(احناف کی نماز احادیث کی روشنی میں (پانچویں قسط

in Tahaffuz, October 2011, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی, نماز

ارشاد رب العزت جل مجدہ ہے
واصبر لحکم ربک فانک باعیننا وسبح  بحمد ربک حین تقوم (سورۂ طور آیت ۴۸،پ ۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب، تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بے شک تم ہماری نگہداشت میں ہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو، جب تم کھڑے ہو۔
اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر میں مرقوم ہے وسبح بحمد ربک حین تقوم سے مراد تکبیر اولیٰ کے بعد سبحانک اللہم مراد ہے (خزائن العرفان ص ۹۴۵)

خاتم المحققین علامہ سید محمود آلوسی بغدادی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
اخرج سعید بن منصور وغیرہ عن الضحاک انہ قال فی الآیۃ حین تقوم الی الصلوٰۃ تقول ہؤ لاء الکلمات سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک (روح المعانی ج ۱۴،ص ۴۰)
سعید بن منصور وغیرہ نے حضرت ضحاک رضی اﷲ عنہ سے تخریج کی ہے کہ وہ اس آیت کریمہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ جب تو نماز کے لئے قیام کر تو یہ کلمات تسبیح کہہ لیا کر
سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک
امام ابو عبداﷲ محمد بن احمد انصاری قرطبی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
قال الضحاک، انہ التسبیح فی الصلوٰۃ اذا قام الیہا، الماوردی وفی ہذا التسبیح قولان احدہما وہو قولہ سبحان ربی العظیم فی الرکوع وسبحان ربی الاعلیٰ فی السجود، الثانی انہ التوجہ فی الصلوٰۃ یقول سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک
قال ابن العربی انہ التسبیح الصلوٰۃ فہذا افضلہ، والآثار فی ذالک کثیرۃ اعظمہا ما ثبت عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہ (تفسیر جامع احکام القرآن للقرطبی، ج ۱۷، ص ۸۱، طبع رشیدیہ کوئٹہ)
امام جلیل محی السنہ ابو محمد حسین بن مسعود البغوی الشافعی المتوفی ۵۱۶ھ رقم طراز ہیں:
وقال الضحاک والربیع اذا قمت الی الصلوٰۃ فقل سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک، اخبرنا ابو عثمان الضبی اخبرنا ابو محمد الجراحی حدثنا ابو العباس المجنولی حدثنا ابو عیسٰی الترمذی حدثنا الحسن بن عرفۃ ویحییٰ بن موسیٰ قال حدثنا ابو معاویۃ عن حارثۃ بن ابی الرجال عن عمرۃ عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت، کان النبیﷺ اذا افتتح الصلوٰۃ قال، سبحنک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الٰہ غیرک (تفسیر معالم التنزیل ج ۴، ص ۲۴۳، مطبوعہ ادارہ تالیفات ،ملتان)
امام قرطبی و امام بغوی علیہما الرحمہ کی عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ضحاک اور امام ربیع فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ میں ’’حین تقوم‘‘ سے مراد قیام نماز ہے کہ جب نمازی قیام کرے تو اس طرح تسبیح کرے
سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الیٰ غیرک
نیز ام المومنین سیدہ صدیقہ بنت صدیق رضی اﷲ عنہا سے بھی مراوی ہے کہ حضور پرنور شفیع یوم النشورﷺ جب نماز کا آغاز فرماتے تو یہ کہتے
سبحنک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک
اور ابن عربی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے اس آیت کریمہ ’’وسبح بحمد ربک الایہ‘‘ میں نماز کی تسبیح ’’سبحانک اللہم‘‘ مراد لی ہے۔ وہ افضل مراد ہے، آثار کثیرہ اسی کی تائید کرتے ہیں۔ سب سے بڑی دلیل وہ ہے جو مولائے کائنات کرم اﷲ وجہ سے مروی ہے۔
ماوردی کے حوالے سے بھی دو قول میں سے ایک یہی ہے کہ اس سے مراد سبحانک اللھم وبحمدک الخ ہے
امام ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی بن سورد ترمذی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
عن ابی سعید ن الخدری قال کان رسول اﷲﷺ اذا قام الی الصلوٰۃ باللیل کبر ثم یقول سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک

دوسری جگہ رقم طراز ہیں

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت کان النبیﷺ اذا افتح الصلوٰۃ قال سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک

(جامع الترمذی ج اول ، ص ۵۸، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)

امام ترمذی کے علاوہ علامہ علی قاری اور دیگر محدثین کرام رحمہم اﷲ نے بھی ان دونوں روایتوں کو ذکر کیا ہے جس میںواضح طور پر یہ موجود ہے کہ ابو سعید خدری اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ آنحضورﷺ جب افتتاح صلوٰۃ فرماتے سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک

(جاری ہے)