ہی نہ ہوتی بلکہ مواد کی بھی بھرمار ہوتی تھی۔وہ قرآن وحدیث کے علاوہ اسلاف کی عربی عبارات کونہایت ہی پیارے انداز میں مع حوالہ جات سناتے اور ان سے اپنے مدعا کو ثابت کرتے تھے ۔ اب تک وہ علماء موجود ہیں جو مولانا کے اندازِ بیان کی نقل کرتے ،لوگوں کومتاثر کرتے اور دادِ تحسین پاتے ہیں ،کاش ان کی تقاریر میںمولاناجیسا مواد بھی ہوتا ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ حضرت علامہ کی طرح محنت کریں اور مطالعہ کریں۔

                حضرت علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ ایک کام یاب قلم کار بھی تھے ،انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں جن کی اشاعت جاری ہے ۔ان کی تحریر میں نہایت سادگی نظر آتی ہے جب کہ وہ زبان سہل استعمال کرتے ہیں کہ کم علم لوگ بھی پوری طرح استفادہ کرسکتے ہیں ،ایک مقرر اور وہ بھی مصروف ترین مقرر کا مصنف ہونا بڑی بات ہے اکثر مقررین کو تصنیف کا وقت ہی نہیں ملتا اور نہ ہی ان میں تحریر کا ملکہ ہوتا ہے ۔

                علامہ مرحوم نہایت خوبصورت اور خوب سیرت تھے،خوش عادات وخوش اطوار تھے ، صوفیانہ مزاج کے مالک تھے ۔لباس میں سادگی لیکن نہایت نفاست ہوتی تھی ۔بے حد نرم مزاج اور خوش اخلاق تھے ،گفتگو نہایت دھیرے لہجہ میں کرتے تھے حتی الوسع سنتوں پر عمل کی کوشش ان کی عادت تھی ۔ مَیں نے انھیں کبھی تُرش لہجہ میں گفتگو کرتے نہ سنا ۔بڑوں کے ادب کا بہت خیال رکھتے تھے چھوٹوں پر شفقت فرماتے تھے۔

                اس دنیائے فانی کے نظام کے مطا بق وہ بھی چلے گئے لیکن بحمد للہ ان کے بڑے صاحب  زادے علامہ کوکب نورانی ہم میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو صحت وتن درستی اور عمر درازعطا فرمائے ، باپ کی یادوں کو تازہ کیے ہوئے ہیں ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں ،ذی علم بھی ہیں،مصنف بھی ہیں مقرر بھی اچھے ہیں اگرچہ والدِ گرامی جیسا اندازِ بیان نہیں ،اللّٰھم زد فزد ان کی مساعیٔ جمیلہ قابلِ تحسین وستائش اور صدآفرین ہیں۔

                مَیں جب بھی کوکب نورانی کو دیکھتا ہوں مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب حضرت مولانا نے انہیں میری گود میں دیتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا ‘‘دعا کیجئے اللہ اسے حافظ وعالم بنائے اور میرا کام یاب جاں نشین کرے ’’۔اللہ نے اپنے حبیب علیہ الصلوۃ و السلام کے طفیل ان کے بیٹے کو حافظ بھی بنایا ، عالم بھی بنایا اور جانشین بھی کہ اولاد صالح بڑی نعمت ہے جو کم لوگوں کامقدر بنتی ہے جب کہ اس دورِ قحط الرجال میں ضروری ہے کہ عوام اور بالخصوص علماء اپنی اولاد کو کم ازکم دین کا عالم اور خادم بنانے کی سعی کریں کہ باپ کی عزت اور دین کا یہی یقینی اور کام یاب ذریعہ ہے ۔

                میری دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل حضرت علامہ اوکاڑوی مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے ،ان کے فیوض وبرکات کو جاری رکھے ،عزیزم علامہ کوکب نورانی کو مزید دولتِ علم وعمل سے مالامال کرے انہیں اور دیگراہل خانہ کو ہرقسم کے آفات وبلیات سے محفوظ رکھے ۔

آمین یا رب العٰلمین بجاہِ رحمۃِ اللعٰلمین وصلی اللّٰہعلیٰ خیرخلقہٖ سیدنا محمد وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہٖ اجمین ، برحمتک یا ارحم الرٰحمین ۔

۲۵ ذیقعدہ،۱۴۲۴ ھ،۱۸ جنوری ،۲۰۰۴ء کراچی