اگر آپ کی سوچ ویسی ہو۔ وہ مسلمان جن کو ہم مشرک و بدعتی کہتے ہیں، دو سو سال پہلے پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، متحد و متفق تھے۔ امت کا شیرازہ بندھا ہوا تھا۔ یہودونصاریٰ کفار مشرک خوف کھاتے تھے۔ بے شک صحیح فکر میں یہ قوت ہے کہ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتی ہے اور بکھرے ہوئے لوگوں کو سمیٹا ہے۔ ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ اگر وہ فکر صحیح نہیں تھی تو پھر عروج کیوں تھا؟ یہ فکر جو آج دی جارہی ہے، اگر صحیح ہے تو پھر یہ انتشار کیسا؟ آزاد ہوتے ہوئے یہ غلامی ذلت و رسوائی کیوں؟ آج عقل سلیم اس کا جواب مانگتی ہے۔